Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2043

کتاب الحج

ایامِ تشریق میں ہر روز منیٰ جانا اور زوالِ شمس کے بعدرمی کرنا

7 hadiths in this chapter

9666

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9666

Zaeef

(۹۶۶۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مِنْ آخِرِ یَوْمِہِ حِینَ صَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَمَکَثَ بِمِنًی لَیَالِیَ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ کُلَّ جَمْرَۃٍ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ وَیَقِفُ عِنْدَ الأُولَی وَعِنْدَ الثَّانِیَۃِ فَیُطِیلُ الْقِیَامَ وَیَتَضَرَّعُ ثُمَّ یَرْمِی الثَّالِثَۃَ وَلاَ یَقِفُ عِنْدَہَا۔ [ضعیف۔ ابوداود ۱۹۷۴۔ احمد ۶/ ۹۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٦١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن کے آخر میں ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد لوٹے، پھر آئے اور منیٰ میں ایام تشریق گزارے، جب سورج زائل ہوجاتا تو رمی جمار کرتے، ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ پہلی اور دوسری کنکری کے وقت ٹھہرتے ، لمبا قیام کرتے اور عاجزی کرتے۔ پھر تیسری کنکری مارتے اور اس وقت نہ ٹھہرتے۔

9667

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9667

Sahih

(۹۶۶۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ کَانَ إِذَا رَمَی الْجَمْرَۃَ الَّتِی تَلِی الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ مِنًی رَمَاہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَہَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْبَیْتِ رَافِعًا یَدَیْہِ یَدْعُو وَکَانَ یُطِیلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ یَأْتِی الْجَمْرَۃَ الثَّانِیَۃَ فَیَرْمِیہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ وَیَنْحَدِرُ ذَاتَ الْیَسَارِ مِمَّا یَلِی الْوَادِیَ فَیَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ رَافِعًا یَدَیْہِ یَدْعُو ثُمَّ یَأْتِی الْجَمْرَۃَ الَّتِی عِنْدَ الْعَقَبَۃِ فَیَرْمِیہَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ ثُمَّ یَنْصَرِفُ وَلاَ یَقِفُ عِنْدَہَا۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ بِمِثْلِ ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَفْعَلُہُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ مُحَمَّدٌ یُقَالُ إِنَّہُ ابْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۶۶۔ نسائی ۳۰۸۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٦٢) زہری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس جمرہ کو مارتے جو منیٰ کی مسجد کے ساتھ ہے تو اسے سات کنکریاں مارتے، جب بھی کوئی کنکری مارتے تو تکبیر کہتے ، پھر اس کے آگے آتے اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوجاتے۔ اپنے ہاتھ اٹھاتے دعا کرتے اور لمبا قیام کرتے، پھر دوسرے جمرہ کے پاس آتے اور سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے اور وادی والی جانب بائیں طرف ہٹتے، وہاں قبلہ رو ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے پھر اس جمرہ کے پاس آتے جو عقبہ کے پاس ہے، اس کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، پھر چلے جاتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ زہری کی روایت میں ہے کہ ابن عمر (رض) بھی اسی طرح کرتے تھے۔

9668

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9668

Sahih

(۹۶۶۳)أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَل حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ کَانَ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ الدُّنْیَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ یُکَبِّرُ عَلَی إِثْرِ کُلِّ حَصَاۃٍ ثُمَّ یَتَقَدَّمُ حَتَّی یُسْہِلَ فَیَقُومَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ قِیَامًا طَوِیلاً فَیَدْعُو وَیَرْفَعُ یَدَیْہِ ثُمَّ یَرْمِی الْوُسْطَی کَذَلِکَ فَیَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَیُسْہِلُ فَیَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ قِیَامًا طَوِیلاً فَیَدْعُو وَیَرْفَعُ یَدَیْہِ ثُمَّ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ ذَاتَ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی فَلاَ یَقِفُ وَیَقُولُ : ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَفْعَلُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ أَخِیہِ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۶۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٦٣) سالم بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ عبداللہ قریب والے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے ہر کنکری کے بعد تکبیر کہتے ، پھر آگے بڑھتے اور قبلہ رو ہو کر طویل قیام کرتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ۔ پھر درمیانی جمرہ کو مارتے۔ پھر اسی طرح وہ بائیں جانب قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوتے، لمبا قیام کرتے دعا مانگتے ہاتھ اٹھا کر پھر عقبہ والے جمرہ کو مارتے۔ وادی کے درمیان سے کھڑے نہ ہوتے اور فرماتے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح دیکھا ہے۔

9669

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9669

Sahih

(۹۶۶۴)أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ وَبَرَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ مَتَی أَرْمِی الْجِمَارَ؟ قَالَ : إِذَا رَمَی إِمَامُکَ فَارْمِہْ قَالَ فَأَعَدْتُ عَلَیْہِ الْمَسْأَلَۃَ فَقَالَ : کُنَّا نَتَحَیَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَیْنَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۵۹۔ ابوداود ۱۹۷۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٦٤) وبرہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ میں رمی ٔجمار کب کروں ؟ تو انھوں نے فرمایا : جب تیرا امام رمی کرے تو، تو بھی کر۔ میں نے دوبارہ پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ہم اندازہ لگاتے جب سورج زائل ہوتا ہم رمی کرتے تھے۔

9670

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9670

Sahih

(۹۶۶۵)حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قِرَائَ ۃً وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ رَمَی الْجَمْرَۃَ أَوَّلَ یَوْمٍ ضُحًی ثُمَّ لَمْ یَرْمِ بَعْدَ ذَلِکَ حَتَّی زَالَتِ الشَّمْسُ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٦٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے دن چاشت کے وقت رمی ٔجمار کی، پھر اس کے بعد رمی نہیں کی حتیٰ کہ سورج ڈھل ہوگیا۔

9671

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9671

Sahih

(۹۶۶۶)أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : لاَ یَرْمِی الْجِمَارَ فِی أَیَّامِ الثَّلاَثَۃِ حَتَّی تَزُولَ الشَّمْسُ۔ وَعَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ فَیَقِفُ وُقُوفًا طَوِیلاً وَیُکَبِّرُ اللَّہَ وَیُسَبِّحُہُ وَیَحْمَدُہُ وَیَدْعُو اللَّہَ لاَ یَقِفُ عِنْدَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ۔ وَعَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُکَبِّرُ عِنْدَ رَمْیِ الْجِمَارِ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ۔ [صحیح۔ مالک ۹۱۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٦٦) عبداللہ بن عمر (رض) فرمایا کرتے تھے : تینوں دنوں میں رمیٔ جمار نہیں کی جائے گی حتیٰ کہ سورج زائل ہوجائے اور نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر پہلے دو جمروں کے پاس لمبی دیر تک رکتے ، اللہ کی حمد و تسبیح و تکبیر بیان کرتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے اور جب بھی جمروں کو کنکری مارتے تو تکبیر کہتے۔ نافع سے منقول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رمیٔ جمار کے وقت جب بھی کوئی کنکری مارتے ، ساتھ ساتھ تکبیر بھی کہتے۔

9672

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9672

Sahih

(۹۶۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ وَبَرَۃَ قَالَ : قَامَ ابْنُ عُمَرَ حِینَ رَمَی الْجَمْرَۃَ عَنْ یَسَارِہَا نَحْوَ مَا لَوْ شِئْتَ قَرَأْتَ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ۔ [صحیح] وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ فِی حَزَرِ قِیَامِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : فَکَانَ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ سُورَۃِ یُوسُفَ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَانَ یَقُومُ بِقَدْرِ قِرَائَ ۃِ سُورَۃٍ مِنَ الْمِئِینَ وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ کَانَ یَعْلُو فِی الْجَمْرَتَیْنِ إِذَا رَمَاہُمَا۔ وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَرْفُوعًا فِی رَمْیِ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ تَرْمِی الْجَمْرَۃَ حَتَّی یَمِیلَ النَّہَارُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٦٧) (الف) وبرہ کہتے ہیں کہ جب ابن عمر (رض) نے جمرہ کو مارا تو اتنی دیر تک اس کے پاس رکے کہ اگر تو چاہے تو سورة بقرہ پڑھ سکتا ہے۔ (ب) ابو مجلز سے ابن عمر کے قیام کے اندازے کے بارے میں منقول ہے فرماتے ہیں کہ ابن عمر سورة یوسف کی قراءت کے اندازے کے برابر ٹھہرتے اور ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ وہ دو سو آیات والی سورت پڑھنے کے اندازے کے برابر کھڑے رہتے۔ عطا بن ابی رباح (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں جمروں میں اونچے مقام پر رہتے، جب انھیں کنکریاں مارتے۔ (ج) اور ابن مسعود (رض) سے وادی کے وسط سے جمرۂ عقبہ کو رمی کرنے کے بارے میں مرفوع روایت منقول ہے۔ (د) اور سیدنا عمر (رض) سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں اس وقت تک جمرہ و کنکریاں نہ مارو حتیٰ کہ دن ڈھل جائے۔