Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2042

کتاب الحج

حاجیوں کو پانی پلانا اور وہاں سے اور آب زم زم سے پینا

9 hadiths in this chapter

9657

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9657

Sahih

(۹۶۵۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْوَرَّاقُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ فِی قِصَّۃِ حَجِّ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ إِلَی الْبَیْتِ فَصَلَّی بِمَکَّۃَ الظُّہْرَ ثُمَّ أَتَی بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَہُمْ یَسْقُونَ عَلَی زَمْزَمَ فَقَالَ : انْزِعُوا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلاَ أَنْ یَغْلِبَکُمُ النَّاسُ عَلَی سِقَایَتِکُمْ لَنَزَعْتُ مَعَکُمْ ۔ فَنَاوَلُوہُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْہُ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٥٢) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں : پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کی طرف لوٹے ، ظہر کی نماز مکہ میں ادا کی ۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے اور وہ زمزم پلا رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی عبدالمطلب ! پانی کھینچو ، اگر مجھے خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پلانے پر غالب آجائیں گے تو میں تمہارے ساتھ مل کر کھینچتا ، انھوں نے آپ کو ایک ڈول دیا تو آپ نے اس میں سے پیا۔

9658

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9658

Sahih

(۹۶۵۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاہِینَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ جَائَ إِلَی السِّقَایَۃِ فَاسْتَسْقَی فَقَالَ الْعَبَّاسُ : یَا فَضْلُ اذْہَبْ إِلَی أُمِّکَ فَأْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِہَا فَقَالَ : اسْقِنِی ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُمْ یَجْعَلُونَ أَیْدِیَہُمْ فِیہِ قَالَ : اسْقِنِی ۔ فَشَرِبَ مِنْہُ ثُمَّ أَتَی زَمْزَمَ وَہُمْ یَسْقُونَ وَیَعْمَلُونَ فِیہَا فَقَالَ : اعْمَلُوا فَإِنَّکُمْ عَلَی عَمَلٍ صَالِحٍ ۔ ثُمَّ قَالَ : لَوْلاَ أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّی أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَی ہَذِہِ ۔ یَعْنِی عَاتِقَہُ وَأَشَارَ إِلَی عَاتِقِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاہِینَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۵۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٥٣) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی پلانے والوں کی طرف آئے اور پانی طلب کیا تو عباس (رض) نے کہا : اے فضل ! جا اور جا کر اپنی ماں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مشروب لے کر آ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پلا ، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پلا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پیا ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زمزم پر آئے اور وہ پلا رہے تھے اور اس میں کام کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لگے رہو تم نیک کام کر رہے ہو، پھر فرمایا : اگر یہ خدشہ نہ ہو کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو میں اترتا اور رسی کو یہاں رکھتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا۔

9659

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9659

Sahih

(۹۶۵۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ وَأَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالُوا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَتَاہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ : مَا لِی أَرَی بَنِی عَمِّکُمْ یَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِیذَ أَمِنْ حَاجَۃٍ بِکُمْ أَمْ مِنْ بُخْلٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : الْحَمْدُ لِلَّہِ مَا بِنَا حَاجَۃٌ وَلاَ بُخْلٌ قَدِمَ النَّبِیُّ -ﷺ عَلَی رَاحِلَتِہِ وَخَلْفَہُ أُسَامَۃُ فَاسْتَسْقَی فَأَتَیْنَاہُ بِإِنَائٍ مِنْ نَبِیذٍ فَشَرِبَ وَسَقَی فَضْلَہُ أُسَامَۃَ وَقَالَ : أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ ۔ کَذَا فَاصْنَعُوا فَلاَ نُرِیدُ تَغْیِیرَ مَا أَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِنْہَالٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۱۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٥٤) بکر بن عبداللہ مزنی فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا : کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں تمہارے چچا زاد تو دودھ اور شہد پلاتے ہیں اور تم نبیذ پلاتے ہو ؟ کیا تم ضرورت مند ہو یا کنجوسی کی وجہ سے ایسا کرتے ہو ؟ تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ کا شکر ہے ، ہمیں کوئی حاجت یا کمی نہیں ہے اور نہ ہی کنجوسی ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر تشریف لائے اور ان کے پیچھے اسامہ (رض) تھے، انھوں نے پانی طلب کیا تو ہم نے انھیں نبیذ کا برتن دیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے پیا اور بچا ہوا اسامہ کو دیا اور فرمایا : تم نے اچھا اور خوب کیا ہے۔ اسی طرح کیا کرو۔ ہم نہیں چاہتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم میں تبدیلی کریں۔

9660

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9660

Sahih

(۹۶۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ بْنِ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا الْفَزَارِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی ہَارُونُ بْنُ یُوسُفَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَقَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَہُوَ قَائِمٌ قَالَ عَاصِمٌ فَحَلَفَ عِکْرِمَۃُ مَا کَانَ یَوْمَئِذٍ إِلاَّ عَلَی بَعِیرٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّحِیمِ وَقَالُوا قَالَ عِکْرِمَۃُ : وَاللَّہِ مَا کَانَ إِلاَّ عَلَی نَاقَۃٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَارِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۶۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٥٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زمزم پلایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر پیا۔ عکرمہ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اس روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹ پر سوار تھے۔ عبدالرحیم کی روایت میں ہے اور انھوں نے کہا کہ عکرمہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن اونٹنی پر ہی تھے۔

9661

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9661

Sahih

(۹۶۵۶)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ حَدَّثَنِی جَلِیسٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مِنْ أَیْنَ جِئْتَ؟ قُلْتُ : شَرِبْتُ مِنْ زَمْزَمَ قَالَ : شَرِبْتَ کَمَا یَنْبَغِی۔ قُلْتُ : کَیْفَ أَشْرَبُ؟ قَالَ : إِذَا شَرِبْتَ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ ثُمَّ اذْکُرْ اسْمَ اللَّہِ ثُمَّ تَنَفَّسَ ثَلاَثًا وَتَضَّلَعْ مِنْہَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّہَ فَإِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ : آیَۃٌ مَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْمُنَافِقِینَ أَنَّہُمْ لاَ یَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٥٦) عثمان بن اسود فرماتے ہیں کہ ہم کو ابن عباس (رض) کے ایک ہم نشین نے کہا کہ مجھے ابن عباس (رض) نے فرمایا : تو کہاں سے آیا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے زمزم پیا ہے، تو انھوں نے کہا : کیا تم نے کما حقہ پیا ہے ؟ میں نے کہا : میں کیسے پیوں ؟ انھوں نے کہا : جب تو پینے لگے تو قبلے کی طرف منہ کر ، پھر اللہ کا نام لے، پھر تین سانس لے اور جی بھر کے پی اور جب تو فارغ ہوجائے تو اللہ کی حمدبیان کر، بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ، ہمارے اور منافقوں کے درمیان نشانی یہ ہے کہ وہ پیٹ بھر کر زمزم نہیں پیتے۔

9662

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9662

Zaeef

(۹۶۵۷)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ زَکَرِیَّا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَہُ : مِنْ أَیْنَ جِئْتَ؟ قَالَ : شَرِبْتُ مِنْ زَمْزَمَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ وَرَوَاہُ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی السِّینَانِیُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ۔ [انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٥٧) ایضاً

9663

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9663

Sahih

(۹۶۵۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : جَائَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَذَکَرَ بِمِثْلِہِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٥٨) ایضاً

9664

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9664

Sahih

(۹۶۵۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَائٍ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی قِصَّۃِ إِسْلاَمِہِ إِلَی أَنْ قَالَ : فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ ہُوَ وَصَاحِبُہُ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ ہُوَ وَصَاحِبُہُ ثُمَّ صَلَّی فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَأَتَیْتُہُ وَکُنْتُ أَوَّلُ مَنْ حَیَّاہُ بِتَحِیَّۃِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ : وَعَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَقَالَ : مَتَی کُنْتَ ہَا ہُنَا ۔ قُلْتُ : قَدْ کُنْتَ ہَا ہُنَا مُنْذُ ثَلاَثِینَ لَیْلَۃً وَیَوْمًا قَالَ : فَمَنْ کَانَ یُطْعِمُکَ ؟ ۔ قُلْتُ : مَا کَانَ لِی طَعَامٌ إِلاَّ مَائُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّی تَکَسَّرَ عُکَنُ بَطْنِی وَمَا وَجَدْتُ عَلَی کَبِدِی سَخْفَۃَ جُوعٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ إِنَّہَا طَعَامُ طُعْمٍ وَشِفَائُ سُقْمٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۳۴۷۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٥٩) ابوذر (رض) نے اپنے اسلام کا قصہ سنایا ، فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھی آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر نماز پڑھی۔ ابوذر فرماتے ہیں : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں ہی تھا جس نے سب سے پہلے اسلام والاسلام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وَعَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو یہاں کب سے ہے ؟ میں نے کہا : میں یہاں تیس دن رات سے ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو تجھ کو کھلاتا کون تھا، میں نے کہا : میرا کھانا صرف آب زمزم تھا۔ میں موٹا تازہ ہوگیا حتیٰ کہ میرے پیٹ کا عکن ٹوٹنے لگا اور میں نے ذرا بھی بھوک محسوس نہیں کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کھانے کا کھانا اور بیماری کی شفا ہے۔

9665

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9665

Zaeef

(۹۶۶۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْبَاغَنْدِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہُ ۔ تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ۔ [ضعیف۔ ابن ماجہ ۳۰۶۲۔ احمد ۳/ ۳۵۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٦٦٠) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمزم کا پانی اسی لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے۔