Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 2023

کتاب الحج

جمرہ عقبہ کے لیے کنکریاں لینے اور مارنے کا طریقہ

13 hadiths in this chapter

9538

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9538

Sahih

(۹۵۳۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَدِیفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَنَّہُ قَالَ فِی عَشِیَّۃِ عَرَفَۃَ وَغَدَاۃِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِینَ دَفَعُوا : ((عَلَیْکُمُ السَّکِینَۃَ)) ۔ وَہُوَ کَافٌّ نَاقَتَہُ حَتَّی إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَہُوَ مِنْ مِنًی قَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِحَصَی الْخَذْفِ الَّذِی تُرْمَی بِہِ الْجَمْرَۃُ)) ۔ وَقَالَ : لَمْ یَزَلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ یُلَبِّی حَتَّی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۸۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٣٣) فضل بن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے ، فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح جب لوگ جانے لگے تو فرمایا : تم سکون کو لازم پکڑو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹنی کو روکنے والے تھے حتیٰ کہ محسر میں داخل ہوئے اور وہ منیٰ میں سے ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم چھوٹی چھوٹی کنکریاں پکڑو جن سے جمرہ کو مارا جاتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کو مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔

9539

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9539

Sahih

(۹۵۳۴)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ زِیَادِ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ غَدَاۃَ یَوْمِ النَّحْرِ : ((ہَاتِ فَالْقُطْ لِی حَصًی)) ۔ فَلَقَطْتُ لَہُ حَصَیَاتٍ مِثْلَ حَصَی الْخَذْفِ فَوَضَعْتُہُنَّ فِی یَدِہِ فَقَالَ : ((بِأَمْثَالِ ہَؤُلاَئِ بِأَمْثَالِ ہَؤُلاَئِ وَإِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَ فَإِنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمُ الْغُلُوُ فِی الدِّینِ)) ۔ [صحیح۔ نسائی ۳۰۵۷۔ ابن ماجہ ۳۰۲۹۔ احمد ۱/ ۲۱۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٣٤) فضل بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نحر کے دن کی صبح آؤ اور میرے لیے کنکریاں چنو تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے انگلیوں میں رکھ کر پھینکی جانے والی کنکریاں چنیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی طرح کی، اسی طرح کی اور تم غلو سے بچو۔ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

9540

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9540

Sahih

(۹۵۳۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ أَمَرَہَمْ أَنْ یَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۹۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٣٥) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو چھوٹی کنکریاں مارنے کا حکم دیا۔

9541

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9541

Sahih

(۹۵۳۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ رَمَی الْجَمْرَۃَ بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٣٦) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوٹی کنکریاں جمرہ پر مارتے دیکھا۔

9542

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9542

Sahih

(۹۵۳۷)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یُعَلَّمُ النَّاسَ مَنَاسِکَہُمْ وَقَالَ : ((ارْمُوا الْجَمْرَۃَ بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ))۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۹۵۷۔ نسائی ۲۹۹۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٣٧) محمد بن ابراہیم تمیمی کہتے ہیں کہ میری قوم کے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ لوگوں کو ان کے مناسک سکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے : حذف کی طرح چھوٹی کنکریاں مارو۔

9543

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9543

Sahih

(۹۵۳۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الأَعْرَجُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّیْمِیِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَنَحْنُ بِمِنًی قَالَ فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا حَتَّی إِنْ کُنَّا لَنَسْمَعُ مَا یَقُولُ وَنَحْنُ فِی مَنَازِلِنَا قَالَ فَطَفِقَ یُعَلِّمُنَا مَنَاسِکَنَا حَتَّی بَلَغَ الْجِمَارَ فَقَالَ : ((بِحَصَی الْخَذْفِ)) ۔ وَوَضَعَ أُصْبُعَیْہِ السَّبَّابَتَیْنِ إِحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی قَالَ وَأَمَرَ الْمُہَاجِرِینَ أَنْ یَنْزِلُوا فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَأَمَرَ الأَنْصَارَ فَنَزَلُوا مِنْ وَرَائِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ نَزَل النَّاسُ بَعْدُ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٣٨) عبدالرحمن بن معاذ تمیمی (رض) فرماتے ہیں : جب ہم منیٰ میں تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا ، فرماتے ہیں کہ ہمارے کان کھول دیے گئے حتیٰ کہ ہم انہی جگہوں پر ہی آپ کی بات سن رہے تھے، کہتے ہیں کہ آپ ہمیں مناسکِ حج سکھانے لگے حتیٰ کہ جمروں کی بات آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوٹی کنکریاں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی سبابہ انگلیاں ایک دوسری کے اوپر رکھیں اور مہاجرین کو حکم دیا کہ مسجد کے آگے اترو اور انصار کو کہا ، وہ مسجد کے پیچھے سے اتریں، پھر اس کے بعد لوگ اترے۔

9544

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9544

Zaeef

(۹۵۳۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہَانِئٍ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ عَنْ أُمِّہِ أُمِّ جُنْدُبٍ قَالَتْ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِہِ یَقِیہِ الْحِجَارَۃَ وَہُوَ یَقُولُ : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعَضًا وَإِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ)) ۔ [ضعیف۔ ابوداود ۱۹۶۶۔ احمد ۱/ ۶۰۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٣٩) ام جندب کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وادی کے درمیان سے رمیٔ جمار کرتے دیکھا اور ایک آدمی آپ کو پیچھے سے پتھروں سے بچا رہا تھا، اور آپ فرما رہے تھے : اے لوگو ! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور جب تم جمروں کو مارو تو چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔

9545

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9545

Zaeef

(۹۵۴۰)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ الأَزْدِیِّ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ وَہُوَ فِی بَطْنِ الْوَادِی وَہُوَ یَرْمِی الْجَمْرَۃَ وَہُوَ یَقُولُ : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ لاَ یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعَضًا وَإِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ)) ۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٤٠) عمرو بن الاحوص ازدی اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وادی کے درمیان سے جمروں کو مارتے ہوئے یہ کہتے سنا : اے لوگو ! ایک دوسرے کو ہلاک نہ کرو ، جب تم جمرہ کو کنکریاں مارو تو چھوٹی پتھریاں مارو۔

9546

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9546

Zaeef

(۹۵۴۱)وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ أَبِی یَزِیدَ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ یَعْنِی عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ: ((أَیُّہَا النَّاسُ لاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ عِنْدَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ وَعَلَیْکُمْ بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ))۔ قَالَ الْحَجَّاجُ وَقَالَ عَطَائٌ : حَصَی الْخَذْفِ مِثْلِ طَرَفِ الأَصْبِعِ لَمْ یُثْبِتْ شَیْخُنَا أُمَّ جُنْدُبٍ وَہِیَ أُمُّ جُنْدُبٍ۔ قَالَہُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِیعٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ سَأَلْتُ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : أُمُّہُ اسْمُہَا أُمُّ جُنْدُبٍ قُلْتُ : فَحَدِیثُ الْحَجَّاجِ قَالَ : أُرَی أَنَّ الْحَجَّاجَ أَخَذَہُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ وَأَظُنُّہُ ہُوَ حَدِیثُ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أُمِّہِ۔ [باطل۔ احمد ۶/ ۳۷۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٤١) ام جندب فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! اپنے آپ کو جمرہ عقبہ کے پاس ہلاک نہ کرو اور چھوٹی کنکریاں لازم پکڑو۔

9547

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9547

Zaeef

(۹۵۴۲)أَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوغَسَّانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ جَمِیلِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یَرْمِی الْجِمَارَ مِثْلَ بَعْرِ الْغَنَمِ۔ وَرُوِّینَا عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْحَصَی مِنْ جَمْعٍ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَنْزِلَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَمَنْ حَیْثُ أَخَذَ أَجْزَأَہُ إِلاَّ أَنِّی أَکْرَہُہُ مِنَ الْمَسْجِدِ لِئَلاَ یُخْرِجَ حَصَی الْمَسْجِدِ مِنْہُ وَمَنِ الْحُشِّ لِنَجَاسَتِہِ وَمِنَ الْجَمْرَۃِ لأَنَّہُ حَصَی غَیْرُ مُتَقَبَّلٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا : أَنَّ الْحَصَی یُنَاشِدُ الَّذِی یُخْرِجُہُ مِنَ الْمَسْجِدِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٤٢) (الف) جمیل بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو بکری کی مینگنی جیسی کنکریاں مارتے دیکھا۔ (ب) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نیچے اترنے کو مکروہ خیال کرتے ہوئے وہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لے لیا کرتے تھے۔ (ج) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : انھوں نے لیا ہے مگر یہ کہ وہ جہاں سے بھی لیں ان کو کفایت کر جائیں گی ۔ مگر میں مسجد سے کنکریاں لینا مکروہ سمجھتا ہوں کہ کہیں مسجد سے ساری کنکریاں نہ نکالی جائیں اور کسی باغ یا بیت الخلاء وغیرہ سے اس لیے کہ وہ نجس ہوتی ہیں اور وہیں جمرہ سے اٹھانے کو اس لیے کہ وہ غیر مقبول کنکریاں ہیں۔ (د) شیخ (رض) فرماتے ہیں ہم کتاب الصلوٰۃ میں ابو صالح سے ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے مرفوع روایت نقل کرچکے ہیں کہ ” کنکری اس آدمی سے اپیل کرتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔

9548

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9548

Zaeef

(۹۵۴۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الطَّابَرَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْحَصَی الَّذِی یُرْمَی فِی الْجِمَارِ مُنْذُ قَامَ الإِسْلاَمُ فَقَالَ : مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ رُفِعَ وَمَا لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنْہُمْ تُرِکَ وَلَوْلاَ ذَلِکَ لَسَدَّ مَا بَیْنَ الْجَبَلَیْنِ۔ وَرُوِّینَا عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وُکِّلَ بِہِ مَلَکٌ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُ رُفِعَ وَمَا لَمْ یُتَقَبَّلُ تُرِکَ۔ وَعَنْ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ الْعَبْسِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی نُعْمٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِیدٍ عَنْ رَمْیِ الْجِمَارِ فَقَالَ لِی: مَا تُقُبِّلَ مِنْہُ رُفِعَ وَلَوْلاَ ذَلِکَ کَانَ أَطْوَلَ مِنْ ثَبِیرٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٤٣) ابوطفیل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے ان کنکریوں کے کے بارے میں پوچھا جن کے ساتھ اسلام کے بعد جمروں کو مارا جاتا ہے تو انھوں نے کہا : جو ان کی قبول کی گئی اس کو اٹھایا گیا اور جو نہ کی گئی اس کو چھوڑا گیا اور اگر یہ نہ ہوتا دو دونوں پہاڑوں کا درمیان بند ہوجاتا۔ سفیان ثوری کی روایت میں ابن عباس سے منقول ہے کہ اس پر ایک فرشتے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے اس سے جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے اور جو قبول نہ ہو وہ باقی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ابن ابی نعیم فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سعید سے کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ ان سے جو قبول کی جاتی ہیں وہ اٹھالی جاتی ہیں اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو یہاں یہ ثبیر پہاڑ سے بھی بلند پہاڑ بن جاتا۔

9549

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9549

Sahih

(۹۵۴۴) أَخْبَرَنِی بِہَذَیْنِ الأَثَرَیْنِ أَبُو بَکْرٍ الأَصْبَہَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُمَا۔ وَذَکَرَ حَدِیثَ سُفْیَانَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْحَصَی مِنْ جَمْعٍ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَنْزِلَ۔ وَقَدْ رُوِیَ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ مَرْفُوعًا مِنْ وَجْہٍ ضَعِیفٍ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٤٤) ایضاً سیدنا ابن عمر (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اترنے کو مکروہ سمجھتے ہوئے پہلے ہی کنکریاں رکھ لیا کرتے تھے۔

9550

Sunan Al Kubra Bayhaqi #9550

Zaeef

(۹۵۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَکِ الْمُسْتَمْلِی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَمَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِیہ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذِہِ الأَحْجَارُ الَّتِی یُرْمَی بِہَا یُحْمَلُ فَیُحْسَبُ أَنَّہَا تَنْقَعِرُ قَالَ : ((إِنَّہُ مَا تُقُبِّلَ مِنْہَا یُرْفَعُ وَلَوْلاَ ذَلِکَ لَرَأَیْتَہَا مِثْلَ الْجِبَالِ)) ۔ یَزِیدُ بْنُ سِنَانٍ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ فِی الْحَدِیثِ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف۔ حاکم ۱/ ۶۵۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(٩٥٤٥) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ پتھر جن کے ساتھ مارا جاتا ہے ، اٹھالیے جاتے ہیں سمجھا جاتا ہے کہ یہ کاٹے جاتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تو ان کو پہاڑوں کی طرح دیکھتا۔