Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 1843

کتاب الحج

عمرہ پر حج کو داخل کرنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

8748

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8748

Sahih

(۸۷۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْنَا بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَۃِ ، ثُمَّ لاَ یَحِلَّ حََتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا))۔ قَالَتْ : فَقَدِمْتُ مَکَّۃَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلاَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((انْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ وَدَعِی الْعُمْرَۃَ))۔ قَالَتْ : فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَیْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ إِلَی التَّنْعِیمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ : ((ہَذِہِ مَکَانَ عُمْرَتِکِ))۔ قَالَتْ : فَطَافَ الَّذِینَ کَانُوا أَہَلُّوا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ حَلُّوا ، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًی بِحَجِّہِمْ ، وَأَمَّا الَّذِینَ کَانُوا جَمَعُوا بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ وَکَذَا قَالَہُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ: ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِہِ، ثُمَّ لاَ یَحِلَّ حَتَّی یَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیعًا))۔ وَرَوَاہُ عُقَیْلٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَقَالَ : مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَۃٍ وَلَمْ یُہْدِ فَلْیُحْلِلْ ۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَتْہُ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ وَصَدَّقَہَا فِی ذَلِکَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَلَی مِثْلِ ذَلِکَ تَدُلُّ رِوَایَۃُ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَقَوْلُہُ : ((أَہِلِّی بِالْحَجِّ وَدَعِی الْعُمْرَۃَ))۔ یُرِیدُ بِہِ أَمْسِکِی عَنْ أَفْعَالِہَا وَأَدْخِلِی عَلَیْہَا الْحَجَّ وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِی رِوَایَۃِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۸۱۔ مسلم ۲۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٧٤٥) (الف) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے پاس قربانی ہے، وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہے ، پھر حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے فارغ ہو لے، فرماتی ہیں : میں مکہ حیض کی حالت میں پہنچی اور میں نے بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف نہ کیا تھا تو اس بات کا شکوہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنا سر کھول دے اور کنگھی کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ اور عمرہ کو رہنے دے، فرماتی ہیں : میں نے ایسے ہی کیا تو جب ہم نے حج کرلیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عبدالرحمن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، پھر میں نے عمرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیرے عمرے کی جگہ ہے، فرماتی ہیں : جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، انھوں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر حلال ہوگئے۔ پھر انھوں نے ایک اور طواف کیا جب وہ اپنے حج سے فارغ ہو کر منیٰ سے لوٹے اور جنہوں نے حج و عمرہ کو جمع کیا تھا انھوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔ (ب) معمر زہری سے نقل فرماتے ہیں : جس کے پاس قربانی ہو تو وہ حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی پکارے ، پھر ان دونوں سے اکٹھا حلال ہو۔ (ج) عقیل نے زہری سے روایت کیا تو انھوں نے کہا : جس نے عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی نہ کی تو وہ حلال ہوجائے۔ اس کی مثل ہشام بن عروہ کی روایت ہے وہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان :” حج کا تلبیہ پکار اور عمرہ کو چھوڑ دے “۔ مراد یہ تھی کہ اپنے افعال سے رک جا اور حج کے افعال کو لازم کر۔

8749

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8749

Sahih

(۸۷۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہَرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّہُ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُہِلِّینَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَأَقْبَلَتْ عَائِشَۃُ مُہِلَّۃً بِعُمْرَۃٍ حَتَّی إِذَا کَانَتْ بِسَرِفَ عَرَکَتْ حَتَّی إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْکَعْبَۃِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ قَالَ فَقُلْنَا : حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ : ((الْحِلُّ کُلُّہُ))۔ فَوَاقَعْنَا النِّسَائَ فَطَیَّبْنَا بِالطِّیبِ وَلَبِسْنَا ثِیَابَنَا وَلَیْسَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ عَرَفَۃَ إِلاَّ أَرْبَعُ لَیَالٍ ، ثُمَّ أَہْلَلْنَا یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی عَائِشَۃَ فَوَجَدَہَا تَبْکِی فَقَالَ : ((مَا شَأْنُکِ))۔ قَالَتْ : شَأْنِی أَنِّی حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ ، وَلَمْ أَحْلِلْ ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَالنَّاسُ یَذْہَبُونَ إِلَی الْحَجِّ الآنَ۔ قَالَ : ((فَإِنَّ ہَذَا أَمْرٌ کَتَبَہُ اللَّہُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِی ، ثُمَّ أَہِلِّی بِالْحَجِّ))۔ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّی إِذَا طَہُرَتْ طَافَتْ بِالْکَعْبَۃِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : ((قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ جَمِیعًا))۔ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَجِدُ فِی نَفْسِی أَنِّی لَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتَّی حَجَجْتُ۔ قَالَ : ((فَاذْہَبْ بِہَا یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْہَا مِنَ التَّنْعِیمِ))۔ وَذَلِکَ لَیْلَۃَ الْحَصْبَۃِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٧٤٦) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہتے ہوئے گئے اور اور عائشہ (رض) نے عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب وہ سرف کے مقام پر پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں حتیٰ کہ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے کعبہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص قربانی ساتھ لے کر نہیں آیا وہ حلال ہوجائے ۔ ہم نے پوچھا : یہ کیسا حلال ہونا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکمل طور پر حلال ہونا ہے تو ہم عورتوں پر واقع ہوئے، خوشبو لگائی، کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھیں، پھر یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو ہم نے احرام باندھا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے پاس گئے تو انھیں روتے ہوئے پایا تو پوچھا : تیرا کیا معاملہ ہے ؟ کہنے لگیں : میرا معاملہ یہ ہے کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگ حلال بھی ہوچکے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کیا اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا معاملہ ہے کہ اللہ نے اس کو بنات آدم پر مقرر کر رکھا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کے لیے تلبیہ کہہ۔ انھوں نے ایسا ہی کیا اور ہر ٹھہرنے کی جگہ پر ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ حیض سے فارغ ہوئیں تو کعبہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب تو حج و عمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہے۔ کہنے لگیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے دل میں خدشہ سا ہے کہ میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا حتیٰ کہ حج کرلیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا اور یہ لیلۂ حصبہ کی بات ہے۔

8750

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8750

Sahih

(۸۷۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَغَیْرُہُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُمْ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ فِی الْفِتْنَۃِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ : إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَیْتِ صَنَعْنَا کَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَخَرَجَ فَأَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ وَسَارَ حَتَّی إِذَا ظَہَرَ عَلَی ظَاہِرِ الْبَیْدائِ الْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِہِ فَقَالَ : مَا أَمْرُہُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ۔ أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَۃِ۔ فَخَرَجَ حَتَّی جَائَ الْبَیْتَ فَطَافَ بِہِ وَطَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعًا لَمْ یَزِدْ عَلَیْہِ وَرَأَی أَنَّ ذَلِکَ مُجْزِیًا عَنْہُ وَأَہْدَی۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۱۲۔ مسلم ۱۲۳۰] أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ ، وَرَوَاہُ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَغَیْرُہُ عَنْ نَافِعٍ وَزَادُوا فِیہِ : أَنَّہُ لَمْ یَحِلَّ مِنْہُمَا حَتَّی أَحَلَّ مِنْہُمَا بِحَجَّۃٍ یَوْمَ النَّحْرِ وَقَوْلُہُ لَمْ یَزِدْ عَلَیْہِ أَرَادَ لَمْ یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃ إِلاَّ مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔ وَلَوْ أَہَلَّ بِالْحَجِّ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُدْخِلَ عَلَیْہِ عُمْرَۃً فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَکْثَرُ مَنْ لَقِیتُ وَحَفِظْتُ عَنْہُ یَقُولُ : لَیْسَ ذَلِکَ لَہُ۔ وَقَدْ یُرْوَی عَنْ بَعْضِ التَّابِعِینَ وَلاَ أَدْرِی ہَلْ یَثْبُتُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِیہِ شَیْئٌ أَمْ لاَ فَإِنَّہُ قَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلَیْسَ یَثْبُتُ۔ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٧٤٧) (الف) نافع (رض) فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) فتنہ میں عمرہ کی نیت سے نکلے اور کہا : اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے، جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا، پس وہ نکلے اور عمرہ کا تلبیہ کہا اور چلے حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا : معاملہ تو دونوں کا ایک ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کو بھی عمرہ کے ساتھ واجب کرلیا ہے، پس وہ نکلے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے اور اس کا طواف کیا اور صفا ومروہ کا سات مرتبہطواف کیا اس سے زائد نہیں کیا اور سمجھا کہ یہی کافی ہے اور قربانی دی۔ (ب) صحیحین میں امام مالک (رض) کی حدیث ہے، جس کو عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع سے نقل کیا ہے اور انھوں نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں : وہ ان دونوں سے حلال نہیں ہوئے، حتیٰ کہ ان دونوں سے حج کے ساتھ یوم النحر کے دن حلال ہوئے اور ان کا کہنا کہ ” اس پر زیادہ نہیں کیا “ سے مراد یہ ہے کہ صفا ومروہ کے درمیان صرف ایک دفعہ سعی کی اور اگر اس نے حج کا تلبیہ پکارا، پھر اس پر وہ داخل کرنے کا ارادہ کیا تو (اس بارے میں) امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں اکثر لوگوں سے ملا ہوں اور ان سے یہ بات یاد کی ہے وہ کہتے تھے : یہ اس کے لیے (جائز) نہیں ہے۔ بعض تابعین سے روایت کیا گیا ہے، لیکن میرے علم میں نہیں کہ وہ بات کسی صحابی سے ثابت ہے یا نہیں۔ اسی طرح سیدنا علی (رض) سے روایت ہے لیکن وہ ثابت نہیں ہے۔

8751

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8751

Zaeef

(۸۷۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ حِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بْنِ حَیَّانَ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی نَصْرٍ قَالَ : أَہْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَأَدْرَکْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقُلْتُ : إِنِّی أَہْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَأَسْتَطِیعُ أَنْ أَضُمَّ إِلَیْہِ عُمْرَۃً قَالَ : لاَ لَوْ کُنْتَ أَہْلَلْتَ بِالْعُمْرَۃِ ، ثُمَّ أَرَدْتَ أَنْ تَضُمَّ إِلَیْہَا الْحَجَّ ضَمَمْتَہُ ، وَإِذَا بَدَأْتَ بِالْحَجِّ فَلاَ تَضُمَّ إِلَیْہِ عُمْرَۃً قَالَ فَمَا أَصْنَعُ إِذَا أَرَدْتُ ذَلِکَ؟ قَالَ : صُبَّ عَلَیْکَ إِدَاوَۃً مِنْ مَائٍ ، ثُمَّ تُحْرِمُ بِہِمَا جَمِیعًا فَتَطُوفُ لَہُمَا طَوَافَیْنِ۔ کَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ۔ وَأَبُو نَصْرٍ ہَذَا غَیْرُ مَعْرُوفٍ۔ [ضعیف۔ دارقطنی ۲/ ۲۶۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٧٤٨) ابونصر فرماتے ہیں کہ میں نے حج کے لیے احرام باندھا ، پھر میں نے سیدنا علی (رض) کو پا لیا تو پوچھا : میں نے حج کی نیت سے احرام باندھا ہے تو کیا میں اس کے ساتھ عمرہ شامل کرسکتا ہوں ؟ انھوں نے کہا : نہیں ! اگر تو عمرہ کا احرام باندھتا اور پھر تو اس کے ساتھ حج کو شامل کرنا چاہتا تو کرلیتا اور جب تو نے حج کے ساتھ ابتدا کی ہے تو پھر عمرہ ساتھ نہ ملا۔ میں نے پوچھا : پھر میں کیا کروں اگر میں دونوں ہی کرنا چاہوں ؟ انھوں نے کہا : اپنے پر پانی کا ایک لوٹا بہا اور پھر دونوں کا اکٹھا احرام باندھ اور دو طواف کر۔

8752

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8752

Zaeef

(۸۷۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ سَمِعَ مَالِکَ بْنَ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی نَصْرٍ السُّلَمِیِّ : أَنَّہُ لَقِیَ عَلِیًّا وَقَدْ أَہَلَّ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَأَہَلَّ ہُوَ بِالْحَجِّ قَالَ فَقُلْتُ لِعَلِیٍّ : أُہِلُّ بِہِمَا جَمِیعًا؟ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّمَا ذَلِکَ لَوْ کُنْتَ حِینَ ابْتَدَأْتَ دَعَوْتَ بِإِدَاوَتِکَ فَاغْتَسَلْتَ ، ثُمَّ أَہْلَلْتَ بِہِمَا جَمِیعًا ، ثُمَّ طُفْتَ طَوَافَیْنِ طَوَافًا لِحَجِّکَ وَطَوَافًا لِعُمْرَتِکَ ، ثُمَّ لَمْ یَحِلَّ مِنْکَ شَیْئٌ إِلَی یَوْمِ النَّحْرِ۔ وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ مَالِکٌ حَدَّثَنِیہِ وَقَالَ : لاَ ذَاکَ لَوْ کُنْتَ بَدَأْتَ بِالْعُمْرَۃِ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَإِذَا قَرَنْتَ فَافْعَلَ کَذَا فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ۔ وَکَانَ مَنْصُورٌ یَشُکُّ فِی سَمَاعِہِ مِنْ مَالِکٍ نَفْسِہِ أَوْ مِنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٧٤٩) ایضاً