Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 15 · Chapter 1834

کتاب الحج

اس شخص کا بیان جو نفلی حج کا احرام باندھے جب کہ اس نے فرض حج نہ کیا ہو، یا مطلقاً احرام باندھے اور کہے کہ میرا احرام فلاں شخص کے احرام کی طرح ہے اور وہ فلاں شخص حج کا احرام باندھنے والا تھا تو اس کا بھی حج ہوجائے گا اور یہ فرض حج سے کفایت کر جائے گا

5 hadiths in this chapter

8689

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8689

Sahih

(۸۶۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَامِیُّ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ عَطَائٌ أَخْبَرَنِی قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فِی نَاسٍ مَعِی قَالَ : أَہْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالْحَجِّ خَالِصًا لَیْسَ مَعَہُ غَیْرُہُ خَالِصًا وَحْدَہُ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ : وَقَدِمَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَکَّۃَ صَبِیحَۃَ رَابِعَۃٍ مَضَتْ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : ((أَحِلُّوا وَأَصِیبُوا النِّسَائَ))۔ قَالَ عَطَائٌ : فَلَمْ یَعْزِمْ عَلَیْہِمْ أَنْ یُصِیبُوا النِّسَائَ وَلَکِنْ أَحَلَّہُنَّ لَہُمْ قَالَ فَبَلَغَہُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ : لَمَّا لَمْ یَکُنْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ عَرَفَۃَ إِلاَّ خَمْسًا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَی نِسَائِنَا، وَنَأْتِیَ عَرَفَۃَ تَقْطُرُ مَذَاکِیرُنَا الْمَنِیَّ قَالَ وَیَقُولُ جَابِرٌ بِیَدِہِ کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی یَدِہِ یُحَرِّکُہَا فَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : ((ہَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّی أَتْقَاکُمْ لِلَّہِ وَأَصْدَقُکُمْ وَأَبَرُّکُمْ ، وَلَوْلاَ الْہَدْیُ لَحَلَلْتُ کَمَا تَحِلُّونَ ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَہْدَیْتُ))۔ قَالَ فَأَحْلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔ قَالَ جَابِرٌ : فَقِدَمَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ سَعَایتِہِ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((بِماَ أَہْلَلْتَ یَا عَلِیُّ))۔ قَالَ : بِمَا أَہَلَّ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- قَالَ : ((فَأَہْدِ ، ثُمَّ امْکُثْ حَرَامًا کَمَا أَنْتَ))۔ قَالَ فَأَہْدَی لَہُ عَلِیٌّ ہَدْیًا قَالَ فَقَالَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکٍ : مُتْعَتُنَا ہَذِہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ لِعَامِنَا ہَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟ قَالَ : ((لاَ بَلْ لِلأَبَدِ))۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۹۳۳۔ مسلم ۱۲۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦٨٦) عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) کو اپنے ساتھ موجود لوگوں میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) نے صرف حج کے لیے احرام باندھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالحجہ کی چار تاریخ کو مکہ پہنچے تو آپ نے فرمایا : احرام کھول دو اور عورتوں سے مباشرت کرو ۔ عطاء کہتے ہیں کہ عورتوں سے مباشرت ان کے لیے لازم قرار نہیں دی تھی ، بلکہ صرف اس کو حلال قرار دیا تھا، جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہماری طرف سے یہ خبر پہنچی کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان پانچ دن رہ گئے ہوں تو انھوں نے ہمارے لیے عورتوں کو حلال قرار دے دیا ہے اور ہم عرفہ میں اپنے ذکروں سے منی ٹپکاتے ہوئے پہنچیں گے اور جابر (رض) اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر رہے تھے، گویا کہ میں اب بھی اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں، حرکت کرتا ہوا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور فرمایا : کیا تم کو معلوم ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ، سچا اور نیک ہوں، اور اگر ” ہدی “ نہ ہوتی تو میں بھی تمہاری طرح حلال ہوجاتا اور اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہوجاتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی کا جانور نہ لے کر آتا “ جابر (رض) فرماتے ہیں : تو ہم حلال ہوگئے، ہم نے سنا اور اطاعت کی، علی بن ابی طالب (رض) پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : علی تو نے کیا تلبیہ کہا ہے ؟ کہنے لگے : جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا ہے۔ آپ نے فرمایا : پھر قربانی لا اور احرام کی حالت میں رہ جس طرح تو ہے تو علی (رض) ان کے لیے قربانی لائے، سراقہ بن مالک نے پوچھا : یہ حج تمتع ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔

8690

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8690

Sahih

(۸۶۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَیْسٍ قَالَ سَمِعْتُ قَیْسَ بْنَ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَنِی إِلَی الْیَمَنِ قَالَ فَوَافَقْتُہُ فِی الْعَامِ الَّذِی حَجَّ فِیہِ فَقَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَا أَبَا مُوسَی کَیْفَ قُلْتَ حِینَ أَحْرَمْتَ؟))۔ قَالَ : قُلْتُ إِہْلاَلٌ کَإِہْلاَلِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ فَقَالَ : ((ہَلْ سُقْتَ ہَدْیًا؟))۔ قُلْتُ : لاَ قَالَ : ((فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ أَحِلَّ))۔ فَانْطَلَقْتُ فَطُفْتُ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَی نِسْوَۃٍ مِنْ آلِ قَیْسٍ یَعْنِی عَمَّاتِہِ فَمَشَطْنَ رَأْسِیَ بِالْغِسْلِ ، فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ فِی إِمَارَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدِمْتُ حَاجًّا فَبَیْنَا أَنَا أُحَدِّثُ النَّاسَ عِنْدَ الْبَیْتِ بِمَا أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ : دُونَکَ أَیُّہَا الرَّجُلُ بِحَدِیثِکَ فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی مَا أَحْدَثَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ فِی النُّسُکِ فَقُلْتُ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ مَنْ سَمِعَ شَیْئًا فَلاَ یَأْخُذْ بِہِ حَتَّی یَقْدَمَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ فَبِہِ ائْتَمُّوا ، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قُلْتُ لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَحَدَثَ فِی النُّسُکِ شَیْئٌ؟ فَغَضِبَ عُمَرُ مِنْ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : أَجَلْ لَئِنْ نَأْخُذْ بِکِتَابِ اللَّہِ فَقَدْ أَمَرَ اللَّہُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَنَا فَإِنَّہُ لَمْ یَحِلَّ حَتَّی بَلَغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦٨٧) ابوموسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف بھیجا تو میں آپ کو اس سال ملا جس سال آپ نے حج کیا تو آپ نے مجھے فرمایا : اے ابوموسیٰ ! جب تو نے احرام باندھا تھا تو کیا کہا تھا ؟ میں نے کہا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح کرنے کی نیت کی تھی، آپ نے پوچھا : کیا تو قربانی کا جانور لایا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جا بیت اللہ کا طواف کر اور صفا و مروہ کی سعی کر کے حلال ہوجا۔ تو میں گیا اور میں نے صفا ومروہ کی سعی کی، پھر میں آل ِقیس کی عورتوں یعنی اپنی پھوپھیوں کے پاس گیا، انھوں نے میرا سر دھویا اور کنگھی کی، پھر اس کے بعد عمر (رض) کے دور خلافت میں میں حج کرنے کے لیے آیا تو اس دوران کہ میں لوگوں کو وہ بات بتارہا تھا جو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی تھی ایک شخص آیا اور کہنے لگا : بچ کر رہو اپنی اس بات کی بنا پر آپ کو پتہ نہیں کہ امیرالمومنین نے مناسک حج میں کیا اضافہ کیا ہے ؟ تو میں نے کہا : اے لوگو ! جس نے کوئی بھی بات سنی ہے وہ اس کا اعتبار نہ کرے حتیٰ کہ امیر المومنین تشریف لے آئیں۔ پس انہی کی اقتدا کرو۔ جب عمر (رض) تشریف لائے تو میں نے کہا : کیا طریقۂ حج میں کوئی نیا حکم جاری ہوا ہے ؟ تو عمر (رض) اس بات سے غصے ہوئے ، پھر کہا : ہاں اگر ہم کتاب اللہ کو لیں تو اللہ تعالیٰ نے مکمل کرنے کا حکم دیا اور اگر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لیں تو آپ قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔

8691

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8691

Sahih

(۸۶۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِہَابٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ مُنِیخٌ بِالْبَطْحَائِ فَقَالَ لِی : ((کَیْفَ أَہْلَلْتَ؟))۔ قَالَ قُلْتُ : لَبَّیْکَ بِإِہْلاَلٍ کَإِہْلاَلِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ أَحِلَّ))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ وَفِی رِوَایَۃِ طَاوُسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَرَجَ مِنَ الْمَدِینَۃِ لاَ یُسَمِّی حَجًّا وَلاَ عَمْرَۃً یَنْتَظِرُ الْقَضَائَ فَنَزَلَ عَلَیْہِ الْقَضَائُ وَہُوَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَأَمَرَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ أَہَلَّ وَلَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ أَنْ یَجْعَلَہَا عُمْرَۃً۔ وَأَکَّدَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ہَذِہِ الرِّوَایَۃَ الْمُرْسَلَۃَ بِأَحَادِیثَ مَوْصُولَۃٍ رُوِیَتْ فِی إِحْرَامِہِمْ تَشْہَدُ لِرِوَایَۃِ طَاوُسٍ بِالصِّحَّۃِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۴۸۴۔ مسلم ۱۲۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦٨٨) (الف) ابوموسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جب آپ بطحا میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے تو آپ نے مجھے کہا : تو نے کیسے تلبیہ کہا تھا ؟ میں نے کہا : لَبَّیْکَ بِإِہْلاَلٍ کَإِہْلاَلِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ آپ نے فرمایا : تو نے اچھا کیا ہے، بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کر، پھر حلال ہوجا اور لمبی حدیث بیان کی۔ (ب) طاؤس کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ سے نکلے نہ آپ نے حج کا نام لیا اور نہ عمرہ کا، آپ فیصلہ (وحی) کے منتظر تھے، آپ پر وحی نازل ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا مروہ کے درمیان تھے تو جو آپ کے ساتھ تھے انھیں تلبیہ پکارنے کا کہا اور جن کے پاس قربانی نہ تھی تو اس کو عمرہ قرر دے دیا۔

8692

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8692

Sahih

(۸۶۸۹) مِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الطَّابَرَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّہِ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ قَالَتْ : خَرَجْنَا مُحْرِمِینَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ الْہَدْیُ فَلْیَقُمْ عَلَی إِحْرَامِہِ ، وَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیَحْلِلْ))۔ فَلَمْ یَکُنْ مَعِی ہَدْیٌ فَحَلَلْتُ، وَکَانَ مَعَ الزُّبَیْرِ ہَدْیٌ فَلَمْ یَحْلِلْ قَالَتْ فَلَبِسْتُ ثِیَابِی، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَی الزُّبَیْرِ فَقَالَ: قُومِی عَنِّی فَقُلْتُ : أَتَخْشَی أَنْ أَثِبَ عَلَیْکَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَۃَ۔ وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ مَعَ ہَذَا حَدِیثَ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ، ثُمَّ فَرَّقَ بِذَلِکَ بَیْنَ الإِحْرَامِ بِالْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَۃِ وَبَیْنَ الإِحْرَامِ بِالصَّلاَۃِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۲۳۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦٨٩) اسماء بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ ہم احرام باندھ کر نکلے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے پاس قربانی ہے وہ حالت احرا م میں ہی رہے اور جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ حلال ہوجائے تو میرے پاس قربانی نہیں تھی تو میں حلال ہوگئی اور زبیر کے پاس قربانی تھی وہ حلال نہ ہوئے ۔ فرماتی ہیں : میں نے اپنے کپڑے پہنے اور جا کر زبیر کے پاس بیٹھ گئی، وہ کہنے لگے : میرے پاس سے اٹھ جا تو میں نے کہا : کیا تو اس بات سے ڈرتا ہے کہ میں تجھ پر کود پڑوں گی ؟

8693

Sunan Al Kubra Bayhaqi #8693

Zaeef

(۸۶۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ لَمْ یَحُجَّ فَحَجَّ یَنْوِی النَّافِلَۃَ أَوْ حَجَّ عَنْ رَجُلٍ أَوْ حَجَّ عَنْ نَذْرِہِ قَالَ : ہَذِہِ حَجَّۃُ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ یَحُجُّ عَنِ الرَّجُلِ بَعْدُ إِنْ شَائَ وَعَنْ نَذْرِہِ۔ [ضعیف۔ مسند شافعی ۵۰۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٨٦٩٠) عطاء اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں : جس نے حج نہیں کیا اور وہ حج کرتا ہے تو نفلی حج کی نیت کرلیتا ہے یا کسی اور شخص کی طرف سے حج کرنے کی نیت کرتا ہے یا اپنی نذر کو پورا کرنے کے لیے حج کی نیت کرتا ہے تو یہ اس کا فرض حج ہی ہوگا۔ اس کے بعد اگر وہ چاہے تو کسی شخص کی طرف سے یا نذر کو پورا کرنے کے لیے حج کرلے۔