Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 13 · Chapter 2739

صدقات کا بیان

صدقہ کو نشان لگانے کا بیان

3 hadiths in this chapter

13261

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13261

Zaeef

(۱۳۲۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا دُحَیْمٌ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : غَدَوْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ لِیُحَنِّکَہُ فَوَافَیْتُہُ وَبِیَدِہِ مِیْسَمٌ یَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٍ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ کِلاَہُمَا عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ۔ [بخاری ۱۵۰۲۔ مسلم ۲۱۱۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٢٥٥) انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن ابوطلحہ کو صبح صبح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر گیا تاکہ آپ اس کو گھٹی دیں۔ میں آپ کے پاس گیا تو آپ کے ہاتھ میں نشان لگانے والا آلہ تھا، جس سے آپ صدقہ کے اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے۔

13262

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13262

Zaeef

(۱۳۲۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْہَیْثَمُ بْنُ خَلَفٍ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ وَابْنُ یَاسِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَلَدَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ فَقَالَتْ لِی : یَا أَنَسُ انْظُرْ ہَذَا الْغُلاَمَ فَلاَ یُصِیبَنَّ شَیْئًا حَتَّی تَغْدُوَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : فَغَدَوْتُ بِہِ فَإِذَا ہُوَ فِی حَائِطٍ وَعَلَیْہِ خَمِیصَۃٌ حَوْتَکِیَّۃٌ وَہُوَ یَسِمُ الظَّہْرَ الَّذِی قَدِمَ عَلَیْہِ فِی الْفَتْحِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مُوسَی : مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [بخاری۵۸۲۴۔ مسلم۲۱۱۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٢٥٦) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ام سلیم نے بچہ جنا اور کہا : اے انس ! اس بچے کو دیکھ، اس کو کوئی چیز نہ پہنچ جائے، اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جاؤ۔ کہتے ہیں : میں اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک باغ میں کھڑے تھے آپ پر حوتکیہ چادر تھی اور آپ فتح مکہ سے آنے والے اونٹوں کی پشتوں پر نشان لگا رہے تھے۔

13263

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13263

Zaeef

(۱۳۲۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُؤْتَی بِنَعَمٍ کَثِیرَۃٍ مِنْ نَعَمِ الْجِزْیَۃِ وَأَنَّہُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّ فِی الظَّہْرِ لَنَاقَۃً عَمْیَائَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : نَدْفَعُہَا إِلَی أَہْلِ الْبَیْتِ یَنْتَفِعُونَ بِہَا قَالَ فَقُلْتُ : وَہِیَ عَمْیَائُ قَالَ یَقْطُرُونَہَا بِالإِبِلِ قَالَ فَقُلْتُ : کَیْفَ تَأْکُلُ مِنَ الأَرْضِ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْیَۃِ ہِیَ أَمْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَۃِ؟ قَالَ فَقُلْتُ : مِنْ نَعَمِ الْجِزْیَۃِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَرَدْتُمْ وَاللَّہِ أَکْلَہَا فَقُلْتُ : إِنَّ عَلَیْہَا وَسْمَ الْجِزْیَۃِ فَأَمَرَ بِہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَنُحِرَتْ قَالَ وَکَانَ عِنْدَہُ صِحَافٌ تِسْعٌ فَلاَ تَکُونُ فَاکِہَۃٌ وَلاَ طَرِیفَۃٌ إِلاَّ جُعِلَ فِی تِلْکَ الصِّحَافِ مِنْہَا فَبَعَثَ بِہَا إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَیَکُونُ الَّذِی یَبْعَثُ بِہِ إِلَی حَفْصَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُنَّ مِنْ آخِرِ ذَلِکَ فَإِنْ کَانَ فِیہِ نُقْصَانٌ کَانَ فِی حَظِّ حَفْصَۃَ قَالَ : فَجَعَلَ فِی تِلْکَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْکَ الْجَزُورِ فَبَعَثَ بِہِ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَمَرَ بِمَا بَقِیَ مِنَ اللَّحْمِ فَصُنِعَ فَدَعَا عَلَیْہِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہِ : ہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَسِمُ وَسْمَیْنِ وَسْمَ جِزْیَۃٍ وَوَسْمَ صَدَقَۃٍ وَبِہَذَا نَقُولُ۔ [موطا ۶۱۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٢٥٧) حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) کے پاس جزیہ کے اونٹ لائے گئے۔ انھوں نے سیدنا عمر بن خطاب (رض) سے کہا : ایک اونٹنی اندھی ہے تو سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے کہا : ہم وہ اونٹنی اہل بیت کو دے دیتے ہیں، تاکہ وہ اس سے فائدہ حاصل کرلیں۔ میں نے کہا : وہ اندھی ہے، انھوں نے کہا کہ وہ اونٹوں کی قطار میں شامل کرلیں گے، میں نے کہا : وہ زمین سے کیسے کھائے گی تو سیدنا عمر (رض) نے کہا : کیا وہ جزیہ والے مال سے ہے یا صدقہ کے مال سے ؟ میں نے کہا : جزیہ کے مال سے، تو سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا (اسے) کھانے کا ارادہ ہے تو میں نے کہا : اس پر جزیہ کی نشانی لگائی گئی ہے، حضرت عمر (رض) کے حکم سے وہ ذبح کردی گئی اور آپ کے پاس نو پلیٹیں تھیں، اس میں خوش طبعی یا ہنس مکھ والی بات نہیں (بلکہ حقیقت ہے) ان پلیٹیوں میں رکھ کر ازواج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا گیا اور آخر میں حضرت حفصہ (رض) کے پاس بھیجا گیا اور ان کے حصے میں کوئی کمی بیشی تھی تو وہ گوشت ازواج النبی کے پاس بھیج دیا گیا، باقی گوشت کا کھانا تیار کیا گیا اور اس میں مہاجرین و انصار کو دعوت دی گئی۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر دو نشان لگاتے تھے : جزیہ کا اور صدقہ کا۔ یہی ہمارا موقف ہے۔