Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 13 · Chapter 2720

صدقات کا بیان

لوگوں کو مال فے اور غنیمت کے خمس سے پانچواں حصہ تالیف قلب کے لیے دینا تاکہ ان کے دل اسلام کی جانب مائل ہوں اگرچہ وہ مسلمان ہوں

7 hadiths in this chapter

13182

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13182

Sahih

(۱۳۱۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ المُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ یُخْبِرُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ غَزْوَۃِ حُنَیْنٍ فَکَانَ ہَمَّہُ النَّاسُ یَسْأَلُونَہُ فَأَحَاطَتْ بِہِ النَّاقَۃُ فَخَطِفَتْ شَجَرَۃٌ رِدَائَ ہُ فَقَالَ : رَدُّوا عَلَیَّ رِدَائِی أَتَخْشَوْنَ عَلَیَّ الْبُخْلَ لَوْ أَفَائَ اللَّہُ عَلَیَّ نَعَمًا مِثْلَ سَمُرِ تِہَامَۃَ لَقَسَمْتُہَا بَیْنَکُمْ ثُمَّ لاَ تَجِدُونِی بَخِیلاً وَلاَ جَبَانًا وَلاَ کَذَّابًا ۔ ثُمَّ أَخَذَ وَبَرَۃً مِنْ ذَرْوَۃِ سَنَامِ بَعِیرِہِ فَقَالَ : مَا لِی مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ وَلاَ مِثْلُ ہَذِہِ إِلاَّ الْخُمُسَ وَہُوَ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ رَدُّوا الْخَیْطَ وَالْمِخْیَطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ۔[حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٧٧) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ حنین سے واپس لوٹے تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے (اس غرض سے) اونٹنی کو گھیر لیا، آپ کی چادر درخت نے اچک لی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری چادر مجھے لوٹا دو ۔ کیا تم ڈرتے ہو کہ میں بخل کروں گا، اگر اللہ تعالیٰ مجھے تہامہ جگہ (جتنا) مال فے دیتا تو میں تمہارے درمیان تقسیم کردیتا اور تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاتے۔ پھر آپ نے اونٹ کی کوہان سے اون لی اور فرمایا : مجھے کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مال فے دے اور میں روک لوں۔ اگر اس کی مثل بھی خمس ہو تو وہ بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، تم دھاگا اور سوئی لوٹانا فرض سمجھو اس لیے کہ خیانت عار، آگ اور رسوائی ہے۔

13183

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13183

Sahih

(۱۳۱۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَالْحُمَیْدِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَابْنُ عَجْلاَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ یَزِیدُ أَحَدُہُمَا عَلَی صَاحِبِہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا یَحِلُّ لِی مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ جَلَّ وَعَزَّ عَلَیْکُمْ إِلاَّ مِثْلَ ہَذِہِ إِلاَّ الْخُمُسَ وَہُوَ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٧٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مال فئی اللہ نے تم کو دیا ہے وہ میرے لیے حلال نہیں ہے مگر اس کی مثل اور علاوہ ” خمس “ کے جو تم پر ہی لوٹایا جاتا ہے۔

13184

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13184

Sahih

(۱۳۱۷۹) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَیْسَ لِی مِنْ ہَذَا الْفَیْئِ إِلاَّ الْخُمُسَ وَالْخَمُسُ مَرْدُودٌ فِیکُمْ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : یَعْنِی بِالْخُمُسِ حَقَّہُ مِنَ الْخُمُسِ وَقَوْلُہُ مَرْدُودٌ فِیکُمْ یَعْنِی فِی مَصْلَحَتِکُمْ۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٧٩) ایضاً

13185

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13185

Sahih

(۱۳۱۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ (ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ وَہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ الْحُمَیْدِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبَایَۃَ بْنِ رِفَاعَۃَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَعْطَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَبَا سُفْیَانَ بْنَ حَرْبٍ وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ وَعُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ وَالأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَۃً مِائَۃً مِنَ الإِبِلِ وَأَعْطَی عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ سُفْیَانُ فَقَالَ عُمَرُ أَوْ غَیْرُہُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ : أَتَجْعَلُ نَہْبِی وَنَہْبَ الْعُبَیْدِ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ وَالأَقْرَعِ فَمَا کَانَ بَدْرٌ وَلاَ حَابِسٌ یَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِی الْمَجْمَعِ وَمَا کُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْہُمَا وَمَنْ تَخْفِضِ الْیَوْمَ لاَ یَرْفَعِ قَالَ فَأَتَمَّ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِائَۃً۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ وَأَحْمَدَ بْنِ عَبْدَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۰۶۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٨٠) رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس کو سو سو اونٹ دیے اور عباس بن مرداس کو اس سے کم دیے۔ بعد میں اس کو بھی پورے سو دے دیے۔

13186

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13186

Sahih

(۱۳۱۸۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ جَبَلَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لَمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مَا أَفَائَ مِنْ أَمْوَالِ ہَوَازِنَ یَوْمَ حُنَیْنٍ طَفِقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعْطِی رِجَالاً مِنْ قَوْمِہِ الْمِائَۃَ مِنَ الإِبِلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : یَغْفِرُ اللَّہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُعْطِی قُرَیْشًا وَیَتْرُکُنَا وَسُیُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِہِمْ فَقَالَ أَنَسٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : بَلَغَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَرْسَلَ إِلَی الأَنْصَارِ فَجَمَعَہُمْ فِی قُبَّۃٍ مِنْ أَدَمٍ وَلَمْ یَدْعُ مَعَہُمْ أَحَدًا فَلَمَّا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا حَدِیثٌ بَلَغَنِی عَنْکُمْ ۔ فَقَالَ فُقَہَائُ الأَنْصَارِ : أَمَّا ذَوُو الرَّأْیِ مِنَّا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَلَمْ یَقُولُوا شَیْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِیثَۃٌ أَسْنَانُہُمْ فَقَالُوا : یَغْفِرُ اللَّہُ لِرَسُولِہِ یُعْطِی قُرَیْشًا وَیَدَعُنَا وَسُیُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِہِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنِّی لأُعْطِی رَجِالاً حَدِیثٌ عَہْدُہُمْ بِکُفْرٍ فَأَتَأَلَّفُہُمْ أَفَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَی رِحَالِکُمْ بِرَسُولِ اللَّہِ فَوَاللَّہِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِہِ خَیْرٌ مِمَّا یَنْقَلِبُونَ بِہِ ۔ قَالُوا : بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ لَہُمْ : إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی أُثْرَۃً شَدِیدَۃً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوُا اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَإِنِّی عَلَی الْحَوْضِ ۔ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ : فَلَمْ نَصْبِرْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۵۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٨١) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب آپ کو مال فے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا جو ہوازن قبیلے کے مال میں سے حنین والے دن حاصل ہوا تو آپ نے اپنی قوم کے لوگوں کو سو سو اونٹ دینے شروع کردیے تو انصار میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ پاک اپنے رسول کو معاف کرے، آپ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیا ہے، یعنی محروم کردیا ہے اور ہماری تلواریں ابھی تک خون کے قطرے بہا رہی ہیں۔ انس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ گئی، آپ نے انصار والوں کو جمع کیا۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی پیچھے نہ چھوڑا۔ جب وہ جمع ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو آپ کو ان کی طرف سے بات پہنچی تھی تو انصار کے سمجھدار لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جو ہم میں سے سمجھدار لوگ ہیں، انھوں نے یہ بات نہیں کی۔ یہ بات ان لوگوں نے کی ہے جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، انھوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو معاف کرے، آپ قریش کو دیتے ہیں اور ہم کو محروم کردیا ہے؛ حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون بہہ رہا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو کفر کو چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، تاکہ ان کی دل جوئی ہو، کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ گھر مال لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کا رسول لے کر جاؤ۔ فرمایا : اللہ کی قسم ! جو تم لے کر جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر جائیں گے، پھر انھوں نے کہا : کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی ! پھر آپ نے فرمایا کہ تم میرے بعد سخت آزمائش میں ڈالے جاؤ گے، پس تم بس صبر کرنا، یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول کو جا ملو، بیشک میں حوض پر ہوں گا۔

13187

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13187

Sahih

(۱۳۱۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ قَالَ : أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَالٌ فَأَعْطَی قَوْمًا وَمَنَعَ آخَرِینَ فَبَلَغَہُ أَنَّہُمْ عَتَبُوا فَقَالَ : إِنِّی أُعْطِی الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ وَالَّذِی أَدَعُہُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الَّذِی أُعْطِیہِ أُعْطِی أَقْوَامًا لِمَا فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْہَلَعِ وَأَکِلُ أَقْوَامًا إِلَی مَا جَعَلَ اللَّہُ فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْغِنَی وَالْخَیْرِ مِنْہُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ۔ فَقَالَ عَمْرٌو : مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِکَلِمَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حُمْرَ النَّعَمِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری ۹۲۳۔ ۳۱۴۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٨٢) حضرت عمرو بن تغلب سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مال آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قوم کو دیا اور دوسروں کو محروم کردیا۔ آپ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے تو آپ نے فرمایا : میں کسی آدمی کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں، جس کو میں محروم کرتا ہوں میں اس سے زیادہ محبت کرتا ہوں، اس کی نسبت جس کو میں دیتا ہوں، مال ان کو دیتا ہوں جن کے دل میں جزع فزع، بےصبری ہوتی ہے اور محروم ان لوگوں کو کرتا ہوں جن کے دل کو اللہ پاک نے بے پروا کردیا ہے، ان میں سے عمرو بن تغلب بھی تھے، عمرو بن تغلب فرماتے ہیں کہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ کلمے پیارے لگے تھے۔

13188

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13188

Sahih

(۱۳۱۸۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالُوا حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی نُعْمٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخُدْرِیِّ قَالَ : بَعَثَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ بِالْیَمَنٍ بِذَہَبَۃٍ بِتُرْبَتِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ أَرْبَعَۃِ نَفَرٍ : الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِیِّ وَعُیَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِیِّ وَعَلْقَمَۃَ بْنِ عُلاَثَۃَ الْعَامِرِیِّ أَحَدِ بَنِی کِلاَبٍ وَزَیْدِ الخَیْلِ الطَّائِیِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِی نَبْہَانَ فَغَضِبَتْ صَنَادِیدُ قُرَیْشٍ فَقَالَتْ : یُعْطِی صَنَادِیدَ نَجْدٍ وَیَدَعُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنِّی إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِکَ لأَتَأَلَّفَہُمْ ۔ فَجَائَ رَجُلٌ کَثُّ اللِّحْیَۃِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ غَائِرُ الْعَیْنَیْنِ نَاتِئُ الْجَبِینِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ : اتَّقِ اللَّہَ یَا مُحَمَّدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ إِنْ عَصَیْتُہُ یَأْمَنُنِی عَلَی أَہْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِی ۔ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِی قَتْلِہِ یُرَوْنَ أَنَّہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ ہَذَا قَوْمًا یَقْرَئُ ونَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَقْتُلُونَ أَہْلَ الإِسْلاَمِ وَیَدَعُونَ أَہْلَ الأَوْثَانِ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ لَئِنْ أَدْرَکْتُہُمْ لأَقْتُلَنَّہُمْ قَتْلَ عَادٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَنَّادِ بْنِ السَّرِیِّ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ۔ [صحیح۔ بخاری، مسلم۹۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٨٣) ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے یمن سے سونے کا ایک ٹکڑا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو چار بندوں میں تقسیم کیا، اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن حصن غزاری، علقمہ بن ملاثۃ عامری اور زید خیل طائی میں تو قریش کے سردار ناراض ہوگئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ نجد والوں کو دیتے ہیں لیکن ہم کو محروم کردیا ہے ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ میں نے اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی دل جوئی ہوجائے۔ ایک آدمی آیا جو گھنی داڑھی والا، پھولے ہوئے گال والا، دھنسی ہوئی آنکھوں والا، اٹھی ہوئی پیشانی والا، گنجے سر والا تھا۔ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ سے ڈرو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو اس کی اطاعت کون کرتا ہے ؟ اس نے مجھ کو زمین پر امین بنایا تم مجھے امین نہیں مانتے، پھر وہ آدمی چلا گیا۔ قوم میں سے ایک آدمی نے اجازت طلب کی کہ میں اس کو قتل کردوں اور شاید وہ آدمی خالد بن ولید تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اس کی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن یہ ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ اہل اسلام کو وہ قتل کریں گے اور بت پرستوں کو وہ دعوت دیں گے اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان لوگوں کو پا لیا تو میں ان کو قوم عاد کی طرح ضرور قتل کردوں گا۔