Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 13 · Chapter 2712

صدقات کا بیان

علاقے میں جب اردگرد مستحق زکوۃ موجود نہ ہو تو اسے دوسرے علاقہ میں منتقل کرنا

4 hadiths in this chapter

13148

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13148

Sahih

(۱۳۱۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : أَتَیْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِی فَجَعَلَ یَفْرِضُ رِجَالاً مِنْ طَیِّئٍ فِی أَلْفَیْنِ وَیُعْرِضُ عَنِّی فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَتَعْرِفُنِی قَالَ فَضَحِکَ حَتَّی اسْتَلْقَی لِقَفَاہُ قَالَ : نَعَمْ وَاللَّہِ إِنِّی لأَعْرِفُکَ قَدْ آمَنْتَ إِذْ کَفَرُوا وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا وَوَفَیْتَ إِذْ غَدَرُوا وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَۃٍ بَیَّضَتْ وَجْہَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَوَجْہَ أَصْحَابِہِ صَدَقَۃُ طَیِّئٍ جِئْتَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ أَخَذَ یَعْتَذِرُ قَالَ : إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِہِمُ الْفَاقَۃُ وَہُمْ فَاقَۃُ عَشَائِرِہِمْ لِمَا یَنُوبُہُمْ مِنَ الْحُقُوقِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِیثِ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ آجد ۱/ ۴۵۔ رقم الحدیث ۳۱۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٤٣) سیدنا عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر (رض) کے پاس آیا اور وہ میرے قوم کے لوگوں میں موجود تھے کہ انھوں نے (قبیلہ) طے کے دو ہزار آدمیوں کی ذمہ داری لگائی اور مجھ سے اعراض کیا تو میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ مجھے جانتے ہیں، عدی کہتے ہیں کہ وہ مسکرا دیے اور بات سمجھ گئے، انھوں نے کہا : جی ہاں۔ اللہ کی قسم ! میں تجھے جانتا ہوں، جب کفار نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کیا تو ایمان لایا، جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے ، تو نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا، جب انھوں نے غداری کی تو نے وفا کی، سب سے پہلا صدقہ (جس کی وجہ سے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کا چہرہ چمک اٹھا تھا وہ (قبیلہ) طے کا صدقہ تھا جسے تو لے کر آیا تھا، پھر انھوں نے مجھ سے معذرت کی اور کہا : میں نے (ایسی) قوم کے لیے فرض قرار دیا ہے جنہیں فاقہ نے کمزور کردیا ہے۔ وہ پورا قبیلہ فاقہ کا شکار ہے تاکہ انھیں ان کے حقوق مل جائیں۔

13149

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13149

Zaeef

(۱۳۱۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی نُعَیْمٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِبَعْضِ مَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَأَوَّلُ صَدَقَۃٍ بَیَّضَتْ وُجُوہَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَدَقَۃُ طَیِّئٍ جِئْتَ بِہَا إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقُلْتَ أَمَا إِنِّی أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- عَامَ أَوَّلَ کَمَا أَتَیْتُکَ بِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سابقہ حدیث کی طرح ہے

13150

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13150

Zaeef

(۱۳۱۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ أَمَّرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی صَدَقَاتِ قَوْمِہِ فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدِ اجْتَمَعَتْ عِنْدَہُ إِبِلٌ عَظِیمَۃٌ مِنْ صَدَقَاتِہِمْ فَلَمَّا ارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ النَّاسِ وَبَلَغَہُمْ أَنَّہُمْ قَدِ ارْتَجَعُوا صَدَقَاتِہِمْ وَارْتَدَّتْ بَنُو أَسَدٍ وَہُمْ جِیرَانُہُمُ اجْتَمَعَتْ طَیِّئٌ إِلَی عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ وَذَکَرَ الْقَصَّۃَ قَالَ : فَلَمَّا رَأَوْا مِنْہ الْجِدَّ کَفُّوا عَنْہُ وَسَلَّمُوا لَہُ فَلَمَّا اجْتَمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَرَجَ بِہَا فَکَانَتْ أَوَّلَ إِبِلٍ مِنَ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ قَدِمَتْ عَلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہِیَ وَإِبِلُ الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَکَانَ مِنْ حَدِیثِ الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ السَّعْدِیِّ : أَنَّ بَنِی سَعْدٍ اجْتَمَعُوا إِلَیْہِ فَسَأَلُوہُ أَنْ یَرُدَّ إِلَیْہِمْ أَمْوَالَہُمْ وَأَنْ یَصْنَعَ بِہِمْ مَا صَنَعَ مَالِکُ بْنُ نُوَیْرَۃَ بِقَوْمِہِ فَأَبَی وَتَمَسَّکَ بِمَا فِی یَدِہِ وَثَبَتَ عَلَی إِسْلاَمِہِ وَقَالَ لاَ تَعْجَلُوا یَا قَوْمِ فَإِنَّہُ وَاللَّہِ لَیَقُومَنَّ بِہَذَا الأَمْرِ قَائِمٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ فَدَفَعَہُمْ عَنْ نَفْسِہِ حَتَّی أَتَاہُ اجْتِمَاعُ النَّاسِ عَلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَخَرَجَ بِہَا وَقَدْ تَفَرَّقَ الْقَوْمُ عَنْہُ لَیْلاً وَمَعَہُ الرِّجَالُ یَطْرُدُونَہَا فَمَا عَلِمُوا بِہِ حَتَّی أَتَاہُمْ أَنَّہُ قَدْ أَدَّاہَا إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَانَتْ ہَذِہِ الإِبِلُ الَّتِی قَدِمَ بِہَا الزِّبْرِقَانُ وَعَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ أَوَّلَ إِبِلٍ وَافَتْ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَ عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی صَدَقَاتِ طَیِّئٍ وَالزِّبْرِقَانَ بْنَ بَدْرٍ عَلَی صَدَقَاتِ بَنِی سَعْدٍ وَطُلَیْحَۃَ بْنَ خُوَیْلِدٍ عَلَی صَدَقَاتِ بَنِی أَسَدٍ وَعُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ عَلَی صَدَقَاتِ بَنِی فَزَارَۃَ وَمَالِکَ بْنَ نُوَیْرَۃَ عَلَی صَدَقَاتِ بَنِی یَرْبُوعٍ وَالْفُجَائَ ۃَ عَلَی صَدَقَاتِ بَنِی سُلَیْمٍ فَلَمَّا بَلَغَہُمْ وَفَاۃُ النَّبِیِّ -ﷺ- وَعِنْدَہُمْ أَمْوَالٌ کَثِیرَۃٌ رَدُّوہَا عَلَی أَہْلِہَا إِلاَّ عَدِیَّ بْنَ حَاتِمٍ وَالزِّبْرَقَانَ بْنَ بَدْرٍ فَإِنَّہُمَا تَمَسَّکَا بِہَا وَدَفَعَا عَنْہَا النَّاسَ حَتَّی أَدَّیَاہَا إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٤٥) ابن اسحاق عدی بن حاتم (رض) کا قصہ مذکور ہے کہ جب عدی بن حاتم اسلام لائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں صدقات (وصول کرنے) پر مقرر کیا، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو اس وقت ان کے پاس صدقات کے بہت سے اونٹ تھے، جب لوگ مرتد ہوگئے اور وہ اپنے صدقات واپس لینے لگے اور بنو اسد بھی مرتد ہوگئے اور وہ ان (بنو طے) کے پڑوسی تھے، طے (قبیلہ) والے عدی بن حاتم (رض) کے پاس جمع ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، جب انھوں (بنو اسد) نے (تعداد میں) برابری دیکھی تو وہ مسلمان ہوگئے، جب مسلمان سیدنا ابوبکر (رض) کے پاس جمع ہوگئے تو وہ انھیں لے کر نکلے، سب سے پہلے صدقہ کے جو اونٹ سیدنا ابوبکر (رض) کے پاس پہنچے وہ زبرقان بن بدر کے اونٹ تھے۔ ابن اسحق کہتے ہیں کہ بنو سعد زبرقان (رض) کے پاس جمع ہوئے اور ان سے ان کے اموال واپس لوٹانے کا کہا اور وہ سلوک کرنے کا حکم دیا جو مالک بن نویرہ نے اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، انھوں (عدی بن حاتم) نے انکار کیا اور جو ان کے ہاتھ میں لگا اس پر اور اسلام پر ثابت قدم رہے اور کہا اے میرے قوم جلدی نہ کرو۔ اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد (ان کا) قائم مقام اس کا فیصلہ کرے گا، لمبا واقعہ ذکر کیا اور کہا : انھوں نے انھیں اپنے آپ سے دور کردیا یہاں تک وہ (لوگ) لوگوں کے اجتماع میں ابوبکر (رض) کے پاس آئے، انھوں نے انھیں ان (مرتدین) کے خلاف (جہاد کے لیے) ابھارا تو ان لوگوں سے کچھ افراد رات کے وقت الگ ہوگئے اور انھیں سیدنا ابوبکر (رض) کے حکم کا علم ہوگیا، یہاں تک وہ ان (اپنی قوم) کے پاس آئے اور اپنے اموال سیدنا ابوبکر (رض) کو ادا کردیے، یہ وہ اونٹ تھے جنہیں زبرقان اور عدی بن حاتم (رض) ، سیدنا ابوبکر (رض) کے پاس لائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر (رض) کو سب سے پہلے یہ اونٹ ملے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عدی بن حاتم کو طے کے صدقات پر، زبرقان بن بدر کو بنو سعد کے صدقات پر، طلیحہ بن خویلد کو بنو اسد کے صدقات پر، عیینہ بن حصن کو بنو فزارہ کے صدقات پر، مالک بن نویرہ کو بنو یربوع کے صدقات پر اور فجاءۃ کو بنو سلیم کے صدقات پر مقرر فرمایا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو ان کے پاس بہت اموال تھے، وہ انھوں نے اپنے اہل و عیال کو دے دیے، سوائے عدی بن حاتم اور زبرقان بن بدر کے۔ وہ ان اموال کے پاس رہے اور لوگوں کو ان (اموال) سے دور رکھا اور وہ (اموال) سیدنا ابوبکر (رض) کے پاس پہنچا دیے۔

13151

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13151

Zaeef

(۱۳۱۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِی تَمِیمٍ بَعْدَ ثَلاَثٍ سَمِعْتُہُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ہُمْ أَشَدُّ أُمَّتِی عَلَی الدَّجَّالِ۔ وَکَانَتْ عِنْدَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا نَسَمَۃٌ مِنْہُمْ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَعْتِقِیہَا فَإِنَّہَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ۔ وَجَائَ تْ صَدَقَاتُہُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَذِہِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ۔ [بخاری ۲۵۴۳۔ مسلم ۲۵۲۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٤٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں بنو تمیم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں، جب سے میں نے (ان کے متعلق) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین باتیں سنی ہیں : 1 آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت سے وہ دجال پر سب سے زیادہ سخت ہیں۔ 2 حضرت عائشہ (رض) کے پاس ان کی لونڈی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عائشہ (رض) سے فرمایا : اسے آزاد کر دے؛ کیونکہ وہ اولاد اسماعیل میں سے ہے۔ (٣) ان کے صدقات آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔