Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 13 · Chapter 2713

صدقات کا بیان

ان استدلات کا بیان جن میں ہے کہ فقیر مسکین سے زیادہ ضرورت مند ہے

8 hadiths in this chapter

13152

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13152

Zaeef

(۱۳۱۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ یَعْنِی ابْنَ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَیْسَ الْمِسْکِینُ بِہَذَا الطَّوَافِ الَّذِی یَطُوفُ عَلَی النَّاسِ فَتَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ ۔ قَالُوا فَمَنِ الْمِسْکِینُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : الَّذِی لاَ یَجِدُ غِنًی یُغْنِیہِ وَلاَ یُفْطَنُ لَہُ فَیُتَصَدَّقَ عَلَیْہِ وَلاَ یَسْأَلُ النَّاسَ شَیْئًا ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْمُغِیرَۃِ وَفِی رِوَایَۃِ مَالِکٍ : وَلاَ یَقُومُ فَیَسْأَلُ النَّاسَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ وَفِیہِ کَالدِّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ الْمِسْکِینَ ہُوَ الَّذِی لَیْسَ لَہُ غِنًی یُغْنِیہِ لَکِنْ لَہُ بَعْضُ الْغِنَی فَیَکْتَفِی بِہِ وَیَتَعَفَّفُ عَنِ السُّؤَالِ۔ [بخاری ۱۴۷۶۔ مسلم ۱۰۳۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٤٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسکین یہ لوگ نہیں ہیں جو لوگوں پر پھرتے رہتے ہیں اور ایک یا دو لقمے یا ایک کھجور یا دو کھجوریں ان کی طرف لوٹتی ہیں۔ صحابہ کرام (رض) نے سوال کیا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مسکین کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : وہ جس کے پاس اتنا مال نہیں جو اس کو کفایت کرے اور نہ ان کو پہچانا جاتا ہے کہ ان پر صدقہ کیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے سوال کرتے ہیں، مالک کی روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ لوگوں سے مانگنے کے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔

13153

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13153

Sahih

(۱۳۱۴۸) وَحَدَّثَنَا السَّیِّدُ أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَیْسَ الْمِسْکِینُ ہَذَا الطَّوَافَ الَّذِی یَطُوفُ عَلَی النَّاسِ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ لَکِنِ الْمِسْکِینُ الَّذِی لاَ یَجِدُ غِنًی یُغْنِیہِ وَیَسْتَحْیِی أَنْ یَسْأَلَ النَّاسَ وَلاَ یُفْطَنُ لَہُ فَیُتَصَدَّقَ عَلَیْہِ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٤٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسکین یہ لوگ نہیں ہیں جو لوگوں پر پھرتے رہتے ہیں اور ایک لقمہ یا دو لقمے، ایک کھجور یا دو کھجوریں ان کی طرف لوٹتی ہیں بلکہ مسکین وہ لوگ ہیں جو لوگوں سے سوال کرتے ہوئے شرم محسوس کریں اور نہ وہ (فقیر) سمجھا جائیں کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔

13154

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13154

Sahih

(۱۳۱۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَعْقُوبَ الإِیَادِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ النَّصِیبِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی شَرِیکُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ وَعَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَیْسَ الْمِسْکِینُ الَّذِی تَرُدُّہُ التَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ وَاللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْکِینُ الَّذِی یَتَعَفَّفُ اقْرَئُ وا إِنْ شِئْتُمْ {لاَ یَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا}۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیِّ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ۔ وَمَنْ یَتَعَفَّفُ وَلَیْسَ لَہُ بَعْضُ الْکِفَایَۃِ کَانَ قَاتِلَ نَفْسِہِ دَلَّ عَلَی أَنَّ الْمِسْکِینَ ہُوَ الَّذِی لَہُ بَعْضُ الْغِنَی وَلاَ یَکُونُ لَہُ مَا یُغْنِیہِ وَالْفَقِیرُ مَنْ لاَ مَالَ لَہُ وَلاَ حِرْفَۃَ تَقَعُ مِنْہُ مَوْقِعًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٤٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں سے سوال کرے اور ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں اس کی طرف لوٹائی جائیں بلکہ مسکین وہ لوگ ہیں جو سوال کرنے سے بچتے ہیں، اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو :{ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا } [البقرۃ : ٢٧٣] ” اور وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے۔ “

13155

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13155

Zaeef

(۱۳۱۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ فِی دُعَائِہِ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّۃِ وَالذِّلَّۃِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ ۔ وَرُوِّینَا أَیْضًا فِی حَدِیثِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ ۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : اقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ۔ [احمد ۸۰۳۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٥٠) (الف) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے لیے یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں تجھ سے فقر کی کمی اور ذلت کی پناہ مانگتا ہوں اور میں اس کی بھی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا ظلم کیا جاؤں۔ (ب) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے : ” اے اللہ ! میں تیرے نام کے ساتھ پناہ پکڑتا ہوں کفر اور فقیری سے۔ (ج) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ فرماتے : اے اللہ ! ہم سے قرض دور کر دے اور ہمیں فقیری سے مستثنیٰ کر دے۔

13156

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13156

Zaeef

(۱۳۱۵۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدٍ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ حَدَّثَنَا ہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا جُنَادَۃُ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: اللَّہُمَّ أَحْیِنِی مِسْکِینًا وَتَوَفَّنِی مِسْکِینًا وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَۃِ الْمَسَاکِینِ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٥١) سیدنا عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ ! مجھے زندہ رکھنا تو مسکینوں میں اور اگر میری موت آئے تو مسکینوں میں اور مجھے (قیامت کے دن) اٹھانا تو مسکینوں کے ساتھ۔

13157

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13157

Zaeef

(۱۳۱۵۲) وَحَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْظُفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِیُّ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکِنَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّیْثِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اللَّہُمَّ أَحْیِنِی مِسْکِینًا وَأَمِتْنِی مِسْکِینًا وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَۃِ الْمَسَاکِینِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَلِمَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : لأَنَّہُمْ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الأَغْنِیَائِ بِأَرْبَعِینَ خَرِیفًا یَا عَائِشَۃُ لاَ تَرُدِّی الْمِسْکِینَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ یَا عَائِشَۃُ أَحِبِّی الْمَسَاکِینِ وَقَرِّبِیہِمْ فَإِنَّ اللَّہَ یُقَرِّبُکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ قَالَ أَصْحَابُنَا فَقَدِ اسْتَعَاذَ مِنَ الْفَقْرِ وَسَأَلَ الْمَسْکَنَۃَ وَقَدْ کَانَ لَہُ بَعْضُ الْکِفَایَۃِ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْمِسْکِینَ مَنْ لَہُ بَعْضُ الْکِفَایَۃِ۔ قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رُوِیَ فِی حَدِیثِ شَیْبَانَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ اسْتَعَاذَ مِنَ الْمَسْکَنَۃِ وَالْفَقْرِ فَلاَ یَجُوزُ أَنْ تَکُونَ اسْتِعَاذَتُہُ مِنَ الْحَالِ الَّتِی شَرَّفَہَا فِی أَخْبَارٍ کَثِیرَۃٍ وَلاَ مِنَ الْحَالِ الَّتِی سَأَلَ أَنْ یُحْیَی وَیُمَاتَ عَلَیْہَا وَلاَ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ مَسْأَلَتُہُ مُخَالِفَۃً لِمَا مَاتَ -ﷺ- عَلَیْہِ فَقَدْ مَاتَ مَکْفِیًّا بِمَا أَفَائَ اللَّہُ تَعَالَی عَلَیْہِ وَوَجْہُ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ عِنْدِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ وَالْمَسْکَنَۃِ الَّذِینَ یَرْجِعُ مَعْنَاہُمَا إِلَی الْقِلَّۃِ کَمَا اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَۃِ الْغِنَی۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٥٢) (الف) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے اللہ ! مجھے مسکینوں کے ساتھ زندہ رکھنا اور میری موت بھی مسکینوں کے ساتھ آئے اور قیامت والے دن مجھے اٹھانا بھی مسکینوں کے ساتھ۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : کس لیے اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیونکہ یہ لوگ امیر لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اے عائشہ ! کسی مسکین کو نہ موڑ اگرچہ آدھی ہی کھجور کیوں نہ ہو، اے عائشہ ! مسکینوں سے محبت کر اور ان کے قریب ہو، بیشک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تجھے اپنے قریب کرے گا۔ (ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فقر سے پناہ مانگی اور مسکین کا سوال کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گزر بسر کے لیے کچھ ہوتا جو کفایت کرے، یہ اس پر دلالت ہے کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کفایت کے لیے تھوڑا مال ہو۔ (ج) شیخ فرماتے ہیں کہ حضرت انس (رض) کی جو روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکینی اور فقر سے پناہ مانگی تو (اس سے یہ مراد لینا) جائز ہے کہ پناہ اس شرف والی حالت سے مانگی جائے جس کا ذکر اکثر احادیث میں ہے اور یہ وہ حالت جس میں اللہ سے اس پر زندگی اور موت کا سوال ہے اور یہ جائز نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سوال کرنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حالت کے مخالف ہے جس پر آپ فوت ہوئے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفایت کرتا تھا۔ میرے نزدیک ان احادیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے فقر اور مسکینی کے فقر سے پناہ مانگی یعنی قلت سے پناہ مانگی جیسا کہ غنی کے فتنہ سے پناہ مانگی۔ واللہ اعلم

13158

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13158

Sahih

(۱۳۱۵۳) وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُتَعَوَّذُ یَقُولُ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النَّارِ وَفِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَشَرِّ فِتْنَۃِ الْغِنَی وَشَرِّ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَہَذَا حَدِیثٌ ثَابِتٌ قَدْ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ۔ وَفِیہِ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ إِنَّمَا اسْتَعَاذَ مِنْ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ دُونَ حَالِ الْفَقْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْغِنَی دُونَ حَالِ الْغِنَی وَأَمَّا قَوْلُہُ إِنْ کَانَ قَالَہُ أَحْیِنِی مِسْکِینًا وَأَمِتْنِی مِسْکِینًا فَہُوَ إِنْ صَحَّ طَرِیقُہُ وَفِیہِ نَظَرٌ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ حَالُہُ عِنْدَ وَفَاتِہِ أَنَّہُ لَمْ یَسْأَلْ حَالَ الْمَسْکَنَۃِ الَّتِی یَرْجِعُ مَعْنَاہَا إِلَی الْقِلَّۃِ وَإِنَّمَا سَأَلَ الْمَسْکَنَۃَ الَّتِی یَرْجِعُ مَعْنَاہَا إِلَی الإِخْبَاتِ وَالتَّوَاضُعِ فَکَأَنَّہُ -ﷺ- سَأَلَ اللَّہَ تَعَالَی أَنْ لاَ یَجْعَلَہُ مِنَ الْجَبَّارِینَ الْمُتَکَبِّرِینَ وَأَنْ لاَ یَحْشُرَہُ فِی زُمْرَۃِ الأَغْنِیَائِ الْمُتْرَفِینَ۔ قَالَ الْقُتَیْبِیُّ وَالْمَسْکَنَۃُ حَرْفٌ مَأْخُوذٌ مِنَ السُّکُونِ یُقَالُ تَمَسْکَنَ الرَّجُلُ إِذَا لاَنَ وَتَوَاضَعَ وَخَشَعَ وَمِنْہُ قَوْلُ النَّبِیِّ -ﷺ- لِلْمُصَلِّی : تَبَائَ سُ وَتَمَسْکَنُ ۔ یُرِیدُ تَخَشَّعْ وَتَوَاضَعْ لِلَّہِ۔ [بخاری ۸۳۳۔ مسلم ۵۸۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٥٣) (الف) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پناہ مانگتے تھے، فرماتے : ” اے اللہ ! میں آگ کے فتنے سے اور قبر کے فتنے سے اور عذاب کے فتنے سے اور غنیٰ کے فتنے اور فقر کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ ! میں دجال کے شر کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ (ب) اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ فتنہ فقر سے پناہ حالت فقر سے پناہ ہے اور غنیی سے پناہ حالت غنی سے پناہ ہے۔ (ج) رہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ کہنا : ” مجھے مسکین زندہ رکھنا اور مجھے موت مسکین کی حالت میں دینا “ اگرچہ اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں اختلاف ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حالت جو وفات کے وقت تھی، اس پر دال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مسکینی کا سوال نہیں کیا جس کا معنی قلت ہے بلکہ جس سے مراد عجز و انکساری اور تواضع و انکساری ہے اس کا سوال کیا، جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ظالم متکبر لوگوں میں سے نہ کرے اور نہ قیامت کے دن سرکش اغنیا میں اٹھائے۔

13159

Sunan Al Kubra Bayhaqi #13159

Zaeef

(۱۳۱۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُرَحْبِیلَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ أَبِی مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّہَ وَلاَ یَحْمِلَنَّکُمُ الْغِرَّۃُ عَلَی أَنْ تَطْلُبُوا الرِّزْقَ مِنْ غَیْرِ حِلِّہِ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : اللَّہُمَّ احْشُرْنِی فِی زُمْرَۃِ الْمَسَاکِینِ وَلاَ تَحْشُرْنِی فِی زُمْرَۃِ الأَغْنِیَائِ فَإِنَّ أَشْقَی الأَشْقِیَائِ مَنِ اجْتَمَعَ عَلَیْہِ فَقْرُ الدُّنْیَا وَعَذَابُ الآخِرَۃِ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١٥٤) سیدنا ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : اے اللہ ! مجھے مسکینوں کی صف میں سے اٹھانا، غنی لوگوں کے ساتھ نہ اٹھانا، بیشک سب سے زیادہ بدبخت وہ ہے جس پر دنیا کا فقر اور آخرت کا عذاب جمع ہوگا۔