Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 13 · Chapter 1646

صدقات کا بیان

اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَیُؤْثِرُون عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ} کا بیان

2 hadiths in this chapter

7805

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7805

Sahih

(۷۸۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ فُضَیْلٍ یَعْنِی ابْنَ غَزْوَانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَبَعَثَ إِلَی نِسَائِہِ فَقَالُوا : مَا عِنْدَنَا إِلاَّ الْمَائُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ یُضِیفُ ہَذَا؟))۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : أَنَا فَانْطَلَقَ بِہِ إِلَی امْرَأَتِہِ فَقَالَ : أَکْرِمِی ضَیْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : مَا مَعَنَا إِلاَّ قُوتُ الصِّبْیَانِ فَقَالَ : ہَیِّئِی طَعَامَکِ وَأَطْفِئِی سِرَاجَکِ وَنَوِّمِی صِبْیَانَکِ إِذَا أَرَادُوا الْعَشَائَ ۔ فَہَیَّأَتْ طَعَامَہَا وَأَصْلَحَتْ سِراجَہَا وَنَوَّمَتْ صِبْیَانَہَا ، ثُمَّ قَامَتْ کَأَنَّہَا تُصْلِحُ سِراجَہَا فَأَطْفَأَتْہُ وَجَعَلاَ یُرِیَانِہِ أَنَّہُمَا یَأْکُلاَنِ وَبَاتَا طَاوِیَیْنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((لَقَدْ ضَحِکَ اللَّہُ اللَّیْلَۃَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِکُمَا)) وَقَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّہُ {وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ} تَلاَ الآیَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ فُضَیْلِ بْنِ غَزْوَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٨٠٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ازواج کی طرف پیغام بھیجا تو انھوں نے کہا : ہمارے پاس تو پانی کے سواء کچھ نہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اس مہمان کی مہمان نوازی کون کرے گا ؟ تو انصاری شخص نے کہا : میں کروں گا ، پھر وہ اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چلا اور اپنی بیوی سے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مہمان ہے اس کی عزت کرو تو اس نے کہا : میں نے تو صرف بچوں کا کھانا رکھا ہوا ہے تو انھوں نے کہا : کھانا تیا رکرو اور چراغ گل کردو اور بچوں کو سلادو۔ سو جب انھوں نے کھانا کھانے کا ارادہ کیا تو اس کی بیوی نے کھانا تیار کیا اور دیے (چراغ) کو ٹھیک کیا اور بچوں کو سلادیا۔ پھر وہ چراغ کو ٹھیک کرنے کھڑی ہوئی اور چراغ کو بند کردیا اور وہ دونوں اس پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ دونوں بھی کھانا کھا رہے ہیں اور بھوک میں رات گزار دی۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس رات نے اللہ کو ہنسادیا ہے یا فرمایا : تمہارے فعل کی وجہ سے تعجب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ} کہ وہ اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود بھوک سے ہوں۔

7806

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7806

Sahih

(۷۸۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : مَرِضَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَاشْتَہَی عِنَبًا أَوَّلَ مَا جَائَ الْعِنَبُ فَأَرْسَلَتْ صَفِیَّۃُ بِدِرْہَمٍ فَاشْتَرَتْ عُنْقُودًا بِدِرْہَمٍ فَاتَّبَعَ الرَّسُولَ سَائِلٌ فَلَمَّا أَتَی الْبَابَ دَخَلَ قَالَ السَّائِلَ السَّائِلَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَعْطُوہُ إِیَّاہُ فَأَعْطَوْہُ إِیَّاہُ ، ثُمَّ أَرْسَلَتْ بِدِرْہَمٍ آخَرَ فَاشْتَرَتْ بِہِ عُنْقُودًا فَاتَّبَعَ الرَّسُولَ السَّائِلُ فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی الْبَابِ وَدَخَلَ قَالَ السَّائِلَ السَّائِلَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ۔ أَعْطُوہُ إِیَّاہُ فَأَعْطَوْہُ إِیَّاہُ ، فَأَرْسَلَتْ صَفِیَّۃُ إِلَی السَّائِلِ فَقَالَتْ : وَاللَّہِ لَئِنْ عُدْتَ لاَ تُصِیبَ مِنِّی خَیْرًا أَبَدًا ، ثُمَّ أَرْسَلَتْ بِدِرْہَمٍ آخَرَ فَاشْتَرَتْ بِہِ۔ [صحیح۔ الطبرانی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٨٠٣) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) بیمار ہوگئے تو انھوں نے انگو رکی خواہش کی ، سب سے پہلے جو انگو ر آئے۔ سیدہ حفصہ (رض) نے درہم بھیجا اور ایک درہم سے انگور کا گچھا خریدا اور پیغام لانے والے کے پیچھے ایک سائل چلا، جب وہ دروازے پر آئے تو اندر داخل ہوگئے اور اس نے کہا : سائل ہے ؟ سائل ہے تو ابن عمر (رض) نے کہا : یہ اس کو دے دو تو انھوں نے اسے دے دیا تو سیدہ صفیہ (رض) نے سائل کو پیغام بھیجا اور کہا : اللہ کی قسم ! اگر تو پلٹتا تو مجھ سے بھلائی نہ پاتا ، پھر انھوں نے دوسرا درہم بھیجا اور اس سے خریدا۔