Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 13 · Chapter 1641

صدقات کا بیان

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان ( (خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی) ) سے استدلال کا بیان جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل صدقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : محنت سے کمایا ہوا تھوڑا ہونے کے باوجود خرچ کرنا۔ بیشک یہ لوگوں کے حالات مختلف ہونے کے ساتھ مختلف ہوتا ہ

7 hadiths in this chapter

7777

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7777

Zaeef

(۷۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِکَ مَالاً عِنْدِی فَقُلْتُ : الْیَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَکْرٍ۔ إِنْ سَبَقْتُہُ یَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا أَبْقَیْتَ لأَہْلِکَ؟))۔ فَقُلْتُ : مِثْلَہُ قَالَ وَأَتَی أَبُو بَکْرٍ بِکُلِّ مَا عِنْدَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا أَبْقَیْتَ لأَہْلِکَ؟))۔ فَقَالَ : أَبْقَیْتَ لَہُمُ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقُلْتُ : لاَ أُسَابِقُکَ إِلَی شَیْئٍ أَبَدًا۔ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ : الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٧٧٤) زید بن اسلم (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) سے سنا کہ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں اور وہ دن مجھے ایسا موافق آیا کہ میرے پاس مال تھا تو میں نے کہا : آج میں ابوبکر (رض) سے سبقت لے جاؤں گا ، اگر میں کسی دن میں سبقت لے جاسکتا ہوں ۔ سو میں اپنا آدھا مال لے آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے اہل کے لییباقی کیا چھوڑا ؟ میں نے کہا : جو دیا اتنا ہی اور ابوبکر (رض) آئے تو سارا مال لے آئے، جو ان کے پاس تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اپنے اہل و عیال کیلئے کیا چھوڑا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑا ہے۔ تب میں نے کہا : میں کسی چیز میں تجھ سے سبقت نہیں لے جاسکتا۔

7778

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7778

Sahih

(۷۷۷۵) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکَرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبٍ قَائِدَ کَعْبٍ حِینَ عَمِیَ مِنْ بَنِیہِ قَالَ : سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ حَدِیثَہُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔ وَفِیہِ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمْسِکْ عَلَیْکَ بَعْضَ مَالِکِ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ))۔ فَقُلْتُ : فَإِنِّی أُمْسِکُ سَہْمِی الَّذِی بِخَیْبَرَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٧٧٥) عبداللہ بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میں نے کعب بن مالک (رض) سے سنا ، جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے پھر انھوں نے لمبی حدیث بیان کی اور ا سی میں ہے کہ میں نے کہا : میری توبہ میں سے ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اپنے مال سے جدا ہوجاؤں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ، وہ تیرے لیے بہتر ہوگا تو میں نے کہا : صرف اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے رکھتا ہو ں۔۔۔ آگے حدیث بیان کی۔

7779

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7779

Zaeef

(۷۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَی الرَّبِیعُ بْنُ رَوْحٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الزَّبَیْدِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ أَنَّ جَدَّہُ حَدَّثَہُ : أَنَّ أَبَا لُبَابَۃَ حِینَ تَابَ اللَّہُ عَلَیْہِ فِی تَخَلُّفِہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَفِیمَا کَانَ سَلَفَ قَبْلَ ذَلِکَ فِی أُمُورٍ وَجَدَ عَلَیْہِ فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَزَعَمَ حُسَیْنٌ أَنَّ أَبَا لُبَابَۃَ قَالَ حِینَ تَابَ اللَّہُ عَلَیْہِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَہْجُرُ دَارَ قَوْمِی الَّتِی أَصَبْتُ فِیہَا الذَّنْبَ وَأَنْتَقِلُ وَأُسَاکِنُکَ ، وَأَنْخَلِعُ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللَّہِ وَإِلَی رَسُولِہِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَعَمَ حُسَیْنٌ : ((یُجْزِئُ عَنْکَ الثُّلُثُ))۔ وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا تَابَ اللَّہُ عَلَی أَبِی لُبَابَۃَ قَالَ أَبُو لُبَابَۃَ : جِئْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ فَذَکَرَہُ۔ وَقَالَ فَقَالَ : ((یُجْزِئُ عَنْکَ الثُّلُثُ))۔ [ضعیف۔ احمد]

اردو ترجمہ · Urdu

٧٧٧٦۔ حسین بن سائب بن ابو لبابہ (رض) اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ابو لبابہ (رض) کی توبہ اللہ نے قبول کرلی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے کی وجہ سے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محسوس کیا تھا۔ حسین کا خیال ہے کہ ابو لبابہ (رض) نے کہا : جب اللہ نے اس پر رجوع کیا تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنی قوم کا وہ گھر چھوڑتا ہوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں وہاں سے منتقل ہوجاتا ہوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کرتا ہوں اور اپنے مال سے بھی جدا ہوتا ہوں، اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے صدقہ کرتے ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا : تجھ سے ثلث ہی کافی ہے (یہ حسین کا گمان ہے) ۔ (محمد بن ابی حفصہ نے حسین بن سائب بن ابی لبابہ کی سند سے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابو لبابہ کی توبہ کو قبول کیا تو ابو لبابہ کہنے لگے : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور تمام بات بیان کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمایا : تجھ سے ثلث ہی کافی ہے

7780

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7780

Zaeef

(۷۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ السِّمَّرِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَاصِمٍ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَیْضَۃِ مِنْ ذَہَبٍ أَصَابَہَا فِی بَعْضِ الْمَغَازِی أَوْ قَالَ الْمَعَادِنِ فَجَائَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ رُکْنِہِ الأَیْمَنِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ خُذْہَا مِنِّی صَدَقَۃً۔ وَاللَّہِ مَا لِی مَالٌ غَیْرَہَا فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، ثُمَّ جَائَ بِہَا عَنْ رُکْنِہِ الأَیْسَرِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ جَائَ بِہَا مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ فَقَالَ : ہَاتِہَا ۔ فَحَذَفَہُ حَذْفَۃً لَوْ أَصَابَتْہُ لأَوْجَعَہُ أَوْ عَقَرَہُ ، ثُمَّ قَالَ : ((یَعْمِدُ أَحَدُکُمْ فَیَأْتِی بِمَالِہِ فَیَتَصَدَّقُ بِہِ ، ثُمَّ یَقْعُدُ بَعْدَ ذَلِکَ یَتَکَفَّفُ النَّاسَ ۔ إِنَّمَا الصَّدَقَۃَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی۔ خُذِ الَّذِی لَکَ لاَ حَاجَۃَ لَنَا بِہِ))۔ فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَہُ وَذَہَبَ۔ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ أَصَبْتُ ہَذِہِ مِنْ مَعْدِنٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداؤد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٧٧٧) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا کسی غزوہ یا کان سے تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دائیں جانب سے آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ مجھ سے وصول کرلیں یا مجھ سے اس کی زکوۃ وصول کرلیں ۔ اللہ کی قسم ! اس کے علاوہ میرے پاس کوئی مال نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منہ موڑلیا ، پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بائیں جانب سے آیا اور ویسے ہی کہا، پھر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے آیا اور ایسے ہی کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لاؤ اور اسے پھینک دیا ، اگر اسے لگ جاتا تو وہ اسے زخمی کردیتا ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک مال لاتا ہے صدقہ کرنے کے لیے اور بعد میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاکر بیٹھ جاتا ہے۔ بیشک صدقہ وہ ہوتا ہے جو مال داری کے بعد ہو، اس کو پکڑ یہ تیرا ہے، ہمیں کوئی اس کی حاجت نہیں تو اس نے اپنا مال پکڑا اور چلا گیا۔ (حمادبن سلمہ محمد بن اسحاق سے اس حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ یہ میں نے کان سے لیا ہے۔

7781

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7781

Sahih

(۷۷۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ قَالَ حَدَّثَنِی عِیَاضٌ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ رَجُلاً دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَدَعَاہُ وَأَمَرَہُ أَنْ یُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَۃَ الثَّانِیَۃَ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْمِنْبَرِ فَدَعَاہُ وَأَمَرَہُ أَنْ یُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَۃَ الثَّالِثَۃَ فَذَکَرَ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : تَصَدَّقُوا ۔ فَتَصَدَّقُوا فَأَعْطَاہُ ثَوْبَیْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ، ثُمَّ قَالَ : تَصَدَّقُوا ۔ فَأَلْقَی ہُوَ أَحَدَ ثَوْبَیْہِ فَانْتَہَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَرِہَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ قَالَ : ((انْظُرُوا إِلَی ہَذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِہَیْئَۃٍ بَذَّۃٍ فَدَعْوَتُہُ فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطُنُوا لَہُ وَتَصَدَّقُوا عَلَیْہِ ، وَتَکْسُونَہُ فَلَمْ تَفْعَلُوا فَقُلْتُ : تَصَدَّقُوا)) فَتَصَدَّقُوا ((فَأَعْطَیْتُہُ ثَوْبَیْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ، ثُمَّ قُلْتُ تَصَدَّقُوا فَأَلْقَی أَحَدَ ثَوْبَیْہِ خُذْ ثَوْبَکَ))۔ وَانْتَہَرَہُ۔ [حسن۔ اخرجہ احمد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٧٧٨) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن منبر پر تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلایا اور حکم دیا کہ وہ دو رکعت ادا کرے، پھر وہ دوسرے جمعہ کو داخل ہوا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلایا اور اسے دو رکعت ادا کرنے کو کہا ، پھر وہ تیسرے جمعہ کو داخل ہوا اور وہی بات بیان کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ کرو صدقہ کرو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دو کپڑے دیے ، اس میں سے جو انھوں نے صدقہ کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ کرو تو اس نے اپنا ایک کپڑا پھینک دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے منع کیا جو عمل اس نے کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ناپسند کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو دیکھو کہ یہ مسجد میں اجڑی حالت سے داخل ہوا تو میں نے اسے بلایا اور میں نے امید کی کہ تم اسے کچھ دو گے اور صدقہ کرو گے اور تم اسے پہناؤ گے مگر تم نے ایسا نہ کیا۔ تب میں نے کہا : صدقہ کرو صدقہ کرو تو میں نے اسے دو کپڑے دیے اس میں سے جو تم نے صدقہ کیا۔ پھر میں نے کہا : صدقہ کرو تو اس نے اپنا ایک کپڑا پھینک دیا ہے۔ اپنا کپڑا پکڑ اور اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈانٹا۔

7782

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7782

Zaeef

(۷۷۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرَۃَ بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی بِمِصْرَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : سَبَقَ دِرْہَمٌ مِائَۃَ أَلْفٍ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ یَسْبِقُ دِرْہَمٌ مِائَۃَ أَلْفٍ؟ قَالَ : ((رَجُلٌ کَانَ لَہُ دِرْہَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَہُمَا فَتَصَدَّقَ بِہِ ، وَآَخَرُ لَہُ مَالٌ کَثِیرٌ فَأَخَذَ مِنْ عَرَضِہَا مِائَۃَ أَلْفٍ یَعْنِی فَتَصَدَّقَ بِہَا))۔ [منکر الاسنا د۔ اخرجہ النسائی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٧٧٩) حضرت ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہزار دینار درہم سے سبقت لے گئے ، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیسے ہزار دینار سبقت لے گیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک آدمی کے پاس دو درہم تھے اس نے ایک کا صدقہ کردیا اور دوسرا جو تھا اس کا بہت مال تھا تو اس نے اس ایک سے ایک ہزار دینار حاصل کیے ، پھر جو صدقہ کیا تو وہ بہت سبقت لے گیا۔

7783

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7783

Zaeef

(۷۷۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ أَحَدُہُمْ : لِی مِائَۃُ أُوقِیَّۃٍ فَتَصَدَّقْتُ بِعَشَرَۃِ أَوَاقٍ۔ وَقَالَ الآخَرُ : لِی مِائَۃُ دِینَارٍ فَتَصَدَّقْتُ بِعَشَرَۃِ دَنَانِیرَ۔ قَالَ الثَّالِثُ : لِی عَشْرَۃُ دَنَانِیرَ فَتَصَدَّقْتُ بِدِینَارٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((تَصَدَّقَ کُلُّ رَجُلٍ مِنْکُمْ بِعُشْرِ مَالِہِ کُلُّکُمْ فِی الأَجْرِ سَوَائٌ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٧٨٠) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : تین آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ، ان میں سے ایک نے کہا : میرے پاس سو اوقیہ ہیں، میں نے دس اوقیہ کا صدقہ کردیا اور دوسرے نے کہا : میرے پاس سو دینار ہیں ، میں نے دس دینار صدقہ کردیے اور تیسرے نے کہا : میرے پاس دس دینار ہیں۔ میں نے ایک دینار کا صدقہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کے دسویں حصے کا صدقہ کیا ہے اور تم سب اجر میں برابر ہو۔