Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 11 · Chapter 1529

زکوۃ کا بیان

چرنے والی گائیوں کی زکوۃ کے ابواب کا مجموعہ

2 hadiths in this chapter

7285

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7285

Sahih

(۷۲۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ السَّمَّاکُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : انْتَہَیْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ فَلَمَّا رَآنِی قَالَ : ((ہُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ))۔ - قَالَ - فَجِئْتُ حَتَّی جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ : مَنْ ہُمْ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی؟ قَالَ: ((ہُمُ الأَکْثَرُونَ إِلاَّ مَنْ قَالَ بِالْمَالِ ہَکَذَا وَہَکَذَا - أَرْبَعَ مَرَّاتٍ - وَقَلِیلٌ مَا ہُمْ۔ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلاَ بَقَرٍ وَلاَ غَنَمٍ لاَ یُؤَدِّی زَکَاتَہَا إِلاَّ جَائَ تْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْظَمَ مَا کَانَتْ وَأَسْمَنَہُ تَنْطَحُہُ بِقُرُونِہَا وَتَطَؤُہُ بِأَخْفَافِہَا کُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاہَا عَادَتْ عَلَیْہِ أُولاَہَا حَتَّی یُقْضَی بَیْنَ النَّاسِ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ وَکِیعٍ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ أخرجہ المسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٢٨٤) ابو ذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا تو فرمایا : رب کعبہ کی قسم وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں۔ میں آپ کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور کھڑا ہونے کے لیے نہ ٹھہرا اور میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر میرے ماں والد فداہوں وہ کون ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ زیادہ مال والے ، مگر جس نے اپنے مال کو ایسے ایسے خرچ کیا اور یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار مرتبہ کہی اور فرمایا : وہ بہت کم ہیں کوئی اونٹوں والا یا گائے والا نہیں اور نہ ہی بکریوں والا جو ان کی زکوۃ ادا نہیں کرتا مگر وہ قیامت کے دن آئے گا ان کو لے کر آئے گا بڑی اور موٹی ہوں گی وہ اسے اپنے سینگوں سے چھیلیں گی اور اپنے پاؤں سے روندیں گی جب آخری ختم ہوجائے گی تو پہلی پلٹ آئے گی یہاں تک کہ لوگوں میں فیصلہ کردیا جائے گا۔

7286

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7286

Sahih

(۷۲۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرٌو أَنَّ بُکَیْرًا حَدَّثَہُ عَنْ أَبِی صَالِحٍ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا لَمْ یُؤَدِّ الْمَرْئُ حَقَّ اللَّہِ تَعَالَی فِی الصَّدَقَۃِ فِی إِبِلِہِ بُطِحَ لَہَا بِصَعِیدٍ قَرْقَرٍ فَوَطِئَتْہُ بِأَخْفَافِہَا وَعَضَّتْہُ بِأَفْوَاہِہَا إِذَا مَرَّ عَلَیْہِ أُخْرَاہَا کَرَّ عَلَیْہِ أَوَّلُہَا حَتَّی یَرَی مَصْدَرَہُ إِمَّا مِنَ الْجَنَّۃِ ، وَإِمَّا مِنَ النَّارِ ، وَالْبَقَرُ إِذَا لَمْ یُؤَدِّ حَقَّ اللَّہِ تَعَالَی فِیہَا بُطِحَ لَہَا بِصَعِیدٍ قَرْقَرٍ فَوَطِئَتْہُ بِأَظْلاَفِہَا وَنَطَحَتْہُ بِقُرُونِہَا إِذَا مَرَّ عَلَیْہِ أُخْرَاہَا کَرَّ عَلَیْہِ أَوَّلِہَا حَتَّی یَرَی مَصْدَرَہُ إِمَّا مِنَ الْجَنَّۃِ ، وَإِمَّا مِنَ النَّارِ ، وَالْغَنَمُ کَذَلِکَ تَنْطَحُہُ بِقُرُونِہَا وَتَطَؤُہُ بِأَظْلاَفِہَا لَیْسَ فِیہَا عَقْصَائُ ، وَلاَ جَمَّائُ حَتَّی یَرَی مَصْدَرَہُ إِمَّا مِنَ الْجَنَّۃِ ، وَإِمَّا مِنَ النَّارِ ، وَالْخَیْلُ ثَلاَثَۃٌ أَجْرٌ وَوِزْرٌ وَسِتْرٌ فَمَنِ اقْتَنَاہَا تَعَفُّفًا وَتَغَنِّیًا کَانَتْ لَہُ سِتْرًا ، وَمَنِ اقْتَنَاہَا عُدَّۃً لِلْجِہَادِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَانَتْ لَہُ أَجْرًا وَإِنْ طَوَّلَ لَہَا شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ کَانَ لَہُ فِی ذَلِکَ أَجْرٌ ، وَمَنِ اقْتَنَاہَا فَخْرًا وَریَائً وَنِوَائً عَلَی الْمُسْلِمِینَ کَانَتْ لَہُ وِزْرًا))۔ قَالَ قَائِلٌ : أَرَأَیْتَ الْحُمُرَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : ((لَمْ یَأْتِ فِی الْحُمُرِ شَیْئٌ إِلاَّ الآیَۃُ الْجَامِعَۃُ الْفَاذَّۃُ {فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ})) رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ الأَیْلِیِّ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَشَارَ إِلَیْہِ الْبُخَارِیُّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٢٨٥) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آدمی زکوۃ میں اللہ کا حق ادا نہیں کرتا (اونٹوں وغیرہ کی زکوۃ نہیں دیتاتو اس کو صاف میدان میں پھینکا جائے گا اور وہ جانور اسے اپنے پاؤں سے روندے گا اور اپنے منہ سے کاٹے گا۔ جب اس پر آخری گزرے گا تو پہلے کو لوٹایا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنا ٹھکانا جنت یا دوزخ میں دیکھ لے گا اور جب گائے کی زکوۃ ادا نہ کی جائے گی، جو اللہ کا حق ہے توا سے صاف چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا تو گائے اپنے پاؤں سے اسے روند لے گی اور اپنے سینگوں سے چھیلے گی جب آخری گزرے گی تو پہلی کو لوٹا دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنا ٹھکانا جنت یا دوزخ میں دیکھ لے گا ایسے ہی بکریاں بھی اپنے سینگوں اور ناخنوں سے اپنے مالک کو روندے گی، ان میں سے کوئی گنجی اور لنگڑی نہ ہوگی یہاں تک وہ اپنا ٹھکانا جنت و دوزخ میں دیکھ لے گا اور گھوڑا تین طرح کا ہوگا : ایک اجر ہوگا ایک بوجھ اور ایک پردہ ہوگا، جس نے اسے اپنی عزت و ضرورت کے لیے رکھا ، وہ اس کے لیے پردہ ہے اور جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا وہ اس کے لیے اجر کا باعث ہوگا اگر وہ اس کی رسی کو لمبا کرتا ہے وہ ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے اجر ہوگا اور جس نے فخر رہا اور مسلمانوں پر برتری کے لیے رکھا، یہ اس کے لیے وزر (بوجھ) ہوگا۔ کہنے والے نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! گدھے کے بارے کے لیے آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گدھے میں کچھ نہیں آیا سوائے اس جامع اور مکمل آیت کے { فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ } جس نے ایک ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر گناہ کیا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔