Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 10 · Chapter 1501

جنازوں کا بیان

موت کی خبر اور اعلان اس کی ممنوعہ مقدار کی کراہت کا بیان

3 hadiths in this chapter

7180

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7180

Zaeef

(۷۱۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ - یَعْنِی ابْنَ سُلَیْمٍ الْعَبْسِیَّ - حَدَّثَنَا بِلاَلٌ الْعَبْسِیُّ قَالَ : کَانَ حُذَیْفَۃُ إِذَا کَانَتْ فِی أَہْلِہِ جَنَازَۃٌ لَمْ یُؤْذِنْ بِہَا أَحَدًا وَیَقُولُ : إِنِّی أَخَافُ أَنْ یَکُونَ نَعْیًا إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَی عَنِ النَّعْیِ۔ َیُرْوَی فِی ذَلِکَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِی سَعِیدٍ ، ثُمَّ عَنْ عَلْقَمَۃَ وَابْنِ الْمُسَیَّبِ وَالرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ وَبَلَغَنِی عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّہُ قَالَ : لاَ أُحِبُّ الصِّیَاحَ لِمَوْتِ الرَّجُلِ عَلَی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ وَلَوْ وَقَفَ عَلَی حِلَقِ الْمَسَاجِدِ فَأَعْلَمَ النَّاسَ بِمَوْتِہِ لَمْ یَکُنْ بِہِ بَأْسٌ۔ وَرُوِّینَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَعَی جَعْفَرًا وَزَیْد وَابْنَ رَوَاحَۃَ وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَعَی النَّجَاشِیَّ۔ وَعَنْہُ فِی مَوْتِ الإِنْسَانِ الَّذِی کَانَ یَقُمُّ الْمَسْجِدَ وَدُفِنَ لَیْلاً : ((أَفَلاَ کُنْتُمْ آذَنْتُمُونِی))۔ وَفِی رِوَایَۃٍ : ((مَا مَنَعَکُمْ أَنْ تُعْلِمُونِی))۔ [ضعیف۔ ترمذی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧١٧٩) ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی موت کی خبر دی۔ ایسے ہی اس آدمی کی خبر جو مسجد کی دیکھ بھال کرتا تھا اور رات کو دفن کردیا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی ؟ ایک روایت میں ہے کہ تم کو کس نے روکا کہ تم مجھے آگاہ کرو۔ مالک بن انس (رض) سے نقل کیا گیا ہے کہ کسی کی موت کی وجہ سے مسجد کے دروازے پر چیخنا مجھے پسند نہیں ہے۔ اگر مسجد کے حلقوں میں اعلان کیا اور لوگوں کو اطلاع دے دی تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان سے یہ بھی نقل کیا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعفر زید اور ابن رواحہ کی موت کا اعلان کیا۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی موت کی خبر دی۔

7181

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7181

Zaeef

(۷۱۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ - یَعْنِی ابْنَ إِبْرَاہِیمَ - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ الوَاشِحِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ - یَعْنِی ابْنَ رَافِعٍ - عَنْ جَدَّتَہِ : أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ مَاتَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَأُتِیَ ابْنُ عُمَرَ فَأُخْبِرَ بِمَوْتِہِ فَقِیلَ لَہُ : مَا تَرَی أَیُخْرَجُ بِجَنَازَتِہِ السَّاعَۃَ؟ فَقَالَ : إِنَّ مِثْلَ رَافِعٍ لاَ یُخْرَجُ بِہِ حَتَّی یُؤْذَنَ بِہِ مَنْ حَوْلَنَا مِنَ الْقُرَی فَأَصْبَحُوا فَأَخْرَجُوا بِجَنَازَتِہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧١٨٠) ابن رافع اپنی دادی سے نقل فرماتے ہیں کہ رافع بن خدیج عصر کے بعد فوت ہوئے۔ ابن عمر (رض) کو ان کی موت کی خبر دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ کیا خیال ہے ان کا جنازہ بھی نکالا جائے تو ابن عمر (رض) نے کہا : رافع جیسے آدمیوں کا جنازہ نہیں نکالا جاسکتا ، جب تک قریب کی بستیوں میں اعلان نہ کردیا جائے تو پھر صبح کے وقت جنازہ اٹھایا گیا۔

7182

Sunan Al Kubra Bayhaqi #7182

Zaeef

(۷۱۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَقْدِمَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِذَا حَضَرَ مِنَّا الْمَیِّتُ آذَنَّا النَّبِیَّ -ﷺ- فَحَضَرَہُ وَاسْتَغْفَرَ لَہُ حَتَّی إِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَمَنْ مَعَہُ حَتَّی یُدْفَنَ ، وَرُبَّمَا قَعَدَ وَمَنْ مَعَہُ حَتَّی یُدْفَنَ ، وَرُبَّمَا طَالَ حَبْسُ ذَلِکَ عَلَی نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا خَشِینَا مَشَقَّۃَ ذَلِکَ عَلَیْہِ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ : لَوْ کُنَّا لاَ نُؤْذِنُ النَّبِیَّ -ﷺ- بِأَحَدٍ حَتَّی یُقْبَضَ فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاہُ وَلَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ فِی ذَلِکَ مَشَقَّۃٌ وَلاَ حَبْسٌ فَفَعَلْنَا ذَلِکَ فَکُنَّا نُؤْذِنُہُ بِالْمَیِّتِ بَعْدَ أَنْ یَمُوتَ فَیَأْتِیہِ وَیُصَلِّی عَلَیْہِ ، وَرُبَّمَا انْصَرَفَ وَرُبَّمَا مَکَثَ حَتَّی یُدْفَنَ الْمَیِّتُ وَکُنَّا عَلَی ذَلِکَ حِینًا ، ثُمَّ قُلْنَا : لَوْ لَمْ نُشْخِصِ النَّبِیَّ -ﷺ- وَحَمَلْنَا جَنَازَتَنَا إِلَیْہِ حَتَّی یُصَلِّیَ عَلَیْہِ عِنْدَ بَیْتِہِ لَکَانَ ذَلِکَ أَرْفَقَ بِہِ فَفَعَلْنَا فَکَانَ ذَلِکَ الأَمْرُ إِلَی الْیَوْمِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ أحمد]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧١٨١) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے ہوئے جب کوئی میت آتی تو ہم آپ کو اطلاع کرتے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آتے اور اس کے لیے استغفار کرتے ۔ جب وہ فوت ہوجاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھی نہ جاتے جب تک اسے دفن نہ کردیا جاتا۔ کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے دفن ہوتے تک بیٹھ جاتے اور کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ٹھہرنا زیادہ ہوجاتا۔ جب ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشقت سے ڈرے تو کچھ نہ کہا کہ کیوں نہ ہم آپ کو تب اطلاع کریں جب آدمی فوت ہوجائے ، پھر جب وہ فوت ہوجاتا تو ہم آپ کو اطلاع کرتے اور اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشقت نہ ہوتی اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ رکنا پڑتا، پھر ہم آپ کو میت کے فوت ہونے کے بعد اطلاع دیتے ۔ آپ آتے اور جنازہ پڑھتے، کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے جاتے اور کبھی میت کے دفن تک رک جاتے۔ پھر ہم ایسے ہی کرتے رہے ۔ پھر ہم نے کہا : اگر ہم آپ کو زحمت نہ دیں اور جنازہ اٹھا کر آپ کی طرف لے جائیں اور آپ گھر کے پاس ہی اس کا جنازہ پڑھیں تو یہ آپ کے لیے زیادہ آسان ہوگا ۔ پھر ہم نے ایسا ہی کیا اور وہ معاملہ آج تک ایسے ہی ہے۔