Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 286

پاکی کا بیان

جوتیوں پر مسح کرنے کا بیان

9 hadiths in this chapter

1357

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1357

Sahih

(۱۳۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِیلِ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَیْرٍ حَدَّثَنَا رَوَّادٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَوَضَّأَ مَرَّۃً مَرَّۃً وَمَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ۔ وَہُوَ یَنْفَرِدُ عَنِ الثَّوْرِیِّ بِمَنَاکِیرَ ہَذَا أَحَدُہَا ، وَالثِّقَاتُ رَوَوْہُ عَنِ الثَّوْرِیِّ دُونَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ۔ وَرُوِیَ عَنْ زَیْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنِ الثَّوْرِیِّ ہَکَذَا وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۷۸۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٨) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا اور جوتیوں پر مسح کیا۔

1358

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1358

Sahih

(۱۳۵۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَکِیعِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- مَسَحَ عَلَی النَّعْلَیْنِ۔ وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ۔ وَرَوَاہُ عَبْدُ الْعَزِیزِ الدَّرَاوَرْدِیُّ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَحَکَیَا فِی الْحَدِیثِ رَشًّا عَلَی الرِّجْلِ وَفِیہَا النَّعْلُ وَذَلِکَ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ غَسَلَہَا فِی النَّعْلِ۔ فَقَدْ رَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ وَوَرْقَائُ بْنُ عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَحَکَوْا فِی الْحَدِیثِ غَسْلَہُ رِجْلَیْہِ وَالْحَدِیثُ حَدِیثٌ وَاحِدٌ۔ وَالْعَدَدُ الْکَثِیرُ أَوْلَی بِالْحِفْظِ مِنَ الْعَدَدِ الْیَسِیرِ مَعَ فَضْلِ حِفْظِ مَنْ حَفِظَ فِیہِ الْغَسْلَ بَعْدَ الرَّشِّ عَلَی مَنْ لَمْ یَحْفَظْہُ۔ [صحیح لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٥٩) سفیان نے ہم کو اسی سند سے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتیوں پر مسح کیا۔ (ب) عبدالعزیز دراوردی اور ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے جوتے سمیتپاؤں پر چھینٹے مارنا بیان کیا ہے، لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ انھوں نے جوتوں سمیت پاؤں دھونا ہو۔ زید بن اسلم سے دوسرے راوی بیان کرتے ہیں کہ دونوں پاؤں دھوئے جائیں۔ حدیث ایک ہی ہے۔

1359

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1359

Sahih

(۱۳۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ عَبَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنِی أَوْسُ بْنُ أَبِی أَوْسٍ الثَّقَفِیُّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ وَقَدَمَیْہِ۔ وَقَالَ مُسَدَّدٌ: أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو داؤد ۱۶۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٠) سیدنا اوس بن أبی اوس ثقفی (رض) کا طغری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتیوں اور پاؤں پر مسح کیا۔ مسدد کہتے ہیں : انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے۔

1360

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1360

Zaeef

(۱۳۶۱) وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِیِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ۔ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ فَذَکَرَہُ وَہَذَا الإِسْنَادُ غَیْرُ قَوِیٍّ ، وَہُوَ یَحْتَمِلُ مَا احْتَمَلَ الْحَدِیثُ الأَوَّلُ۔ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْمُرَادَ بِہِ غَسْلُ الرِّجْلَیْنِ فِی النَّعْلَیْنِ مَا۔ [أخرجہ الطیالسی ۱۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦١) اوس ثقفی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور اپنی جوتیوں پر مسح کیا۔ یہ روایت منقطع ہے۔ (ب) یہ سند قوی نہیں۔

1361

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1361

Sahih

(۱۳۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ جُرَیْجٍ أَنَّہُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَیْتُکَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ یَصْنَعُہَا؟ قَالَ: مَا ہُنَّ؟ فَذَکَرَہُنَّ وَقَالَ فِیہِنَّ: رَأَیْتُکَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِیَّۃَ۔ قَالَ: أَمَّا النِّعَالَ السِّبْتِیَّۃَ فَإِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِی لَیْسَ فِیہَا شَعَرٌ وَیَتَوَضَّأُ فِیہَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ فَزَادَ فِیہِ وَیَمْسَحُ عَلَیْہَا۔ [حسن۔ أخرجہ البخاری ۴۷۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٢) عبید بن جریح نے سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا : اے ابا عبد الرحمن ! میں نے دیکھا کہ آپ چار کام کرتے ہیں جو میں نے کسی صحابی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ انھوں نے کہا : وہ کیا ہیں ؟ اس نے وہ (چار) چیزیں بتلائیں، یعنی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ سبتی (علاقے کی) جوتے پہنتے ہیں۔ انھوں نے کہا : سبتی جوتے ، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا ہی جن پر بال نہیں تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں وضو کرتے تھے، میں بھی پسند کرتا ہوں کہ میں بھی پہنوں۔

1362

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1362

Zaeef

(۱۳۶۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قِیلَ لاِبْنِ عُمَرَ: رَأَیْنَاکَ تَفْعَلُ شَیْئًا لَمْ نَرَ أَحَدًا یَفْعَلُہُ غَیْرُکَ۔ قَالَ: وَمَا ہُوَ؟ قَالَ: رَأَیْنَاکَ تَلْبَسُ ہَذِہِ النِّعَالَ السِّبْتِیَّۃَ۔ قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَلْبَسُہَا وَیَتَوَضَّأُ فِیہَا ، وَیَمْسَحُ عَلَیْہَا۔ وَہَذِہِ الزِّیَادَۃُ إِنْ کَانَتْ مَحْفُوظَۃً فَلاَ تُنَافِی غَسْلَہُمَا ، فَقَدْ یَغْسِلُہُمَا فِی النَّعْلِ وَیَمْسَحُ عَلَیْہِمَا کَمَا مَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَعَلَی عِمَامَتِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [جید۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۱۹۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٣) عبید بن جریح فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر (رض) سے کہا گیا : ہم نے آپ کو کچھ ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہی جو آپ کے علاوہ ہم نے کسی کو ایسے کرتے ہوئے نہیں دیکھا انھوں نے کہا : وہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ سبتی جوتیاں پہنتے ہو، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں وضو کرتے تھے اور ان پر مسح کرتے تھے۔

1363

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1363

Sahih

(۱۳۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ: بَالَ عَلِیٌّ وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی النَّعْلَیْنِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۹۹۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٤) زید بن وھب سے روایت ہے کہ سیدنا علی (رض) نے کھڑے ہونے کی حالت میں پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔

1364

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1364

Sahih

(۱۳۶۵) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ قَالَ: بَالَ عَلِیٌّ وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَی النَّعْلَیْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الظُّہْرَ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۹۹۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٥) ابوظبیان کہتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) نے کھڑے ہو کرپیشاب کیا، پھر وضو کیا اور جوتیوں پر مسح کیا پھر (گھر سے) نکلے اور ظہر کی نماز ادا کی۔

1365

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1365

Sahih

(۱۳۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ بِالرَّحَبَۃِ بَالَ قَائِمًا حَتَّی أَرْغَی ، فَأُتِیَ بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ فَغَسَلَ یَدَیْہِ وَاسْتَنْشَقَ وَتَمَضْمَضَ وَغَسَلَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ ثُمَّ أَخَذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ فَوَضَعَہُ عَلَی رَأْسِہِ حَتَّی رَأَیْتُ الْمَائَ یَنْحَدِرُ عَلَی لِحْیَتِہِ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَأَمَّ النَّاسَ۔ قَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ الأَعْمَشُ فَحَدَّثْتُ إِبْرَاہِیمَ قَالَ: إِذَا رَأَیْتُ أَبَا ظَبْیَانَ فَأَخْبِرْنِی۔ فَرَأَیْتُ أَبَا ظَبْیَانَ قَائِمًا فِی الْکُنَاسَۃِ فَقُلْتُ: ہَذَا أَبُو ظَبْیَانَ فَأَتَاہُ فَسَأَلَہُ عَنِ الْحَدِیثِ۔ وَالْمَشْہُورُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ غَسَلَ رِجْلَیْہِ حِینَ وَصَفَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ لاَ یُخَالِفُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَمَّا مَسْحُہُ عَلَی النَّعْلَیْنِ فَہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی غَسْلِ الرِّجْلَیْنِ فِی النَّعْلَیْنِ ، وَالْمَسْحُ عَلَی النَّعْلَیْنِ لأَنَّ الْمَسْحَ رُخْصَۃٌ لِمَنْ تَغَطَّتْ رِجْلاَہُ بِالْخُفَّیْنِ فَلاَ یَعْدِی بِہَا مَوْضِعَہَا ، وَالأَصْلُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَیْنِ إِلاَّ مَا خَصَّتْہُ سُنَّۃٌ ثَابِتَۃٌ أَوْ إِجْمَاعٌ لاَ یُخْتَلَفُ فِیہِ ، وَلَیْسَ عَلَی الْمَسْحِ عَلَی النَّعْلَیْنِ وَلاَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَاحِدٌ مِنْہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۲۰۰۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٦٦) ابوظبیان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی بن أبی طالب کو رحبہ جگہ میں دیکھا، انھوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، یہاں تک کہ وہ جھاگ بن گیا، پھر پانی کا ایک برتن لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ناک میں پانی چڑھایا اور کلی کی پھر اپنے چہرے اور بازؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر پانی کی ایک ہتھیلی لی اس کو اپنے سر پر رکھا یہاں تک کہ میں نے پانی کو دیکھا وہ آپ کی داڑھی پر گر رہا تھا، پھر جوتیوں پر مسح کیا پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو اپنی جوتیاں اتاریں ، آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (ب) اعمش کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو بتلایا تو انھوں نے کہا : جب تو اعمش کو دیکھے تو مجھے بتلا، میں نے اسے کناسہ میں دیکھاتو انھیں بتلایا ، انھوں نے اس سے حدیث کے متعلق سوال کیا۔ (ج) سیدنا علی (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو بیان کیا تو پاؤں دھوئے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے کے مخالف نہیں کرتے تھے۔ ان کا جوتوں پر مسح کرنا اس پر محمول ہے کہ جب پاؤں دھو کر جوتے پہنے ہوں۔ جوتوں پر مسح کی رخصت اس شخص کے لیے جس نے اپنے پاؤں موزوں سے ڈھانپے ہوں۔” اصل پاؤں دھونا ہی واجب ہے۔ البتہ ان صورتوں میں نہیں جن میں کوئی سنتِ مشھورہ یا اجماع ہو۔ اور جوتوں اور جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے۔