Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 26

پاکی کا بیان

مشرکوں کے برتنوں میں طہارت حاصل کرنا جائز ہے جب نجاست کا علم نہ ہو

6 hadiths in this chapter

125

Sunan Al Kubra Bayhaqi #125

Sahih

(۱۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ:عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانِ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: سَرَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فِی سَفَرٍ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ فَأَصَابَہُمْ عَطَشٌ شَدِیدٌ ، فَأَقْبَلْ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِہِ -أَحْسِبُہُ عَلِیًّا وَالزُّبَیْرَ أَوْ غَیْرَہُمَا -قَالَ: ((إِنَّکُمَا سَتَجِدَانِ بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا امْرَأَۃً مَعَہَا بَعِیرٌ عَلَیْہِ مَزَادَتَانِ ، فَأْتِیَانِی بِہَا))۔ قَالَ فَأَتَیَا الْمَرْأَۃَ فَوَجَدَاہَا قَدْ رَکِبَتْ بَیْنَ مَزَادَتَیْنِ عَلَی الْبَعِیرِ فَقَالاَ لَہَا: أَجِیبِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللَّہِ؟ ہَذَا الصَّابِئُ؟ قَالاَ:ہُوَ الَّذِی تَعْنِینَ ، وَہُو رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-حَقًّا۔فَجَائَا بِہَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فَجَعَلَ فِی إِنَائٍ مِنْ مَزَادَتَیْہَا ، ثُمَّ قَالَ فِیہِ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ ، ثُمَّ أَعَادَ الْمَائَ فِی الْمَزَادَتَیْنِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِعَزْلاَئِ الْمَزَادَتَیْنِ فَفُتِحَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَمَلَئُوا آنِیَتَہُمْ وَأَسْقِیَتَہُمْ ، فَلَمْ یَدَعُوا یَوْمَئِذٍ إِنَائً وَلاَ سِقَائً إِلاَّ مَلَئُوہُ -قَالَ عِمْرَانُ- فَکَانَ یُخَیَّلُ إِلَیَّ أَنَّہَا لَمْ تَزْدَدْ إِلاَّ امْتِلاَئً -قَالَ- فَأَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ-بِثَوْبِہَا فَبُسِطَ ، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَہُ فَجَائُوا مِنْ زَادِہِمْ حَتَّی مَلَئُوا لَہَا ثَوْبَہَا ، ثُمَّ قَالَ لَہَا: ((اذْہَبِی فَإِنَّا لَمْ نَأْخُذْ مِنْ مَائِکِ شَیْئًا، وَلَکِنَّ اللَّہَ سَقَانَا))۔قَالَ: فَجَائَتْ أَہْلَہَا فَأَخْبَرَتْہُمْ فَقَالَتْ: جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ أَسْحَرِ النَّاسِ أَوْ إِنَّہُ لَرَسُولُ اللَّہِ حَقًّا۔قَالَ: فَجَائَ أَہْلُ ذَلِکَ الْحِوَائِ حَتَّی أَسْلَمُوا کُلُّہُمْ۔مَخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفِ بْنِ أَبِی جَمِیلَۃَ وَفِیہِ: فَکَانَ آخِرُ ذَلِکَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-أَعْطَی الَّذِی أَصَابَتْہُ الْجَنَابَۃُ إِنَائً مِنْ مَائٍ فَقَالَ: ((اذْہَبْ فَأَفْرِغْہُ عَلَیْکَ)) وَہِیَ قَائِمَۃٌ تَنْظُرُ مَا یُفْعَلُ بِمَائِہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٦) (الف) حضرت عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں گئے، انھیں سخت پیاس لگ گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو صحابی آئے۔ میرا گمان ہے کہ وہ علی (رض) اور زبیر (رض) تھے یا شاید ان کے علاوہ کوئی اور۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں فلاں جگہ پر ایک عورت کو پاؤ گے اس کے پاس اونٹ ہوگا، اس پر دو مٹکے ہوں گے ۔ تم دونوں اس کو میرے پاس لاؤ۔ وہ دونوں عورت کے پاس آئے ۔ انھوں نے اس کو دیکھا وہ عورت اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی، انھوں نے اس سے کہا : آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلا رہے ہیں، وہ کہنے لگی : کون رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ یہی بےدین ! (معاذ اللہ) انھوں نے کہا : وہی ہیں جو تم مراد لے رہی ہو لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برحق ہیں، وہ دونوں اس کو لے کر آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ مٹکوں سے پانی نکالو اور اس پر کچھ پڑھا۔ پھر پانی کو اس کے مٹکوں میں واپس لوٹا دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مشکیزوں کا حکم دیا، ان کو کھولا گیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا، انھوں نے اپنے برتنوں اور مشکیزوں کو بھر لیا اور لوگوں نے اس دن کوئی برتن اور مشکیزہ خالی نہیں چھوڑا، ۔ عمران (رض) کہتے ہیں : مجھے خیال تھا کہ زیادہ بھر گیا ہے۔ عمران کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑے کو پھیلانے کا حکم دیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اپنا زاد راہ لے کر آئیں۔ انھوں نے زاد راہ سے کپڑے کو بھر دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے فرمایا : ” جاؤ، ہم نے آپ کے پانی میں سے کچھ نہیں لیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو پلا دیا ہے۔ “ عمران کہتے ہیں : وہ عورت اپنے اہل و عیال کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں سب سے بڑے جادو گر کے پاس سے آئی ہوں یا پھر وہ یقیناً اللہ کے برحق رسول ہیں۔ عمران کہتے ہیں : پھر حواء بستی والے آئے اور سب مسلمان ہوگئے۔ (ب) بیشک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناپاک آدمی نے برتن میں پانی دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو اپنے اوپر ڈال لے اور وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی جو اس کے پانی کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ “

126

Sunan Al Kubra Bayhaqi #126

Sahih

(۱۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَوْفٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ بِزَیَادَتِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۳/۲۱۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٧) سیدنا عوف (رض) پچھلی روایت کے ہم معنی کچھ الفاظ کی زیادتی کے ساتھ یہ روایت بیان کرتے ہیں۔

127

Sunan Al Kubra Bayhaqi #127

Sahih

(۱۲۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی أَخْبَرَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلاَئِ۔وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی وَإِسْمَاعِیلُ عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَنُصِیبُ مِنْ آنِیَۃِ الْمُشْرِکِینَ وَأَسْقِیَتِہِمْ ، فَنَسْتَمْتِعُ بِہَا فَلاَ یَعِیبُ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ۔وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبْدَانَ: فَلاَ یُعَابُ عَلَیْنَا۔ [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۸۳۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٨) (الف) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے، ہم کو مشرکوں کے برتن اور ان کے مشکیزے مل جاتے تو ہم اس سے فائدہ اٹھاتے، یہ ان کے لیے کوئی عیب والی بات نہیں ہوتی تھی۔ (ب) اور ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ ہم پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔

128

Sunan Al Kubra Bayhaqi #128

Sahih

(۱۲۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَوَضَّأَ مِنْ مَائٍ نَصْرَانِیَّۃٍ فِی جَرَّۃِ نَصْرَانِیَّۃٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ المولف فی سننہ الصغری ۲۲۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٢٩) زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) نے نصرانی کے مٹکے میں موجود پانی سے وضو کیا۔

129

Sunan Al Kubra Bayhaqi #129

Zaeef

(۱۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنُ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ حَدَّثُونَا عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَلَمْ أَسْمَعْہُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: لَمَّا کُنَّا بِالشَّامِ أَتَیْتُ عُمَرَ بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ مِنْہُ ، فَقَالَ: مِنْ أَیْنَ جِئْتَ بِہَذَا؟ فَمَا رَأَیْتُ مَائَ عَدٍّ وَلاَ مَائَ سَمَائٍ أَطْیَبَ مِنْہُ۔قَالَ قُلْتُ: مِنْ بَیْتِ ہَذِہِ الْعَجُوزِ النَّصْرَانِیَّۃِ۔فَلَمَّا تَوَضَّأَ أَتَاہَا فَقَالَ: أَیَّتُہَا الْعَجُوزُ أَسْلِمِی تَسْلَمِی ، بَعَثَ اللَّہُ بِالْحَقِّ مُحَمَّدًا -ﷺ-۔قَالَ: فَکَشَفْتْ رَأْسَہَا فَإِذَا مِثْلُ الثَّغَامَۃِ قَالَتْ: وَأَنَا أَمُوتُ الآنَ؟ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ۔ [ضعیف: أخرجہ المولف فی المعرفۃ ۴۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣٠) زید بن اسلم کے والد کہتے ہیں کہ جب ہم شام میں تھے تو میں سیدنا عمر (رض) کے پاس پانی لے کر آیا، آپ نے اس سے وضو کیا۔ سیدنا عمر (رض) نے پوچھا : تو اس کو کہاں سے لایا ہے ؟ میں نے اس پانی اور آسمان کے پانی کے علاوہ کوئی اچھا پانی نہیں دیکھا۔ زید بن اسلم کے باپ کہتے ہیں : میں نے کہا : اس نصرانی بڑھیا عورت کے گھر سے (لایا ہوں) ۔ جب آپ نے وضو کیا تو اس عورت کے پاس آئے۔ سیدنا عمر (رض) نے کہا : اے بڑھیا عورت ! مسلمان ہوجا تو محفوظ ہوجائے گی، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے اپنا سر ننگا کیا تو اس کا سر ثغامہ پھول کی طرح سفید ہوچکا تھا، اس عورت نے کہا : اب میں مر جاؤں ؟ راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر (رض) نے کہا : اے اللہ ! تو گواہ ہوجا۔

130

Sunan Al Kubra Bayhaqi #130

Zaeef

(۱۳۱) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوجَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ سُوَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-یَتَّقِی أَنْ یَشْرَبَ فِی الإِنَائِ لِلنَّصَارَی۔ فَقَدْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ:تَفَرَّدَ بِہِ إِبْرَاہِیمُ بْنُ یَزِیدَ الْخُوزِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ۔ (ج) قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ:وَإِبْرَاہِیمُ الْخُوزِیُّ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ (ق)ثُمَّ ہُوَ مَحْمُولٌ عَلَی التَّنْزِیہِ بِمَا مَضَی۔ [ضعیف جدًا]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٣١) ام المؤمنین سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نصاریٰ کے برتنوں میں پینے سے پرہیز کرتے تھے۔ (ب) ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن یزید خوزی ابن أبی ملیکہ سے بیان کرنے میں متفرد ہے۔ (ج) شیخ (رح) کہتے ہیں کہ ابراہیم کی حدیث قابل حجت نہیں۔ (د) پھر یہ روایت جو ابھی گزری ہے نہی تنزیہی پر محمول ہوگی۔