Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 242

پاکی کا بیان

جسم کے کسی حصے میں زخم ہونے کا حکم

4 hadiths in this chapter

1072

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1072

Sahih

(۱۰۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنِی الْوَلِیدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّ عَطَائً حَدَّثَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فِی شِتَائٍ فَسَأَلَ فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : ((مَا لَہُمْ قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ ثَلاَثًا ، قَدْ جَعَلَ اللَّہُ الصَّعِیدَ أَوِ التَّیَمُّمَ طَہُورًا))۔ ہَذَا حَدِیثٌ مَوْصُولٌ۔ وَتَمَامُ ہَذِہِ الْقِصَّۃِ فِی الْحَدِیثِ الَّذِی أَرْسَلَہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ عَطَائٍ ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۱۳۱۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٣) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص سردی میں جنبی ہوگیا ۔ اس نے پوچھاتو اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ فوت ہوگیا، یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں کیا تھا انھوں نے تو اس کو قتلکر دیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے، تین مرتبہ فرمایا، اللہ نے مٹی یا تیمم کو پاک کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ حدیث موصول ہے۔

1073

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1073

Sahih

(۱۰۷۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ یَقُولُ بَلَغَنِی عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یُخْبِرُ : أَنَّ رَجُلاً أَصَابَہُ جُرْحٌ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -ثُمَّ أَصَابَہُ احْتِلاَمٌ ، فَأُمِرَ بِالاِغْتِسَالِ ، فَاغْتَسَلَ فَکَزَّ فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : ((قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ ، أَلَمْ یَکُنْ شِفَائُ الْعِیِّ السُّؤَالَ؟))۔ قَالَ عَطَائٌ : فَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : ((لَوْ غَسَلَ جَسَدَہُ وَتَرَکَ رَأْسَہُ حَیْثُ أَصَابَہُ الْجُرْحُ))۔ فَہَذَا الْمُرْسَلُ یَقْتَضِی غَسْلَ الصَّحِیحِ مِنْہُ وَالأَوَّلُ یَقْتَضِی التَّیَمُّمَ ، فَمَنْ أَوْجَبَ الْجَمْعَ بَیْنَہُمَا یَقُولُ لاَ تَنَافِی بَیْنَ الرِّوَایَتَیْنِ إِلاَّ أَنَّ إِحْدَاہُمَا مُرْسَلَۃٌ۔ [حسن لغیرہٖ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٤) عطاء بن أبی رباح نے سیدنا ابن عباس (رض) سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک شخص کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہوگیا، اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو سردی سے مرگیا۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” انھوں نے اس کو ہلاک کیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے۔ کیا جاہل کی شفاء سوال کرنا نہیں ہے۔ عطاء کہتے ہیں : ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کاش وہ اپنے جسم کو دھوتا اور سر کو چھوڑ دیتا جس جگہ اسے زخم لگا تھا۔ (ب) یہ مرسل روایت غسل کی مقتضی ہے جبکہ پہلی روایت میں تیمم کا حکم ہے۔ جنھوں نے دونوں روایات میں تطبیق دی ہے، وہ کہتے ہیں : دونوں روایات ایک دوسرے کے منافی نہیں، ان میں سے ایک روایت مرسل ہے۔

1074

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1074

Zaeef

(۱۰۷۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاکِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ خُرَیْقٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : خَرَجْنَا فِی سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلاً مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّہُ فِی رَأْسِہِ ثُمَّ احْتَلَمَ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : ہَلْ تَجِدُونَ لِی رُخْصَۃً فِی التَّیَمُّمِ؟ قَالُوا : مَا نَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ۔ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ -أُخْبِرَ بِذَلِکَ قَالَ : ((قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ ، أَلاَ سَأَلُوا إِذْ لَمْ یَعْلَمُوا ، فَإِنَّمَا شِفَائُ الْعِیِّ السُّؤَالُ ، إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیہِ أَنْ یَتَیَمَّمَ وَیَعْصِرَ أَوْ یَعْصِبَ ۔ شَکَّ مُوسَی : عَلَی جُرْحِہِ خِرْقَۃً ثُمَّ یَمْسَحَ عَلَیْہَا وَیَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِہِ))۔ وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ مَوْصُولَۃٌ جُمِعَ فِیہَا بَیْنَ غَسْلِ الصَّحِیحِ وَالْمَسْحِ عَلَی الْعِصَابَۃِ وَالتَّیَمُّمِ إِلاَّ أَنَّہَا تُخَالِفُ الرِّوَایَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ فِی الإِسْنَادِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [منکر۔ أخرجہ أبوداؤد ۳۳۶]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٥) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نکلے، ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگا تو اس کے سر میں زخم ہوگیا، پھر اسے احتلام ہوگیا، اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : کیا تم تیمم کرنے میں میرے لیے رخصت پاتے ہو ؟ انھوں نے کہا : ہم آپ کے لیے رخصت نہیں پاتے۔ آپ پانی پر قدرت رکھتے ہیں۔ اس نے غسل کیا تو مرگیا، جب ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس (واقعے) کی خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” انھوں نے اس کو ہلاک کیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے، جب وہ نہیں جانتے تھے تو انھوں نے سوال کیوں نہیں کیا، جاہل کی شفا ہی سوال کرنا ہے۔ اس کو کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھتا۔ موسیٰ کو شک ہے کہ اپنے زخم پر کپڑا لپیٹ لیتا، پھر اس پر مسح کرتا اور باقی سارا جسم دھو لیتا۔ یہ روایت موصول ہے، اس میں غسل، مسح اور تیمم کو جمع کردیا گیا ہے۔ سند میں یہ روایت پہلی دونوں روایات کے مخالف ہے۔

1075

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1075

Zaeef

(۱۰۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَسَدِہِ مِنْ جَنَابَۃٍ لَمْ یَغْسِلْہَا فُعِلَ بِہَا مِنَ النَّارِ کَذَا وَکَذَا))۔ قَالَ عَلِیٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ شَعَرِی۔ فَہَذَا الْحَدِیثُ وَمَا وَرَدَ فِی مَعْنَاہُ یُوجِبُ غَسْلَ الصَّحِیحِ مِنْہُ ، وَالْکِتَابُ یُوجِبُ التَّیَمُّمَ لِمَا لاَ یُقْدَرُ عَلَی غَسْلِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقِ۔ وَظَاہِرُ الْکِتَابِ یَدُلُّ عَلَی اسْتِعْمَالِ مَا یَجِدُ مِنَ الْمَائِ ، ثُمَّ الرُّجُوعِ إِلَی التَّیَمُّمِ إِذَا لَمْ یَجِدْہُ ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ وَیُذْکَرُ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ أَنَّہُ قَالَ : یَتَوَضَّأُ وَیَتَیَمَّمُ فِی الْجُنُبِ لاَ یَجِدُ مِنَ الْمَائِ إِلاَّ قَدْرَ مَا یُتَوَضَّأُ بِہِ ، وَکَذَا قَالَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَکَانَ الْحَسَنُ وَالزُّہْرِیُّ یَقُولاَنِ یَتَیَمَّمُ فَقَطْ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٦) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس نے اپنے جسم سے جنابت کی حالت میں ایک بال کے برابر جگہ چھوڑ دی اور اس کو نہ دھویا تو اس کے ساتھ آگ سے اس طرح اس طرح کیا جائے گا۔ علی (رض) فرماتے ہیں : اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کرلی ہے۔ “ (ب) یہ حدیث اور اس کے ہم معنی احادیث میں غسل کے وجوب کا حکم ہے جبکہ کتاب اللہ میں غسل کی قدرت نہ رکھنے والے کے لیے تیمم کا حکم ہے۔ کتاب اللہ کے ظاہر سے استدلال ہے کہ جب پانی نہ ملے تو تیمم کرلے۔ (ج) ابن ابی لبابہ فرماتے ہیں کہ وضو کرے گا اور تیمم کرے گا جب حالت جنابت میں پانی نہ ملے مگر اتنی مقدار میں جس سے وضو ہو سکے۔ معمر بن راشد کا بھی یہی مؤقف ہے۔ امام حسن اور زہری فرماتے ہیں : صرف تیمم کرے گا۔