Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 241

پاکی کا بیان

سخت سردی یا موت کے خوف سے سفر میں تیمم کرنا

3 hadiths in this chapter

1069

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1069

Sahih

(۱۰۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ أَیُّوبَ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : احْتَلَمْتُ فِی لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ ، فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَہْلَکَ ، فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ بِأَصْحَابِی الصُّبْحَ ، فَذَکَرُوا ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ -فَقَالَ : ((یَا عَمْرُو صَلَّیْتُ بِأَصْحَابِکَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟))۔ فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی مَنَعَنِی مِنَ الاِغْتِسَالِ وَقُلْتُ : إِنِّی سَمِعْتُ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ {وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیمًا} فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -وَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا۔ وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ فَخَالَفَہُ فِی الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِیعًا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۳۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٠) سیدنا عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل میں ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہوگیا۔ میں ڈر گیا اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا۔ میں نے تیمم کیا، پھر اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ یہ بات میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے عمرو ! آپ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی حالانکہ آپ جنبی تھے ؟ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتادیا جس چیز نے مجھے غسل کرنے سے روک دیا تھا اور میں نے کہا : میں نے اللہ تعالیٰکا ارشاد : { وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیمًا } سنا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ نہیں کہا۔

1070

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1070

Sahih

(۱۰۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَرَجُلٌ آخَرَ أَظُنُّہُ ابْنَ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی أَنَسٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِی قَیْسٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ کَانَ عَلَی سَرِیَّۃٍ وَأَنَّہُ أَصَابَہُمْ بَرْدٌ شَدِیدٌ لَمْ یُرَ مِثْلُہُ ، فَخَرَجَ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ فَقَالَ: وَاللَّہِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَۃَ، وَلَکِنِّی وَاللَّہِ مَا رَأَیْتُ بَرْدًا مِثْلَ ہَذَا، ہَلْ مَرَّ عَلَی وُجُوہِکُمْ مِثْلُہُ؟ قَالُوا: لاَ۔ فَغَسَلَ مَغَابِنَہُ وَتَوَضَّأَ وُضُوئَہُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی بِہِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَأَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((کَیْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتَہُ؟))۔ فَأَثْنَوْا عَلَیْہِ خَیْرًا وَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی بِنَا وَہُوَ جُنُبٌ۔ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی عَمْرِو فَسَأَلَہُ فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ، وَبِالَّذِی لَقِیَ مِنَ الْبَرْدِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَالَ {وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ} وَلَوِ اغْتَسَلْتُ مِتُّ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِلَی عَمْرٍو۔ أَخْرَجَہُمَا أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ ثُمَّ قَالَ : وَرَوَی ہَذِہِ الْقِصَّۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ قَالَ فِیہِ فَتَیَمَّمَ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ قَدْ فَعَلَ مَا نُقِلَ فِی الرِّوَایَتَیْنِ جَمِیعًا غَسَلَ مَا قَدَرَ عَلَی غَسْلِہِ وَتَیَمَّمَ لِلْبَاقِی۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧١) سیدنا عمرو بن عاص (رض) ایک سر یہ میں تھے۔ ان کو سخت سردیلگی اس جیسی سردی پہلے نہیں دیکھی گئی، وہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو کہنے لگے : اللہ کی قسم ! مجھے کل احتلام ہوگیا تھا اور میں نے اس طرح کی سردی نہیں دیکھی تھی، کیا تم نے دیکھی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں، پھر انھوں نے اپنے جوڑ دھوئے اور نماز جیسا وضو کیا ۔ پھر ان کو نماز پڑھائی، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا ؟ انھوں نے ان کی اچھی تعریف کی اور کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے ہم کو جنبی ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھاتو انھوں نے سارا واقعہ بتلایا اور وہ بھی جو ان کی سردی لگی تھی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :{ وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ } اگر میں غسل کرلیتا تو مرجاتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرو کی طرف دیکھ کر ہنسے۔ (ب) شیخ کہتے ہیں : دونوں روایات کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ جو غسل کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ غسل کرے اور جو طاقت نہ رکھتے ہوں وہ تیمم کرلیں۔

1071

Sunan Al Kubra Bayhaqi #1071

Sahih

(۱۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ: عَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِیقٍ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِاللَّہِ وَأَبِی مُوسَی قَالَ أَبُومُوسَی: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ الرَّجُلُ یُجْنِبُ فَلاَ یَجِدِ الْمَائَ أَیُصَلِّی؟ قَالَ: لاَ۔ فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّکْتُ بِالصَّعِیدِ ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ : ((إِنَّمَا یَکْفِیکَ ہَکَذَا))۔ وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ مَسْحَۃً وَاحِدَۃً۔ وَقَالَ : إِنِّی لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِذَلِکَ۔ فَقَالَ : کَیْفَ تَصْنَعُونَ بِہَذِہِ الآیَۃِ {فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا} فَقَالَ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَہُمْ فِی ہَذَا کَانَ أَحَدُہُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَائَ الْبَارِدَ تَمَسَّحَ بِالصَّعِیدِ۔ قَالَ الأَعْمَشُ فَقُلْتُ لِشَقِیقٍ : فَمَا کَرِہَہُ إِلاَّ لِہَذَا۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ۔ وَرَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَمَا دَرَی عَبْدُ اللَّہِ مَا یَقُولُ؟ فَقَالَ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَہُمْ فِی ہَذَا لأَوْشَکَ إِذَا بَرَدَ عَلَی أَحَدِہِمُ الْمَائُ أَنْ یَدَعَہُ وَیَتَیَمَّمَ۔ فَقُلْتُ لِشَقِیقٍ : فَإِنَّمَا کَرِہَ عَبْدُ اللَّہِ لِہَذَا؟ قَالَ : نَعَمْ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٧٢) شقیق سے روایت ہے کہ میں عبداللہ اور ابو موسیٰ (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابو موسیٰ (رض) نے کہا : اے ابو عبدالرحمن ! آدمی جنبی ہوجاتا ہے اسے پانی نہیں ملتا کیا وہ نماز پڑھے گا ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ اس نے کہا : کیا آپ نے عمار (رض) کا قول سیدنا عمر (رض) کے متعلق نہیں سنا کہ مجھے اور تجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھیجا، ہم جنبی ہوگئے، میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو بتایا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے یہ کافی تھا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا ایک مرتبہ مسح کیا اور کہا : میں نے عمر (رض) کو نہیں دیکھا کہ انھوں نے اس پر قناعت کی۔ انھوں نے کہا : تم اس آیت { فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا } کے ساتھ کیا کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا : اگر ہم ان کو اس بارے میں رخصت دے دیں تو ان میں سے ہر ایک جب ٹھنڈا پانی پائے گا تو مٹی سے مسح کرے گا۔ اعمش کہتے ہیں : میں نے شقیق سے کہا کہ اسی وجہ سے انھوں نے اس کو ناپسند سمجھا ہے۔ (ب) اعمش حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اسے معلوم نہیں جو عبداللہ کہا کرتے تھے، انھوں نے کہا : اگر ہم لوگوں کو اس مسئلہ میں رخصت دے دیں تو وہ جب بھی ٹھنڈا پائیں گے تو پانی کو چھوڑ کر تیمم کریں گے۔ میں نے شقیق سے کہا : اسی وجہ سے عبداللہ (رض) ناپسند کرتے تھے