Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 24

پاکی کا بیان

چاندی سے پالش کیے ہوئے برتن میں کھانے کی ممانعت

9 hadiths in this chapter

107

Sunan Al Kubra Bayhaqi #107

Zaeef

(۱۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیِّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِیُّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُطِیعٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-قَالَ: ((مَنْ شَرِبَ فِی إِنَائِ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ أَوْ إِنَائٍ فِیہِ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ فَإِنَّمَا یُجَرْجِرُ فِی بَطْنِہِ نَارَ جَہَنَّمَ))۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی فَوَائِدِہِ عَنِ الطُّوسِیِّ وَالْفَاکِہِیِّ مَعًا فَزَادَ فِی الإِسْنَادِ بَعْدَ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَظُنُّہُ وَہْمًا فَقَدْ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ بِخَطِّ أَبِی الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی کَمَا تَقَدَّمَ۔ وَکَذَلِکَ أَخْرَجَہُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ فِی کِتَابِہِ وَکَذَلِکَ أَخْرَجَہُ أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْوَہَّابِ عَنْ أَبِی یَحْیَی بْنِ أَبِی مَسَرَّۃَ فِی کِتَابِہِ دُونَ ذِکْرِ جَدِّہِ وَالْمَشْہُورُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی الْمُضَبَّبِ مَوْقُوفًا عَلَیْہِ۔ [صحیح۔ دون قولہ۔ أو اناء فیہ شئی من ذلک فمنکرۃ۔ أخرجہ البخاری ۵۳۱۱ و مسلم۔ ۲۰۶۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٨) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کسی نے سونے ، چاندی یا کسی ایسے برتن میں پیا جس میں دونوں کی ملاوٹ ہو تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ (ب) امام دارقطنی (رح) نے اپنی کتاب میں اپنی سند سے جو روایت بیان کی ہے وہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) پر موقوف ہے۔

108

Sunan Al Kubra Bayhaqi #108

Sahih

(۱۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ کَانَ لاَ یَشْرَبُ فِی قَدَحٍ فِیہِ حَلْقَۃُ فِضَّۃٍ وَلاَ ضَبَّۃُ فِضَّۃٍ۔ [حسن۔ ذکرہ الحافظ فی اللخیص۔ ۱/۵۴]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٠٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے منقول ہے کہ وہ برتن جس میں چاندی کا کڑا ہوتا یا چاندی کا دستہ ہوتا تو اس میں نہ پیتے تھے۔

109

Sunan Al Kubra Bayhaqi #109

Zaeef

(۱۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ الْکَیْسَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَعْیَنَ عَنْ خُصَیْفٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ أُتِیَ بِقَدَحٍ مُفَضَّضٍ لِیَشْرَبَ مِنْہُ فَأَبَی أَنْ یَشْرَبَ ، فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ مُنْذُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-نَہَی عَنِ الشُّرْبِ فِی آنِیَۃِ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ لَمْ یَشْرَبْ فِی الْقَدَحِ الْمُفَضَّضِ۔وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ عَائِشَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ تمام فی فوائدہ ۲/۲۹۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٠) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاس چاندی کے ساتھ پالش کیا ہوا پیالا لایا گیا تاکہ وہ اس سے پییں، لیکن انھوں نے اس میں پینے سے انکار کردیا، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ابن عمر (رض) نے جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے اور چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے تب سے چاندی لگے ہوئے برتن میں نہیں کھایا۔

110

Sunan Al Kubra Bayhaqi #110

Sahih

(۱۱۱) أَمَّا حَدِیثُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ عَمْرَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ کُنَّا مَعَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَمَا زِلْنَا بِہَا حَتَّی رَخَّصَتْ لَنَا فِی الْحُلِیِّ وَلَمْ تَرَخِّصْ لَنَا فِی الإِنَائِ الْمُفَضَّضِ۔ قَالَ عَبْدُ الْوَہَّابِ قَالَ سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ: حَمَلْنَاہُ عَلَی الْحَلْقَۃِ وَنَحْوِہَا۔ [حسن لغیرہ۔ ابن أبی شیبۃ فی حصنفہ ۲۵۱۵۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١١) سیدہ عمرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے ساتھ تھیں، ہم ہمیشہ آپ (رض) کے ساتھ رہیں حتیٰ کہ آپ (رض) نے زیورات میں رخصت دے دی اور چاندی سے پالش کیے برتن میں رخصت نہ دی۔

111

Sunan Al Kubra Bayhaqi #111

Sahih

(۱۱۲) وَأَمَّا حَدِیثُ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَأَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیَّ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ عِمْرَانَ عَنْ قَتَادَۃَ: أَنَّ أَنَسًا کَرِہَ الشُّرْبَ فِی الْمُفَضَّضِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٢) حضرت قتادہ (رح) سے روایت ہے کہ حضرت انس (رض) نے چاندی سے پالش کیے ہوئے برتن میں پینے کو ناپسند کیا۔

112

Sunan Al Kubra Bayhaqi #112

Sahih

(۱۱۳) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو:مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ وَالْہَیْثَمُ بْنُ خَلَفٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ یَعْنِی ابْنَ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا أَبِی أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَیْمَانَ الأَحْوَلِ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ قَدَحَ النَّبِیِّ -ﷺ-انْصَدَعَ فَجَعَلَ مَکَانَ الشِّعْبِ سِلْسِلَۃً مِنْ فِضَّۃٍ۔قَالَ عَاصِمٌ وَرَأَیْتُ الْقَدَحَ وَشَرِبْتُ فِیہِ قَالَ أَبِی وَرَأَیْتُ الْقَدَحَ وَشَرِبْتُ فِیہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۳۱۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٣) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر چاندی کی تار لگا کر جوڑ دیا۔ عاصم کہتے ہیں : میں نے وہ پیالہ دیکھا اور اس میں پیا بھی، میرے والد کہتے ہیں : میں نے وہ پیالہ دیکھا اور اس میں پیا۔

113

Sunan Al Kubra Bayhaqi #113

Sahih

(۱۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَۃَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: انْکَسَرَ۔بَدَلَ: انْصَدَعَ۔أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا وَہْوَ یُوہِمُ أَنْ یَکُونَ النَّبِیُّ -ﷺ-اتَّخَذَ مَکَانَ الشِّعْبِ سِلْسِلَۃً مِنْ فِضَّۃٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۹۴۲]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٤) ابو حمزہ نے اسی مذکورہ حدیث کی مانند ذکر کیا ہے لیکن اِنْصَدَعَ کی جگہ اِنْکَسَرَ کے لفظ ذکر کیے ہیں۔ امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں اسی طرح حدیث بیان کی ہے اور ان کو شبہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹوٹی ہوئی جگہ کو چاندی کی تار سے جوڑا یا نہیں۔

114

Sunan Al Kubra Bayhaqi #114

Sahih

(۱۱۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ:مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخَبْرَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَلِیٍّ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ الْمَرْوَزِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَۃَ وَہُوَ السُّکَّرِیُّ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسٍ:أَنَّ قَدَحَ النَّبِیِّ -ﷺ-انْصَدَعَ فَجَعَلْتُ مَکَانَ الشِّعْبِ سِلْسِلَۃً۔یَعْنِی أَنَّ أَنَسًا جَعَلَ مَکَانَ الشِّعْبِ سِلْسِلَۃً۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی: ہَکَذَا فِی الْحَدِیثِ لاَ أَدْرِی مَنْ قَالَہُ مُوسَی بْنُ ہَارُونَ أَمْ مَنْ فَوْقَہُ۔ [صحیح۔ سبق تخریج فی الذی قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٥) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیالہ ٹوٹ گیا تو میں نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر تار لگا دی، یعنی انس (رض) نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر تار لگا دی۔ (ب) شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ حدیث میں اسی طرح ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ بات موسیٰ بن ہارون نے کی ہے یا ان سے اوپر کسی اور راوی نے۔

115

Sunan Al Kubra Bayhaqi #115

Sahih

(۱۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِکٍ قَالَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ قَالَ: رَأَیْتُ قَدَحَ النَّبِیِّ -ﷺ-عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ -وَکَانَ قَدْ انْصَدَعَ فَسَلْسَلَہُ بِفِضَّۃٍ قَالَ وَہُوَ قَدَحٌ جَیِّدٌ عَرِیضٌ مِنْ نُضَارٍ -قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ سَقَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-فِی ہَذَا الْقَدَحِ أَکْثَرَ مِنْ کَذَا وَکَذَا۔ قَالَ وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ: أَنَّہُ کَانَ فِیہِ حَلْقَۃٌ مِنْ حَدِیدٍ فَأَرَادَ أَنَسٌ أَنْ یَجْعَلَ مَکَانَہَا حَلْقَۃً مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ فَقَالَ لَہُ أَبُو طَلْحَۃَ:لاَ تُغَیِّرَنَّ شَیْئًا صَنَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فَتَرَکَہُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔ [ صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۳۱۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(١١٦) عاصم احول کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک (رض) کے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیالہ دیکھا وہ ٹوٹا ہوا تھا، انھوں نے اس کو چاندی کی تار کے ساتھ جوڑ دیا۔ عاصم کہتے ہیں : وہ پیالہ بہت عمدہ تھا اور خالص جھاؤ کا بنا ہوا تھا، سید نا انس (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پیالے میں اکثر دفعہ پانی پلایا۔ (ب) حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں : اس پیالہ پر لوہے کا کڑا تھا، حضرت انس (رض) نے ارادہ کیا کہ اس کی جگہ سونے یا چاندی کا حلقہ لگا دیں تو ابو طلحہ (رض) نے ان سے کہا : جو کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہے اس کو تبدیل نہ کر اس کو رہنے دے۔