Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 1 · Chapter 172

پاکی کا بیان

مرد و عورت کے پانی (منی) کا بیان جس سے غسل واجب ہوتا ہے۔

2 hadiths in this chapter

796

Sunan Al Kubra Bayhaqi #796

Sahih

(۷۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالاَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَہُمْ أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ حَدَّثَتْ : أَنَّہَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمَرْأَۃِ تَرَی فِی مَنَامِہَا مَا یَرَی الرَّجُلُ فِی مَنَامِہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا رَأَتْ ذَلِکَ الْمَرْأَۃُ فَلْتَغْتَسِلْ))۔ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ وَاسْتَحَیْتُ مِنْ ذَلِکَ : وَہَلْ یَکُونُ ہَذَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَمِنْ أَیْنَ یَکُونُ الشَّبَہُ؟ إِنَّ مَائَ الرَّجُلِ غَلِیظٌ أَبْیَضُ وَمَائَ الْمَرْأَۃِ رَقِیقٌ أَصْفَرُ ، فَمِنْ أَیِّہِمَا عَلاَ أَوْ سَبَقَ یَکُونُ مِنْہُ الشَّبَہُ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْعَبَّاسِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِیدِ النَّرْسِیِّ۔[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٩٧) سیدہ ام سلیم (رض) نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جو اپنی نیند میں مرد کی طرح دیکھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب عورت یہ دیکھے تو وہ غسل کرے “۔ ام سلیم کہتی ہیں : میں نے شرماتے ہوئے پوچھا : کیا یہ بھی ہوتا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو مشابہت کہاں سے ہوتی ہے ؟ آدمی کا پانی سفید گاڑھا اور عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے اور ان دونوں میں سے جو غالب آجائے یا سبقت لے جائے اس سے مشابہت ہوتی ہے “۔

797

Sunan Al Kubra Bayhaqi #797

Sahih

(۷۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی: عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ الدَّیْرَعَاقُولِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو تَوْبَۃَ الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلاَّمٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو أَسْمَائَ الرَّحَبِیُّ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : کُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَجَائَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْیَہُودِ فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مُحَمَّدُ۔ قَالَ: فَدَفَعْتُہُ دَفْعَۃً کَادَ یُصْرَعُ مِنْہَا ، فَقَالَ الْیَہُودِیُّ : لِمَ دَفَعْتَنِی؟ فَقُلْتُ : أَلاَ تَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ الْیَہُودِیُّ : إِنَّمَا نَدْعُوہُ بِاسْمِہِ الَّذِی سَمَّاہُ بِہِ أَہْلُہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ اسْمِی الَّذِی سَمَّانِی بِہِ أَہْلِی مُحَمَّدٌ))۔ قَالَ الْیَہُودِیُّ : جِئْتُ أَسْأَلُکَ عَنْ شَیْئٍ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَیَنْفَعُکَ شَیْئٌ إِنْ حَدَّثْتُکَ؟))۔ قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَیَّ۔ فَنَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِعُودٍ مَعَہُ ثُمَّ قَالَ : ((سَلْ)) ۔ فَقَالَ الْیَہُودِیُّ : أَیْنَ یَکُونُ النَّاسُ یَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَیْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ہُمْ فِی الظُّلْمَۃِ دُونَ الْجِسْرِ))۔ قَالَ: فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَۃً؟ قَالَ : ((فُقَرَائُ الْمُہَاجِرِینَ))۔ قَالَ الْیَہُودِیُّ : فَمَا تُحْفَتُہُمْ حِینَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ؟ قَالَ : ((زِیَادَۃُ کَبِدِ النُّونِ))۔ قَالَ : فَمَا غِذَاؤُہُمْ عَلَی أَثَرِہَا؟ قَالَ : ((یُنْحَرُ لَہُمْ ثَوْرُ الْجَنَّۃَ الَّذِی کَانَ یَأْکُلُ مِنْ أَطْرَافِہَا))۔ قَالَ : فَمَا شَرَابُہُمْ عَلَیْہِ؟ قَالَ : ((مِنْ عَیْنٍ فِیہَا تُسَمَّی سَلْسَبِیلاً))۔ فَقَالَ : صَدَقْتَ۔ قَالَ وَجِئْتُ أَسْأَلُکَ عَنْ شَیْئٍ لاَ یَعْلَمُہُ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ إِلاَّ نَبِیٌّ أَوْ رَجُلٌ أَوْ رَجُلاَنِ۔ قَالَ : ((أَیَنْفَعُکَ إِنْ حَدَّثْتُکَ))۔ قَالَ : أَسْمَعُ بِأُذُنَیَّ۔ قَالَ : جِئْتُ أَسْأَلُکَ عَنِ الْوَلَدِ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَائُ الرَّجُلِ أَبْیَضُ وَمَائُ الْمَرْأَۃِ أَصْفَرُ ، فَإِذَا عَلاَ مَنِیُّ الرَّجُلِ مَنِیَّ الْمَرْأَۃِ أَذْکَرَا بِإِذْنِ اللَّہِ تَعَالَی ، وَإِذَا عَلاَ مَنِیُّ الْمَرْأَۃِ مَنِیَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللَّہِ))۔ فَقَالَ : صَدَقْتَ ، وَإِنَّکَ لَنَبِیٌّ۔ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((لَقَدْ سَأَلَنِی ہَذَا عَنِ الَّذِی سَأَلَنِی وَمَا لِی بِشَیْئٍ مِنْہُ عِلْمٌ حَتَّی أَتَانِی اللَّہُ بِہِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیِّ عَنْ أَبِی تَوْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۳۱۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٧٩٨) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام سیدنا ثوبان (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑا تھا ، ایک یہودی عالم آیا اور کہا : السلام علیکم یا محمد ! راوی کہتا ہے کہ میں نے اس کو زور سے ہٹایا ۔ قریب تھا کہ وہ گر جاتا۔ یہودی نے کہا : تو نے مجھے کیوں ہٹایا ہے ؟ میں نے کہا : تو یا رسول اللہ کیوں نہیں کہتا ؟ یہودی نے کہا : ہم اس کو اسی نام سے پکاریں گے جو نام ان کے گھر والوں نے رکھا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے گھر والوں نے جو میرا نام رکھا ہے وہ محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ہے۔ یہودی نے کہا : میں آپ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر میں تجھ کو کوئی بات بتاؤں تو تجھ کو فائدہ دے گی ؟ اس نے کہا : میں اپنے کانوں سے سنوں گا تو رسول اللہ نے لکڑی کے ساتھ کریدا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھی، پھر فرمایا : ” سوال کر۔ یہودی نے کہا : لوگ (اس وقت) کہاں ہوں گے جب زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پل صراط کے علاوہ اندھیرے میں ہوں گے۔ “ اس نے کہا : کن لوگوں کو سب سے پہلے (جنت جانے کی) اجازت دی جائے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” فقیر مہاجرین کو “۔ یہودی نے کہا : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا تحفہ کیا ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مچھلی کے جگر سے مہمان نوازی۔ اس نے کہا : اس کے بعد ان کی غذا کیا ہوگی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ان کے لیے جنت کا بیل ذبح کیا جائے گا۔ جو اس جنت کے مختلف حصوں میں کھاتا پیتا ہے “۔ اس نے کہا : ان کا پینا کیا ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ایک چشمہ جس کا نام سبیل ہوگا۔ “ اس نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ کہا۔ پھر اس نے کہا اور میں آپ سے ایسی چیز کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں جس کو اہل زمین میں سے کوئی نہیں جانتا، مگر نبی یا ایک یا دو آدمی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر آپ کو کوئی بات بتاؤں کیا آپ کو وہ فائدہ دے گی۔ اس نے کہا : میں اپنے کانوں سے سنوں گا اور کہا : میں آپ سے بچے کے متعلق سوال کرنے کے لیے آیا ہوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” آدمی کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے، جب آدمی کی منی عورت کی منی پر غالب آجاتی ہے تو دونوں اللہ کے حکم سے لڑکا پیدا کرتے ہیں اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آجاتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکی پیدا ہوتی ہے۔ اس نے کہا : آپ نے سچ کہا : بیشک آپ سچے نبی ہیں، پھر وہ واپس چلا گیا ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : البتہ جن چیزوں کے متعلق اس نے مجھ سے سوال کیا میرے پاس اس کا کوئی علم نہیں تھا ، پھر اللہ نے مجھے ان کا علم دے دیا۔