نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَيْفَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ: هِيَ وَمِثْلُهَا، وَالنَّكَالُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلا مَا أَوَاهُ الْمُرَاحُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟، قَالَ: هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلا مَا أَوَاهُ الْجَرِينُ فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ، وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ، قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى فِيمَا يُوجَدُ فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ؟، قَالَ: عَرِّفْهُ سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ، وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهِ فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ، فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَمَا كَانَ فِي الْمِيتَاءِ الْمَسْكُونَةِ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: طَعَامٌ مَأْكُولٌ لَكَ، أَوْ لأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الإِبِلِ؟، قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، وَلا يُخَافُ عَلَيْهَا الذِّئْبَ، تَأْكُلُ الْكَلأَ وَتَرِدُ الْمَاءَ دَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَ طَالِبُهَا " ."
EnglishUnverified translation
Sayyiduna Abdullah bin Amro bin Al-Aas (RA) narrates that a person belonging to the Muzaina tribe came to the service of the Prophet (PBUH) and said: O Messenger of Allah! If someone breaks the rope, what do you say about it? So the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: In this and similar (other things), the hand will not be cut off for stealing an animal. Will there be an order? The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: For stealing something like this, whipping will be done. For stealing a fruit from a tree, hands will not be cut off. Therefore, if the fruit stolen from there is equal to the value of the shield, then the hand will be cut off, but if it is not worth that much, then the hand will not be cut off. Or get something dropped? So what will be the ruling about it? The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: You should keep announcing it throughout the year. If its owner comes, pay it. Otherwise, use it. Whenever its owner comes to you, you shall pay it. If something is found in an uninhabited town or at the end of the road, it is the order to pay one-fifth of the treasure that comes out of it. The person asked: If a lost goat is found, what is your order about it? He said: You will find it, or one of your brothers will find it, or a wolf will find it. Therefore, he was asked about it as his brother's lost thing. The man said: What is your opinion about the lost camel? The Prophet, may God bless him and grant him peace, said: He does not care. Its belly and its feet are with it. It will eat itself and drink water until its owner reaches it.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی: یارسول اللہ! اگر کوئی شخص رسی چرالیتا ہے ‘ تو اس بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس اور اس طرح کی (دوسری چیزوں) میں سزادی جائے گی کسی جانور کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘ البتہ جس جانور کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو اس کو چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کی جتنی ہوگی ‘ اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ اگر اس کی قیمت کم ہوگی تو اس صورت میں تاوان وصول کیا جائے گا اور ساتھ کوڑے لگائے جائیں گے اس شخص نے دریافت کیا: درخت پر لگے ہوئے پھل کو چوری کرنے کا کیا حکم ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس طرح کی چیز کی چوری پر کوڑے لگائے جائیں گے ‘ درخت پر لگے پھل کو چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے اگر پھل کو کسی جگہ سکھانے کے لیے رکھا ہو اور وہاں سے چوری ہو ‘ تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس لیے وہاں سے چرایا گیا پھل اگر ڈھال کی قیمت جتنا ہوگا تو ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ لیکن اگر اتنی قیمت نہ ہوگی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اس نے عرض کی: جو چیز راستے میں یا کسی رہائشی علاقے میں سے چرائی جاتی ہے ‘ تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یا کوئی چیز گری ہوئی ملتی ہے؟ تو اس کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سال بھر اس کا اعلان کرتے رہو ‘ اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اداکردو ‘ ورنہ اسے استعمال کرلو“ اس کا مالک جس وقت بھی تمہارے پاس آئے گا ‘ تم اسے اداکروگے ‘ اگر کوئی چیز غیر آباد بستی میں یا انجام راستے میں سے ملے ‘ اس میں سے نکلنے والے خزانے میں پانچویں حصے کی ادائیگی کا حکم ہے۔ اس شخص نے دریافت کیا: اگر گم شدہ بکری ملتی ہے ‘ تو اسے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ تمہیں ملے گی یا تمہاری کسی بھائی کو ملے گی یابھیڑیے کو مل جائے گی ‘ اس لیے اسے اپنے بھائی کی گم شدہ چیز کے طورپرسنبھالو اس شخص نے عرض کی: گم شدہ اونٹ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کو کوئی پروا نہیں ہے ‘ اس کا پیٹ اور اس کا پاؤں اس کے ساتھ ہے ‘ وہ خود کھالے گا ‘ پانی پی لے گا ‘ یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔