Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 28 · Chapter 14

Horse Racing

Hadith 4471–4484

14 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4471

Sunan al-Daraqutni #4471

Da'if

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ النُّعْمَانِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، فَافْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ بِحُجَّةٍ، وَأَنْفِذِ الْحَقَّ إِذَا وَضَحَ، فَإِنَّهُ لا يَنْفَعُ تَكَلُّمٌ بِحَقٍّ لا نَفَاذَ لَهُ، وَآسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي وَجْهِكَ، وَمَجْلِسِكَ، وَعَدْلِكَ، حَتَّى لا يَيْأَسَ الضَّعِيفُ مِنْ عَدْلِكَ، وَلا يَطْمَعُ الشَّرِيفُ فِي حَيْفِكَ، الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلالا، لا يَمْنَعْكُ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ وَمُرَاجَعَةَ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يَخْتَلِجُ فِي صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ يَبْلُغْكَ فِي الْكِتَابِ أَوِ السُّنَّةِ، اعْرِفِ الأَمْثَالَ وَالأَشْبَاهَ، ثُمَّ قِسِ الأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ فَاعْمَدْ إِلَى أَحَبِّهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ فِيمَا تَرَى، وَاجْعَلْ لِمَنِ ادَّعَى بَيِّنَةً أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ، فَإِنْ أَحْضَرَ بَيِّنَةً أَخَذَ بِحَقِّهِ وَإِلا وَجَّهْتَ الْقَضَاءَ عَلَيْهِ فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْلَى لِلْعَمَى وَأَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ، الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبٌ فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظِنِّينٌ فِي وَلاءٍ، أَوْ قَرَابَةٍ، إِنَّ اللَّهَ تَوَلَّى مِنْكُمُ السَّرَائِرَ وَدَرَأَ عَنْكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، وَإِيَّاكَ وَالْقَلَقَ، وَالضَّجَرَ، وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ، وَالتَّنَكُّرَ لِلْخُصُومِ فِي مَوَاطِنَ الْحَقِّ الَّتِي يُوجِبُ اللَّهُ بِهَا الأَجْرَ وَيُحْسِنُ بِهَا الذُّخْرَ، فَإِنَّهُ مَنْ يُصْلِحُ نِيَّتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ وَلَوْ عَلَى نَفْسِهِ يَكْفِهِ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللَّهُ ذَلِكَ يَشِنْهُ اللَّهُ، فَمَا ظَنُّكَ بِثَوَابِ غَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي عَاجِلِ رِزْقِهِ وَخَزَائِنِ رَحْمَتِهِ، وَالسَّلامُ عَلَيْكَ " ."

EnglishUnverified translation

Abul Malih al-Hazli narrates: Sayyidna Umar bin Al-Khattab (RA) wrote a letter to Sayyidna Musa Ash'ari (RA) in which it was written: (Amaafad!) Qada is a duty that is very important and a method that should be maintained. When the evidence comes before you, if the right is clear, then you enforce it, and it is of no use to speak about a right that cannot be enforced. You sit on an equal level with people. It will be obligatory on him who denies it. It is permissible to make peace between Muslims, except for such a peace that makes the forbidden thing lawful and the lawful thing declared forbidden. It is ``to act with understanding'' to act with understanding' about the thing that you are confused about in your mind' and no ruling from the Book or the Sunnah has reached you about it', so in such a case, put other cases like it in front of you and hypothesize the rulings and give preference to that which is more pleasing to Allah Almighty and is more similar to the truth, according to your opinion. The person who has claimed, if he asks for time to present the evidence, give him time to present the evidence, and if the evidence is presented, give a decision according to his right, if not, then give a decision against that person. This is because this situation has become clear even for a blind person and is more eloquent in terms of excuses. Every Muslim is just. They are related to each other. It is that he bears false witness, or whoever is thought to be (giving false witness) because of his lineage because of his guardianship, then take care of him. This is because Allah is the guardian of the inner things, but the punishment will be removed from you on the basis of evidence. Allah will make the reward obligatory. This thing will become a treasure for you in the hereafter. This is because the person whose intention is right in the matter between Allah and the servant, even if that thing is against the person himself, Allah will protect that person from harm in relation to the people, and whoever is adorned with regard to the people, but Allah's knowledge about it will be different, then Allah will disgrace that person. So you want to get wages from someone else instead of Allah Ta'ala? While Allah Ta'ala also gives immediate sustenance and also gives the treasures of His mercy and peace be upon you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالملیح ہذلی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں یہ تحریر تھا:۔ (امابعد!) قضا ایک ایسا فریضہ ہے جو انتہائی ضروری ہے اور ایک ایسا طریقہ ہے ‘ جسے برقرار رہنا چاہیے تو جب تمہارے سامنے ثبوت آ جائے ‘ حق واضح ہو جائے تو تم اسے نافذکردو اور ایسے حق کے بارے میں کلام کرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا جسے نافذنہ کیا جاسکے تم لوگوں کے ساتھ برابری کی سطح پر بیٹھو ‘ انہیں برابر سمجھو یہاں تک کہ کوئی کمزور شخص تمہاری امیدوانصاف سے ناامید نہ ہو اور کوئی صاحب حیثیت شخص تم سے کسی زیادتی کی امیدنہ رکھے ثبوت پیش کرنا اس شخص پر لازم ہوگا جو دعوی کرتا ہے اور قسم اٹھانا اس پر لازم ہوگا جو اس کا انکار کرتا ہے ‘ مسلمانوں کے درمیان صلح کروادیناجائز ہے ‘ سوائے ایسی صلح کے ‘ جو حرام چیز کو حلال کر دے اور حلال چیزکوحرام قراردیدے اگلے دن فیصلہ کرتے ہوئے یہ چیزتمہارے لیے رکاوٹ نہ بنے کہ تم نے اس کے بارے میں دوبارہ غور و فکر کیا اور تمہیں اس مسئلے کا کوئی نیاحل سمجھ میں آگیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے حق کی طرف رجوع کرنا ہے ‘ حق قدیم ہوتا ہے اور حق کی طرف واپس چلے جانا ‘ باطل کو مسلسل کرتے رہنے سے زیادہ بہتر ہے ‘ سمجھ سے کام لینا سمجھ سے کام لینا ‘ ہراس چیز کے بارے میں جس چیز کے بارے میں تمہارے ذہن میں کھٹکا ہواہو ‘ اور اس بارے میں تم تک کتاب یا سنت کا کوئی حکم نہ پہنچ چکاہو ‘ تو ایسی صورت میں اس کی ماننددوسری صورتوں کو سامنے رکھنا اور احکام کو قیاس کرنا اور اس کو ترجیح دینا ‘ جو اللہ تعالیٰ ٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ محسوس ہو ‘ اور حق سے زیادہ مشابہت رکھتاہو ‘ تمہاری رائے کے مطابق۔ جس شخص نے دعوی کیا ہواہو ‘ اگر وہ ثبوت پیش کرنے کے لیے مہلت مانگے تو اسے ثبوت پیش کرنے کے لیے مہلت دو اور اگر ثبوت پیش ہو جائے تو اس کے حق کے مطابق فیصلہ دو اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس شخص کے خلاف فیصلہ دے دو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صورت حال تونابینا شخص کے لیے بھی واضح ہوگئی ہے اور عذر کے حوالے سے زیادہ بلیغ ہے ہر مسلمان عادل ہے ‘ وہ ایک دوسرے سے متعلق ہیں ‘ البتہ جس شخص کو حد کی سزا کے طورپرکوڑے لگائے گئے ہوں یا جس شخص کے بارے می تجربہ یہ ہو کہ وہ جھوٹی گواہی دیتا ہے ‘ یا جس کے بارے میں یہ گمان ہو کہ وہ ولی ہونے کی وجہ سے یارشتہ داری کی وجہ سے (جھوٹی گواہی دے رہا ہے) تو اس کا خیال رکھنا ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ باطن کی چیزوں کا ولی اللہ تعالیٰ ٰ ہے لیکن ثبوت کی بنیاد پر تم پر سزا کو تم سے دور کیا جائے گا ‘ اور ہاں لوگوں کو پریشان کرنے اور انہیں ستانے سے گریز کرنا اور ایسی جگہ کے بارے میں حق کے حوالے سے مخاصمت سے گریز کرنا ‘ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ٰ اجرکو واجب کر دے گا ‘ یہ چیزتمہارے لیے ذخیرہ آخرت بن جائے گی ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ اور بندے کے درمیان معاملے میں جس شخص کی نیت ٹھیک ہوگی ‘ اگرچہ وہ چیز انسان کے اپنے خلاف کیوں نہ ہو ‘ اللہ تعالیٰ ٰ اس شخص کو لوگوں کے حوالے سے ضررپہنچنے سے محفوظ رکھے گا اور جو لوگوں کے بارے میں آراستہ ہوگا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ ٰ کا اس کے بارے میں علم مختلف ہوگا تو اللہ تعالیٰ ٰ اس شخص کو رسواکر دے گا ‘ تو تم نے اللہ تعالیٰ ٰ کے بجائے کسی دوسرے سے اجرکیوں حاصل کرنا ہے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ ٰ فوری رزق بھی عطاء فرماتا ہے اور اپنے رحمت کے خزانے بھی عطاء فرماتا ہے اور تم پر سلام ہو۔

4472

Sunan al-Daraqutni #4472

نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، نَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، وَأَخْرَجَ الْكِتَابَ، فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ ، ثُمَّ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ مِنْ هَاهُنَا إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، فَافْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ فَإِنَّهُ لا يَنْفَعُ تَكَلُّمٌ بِحَقٍّ لا نَفَاذَ لَهُ، آسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي مَجْلِسِكَ، وَوَجْهِكَ وَعَدْلِكَ، حَتَّى لا يَطْمَعَ شَرِيفٌ فِي حَيْفِكَ، وَلا يَخَافَ ضَعِيفٌ جَوْرَكَ، الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلالا، لا يَمْنَعْكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، وَإِنَّ الْحَقَّ لا يُبْطِلُهُ شَيْءٌ وَمُرَاجَعَةَ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يَخْتَلِجُ عِنْدَ ذَلِكَ فَاعْمَدْ إِلَى أَحَبِّهَا إِلَى اللَّهِ وَأَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ فِيمَا تَرَى وَاجْعَلْ لِلْمُدَّعِي أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ فَإِنْ أَحْضَرَ بَيِّنَةً وَإِلا وَجَّهْتَ عَلَيْهِ الْقَضَاءَ، فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْلَى لِلْعَمَى، وَأَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ، الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَيْنَهُمْ بَعْضُهُمْ، عَلَى بَعْضٍ، إِلا مَجْلُودًا فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبًا فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظَنِينًا فِي وَلاءٍ، أَوْ قَرَابَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ تَوَلَّى مِنْكُمُ السَّرَائِرَ وَدَرَأَ عَنْكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، ثُمَّ إِيَّاكَ وَالضَّجَرَ، وَالْقَلَقَ، وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ، وَالتَّنَكُّرَ لِلْخُصُومِ فِي مَوَاطِنَ الْحَقِّ الَّتِي يُوجِبُ اللَّهُ بِهَا الأَجْرَ وَيُحْسِنُ بِهَا الذِّكْرَ، فَإِنَّهُ مَنْ يُخْلِصُ نِيَّتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ، يَكْفِهِ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللَّهُ ذَلِكَ شَانَهُ اللَّهُ " ."

EnglishUnverified translation

It is narrated about Saeed bin Abu Barda that once he took out a letter of Sayyiduna Umar (RA) and said: This is the letter of Sayyidna Umar (RA) then a narrator named Sufyan read this letter in front of me in which it was written: But later! Justice is a duty that is necessary and a method that should be maintained. You should understand that when a case comes before you, it does not help you to talk about the right. It is necessary to present evidence and the person who refuses will take an oath. It is permissible to make peace between Muslims, except for a peace that makes a forbidden thing lawful or a lawful thing forbidden. Nothing can invalidate and return to the truth. It is better than a person to continue on falsehood which causes confusion in your mind. To try to understand it in relation to that which has not reached you in terms of the Qur'an and the Sunnah. I came, you give time to the person claiming to present his evidence during this time, if he did, then it is fine, otherwise, to decide against him, because now this situation will become more common for the blind person and will be more eloquent regarding the excuse. All Muslims are just. They are related to each other. Allah Ta’ala is the guardian of the inner things, but based on evidence, you will be removed from Samzak and yes, avoiding disturbing people, persecuting them, and avoiding opposition about the truth from such a place. As a result, Allah Ta’ala will make the reward obligatory. This thing will become a treasure for you in the Hereafter. This is because between Allah Ta’ala and a servant whose intention is right, even if that thing is against him, Allah Ta’ala. He will protect him from harm in relation to people, and whoever has good knowledge about people, but his knowledge about Allah will be different. Allah will disgrace that person. So you should get rewards from someone else instead of Allah. This does not happen in the presence of Allah, Allah disgraces this person.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن ابوبردہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط نکالا اور بولے: یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط ہے ‘ پھر سفیان نامی راوی نے اس خط کو میرے سامنے پڑھاجس میں یہ تحریر تھا:۔ امابعد! قضاء ایک ایسافرض ہے جو ضروری ہے اور ایک ایساطریقہ ہے ‘ جسے برقراررہنا چاہیے تم یہ بات سمجھ لو کہ جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ آئے ‘ توای سے حق کے بارے میں کلام کرنا فائدہ نہیں دیتا ‘ جس حق کا نفاذنہ ہوسکے ‘ تم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے ان کی طرف رخ کرتے ہوئے ان سے انصاف کے ساتھ کام لیتے ہوئے اس چیز کا خیال رکھو کہ کوئی صاحب حیثیت شخص تم سے کسی زیادتی کی امیدنہ رکھے اور کسی کمزور شخص کو تم سے کسی ظلم کا اندیشہ نہ ہو ‘ جو شخص دعوی کرتا ہے اس پر ثبوت پیش کرنا لازم ہے اور جو شخص انکار کردیتا ہے وہ قسم اٹھائے گا ‘ مسلمانوں کے درمیان صلح کرواناجائز ہے ‘ ماسوائے ایسی صلح کے جو کسی حرام چیز کو حلال قراردے یا جو کسی حلال چیزکوحرام قراردے گزشتہ دن تم نے جو فیصلہ کیا تھا وہ فیصلہ تمہیں روکے نہیں ‘ جبکہ تم نے اس کے بارے میں غور و فکر کیا ہو ‘ پھر تمہاری درست چیز کی طرف رہنمائی کردی گئی ہو ‘ وہ تمہیں اس بات سے نہ روکے کہ تم حق کی طرف رجوع کرلو ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق قدیم ہے اور حق کو کوئی بھی چیزباطل نہیں کرسکتی اور حق کی طرف لوٹ جانا ‘ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ انسان باطل پر گامزن رہے جو معاملہ تمہارے ذہن میں کھٹک پیداکرے ‘ اس کو سمجھنے کی کوشش کرنا ‘ اس چیز کے حوالے سے جو قرآن اور سنت کے حوالے سے تم تک نہیں پہنچی ہے ‘ اس صورت میں تم اس جیسی دوسری مشابہہ اور ہم مثل صورت کا اندازہ لگانا پھر معاملات کو قیاس کرنا اور اس میں سے جو صورت حال اللہ تعالیٰ ٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو اور حق کے زیادہ قریب ہو ‘ اس کا ارادہ کرلینا جو تمہاری سمجھ میں آئے ‘ تم دعوی کرنے والے شخص کو مہلت دینا کہ اس دوران وہ اپنا ثبوت پیش کر دے ‘ اگر کردیا ‘ توٹھیک ہے ‘ ورنہ اس کے خلاف فیصلہ کردینا کیونکہ اب یہ صورت حال نابینا شخص کے لیے بھی روزن ہو جائے گی اور عذر کے حوالے سے زیادہ بلیغ ہوگی سب مسلمان عادل ہیں ‘ ایک دوسرے سے متعلق ہیں البتہ جس شخص کو حد کی سزا کے طورپرکوڑے لگائے گئے ہوں یا جس شخص کے بارے میں تجربہ یہ ہو کہ وہ جھوٹی گواہی دیتا ہے ‘ تو اس کا خیال رکھنا ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ باطن کی چیزوں کا ولی اللہ تعالیٰ ٰ ہے ‘ لیکن ثبوت کی بنیادپرتم سیمزاکودور کیا جائے گا اور ہاں لوگوں کو پریشان کرنے ‘ ان کو ستانے سے گریز کرنا اور ایسی جگہ سے حق کے بارے میں مخالفت سے گریز کرنا ‘ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ٰ اجر کو واجب کر دے گا ‘ یہ چیزتمہارے لیے ذخیرہ آخرت بن جائے گی ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ اور بندے کے درمیان جس کی نیت ٹھیک ہوگی اگرچہ وہ چیز اس کے اپنے خلاف کیوں نہ ہو ‘ اللہ تعالیٰ ٰ اس پر لوگوں کے حوالے سے ضررپہنچانے سے محفوظ رکھے گا اور جو لوگوں کے بارے میں آراستہ ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ ٰ کے بارے میں اس کا علم مختلف ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ ٰ اس شخص کو رسواکر دے گا ‘ تو تم نے اللہ تعالیٰ ٰ کے بجائے کسی دوسرے سے اجرکیوں حاصل کرنا ہے جس شخص کی اللہ تعالیٰ ٰ کے معاملے میں نیت ٹھیک ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ ٰ اسے ہر معاملے میں محفوظ کرلیتا ہے ‘ اور جو شخص لوگوں کے بارے میں اچھا بنتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ٰ کی بارگاہ میں ایسا نہیں ہوتا ‘ اللہ تعالیٰ ٰ اس شخص کو رسوا کرتا ہے۔

4473

Sunan al-Daraqutni #4473

Da'if

حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُنَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى . ح وثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حَفْصٍ الْخَثَمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، نَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَيَأْتِيكُمْ عَنِّي أَحَادِيثُ مُخْتَلِفَةٌ، فَمَا جَاءَكُمْ مُوَافِقًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَهُوَ مِنِّي، وَمَا جَاءَكُمْ مُخَالِفًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَلِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي " ، صَالِحُ بْنُ مُوسَى، ضَعِيفٌ، لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrates the saying of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that there will come to you traditions that are different from each other, so whoever comes to him with traditions that are in agreement with the Book of Allah, they will be from me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ تم پر ایسی روایات آئیں گی جو ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی تو جس شخص کے پاس کوئی ایسی روایات آئیں جو اللہ تعالیٰ ٰ کی کتاب کے ساتھ موافقت رکھتی ہوں تو وہ میری طرف سے ہوں گی ‘ جس کے پاس ایسی چیز آئے جو میری سنت کی مخالف ہو ‘ تو وہ میری طرف سے نہیں ہوگی۔

4474

Sunan al-Daraqutni #4474

Da'if

نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنِّي بِحَدِيثٍ تَعْرِفُونَهُ وَلا تُنْكِرُونَهُ فَصَدِّقُوا بِهِ، وَمَا تُنْكِرُونَهُ فَكَذِّبُوا بِهِ " ،."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrates this saying of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him): If you are told a hadith about me that you understand, and you do not deny it, then you remain silent and confirm it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اگر تمہیں میرے حوالے سے کوئی حدیث سنائی جائے جو تمہاری سمجھ میں آ جائے ‘ اور تم اس کا انکار نہ کر سکوتوتم اس کی تصدیق کردو ‘ اور جس چیزکاتم انکار کررہے ہو ‘ جو تمہاری سمجھ میں نہ آئے اور تمہیں لگے کہ یہ میرا فرمان نہیں ہوگا (تو تم اس کا انکارکردو)۔

4475

Sunan al-Daraqutni #4475

Da'if

حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَزَادَ فَإِنِّي أَقُولُ مَا يُعْرَفُ وَلا يُنْكَرُ، وَلا أَقُولُ مَا يُنْكَرُ وَلا يُعْرَفُ ."

EnglishUnverified translation

The same hadith is narrated along with another chain of transmission, but it has these words added: The reason for this is that I will say that which is known and which is not "denied" and I will not say that which is "denied" and is not known.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مقتول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں وہی بات کہوں گاجومعروف ہوگی اور جو ”منکر“ نہیں ہوگی میں وہ بات نہیں کہوں گا جو ”منکر“ ہوگی اور معروف نہیں ہوگی۔

4476

Sunan al-Daraqutni #4476

Da'if

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، نَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا تَكُونُ بَعْدِي رُوَاةٌ يَرْوُونَ عَنِّي الْحَدِيثَ، فَاعْرِضُوا حَدِيثَهُمْ عَلَى الْقُرْآنِ، فَمَا وَافَقَ الْقُرْآنَ فَخُذُوا بِهِ، وَمَا لَمْ يُوَافِقِ الْقُرْآنَ فَلا تَأْخُذُوا بِهِ " ، هَذَا وَهْمٌ وَالصَّوَابُ عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، مُرْسَلا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ali bin Abu Talib (RA) narrates that the Prophet (PBUH) said: After me, there will be some people who will narrate traditions about me, so you should present those traditions on the Qur'an and accept those that are in accordance with the Qur'an, and do not accept those that are not in accordance with the Qur'an. (Imam Dar al-Qati says:) The tradition is illusory. The correct one is that it is narrated from the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) as a “Mursal” tradition with reference to Asim, with reference to Imam Zayd, with reference to Imam Zain al-Abidin, may God have mercy on him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: میرے بعد کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو میرے حوالے سے روایات نقل کریں گے تو تم ان روایات کو قرآن پر پیش کرنا اور جو قرآن کے مطابق ہوں گی ‘ ان کو حاصل کرلینا اور جو قرآن کے موافق نہیں ہوں گی ان کو حاصل نہ کرنا۔ (امام دارقطعی کہتے ہیں:) روایت وہم ہے ‘ صحیح یہ ہے کہ عاصم کے حوالے سے ‘ امام زید کے حوالے سے ‘ امام زین العابدین رحمہ اللہ کے حوالے سے ”مرسل“ روایت کے طورپر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے۔

4477

Sunan al-Daraqutni #4477

Da'if

نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، قَالُوا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَنْصُورٍ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ، نَا يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمٍ بِبَغْدَادَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ هَيْثَمٍ الصَّيْرَفِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاقَةٍ، فَقَالَ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نُتِجَتْ هَذِهِ النَّاقَةُ عِنْدِي وَأَقَامَ بَيِّنَةً، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي هِيَ فِي يَدِهِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Jabir (may Allah be pleased with him) narrates that two men came to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) with a case regarding a camel, and one of them said: This camel has given birth to a child with me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی ایک اونٹنی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر حاضر ہوئے دونوں میں سے ایک نے کہا: اس اونٹنی نے میرے ہاں بچے کو جنم دیا ہے ‘ ان میں سے ہر ایک نے ثبوت بھی پیش کردیاتو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے حق میں فیصلہ دیا اس وقت اونٹنی جس شخص کے قبضے میں تھی۔

4478

Sunan al-Daraqutni #4478

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ " ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ."

EnglishUnverified translation

Abu Qais, who is the slave of Sayyiduna Amro bin Al-Aas, narrates: The Prophet, may God bless him and grant him peace, has decreed that when a judge performs ijtihaad while giving a decision and makes a mistake about it, he will receive a reward.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقیس جو سیدنا عمروبن العاص کے غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ سنایا ہے کہ جب کوئی قاضی فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد کرے اور اس بارے میں غلطی کرجائے تو اسے ایک اجرملتا ہے ‘ اور اگر وہ فیصلہ کرتے ہوئے اجتہاد کرے اور درست فیصلہ دے تو اسے دواجرملتے ہیں۔

4479

Sunan al-Daraqutni #4479

حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَقَالَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

EnglishUnverified translation

Another hadith is narrated from the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) on the authority of Sayyidina Abu Huraira (may Allah be pleased with him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک اور روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے۔

4480

Sunan al-Daraqutni #4480

وَنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ، ثُمَّ إِنْ حَكَمَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ» . وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Amro bin Al-Aas (RA) narrates that the Prophet (PBUH) said this: When a judge performs ijtihad while giving a decision and gives a wrong decision, he will be rewarded for it, and if he gives a correct decision while giving a decision, he will be punished.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کوئی قاضی فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد کرے اور غلط فیصلہ دیدے تو اسے اس کا اجرملتا ہے اور اگر وہ فیصلہ دیتے ہوئے صحیح فیصلہ دے تو اس کو دواجرملتے ہیں۔

4481

Sunan al-Daraqutni #4481

وَنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ، ثُمَّ إِنْ حَكَمَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ " ، وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، نَا أَبِي . ح وَنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، نَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مثل قَوْلِ الْقَوَارِيرِيِّ."

EnglishUnverified translation

Yahya bin Muhammad bin Sa'id told us, Muhammad bin Zunbur al-Makki told us, Abdul Aziz bin Abi Hazim told us, from Yazid bin al-Had, from Muhammad bin Ibrahim, from Busr bin Sa'id, from Abu Qais the freed slave of Amr bin al-'As, from Amr bin al-'As, who said: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: "When a judge passes judgment, exerting his effort (in ijtihad), and errs, he has a reward; then if he passes judgment and is correct, he has two rewards." Yazid bin al-Had said: I then narrated this hadith to Abu Bakr bin Muhammad bin Amr bin Hazm, and Abu Bakr said: This is how Abu Salamah narrated to me, from Abu Hurairah. Ibn Sa'id told us, Muhammad bin Abi Abdur Rahman al-Muqri told us, my father told us - and also - Ibn Sa'id told us, Ahmad bin Mansur told us, Abu Abdur Rahman al-Muqri told us, Haywah bin Shuraih told us, Yazid bin al-Had narrated to me, with both chains of transmission, similar to the wording of al-Qawariri.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وَنا یَحْیٰی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَکِّیُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِیمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِي قَیْسٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ، ثُمَّ إِنْ حَکَمَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ"، وَقَالَ یَزِیدُ بْنُ الْهَادِ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: هَکَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ۔ نَا ابْنُ صَاعِدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، نَا أَبِي۔ ح وَنا ابْنُ صَاعِدٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، نَا حَیْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي یَزِیدُ بْنُ الْهَادِ، بِالْإِسْنَادَیْنِ جَمِيعًا مِثْلَ قَوْلِ الْقَوَارِیرِیِّ۔

4482

Sunan al-Daraqutni #4482

نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي كَانَتْ فِي يَدِي أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟، قَالَ: لا، قَالَ: يَمِينُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ وَلا يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلا ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ بِهِ لِيُحَلِّفَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهُ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " ."

EnglishUnverified translation

Al-Qamah Bin Wail narrates this on the authority of his father: A man from Hadramout and a man from Qandah came to the service of the Prophet, may God bless him and grant him peace. Hadrami said: O Messenger of God! This person has taken possession of my land. That land belonged to my father. This person said: That land is mine and I have it. I cultivate it. This person has no right in this land. So he said no! The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) inquired: Then this other party will take an oath. This Hazrami inquired: O Messenger of Allah! It wouldn't care what oath it was taking? Because he does not avoid committing sins. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: This is the situation for you. Then this person took an oath. When he left, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: If he has taken an oath on another person's property for the purpose of consuming it as an act of injustice, then when he appears in the court of Allah, Allah will turn away from him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن وائل اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ”حضرموت“ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور کندہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرمی نے عرض کی: یارسول اللہ! اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے ‘ وہ زمین میرے والد کی تھی اس شخص نے کہا: وہ زمین میرے ہے اور میرے پاس موجود ہے ‘ میں اس میں زراعت کرتا ہوں ‘ اس شخص کا اس زمین میں کوئی حق نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حضرمی سے دریافت کیا: تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے؟ تو اس نے عرض کی کہ نہیں ہے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: پھر یہ دوسرا فریق قسم اٹھائے گا اس حضرمی نے دریافت کیا: یارسول اللہ! یہ اس چیز کی پروا نہیں کرے گا کہ یہ کیا قسم اٹھارہا ہے؟ کیونکہ یہ گناہوں کا ارتکاب کرنے سے بچتا نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے یہی صورت ہے پھر اس شخص نے قسم اٹھائی ‘ جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اس نے دوسرے شخص کے مال کی اس لیے قسم اٹھائی ہے ‘ تاکہ اسے ظلم کے طورپرہڑپ کرے ‘ تو جب یہ اللہ تعالیٰ ٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو اللہ تعالیٰ ٰ اس سے منہ پھیرلے گا۔

4483

Sunan al-Daraqutni #4483

نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً لَمْ يَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ " ،."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (RA) narrates that two men claimed ownership of an animal, neither of them had any evidence, so the Prophet (PBUH) ordered them both to take an oath and take part in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے ایک جانور کی ملکیت کا دعوی کردیا ‘ دونوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ دونوں قسم اٹھاکر اس میں حصہ لیں۔

4484

Sunan al-Daraqutni #4484

نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَزَادَ فِيهِ: أَحَبَّا أَوْ كَرِهَا "."

EnglishUnverified translation

The same hadith is narrated along with another chain of transmission, however, it has these words added: "They both agree or do it in a state of compulsion."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”وہ دونوں راضی ہوں یامجبوری کی حالت میں ایسا کریں۔“