Sunan al-Daraqutni #4410
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي فِيهِ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ، أَنَّهَا لا تُبَاعُ، وَلا تُوهَبُ، وَلا تُورَثُ لِلْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " ."
EnglishUnverified translation
Sayyidna Abdullah bin Umar (RA) narrates that Sayyidna Umar (RA) found a piece of land in Khyber. He came to the Prophet (PBUH) and said, "I have found such a land that no better land has been found before, so what do you order me about it?" The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: If you wish, let that land remain with you and give its fruits in charity. He properly eats from it 'or gives it to a friend' but the condition is that he is not a hoarder.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی ‘ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ بہترین زمین نہیں ملی تو آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم چاہوتو وہ زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کردو راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پھل کو صدقہ کردیا ‘ اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کی جاسکتا ‘ ہبہ نہیں کی جاسکتا ‘ وراثت میں تقسیم نہیں کی جاسکتا ‘ (اس کا پھل) غریبوں ‘ رشتے داروں ‘ غلاموں ‘ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور مسافروں کو ملے گا جو شخص اس کا نگران ہوگا اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طورپر اس میں سے کھالیتا ہے ‘ یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے ‘ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔