Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 27 · Chapter 11

Beverages

بَقِيَّةُ الْفَرَائِضِوراثت کے بارے میں چند دیگر روایات

3 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4210

Sunan al-Daraqutni #4210

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُلُّ قَوْمٍ يَتَوَارَثُونَ، إِلا مَنْ عَمِّي مَوْتُ بَعْضِهِمْ قَبْلَ بَعْضٍ فِي هَدْمٍ، أَوْ حَرْقٍ، أَوْ قِتَالٍ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ وُجُوهِ الْمُتَآلَفِ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لا يَرِثُ بَعْضًا، وَلَكِنْ يُورَثُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ، يَرِثُهُ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ مِنَ الأَحْيَاءِ، كَأَنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَنْ عَمَّى مَوْتُهُ مَعَهُ قَرَابَةٌ " ."

EnglishUnverified translation

Al-Khajri bin Zayd narrates this statement of his father (Zayd bin Thabit, may God be pleased with him): Earlier, people of every nation used to become heirs to each other, except when a person died blind due to the collapse of a house or a fire, or a war or any other reason.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خارجہ بن زید اپنے والد (زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: پہلے ہر قوم کے لوگ ایک دوسرے کے وارث بن جایا کرتے تھے ماسوائے اس صورت کے کہ جب کوئی شخص کوئی مکان گرنے یا جل جانے یا جنگ یا کسی اور وجہ سے اندھی موت مرجاتاتوان لوگوں کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا جاتا تھا ‘ البتہ زندہ لوگوں میں سے ان امہرقریبی عزیز ان کا وارث بنا کرتا تھا یوں لگتا تھا جی سے اس شخص کے اور اندھی موت مرجانے والے شخص کے درمیان کوئی رشتے داری نہیں ہے۔

4211

Sunan al-Daraqutni #4211

نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لأَخِي شُرَيْحِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَدَتْ لَهُ جَارِيَةً فَزُوِّجَتْ فَوَلَدَتْ غُلامًا، ثُمَّ تُوُفِّيَتْ أُمُّ الْوَلَدِ، قَالَ: فَاخْتَصَمَ فِي مِيرَاثِهَا شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ، وَابْنُ ابْنَتِهَا إِلَى شُرَيْحٍ، فَجَعَلَ شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ، يَقُولُ لِشُرَيْحٍ: إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِيرَاثٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ ابْنُ ابْنَتِهَا، قَالَ: فَقَضَى شُرَيْحٌ بِمِيرَاثِهَا لابْنِ ابْنَتِهَا، وَقَالَ: وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ سورة الأنفال آية 75، فركب ميسرة بن يزيد إلى ابن الزبير فأخبره بالذي كان من شريح، فكتب ابن الزبير إلى شريح إن ميسرة بن يزيد ذكر لِي كَذَا وَكَذَا وَإِنَّكَ قُلْتَ عِنْدَ ذَلِكَ وَأُولُو الأَرْحَامِ بعضهم أولى ببعض في كتاب الله، وإنما كانت تلك الآية في شأن العصبة كان الرجل يعاقد الرجل، فيقول ترثني وأرثك فلما نزلت ترك ذاك، فجاء ميسرة بن يزيد بالكتاب إلى شريح، فلما قَرَأَهُ أَبَى أَنْ يَرُدَّ قَضَاءَهُ، وَقَالَ: فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَعْتَقَهَا خَبَايَتِ بَطْنِهَا " ."

EnglishUnverified translation

Isa bin Harith narrates that the brother of Shareeh bin Harith had a mother-son, she gave birth to a girl, then the girl got married, she gave birth to a boy, then the mother died. It is not, because this woman is Kanwasa. So Maysara bin Yazid rode to Sayyidna Abdullah bin Zubair and told him about what Qazi Shareeh had given a decision. Sayyidna Abdullah bin Zubair wrote a letter to Qazi Shareeh, 'Maysara bin Yazeed has mentioned to me that you recited this verse in such a situation: "Relationships inherit each other in the book of Allah" This verse is about relatives and belongs to the time when people used to make an agreement with each other (i.e. they used to say: they used to become brothers) the man used to say: you become my heir and I will become your heir' When this verse was revealed, this practice was abandoned. Then Maysara bin Yazid came to Qazi Shareeh with that letter. After reading it, he refused to withdraw his decision and said: This man freed this mother in her womb (because of the child).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ شریح بن حارث کے بھائی کی ایک ام ولد تھی ‘ اس نے ایک بچی کو جنم دیا ‘ پھر اس بچی کی شادی ہوگئی ‘ اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا پھر وہ ام ولد فوت ہوگئی راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کی وراثت کے بارے میں شریح بن حارث اور اس ام ولد کے نواسے نے اختلاف کیا ‘ وہ اپنا مقدمہ لے کر قاضی شریح کے پاس گئے شریح بن حارث نے قاضی شریح سے کہا: کہ اللہ کی کتاب میں اس لڑکے کی کوئی وراثت نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ اس عورت کانواسہ ہے راوی بیان کرتے ہیں: توقاضی شریح نے اس عورت کی وراثت اس نواسے کو دینے کا حکم دیا اور بولے: (ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے:) ”نسبی رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے (وارث بنتے ہیں)۔“ تو میسرہ بن یزید سوار ہو کر سیدنا عبداللہ بن زبیر کے پاس گئے اور انہیں اس بارے میں بتایا جو قاضی شریح نے فیصلہ دیا تھا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر نے قاضی شریح کو ایک خط لکھا ‘ میسرہ بن یزید نے میرے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ تم نے ایسی صورت حال میں یہ آیت پڑھی ہے:۔ ”نسبی رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں“ یہ آیت عصبہ رشتے داروں کے بارے میں ہے اور اس زمانے سے تعلق رکھتی ہے کہ جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کرلیتے تھے (یعنی منہ بولے: بھائی بن جایا کرتے تھے) آدمی کہتا تھا: تم میرے وارث بن جانا اور میں تمہاراوارث بن جاؤں گا ‘ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس طرز عمل کو ترک کردیا گیا۔ پھر میسرہ بن یزید وہ خط لے کر قاضی شریح کے پاس آئے انہوں نے اسے پڑھنے کے بعد اپنا فیصلہ واپس لینے سے انکار کردیا اور بولے: اس شخص نے اس ام ولد کو اس کے پیٹ میں موجود (بچے کی وجہ سے آزاد کیا تھا)۔

4212

Sunan al-Daraqutni #4212

نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لا يَرِثُ الْقَاتِلُ خَطَأً وَلا عَمْدًا " ."

EnglishUnverified translation

Imam al-Shaabi narrates: Sayyiduna Umar (may Allah be pleased with him) said: A person who kills by mistake or on purpose does not become an heir (to the slain), Allah knows best.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا ہے: خطاء کے طورپر یاعمد کے طورپر قتل کرنے والا شخص (مقتول کا) وارث نہیں بنتا ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔