كَتَبَ إِلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ ??ُوسُفَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ تُوجَدُ فِي الأَرْضِ الْمَسْكُونَةِ وَالسَّبِيلِ الْمِيتَاءِ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَهِيَ لَكَ، وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ تُوجَدُ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ، فَقَالَ: فِيهَا وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: إِنَّهَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ، فَقَالَ: دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ حَرِيسَةِ الْجَبَلِ، قَالَ: يُضْرَبُ ضَرَبَاتٍ وَيُضَعَّفُ عَلَيْهِ الْغُرْمُ، وَقَالَ: إِذَا كَانَ مِنَ الْمِرَاحِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ وَهُوَ الدِّينَارُ فَفِيهِ الْقَطْعُ، فَإِذَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ ضُرِبَ ضَرَبَاتٍ وَأُضْعِفَ عَلَيْهِ الْغُرْمُ، وَسُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ فِي أَكْمَامِهَا، قَالَ: يُضْرَبُ ضَرَبَاتٍ وَيُضَعَّفُ عَلَيْهِ الْغُرْمُ، قَالَ: فَإِذَا كَانَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ وَهُوَ الدِّينَارُ فَفِيهِ الْقَطْعُ، فَإِذَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ ضُرِبَ ضَرَبَاتٍ وَأُضْعِفَ عَلَيْهِ الْغُرْمُ " ."
EnglishUnverified translation
Amr bin Shuaib narrates the statement of his grandfather regarding his father: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was asked about something that is found in a residential area or a common passage, and he said: "You should announce it for a year, if its owner comes, then it is fine, otherwise it will be yours." Al-Mal) is required to be paid. The narrator narrates) The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was asked about the lost goat, and he said: Catch it because either you will find it or one of your brothers will find it or the wolf will find it. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was asked about the lost camel, and he (peace and blessings of Allah be upon him) said: Leave it alone, its feet and its belly are with it, it will reach water by itself and eat (leaves of) trees. (The narrator says) The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was asked about the one who stole from the mountain, and he said, “Let him be beaten well, and he shall be punished twice.” He said: If dates are stolen from a drying place, and the value of the stolen goods is equal to a shield, then the hand will be cut off, and if it is less than that, then (the thief) will be beaten and he will be charged.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کسی رہائشی جگہ یا عام گزرگاہ سے ملتی ہے تو آپ نے فرمایا تم ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ تمہاری ہوگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا جو دشمن کی سرزمین سے ملتی ہے تو آپ نے فرمایا اس میں اور رکاز میں سے پانچویں حصے کی (بیت المال) کو ادائیگی لازم ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم اسے پکڑو کیونکہ وہ یا تو تمہیں ملیں گی یا تمہارے کسی بھائی کو مل جائے گی یاپھربھیڑیے کو ملے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس کے پاؤں اور اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہیں وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخٹ (کے پتے) کھالے گا۔ (روای کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہاڑ سے چوری کرنے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کی اچھی طرح پٹائی کی جائے اور اس سے دگناتاوان لیا جائے اگر مویشیوں کی حفاظت کی جگہ سے جانور چرایا گیا ہے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت جتنی یعنی ایک دینار ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، آپ سے شگوفے میں سے پھل چوری کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اسی چور کی پٹائی کی جائے گی اور اس سے دگناتاوان وصول کیا جائے گا، آپ نے فرمایا: اگر کھجوریں خشک کرنے کی جگہ سے چوری کی جائے، اور چوری شدہ سامان کی قیمت ڈھال جتنی ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر اس سے کم ہو تو (چور کی) پٹائی کی جائے گی اور اس سے دگناتاوان وصول کیا جائے گا۔