نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ . ح وثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، نَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، جَمِيعًا عَنْ حَجَّاجٍ . ح وثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ طَيْفُورٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا الْهَرَوِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ، نَا الْحِمَّانِيُّ ، نَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ مِثْلَهُ . وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَاخْتَلَفَ عَنْهُ فَرَوَاهُ عَنْهُ سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ بِمُوَافَقَةِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، وَعَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، وَخَالَفَهُ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، فَرَوَاهُ عَنْهُ بِمُوَافَقَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرِ وَمَنْ تَابَعَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ دِيَةَ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا، لَمْ يُفَسِّرْهَا فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ عَنِ الْحَجَّاجِ كَمَا تَرَى، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الصَّحِيحُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ دِيَةَ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا كَمَا رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصٌ، وَأَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، وَأَبُو خَالِدٍ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فِي رِوَايَةِ أَبِي هِشَامٍ عَنْهُ، لَيْسَ فِيهِ تَفْسِيرُ الأَخْمَاسِ لاتِّفَاقِهِمْ عَلَى ذَلِكَ وَكَثْرَةِ عَدَدِهِمْ، وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ . وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْحَجَّاجُ رُبَّمَا كَانَ يُفَسِّرُ الأَخْمَاسَ بِرَأْيِهِ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَتَوَهَّمُ السَّامِعُ أَنَّ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ ذَلِكَ فِيهِ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ كَلامِ الْحَجَّاجِ، وَيُقَوِّي هَذَا أَيْضًا اخْتِلافُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَبْدِ الرَّحِيمِ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيِّ عَنْهُ فِيمَا ذَكَرْنَا فِي أَحَادِيثِهِمْ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأُمَوِيَّ حَفِظَ عَنْهُ: عِشْرِينَ بَنِي لَبُونٍ مَكَانَ الْحِقَاقِ، وَأَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ وَعَبْدَ الرَّحِيمِ حَفِظَا عَنْهُ: عِشْرِينَ حِقَّةً مَكَانَ بَنِي لَبُونٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَوَجْهٌ آخَرُ وَهُوَ: أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ أَقَاوِيلُ مُخْتَلِفَةٌ، لا نَعْلَمُ رُوِيَ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ فِي ذَلِكَ ذِكْرُ بَنِي مَخَاضٍ إِلا فِي حَدِيثِ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ هَذَا، فَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَوَى إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ ثَلاثِينَ حِقَّةً، وَثَلاثِينَ جَذَعَةً، وَعِشْرِينَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ . وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ، ثَلاثُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَثَلاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَثَلاثُونَ حِقَّةً، وَعَشْرٌ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ " ، ."
EnglishUnverified translation
Muhammad bin Qasim Zakariya has narrated this tradition on the authority of Hisham bin Yunus, on the authority of Abu Malik Junbi. All these gentlemen have narrated this hadith regarding Hajj. Ismail bin Muhammad Safar has narrated this tradition from Hajjaj on the authority of Saadan bin Nasr on the authority of Abu Muawiya. Abu Bakr Nishapuri has narrated it on the authority of Abu Muawiya on the authority of Muhammad bin Yazid Tafur. Ahmad bin Najda has narrated a tradition similar to that of Hafs on the authority of Hamani and Abu Muawiya on the authority of him. This hadith has been narrated by Yahya bin Zakariya bin Abu Zayda with reference to Hajjaj, then there has been a dispute with him regarding the copying. Sirih bin Yunus adapted Abd al-Rahim and Abd al-Wahid bin Ziyad. Abu Hisham Rifa'i has narrated a different tradition from this. He has narrated it in agreement with Abu Mu'awiyah Zarir and those who follow him, that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) has prescribed the Dayat (payment of camels) in five parts. As you have seen, there is a difference in this narration regarding the Hajjaj, as you have seen, so there may be a possibility that it is authentically proven from the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) that the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) prescribed the payment of camels in the day of killing a sin) in five categories, as Abu Muawiya, Hafs, Abu Malik Junbi, Abu Khalid, Ibn Abi Zaida in the narration narrated by Abu Hisham mentioned these five. The description of the types has not been copied, it is agreed upon by all these gentlemen, their number is also high and all of them are trustworthy. Here is also a possibility: the narrator named Hajjaj sometimes explains the five types as his opinion after narrating the hadith of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), which gives the listener the illusion that this may also be a part of the hadith of the Prophet, even though those words are not part of the hadith, but are the words of Hajjaj. This possibility is strengthened by the fact that Abdul Wahid bin Ziyad, Abdul Rahim and Yahya bin Saeed Umayyad have disagreed in quoting traditions regarding him, as we have already mentioned the traditions of these gentlemen, that Yahya bin Saeed Umayyad has mentioned twenty Banulbon instead of Bes, Haqqa, while Abdul Wahid and Abdul Rahim have quoted the words of Beis Haqq instead of Banulbon, Allah knows best. One aspect of it is this: Various sayings have been narrated about a group of Companions belonging to the Muhajireen Ansar of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) regarding the issue of the deed of murder, and according to our knowledge, none of them mention Binumkhadh in this tradition. As far as the hadith transmitted from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) is concerned, it was narrated by Ishaq bin Yahya bin Waleed bin Ubadah on the authority of Sayyidina Ubadah bin Samit (may God be pleased with him) from the Prophet (peace be upon him). This hadith is transmitted by Ishaq bin Yahya. He has not heard the hadiths from Sayyidna Ubadah bin Samit. Amr bin Shoaib narrates this statement of his grandfather regarding his father: The Prophet, may God bless him and grant him peace, said, "Whoever is killed for committing a crime, his death will be one hundred camels, of which thirty will be female, thirty will be male, thirty will be right, and ten will be male.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
محمد بن قاسم زکریا نے ہشام بن یونس کے حوالے سے، ابومالک جنبی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے محمد بن قاسم بن زکریا نے ابوسعید اشج کے حوالے سے ابوخالد احمر کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ان سب حضرات نے حجاج کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اسماعیل بن محمد صفار نے سعدان بن نصر کے حوالے سے ابومعاویہ کے حوالے سے حجاج سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ ابوبکر نیشاپوری نے محمد بن یزید طیفور کے حوالے سے ابومعاویہ کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔ أحمد بن نجدہ نے حمانی کے حوالے سے حفص اور ابومعاویہ کے حوالے س ے اس کی مانند روایت نقل کی ہے۔ اس روایت کو یحییٰ بن زکریابن ابوزائدہ نے حجاج کے حوالے سے نقل کیا ہے پھر ان سے نقل کرنے کے حوالے سے اختلاف کیا گیا ہے۔ سریح بن یونس نے عبدالرحیم اور عبدالواحد بن زیاد کی موافقت کی ہے۔ ابوہشام رفاعی نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے انہوں نے اسے ابومعاویہ ضریر اور ان کی متابعت کرنے والوں کی موافقت میں نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتل خطاء کی دیت (میں اونٹوں کی ادائیگی) پانچ حصوں میں مقرر کی ہے ان حضرات نے اپنی روایت میں اس کی وضاحت نقل نہیں کی۔ توحجاج کے حوالے سے نقل کرنے میں اس روایت میں اختلاف ہوا ہے جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے لہٰذایہاں یہ امکان ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مستند طور پر یہ بات ثابت ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتل خطاء کی دیت میں اونٹوں کی ادائیگی) پانچ اقسام میں مقرر کی ہے، جیسا کہ ابومعاویہ، حفص، ابومالک جنبی، ابوخالد، ابن ابی زائدہ نے ابوہشام کی ان کے حوالے سے نقل کردہ روایت میں ان پانچ اقسام کی وضاحت نقل نہیں کی ہے، ان سب حضرات پر اس پر اتفاق ہے، ان کی تعداد بھی زیادہ ہے اور یہ سب ثقہ بھی ہیں۔ یہاں یہ امکان بھی ہوسکتا ہے: حجاج نامی راوی بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرنے کے بعد اپنی رائے کے طور پر ان پانچ اقسام کی وضاحت کرتے ہوں جس کے نتیجہ میں سننے والے کو یہ وہم ہوا کہ شاید یہ بھی حدیث نبوی کا حصہ ہے حالانکہ وہ الفاظ حدیث کا حصہ نہ ہوں بلکہ وہ حجاج کا کلام ہوں۔ اس احتمال کو اس بات سے تقویت حاصل ہوتی ہے، عبدالواحد بن زیاد، عبدالرحیم اور یحییٰ بن سعید اموی نے ان کے حوالے سے روایت نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے جیسا کہ ان حضرات کی روایات کو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں، کہ یحییٰ بن سعید اموی نے ان کے حوالے سے بیس، حقہ، کی جگہ بیس بنولبون کا ذکر کیا ہے جبکہ عبدالواحد اور عبدالرحیم نے بنولبون کی جگہ بیس حق کے الفاظ نقل کیے ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین انصار سے تعلق رکھنے والی صحابہ کرام کی ایک جماعت کے بارے میں قتل خطا کی دیت کے مسئلے میں مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں، اور ہمارے علم کے مطابق ان میں سے کسی ایک کے حوالے سے بھی اس میں بنومخاض کا ذکر نہیں ہے ان کا تذکرہ خشف بن مالک کی اس روایت میں ہے۔ جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول روایت کا تعلق ہے تو اسے اسحاق بن یحییٰ بن ولید بن عبادہ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے قتل خطا کی دیت میں تیس حقہ ہوں گے تیس جذعہ ہوں گے بیس بنالبون ہوں گی اور بیس نربنولبون ہوں گے۔ یہ حدیث مرسل ہے اسحق بن یحییٰ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا ہے عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو قتل خطا کے طور پر قتل کیا جائے اس کی دیت ایک سو اونٹ ہوگی، جن میں تیس بنات مخاض ہوں گی تیس بنالبون ہوں گی تیس حقے ہوں اور دس نربنولبون ہوں گے۔