Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 15 · Chapter 8

Marriage

Hadith 3327–3366

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3327

Sunan al-Daraqutni #3327

Sahih

نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، نَا زَائِدَةُ ، نَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا رَبَّكُمْ، وَاضْرِبُوا أَرِقَّاءَكُمْ إِذَا زَنَوْا، مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ، فَإِنَّ وَلِيدَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغَتْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَهَا، فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِالنِّفَاسِ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ إِنْ أَنَا ضُرِبْتُهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي خَشِيتُ أَنَّهَا تَمُوتُ إِنْ أَنَا ضُرِبْتُهَا، فَأَدَعُهَا حَتَّى تَبَرَّأَ ثُمَّ أَضْرِبُهَا؟، قَالَ: أَحْسَنْتَ " ،."

EnglishUnverified translation

Abu Abd al-Rahman narrates: Sayyiduna Ali, may Allah be pleased with him, said while giving a sermon: O people! Fear Allah, and if your slaves or maidservants commit adultery, flog them, whether they are free or not, because a slave girl of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) committed this crime, and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered me to flog her. If I flog her, she will die. I returned to the service of the Holy Prophet (Sallallahu Alaihi Wasallam) and mentioned this to him. I said: O Prophet of Allah, if I beat her, I am afraid she will die.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! اللہ سے ڈرو، اور تمہارے غلام یاکنیزیں اگر زنا کا ارتکاب کریں تو ان کو (کوڑے) مارو خواہ وہ محصن ہوں یامحصن نہ ہوں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک کنیز نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا میں اسے کوڑے ماروں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کنیز کے پاس آیاتو اس کے نفاس (یعنی بچے کو جنم دینے) کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا، مجھے یہ اندیشہ ہوا اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو وہ مرجائے گی میں واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی اگر میں نے اسے ماراتو مجھے اندیشہ ہے وہ مرجائے گی میں اسے رہنے دیا جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوجاتی پھرا سے کوڑے ماروں گا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔

3328

Sunan al-Daraqutni #3328

Sahih

نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: فَوَدَعْتُهَا حَتَّى تَمَاثَلَ وَتَشْتَدَّ.

EnglishUnverified translation

Abu Abd al-Rahman narrates: I heard Sayyiduna Ali (may Allah be pleased with him) making a similar mention of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) but it contained these words, so I left the slave girl until she was cured and recovered.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند ذکر کرتے ہوئے سنا ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں تو میں نے اس کنیز کو چھوڑ دیا جب تک وہ ٹھیک اور صحت یاب نہیں ہوجاتی۔

3329

Sunan al-Daraqutni #3329

نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ أَوْ بِضَفِيرٍ مِنْ شَعَرٍ " ، ."

EnglishUnverified translation

Sayyidina Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrates: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: When a man's slave girl commits adultery, a man should flog her and verbally call her a brana. (Here the narrator is in doubt as to which word has been used for rope, habul, yazfir).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے تو آدمی اسے کوڑے لگائے زبانی طور پر برانہ کہے اگر وہ دوبارہ اس جرم کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے لگائے زبانی طور پر برا نہ کہے، اگر وہ پھر اس جرم کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے لگائے زبانی طور پر برانہ کہے، اگر وہ چوتھی مرتبہ ایساکرے تو اسے فروخت کر دے خواہ (جانور) کے بالوں سے بنی رسی کے عوض کر دے، (یہاں راوی کو شک ہے رسی کے لیے کون سالفظ استعمال ہوا ہے، حبل، یاضفیر)۔

3330

Sunan al-Daraqutni #3330

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا أَبِي ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .

EnglishUnverified translation

This tradition is narrated along with another document.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

3331

Sunan al-Daraqutni #3331

نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ وَ عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ وَ عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ الْمَيْمُونِيُّ ، قَالُوا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، لَمْ يَقُولُوا: عَنْ أَبِيهِ .

EnglishUnverified translation

The same tradition is also narrated along with another document, but in it he did not state that he had narrated this tradition with reference to his father.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقو ل ہے تاہم اس میں انہوں نے یہ بیان نہیں دیا کہ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔

3332

Sunan al-Daraqutni #3332

نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .

EnglishUnverified translation

This tradition is narrated along with another document.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

3333

Sunan al-Daraqutni #3333

نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

This tradition is narrated along with another document.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

3334

Sunan al-Daraqutni #3334

نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَبُو الْأَزْهَرِ، نا يَعْقُوبُ، نا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَضْرِبْهَا بِكِتَابِ اللَّهِ لَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا، ثُمَّ إِنْ عَادَتْ فَمِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِنْ عَادَتْ فَمِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِنْ عَادَتْ فَمِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِنْ عَادَتِ الرَّابِعَةَ فَلْيَضْرِبْهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ثُمَّ لِيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ»  .

EnglishUnverified translation

Narrated by Sayyiduna Abu Hurairah, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “When a man’s maid commits adultery, he should flog her according to the command of the Book of Allah and verbally call her ‘Branah’. If she does it again, then do the same thing again. Sell it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے تو وہ شخص اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق اسے (کوڑے) مارے زبانی طور پر برانہ کہے اگر وہ دوبارہ ایساکرے تو پھر ایسا ہی کرے، اگر وہ پھر ایسا کرے تو وہ شخص بھی ایسا کرے اگر وہ کینز چوتھی مرتبہ ایسا کرے تو وہ شخص اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق اسے کوڑے مارے اور پھرا سے فروخت کر دے خواہ بالوں سے بنی ہوئی رسی کے عوض میں فروخت کرے۔

3335

Sunan al-Daraqutni #3335

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

This tradition is also narrated along with another document.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔۔

3336

Sunan al-Daraqutni #3336

نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَابْنُ سَمْعَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا، حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: ثُمَّ لِيَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ مِنْ شَعَرٍ، وَالضَّفِيرُ هُوَ الْحَبْلُ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (RA) narrated that the Prophet (PBUH) said, “When a man’s slave-girl commits adultery and is found guilty of adultery, that person should flog her as a limit, but verbally call her ‘Branah’ (the narrator says). The word used in this hadith, Zafir, refers to a rope.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے اور اس کا زناثابت ہو جائے تو وہ شخص اس کنیز کو حد کے طور پر کوڑے مارے لیکن زبانی طور پر برانہ کہے (راوی کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر تیسری مرتبہ یا شاید چوتھی مرتبہ ارشاد فرمایا پھر وہ اسے فروخت کر دے خواہ بالوں سے بنی ہوئی رسی کے عوض میں فروخت کرے۔ اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ، ضفیر، سے مراد رسی ہے۔

3337

Sunan al-Daraqutni #3337

نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُونُسُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: وَلَوْ بِنَقِيضٍ مِنْ شَعَرٍ " ."

EnglishUnverified translation

The same hadith is narrated along with another chain of transmission, however, it contains these words: Walubanqid min shayar, (here the meaning of naqid is also rope).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ولوبنقیض من شعر، (یہاں نقیض کا مطلب بھی رسی ہے)۔

3338

Sunan al-Daraqutni #3338

Da'if

نَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ نَذِيرٍ أَبُو الْفَضْلِ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعَةٌ لَيْسَ بَيْنَهُمْ لِعَانٌ، لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالأَمَةِ لِعَانٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْعَبْدِ لِعَانٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِيَّةِ لِعَانٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ لِعَانٌ " ، عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ الْوَقَّاصِيُّ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ."

EnglishUnverified translation

Amr ibn Shuaib, on the authority of his father, narrates this statement of his grandfather: The Prophet, may God bless him and grant him peace, said, “There shall be no cursing between four types of people: a free man, (husband) and a slave girl (there shall be no cursing between the wife and husband), a free woman (wife) and a slave (there shall be no cursing between the husband), a Muslim (husband) and a Jew (wife), and there shall be no cursing between a Muslim (husband) and a Christian (wife). A narrator named Uthman bin Abd al-Rahman is a Waqasi and hadiths are obsolete.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے چار طرح کے لوگوں کے درمیان لعان نہیں ہوگا، آزاد مرد، (شوہر ہو) اور کنیز (بیوی ہوتوان کے درمیان لعان نہیں ہوگا،) آزاد عورت (بیوی ہو) اور غلام (شوہر ہوتوان کے درمیان لعان نہیں ہوگا) مسلمان (شوہر) اور یہودی (بیوی) مسلمان (شوہر) اور عیسائی (بیوی) کے درمیان بھی لعان نہیں ہوگا۔ عثمان بن عبدالرحمن نامی راوی وقاصی ہیں اور متروک الحدیث ہیں۔

3339

Sunan al-Daraqutni #3339

Da'if

نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قُتَيْبَةَ الرَّمْلِيُّ ، نَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لا مُلاعَنَةَ بَيْنَهُمُ: النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ " ، وَهَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ جِدًّا، وَتَابَعَهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا، وَرُوِيَ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، وَابْنِ جُرَيْجٍ وَهُمَا إِمَامَانِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَوْلَهُ، وَلَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."

EnglishUnverified translation

Amr ibn Shuaib narrates this statement of his grandfather on the authority of his father: The Prophet, peace and blessings be upon him, said, “There shall be no cursing between four types of women (and their husbands): a Christian woman who is the wife of a Muslim, a Jewish woman who is the wife of a Muslim, a slave girl who is the wife of a free man, and a free woman who is the wife of a slave. There are Khorasanis named Uthman bin Ata and they are very weak. The narrator named Yazid bin Bazi Ramli has quoted it with reference to Ata, but they are also weak. This hadith has been narrated on the authority of Imam Uza'i and Ibn Juraj on the authority of Amr bin Shuaib on the authority of his father on the authority of his grandfather on the authority of his grandfather.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار طرح کی خواتین (اور ان کے شوہروں کے درمیان) لعان نہیں ہوگا، وہ عیسائی عورت جو مسلمان کی بیوی ہو وہ یہودی عورت جو مسلمان کی بیوی ہو، وہ کنیز جو کسی آزاد شخص کی بیوی ہو وہ آزاد عوت جو کسی غلام کی بیوی ہو۔ عثمان بن عطاء نامی خراسانی ہیں اور یہ بہت زیادہ ضعیف ہیں یزید بن بزیع رملی نامی راوی نے اسے عطاء کے حوالے سے نقل کیا ہے تاہم یہ بھی ضعیف ہیں۔ یہ روایت امام اوزاعی اور ابن جریج کے حوالے سے عمرو بن شعیب کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کی گئی ہے یہ دونوں حضرات امام ہیں اور ان دونوں نے یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے۔

3340

Sunan al-Daraqutni #3340

Da'if

نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّبَرِيُّ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْكِسَائِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَالأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أَرْبَعٌ لَيْسَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ لِعَانٌ: الْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَالأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ " ،."

EnglishUnverified translation

Amr ibn Shuaib narrates this statement of his grandfather, regarding his father: The Prophet, may God bless him and grant him peace, said: (and quoted it as his own saying: he did not quote it as a hadith). It is narrated along with another chain of transmission: Sayyiduna Abdullah bin Amr (may God be pleased with him) says: There will be no curse between such women and their husbands: a Jewish woman who is the wife of a Muslim, a Christian woman who is the wife of a Muslim, a free woman who is the wife of a slave, and a woman who is the wife of a free person.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اور ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کیا ہے: انہوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا)۔ ایک اور سند کے ہمراہ یہ منقول ہے: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: طار طرح کی خواتین اور ان کے شوہروں کے درمیان لعان نہیں ہوگا، وہ یہودی عورت جو کسی مسلمان کی بیوی ہو وہ عیسائی عورت جو کسی مسلمان کی بیوی ہو اور وہ آزاد عورت جو کسی غلام کی بیوی ہو اور وہ کینز جو کسی آزاد شخص کی بیوی ہو۔

3341

Sunan al-Daraqutni #3341

Da'if

نَا الرَّهَاوِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ ، نَا أَبِي ، نَا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَتَّابَ بْنَ أَسَدٍ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ . حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو، وَعَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ، وَزَيْدُ بْنُ رُفَيْعٍ ضُعَفَاءُ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Shuaib narrates this statement of his grandfather, regarding his father: The Prophet (peace be upon him) sent Sayyiduna Utaab ibn Asayd (he then narrates the same hadith as before). The narrators of this tradition are Hamad bin Amr, Ammar bin Matar and Zayd bin Rafi'.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عتاب بن اسید کو بھیجا (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے)۔ اس روایت کے راوی حماد بن عمرو، عمار بن مطر اور زید بن رفیع ضعیف ہیں۔

3342

Sunan al-Daraqutni #3342

Hasan

نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، يَزْعُمُ أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ جَلَدَ رَجُلا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَقَعَ عَلَى وَلِيدَةٍ لَهُ، وَلَمْ يُطَلِّقْهَا الْعَبْدُ، كَانَتْ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدًا مِنَ امْرَأَةٍ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اعْتَرَفَ بِهِ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا، حَتَّى إِذَا وُلِدَ أَنْكَرَهُ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً لِفِرْيَتِهِ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَلْحَقَ بِهِ وَلَدَهَا ."

EnglishUnverified translation

Qabaisa bin Zuhaib narrates: Sayyidna Umar bin Al-Khattab (RA) scolded a man who had intercourse with one of his slave girls who was the wife of a slave, and the slave did not divorce him. Sayyidna Umar (RA) gave a ruling about a person who first denied having a child (of his own) by a woman while the child was still in the woman's womb, then he confessed, and the child was still in the woman's womb. When the child was born, the man refused it again, so Sayyiduna Umar (RA) ordered that he should be flogged (as Huddaqf) for what he had accused the woman of, and Sayyidna Umar (RA) established the lineage of the child with that woman.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قبیصہ بن ذوہیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو سوکوڑے لگوائے جس نے اپنی ایک ایسی کنیز کے ساتھ صحبت کی تھی جو ایک غلام کی بیوی تھی، اور اس غلام نے اسے طلاق نہیں دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فیصلہ دیا تھا، جس نے ایک عورت کے بچے (کا اپنی اولاد ہونے) کا پہلے انکار کیا وہ بچہ اس وقت اس عورت کے پیٹ میں تھا، پھر اعتراف بھی کرلیا، وہ بچہ اس وقت بھی اس عورت کے پیٹ میں تھا، جب وہ بچہ پیدا ہوا تو اس شخص نے پھر اس کا انکار کردیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اس نے عورت پر جو الزام لگایا ہے اس کی سزا میں (حدقذف کے طور پر) اسے اسی کوڑے لگائے جائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بچے کا نسب اس عورت کے ساتھ لاحق کردیا۔

3343

Sunan al-Daraqutni #3343

نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : لا أَجِدُ أَحَدًا يُصِيبُ حَدًّا فَأُقِيمُهُ عَلَيْهِ فَيَمُوتُ فَأَرَى أَنِّي أَدِيهِ، إِلا صَاحِبَ الْخَمْرِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُسِنَّ فِيهِ شَيْئًا " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ali bin Abu Talib (RA) says: If a person commits a punishable crime and I impose a limit on him and he dies because of it, I consider that I have to pay his dowry, except for a person who has been permitted to drink alcohol, because the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) did not prescribe anything (regular) about this.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص قابل حد جرم کا ارتکاب کرے اور میں اس پر حد جاری کروں اور اس وجہ سے وہ مرجائے تو میں یہ سمجھتاہوں مجھے اس کی دیت ادا کرنی ہوگی، سوائے اس شخص کے جس پر شراب پینے کی جاری ہوئی ہو، کیونکہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ بھی (باقاعدہ) مقرر نہیں کی۔

3344

Sunan al-Daraqutni #3344

نَا نَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلافُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الشُّرَّابَ كَانُوا يُضْرَبُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَيْدِي وَالنِّعَالِ وَبِالْعُصِيِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِي خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَجْلِدُهُمْ أَرْبَعِينَ حَتَّى تُوُفِّيَ، فَكَانَ عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَجَلَدَهُمْ أَرْبَعِينَ كَذَلِكَ، حَتَّى أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ وَقَدْ شَرِبَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ، فَقَالَ: لِمَ تَجْلِدُنِي؟ بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ: وَأَيُّ كِتَابِ اللَّهِ تَجِدُ أَنْ لا أَجْلِدَكَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93، فَأَنَا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا سورة المائدة آية 93، وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ سورة المائدة آية 93، شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، وَأُحُدًا، وَالْخَنْدَقَ، وَالْمَشَاهِدَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلا تَرُدُّونَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ هَؤُلاءِ الآيَاتِ أنزلت عُذْرًا لِلْمَاضِينَ وَحَجَّةً عَلَى الْمُنَافِقِينَ، لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ سورة المائدة آية 90 الآيَةَ، ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى أَنْفَذَ الآيَةَ الأُخْرَى، فَإِنْ كَانَ مِنَ: الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93 الآيَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ نَهَاهُ أَنْ يَشْرَبَ الْخَمْرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقْتَ، مَاذَا تَرَوْنَ؟ قَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ، وَإِذَا سَكِرَ هَذِيَ، وَإِذَا هَذِيَ افْتَرَى، وَعَلَى الْمُفْتَرِي ثَمَانُونَ جَلْدَةً، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrates: During the time of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), those who drank alcohol were beaten with hands, shoes and sticks, until the Prophet (may God’s prayers and peace be upon him) passed away. Sayyidna Umar also gave forty lashes to those who drank alcohol, until a Sahab from the first emigrants who had drunk alcohol was brought before Sayyidna Umar, who had drunk alcohol, and he was ordered to flog him. So he said: Allah has said this in His Book: "Those who believe and do righteous deeds, there will be no sin on them for what they eat and drink." (He said) I am among those who believed, did good deeds, became pious and became believers, then became pious and did good (which is mentioned in the Qur'an). I was with the Holy Prophet in the Battle of Badr, the Battle of Uhud, the Battle of Khandaq and all other battles. Sayyiduna Umar said to the other people, "Why don't you answer what he said?" So Sayyiduna Ibn Abbas said: This verse was revealed as an excuse for the past people as a proof against the hypocrites, because Allah said: O you who believe, indeed, wine and gambling. Al-Sayyidna Ibn Abbas read these two verses in full and said: If these are among the people who believed and did good deeds, then Allah has forbidden them to drink alcohol. Sayyidna Umar (RA) said: You are right. And when delusion spreads, he makes a false accusation of adultery, and the one who falsely accuses of adultery is given the same whipping, so according to the order of Sayyiduna Umar, he was given the same whipping.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں شراب پینے والوں کو ہاتھوں اور جوتوں اور لاٹھیوں کے ذریعہ ماراجاتا تھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک سے زیادہ تعداد میں شراب پینے کے مقدمات پیش ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو چالیس کوڑے لگوائے جب ان کا انتقال ہوگیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے لگوائے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے مہاجرین اولین سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو لایا گیا جنہوں نے شراب پی تھی، انہیں کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا تو وہ بولے: آپ مجھے کیسے کوڑے مارسکتے ہیں جب کہ آپ کے اور میرے درمیان اللہ کی کتاب کا حکم موجود ہے، سیدنا عمر نے دریافت کیا آپٌ کو اللہ کی کتاب کا حکم وہ کہاں سے ملا ہے کہ میں آپ کو کوڑے نہ ماروں؟ تو انہوں نے کہا: اللہ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے:۔ '' جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان پر اس چیز کے حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہوگا جو انہوں نے کھایا پیا ''۔ (وہ صاحب بولے) میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو ایمان لائے انہوں نے نیک اعمال کیے پرہیزگاری اختیار کی اور مومن ہوئے پھر پرہیزگار ہوئے اور انہوں نے اچھائی کی (جس کا ذکر قرآن میں ہے)۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگرتمام غزوات میں شری کر ہاہوں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے لوگوں سے فرمایا تم لوگ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے ہو جو اس نے کہا: ہے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:، یہ آیت گزرے ہوئے لوگوں کے عذر کے طور پر منافقین کے خلاف حجت کے طور پر نازل ہوئی تھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اے ایمان والو بیشک شراب اور جوا الخ سیدنا ابن عباس نے ان دونوں آیتوں کو مکمل پڑھا اور بولے: اگر یہ ان لوگوں میں سے ہوں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو اللہ نے تو انہیں شراب پینے سے منع کیا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے ٹھیک کہا: ہے (پھر دوسرے لوگوں سے دریافت کیا) آپ لوگوں کی اس بارے میں کیا رائے ہے، (میں اسے کیا سزا دوں) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص شراب پیے وہ مدہوش ہوجاتا ہے جب مدہوش ہوجاتا ہے تو ہذیان بکتا ہے اور جب ہذیان بکتا ہے تو زنا کا جھوٹا الزام لگاتا ہے اور زنا کا جھوٹا الزام لگانے والے کو اسی کوڑے مارے جاتے ہیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت ان صاحب کو اسی کوڑے لگائے گئے۔

3345

Sunan al-Daraqutni #3345

نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ ، حَدَّثَنِي سَلامَةُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَضَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَضْرِبُ رَجُلا وَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ " ."

EnglishUnverified translation

Narrated Sa'ib bin Yazid: He was with Sayyiduna Umar when he flogged the person who smelled of alcohol.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سائب بن یزید بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے جب انہوں نے اس شخص کو کوڑے لگوائے جس سے شراب کی بو آئی تھی۔

3346

Sunan al-Daraqutni #3346

Sahih

نَا نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ جَلَدَ رَجُلا وَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ الْحَدَّ تَامًّا " ."

EnglishUnverified translation

Sa'ib bin Yazid narrates: Sayyidna Umar bin Khattab (RA) whipped a person and he smelled alcohol from that person.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سائب بن یزید بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو کوڑے لگوائے اور مکمل حد (یعنی اسی کوڑے لگوائے) اس شخص سے انہیں شراب کی بو آئی تھی۔

3347

Sunan al-Daraqutni #3347

نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ابْنُ أَخِي حَزْمٍ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنْ يَهُودِيًّا مَرَّ بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا حُلِيٌّ لَهَا، فَأَخَذَ عَلَيْهَا وَأَلْقَاهَا فِي بِئْرٍ، فَأُخْرِجَتْ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقِيلَ: مَنْ قَتَلَكِ؟، قَالَتْ: فُلانٌ الْيَهُودِيُّ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Anas Radiyallahu Anhu narrates: A Jewish person passed by a girl who was wearing an ornament, he (took off that ornament and injured the girl) and threw it into a well. He said that such and such a Jew was brought to the service of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and he confessed his crime, so he was also killed under the order of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی شخص ایک لڑکی کے پاس سے گزرا اس لڑکی نے کوئی زیور پہنا ہوا تھا، اس نے (وہ زیور چھین کر لڑکی کو زخمی کرکے) ایک کنوئیں میں ڈال دیا جب اس لڑکی کو باہر نکالا تو اس میں زندگی کی رمق تھی، اس سے دریافت کیا گیا تمہیں کس نے قتل کیا ہے،؟ اس نے بتایا فلاں یہودی نے اس یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت اسے بھی قتل کردیا گیا۔

3348

Sunan al-Daraqutni #3348

نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو عُثْمَانَ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَتَلَكِ فُلانٌ؟، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، أَيْ لا، ثُمَّ قَالَ لَهَا: أَقَتَلَكِ فُلانٌ؟، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ لا، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " ، ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Anas bin Malik (RA) narrates: A Jew killed a girl by taking away her jewelry, and this Jew stoned her to death. When the girl was brought to the Prophet (PBUH), there was life in her. He nodded his head in response and said: No. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) then asked him again whether so-and-so killed you. So he answered with a nod of his head, yes, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) put the head of this Jew between two stones and killed him by crushing it in between.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات چھین کر قتل کردیا، اس یہودی نے اس لڑکی کو پتھر مار کر قتل کیا جب اس لڑکی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں زندگی کی رمق موجود تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے جواب میں سر کے اشارے سے کہا:، نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اس سے دریافت کیا کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے اس نے جواب میں سر کے اشارے کے ذریعہ کہا: نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر تیسری مرتبہ اس سے دریافت کیا کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟ تو اس نے سر کے شارے سے جواب دیا جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا سر دوپتھروں کے درمیان رکھوا کر درمیان میں یعنی کچل کرا سے قتل کروادیا۔

3349

Sunan al-Daraqutni #3349

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، أنا يَزِيدُ ، نَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلا أَنَّ قَتَادَةَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: وَاعْتَرَفَ الْيَهُودِيُّ "."

EnglishUnverified translation

The same tradition is narrated along with another document, however, Qatadah has quoted these words in his tradition, this Jew had confessed his crime.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم قتادہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں اس یہودی نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

3350

Sunan al-Daraqutni #3350

نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى تَمَائِمَ لَهَا، وَرَمَى بِهَا فِي قَلِيبٍ فَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ، فَرُجِمَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Anas (may Allah be pleased with him) narrates that a Jew injured an Ansari girl by taking off her necklace and threw her into a pit and crushed her head with a stone, so the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered that if she (the Jew) should be stoned to death, she should be stoned.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک یہودی نے ایک انصاری لڑکی کو اس کے ہار چھین کر زخمی کر کے ایک گڑھے میں پھینک دیا اور اس لڑکی کا سر پتھر کے ذریعہ کچل دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اس (یہودی) کو سنگسار کرکے مارا جائے تو اسے سنگسار کردیا گیا۔

3351

Sunan al-Daraqutni #3351

موقوف

نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا زَنَى، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ، ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ أُحْصِنَ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Jabir (may Allah be pleased with him) narrates: A person committed adultery and was flogged as punishment under the order of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے زنا کا ارتکاب کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت اسے حد کے طور پر کوڑے لگائے گئے پھر بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا وہ شخص، محصن، ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کردیا گیا۔

3352

Sunan al-Daraqutni #3352

موقوف

نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، نَا اللَّيْثُ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، نَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا زَنَى بِامْرَأَةٍ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ، ثُمَّ أَخْبَرَ أَنَّهُ أُحْصِنَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Jabir bin Abdullah (RA) narrates: A man committed adultery with a woman, and he was flogged as punishment under the order of the Prophet (SAW).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے حد کے طور پر کوڑے لگائے گئے پھر بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ شخص محصن ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کردیا گیا۔

3353

Sunan al-Daraqutni #3353

نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدَنِيِّ ، نَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي خَلادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ، فَتَخَطَّى النَّاسَ حَتَّى اقْتَرَبَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسْ، فَانْتَهَرَهُ، فَجَلَسَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، فَقَالَ: اجْلِسْ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، قَالَ: وَمَا حَدُّكَ؟، قَالَ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَمِنْهُمْ عَلِيٌّ، وَعَبَّاسٌ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: انْطَلِقُوا بِهِ فَاجْلِدُوهُ، وَلَمْ يَكُنِ اللَّيْثِيُّ تَزَوَّجَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا تُجْلَدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتُونِي بِهِ مَجْلُودًا، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَاحِبَتُكَ؟، قَالَ: فُلانَةُ، لامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَدَعَاهَا، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: كَذَبَ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ، وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِيَّةٌ، اللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شُهَدَاؤُكِ عَلَى أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا، فَإِنَّهَا تُنْكِرُ أَنْ تَكُونَ خَابَثْتَهَا، فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا، وَإِلا جَلَدْتُكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي شُهُودٌ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ جَلْدَةً " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ibn Abbas, may God be pleased with him, narrates: Once the Holy Prophet, may God bless him and grant him peace, was giving a sermon to the people on Friday. Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “Sit down.” He sat down, then he stood up for the third time. The person belonging to Banwalith was not married. It was asked, O Messenger of Allah, why don't you flog the woman with whom he has committed a sin? The Prophet, peace and blessings of God be upon him, said, "Flog her, then bring her to me." He replied, "Such and such a woman. He mentioned the name of a woman belonging to Banubakar. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) called this woman and asked her about it. She said: She lied: "By Allah, I do not even know her, and I am innocent of what she has accused me of, and Allah is witness to what I am saying." because this woman denies that you have committed any sin with her. If you have any proof, I will flog her, and if you have no proof, I will flog her as a punishment for making a false accusation of adultery.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، بنولیث بن بکر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص وہاں آیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچ گیا اس نے عرض کی یارسول اللہ مجھ پر حد جاری کریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا تم بیٹھ جاؤ، آپ نے اسے ڈانٹا تو وہ بیٹھ گیا، وہ پھر کھڑا ہوا اس نے عرض کی یارسول اللہ مجھ پر حد جاری کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا، پھر وہ تیسری مرتبہ کھڑا ہوا اس نے عرض کی یارسول اللہ مجھ پر حد جاری کردو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نے کون سے قابل حد (جرم کا ارتکاب کیا ہے) اس نے عرض کی میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام صحبت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے جن میں سیدنا علی سیدنا عباس سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے فرمایا اسے لے جاکرکوڑے لگاؤ بنولیث سے تعلق رکھنے والا وہ شخص شادی شدہ نہیں تھا، عرض کی گئی یارسول اللہ آپ اس عورت کو کوڑے کیوں نہیں لگواتے جسکے ساتھ اس نے گناہ کیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے کوڑے لگاؤ پھر میر ے پ اس لے کر آؤ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ک پاس لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا تمہاری ساتھی عورت کون ہے؟ اس نے جواب دیا، فلاں عورت اس نے بنوبکر سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کا نام لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے اس بارے میں دریافت کیا وہ بولی: اس نے جھوٹ کہا: ہے اللہ کی قسم میں تو اسے جانتی بھی نہیں ہوں، اور اس نے جو الزام لگایا ہے میں اس سے بری ہوں اور میں جو کہہ رہی ہوں اس پر اللہ تعالیٰ ٰ گواہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا، اس بارے میں تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تم نے اس عورت کے ساتھ گناہ کیا ہے، کیونکہ یہ عورت تو اس بات کی انکاری ہے، کہ تم نے اس کے ساتھ کوئی گناہ کیا ہے اگر تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے تو میں اس عورت کو کوڑے لگواؤں گا، اور اگر تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے تو میں زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی سزا کے طور پر کوڑے لگواؤں گا اس شخص نے کہا: یارسول اللہ میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد اسی کورے لگوائے گئے۔

3354

Sunan al-Daraqutni #3354

Da'if

نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا حَجَّ عُمَرُ حَجَّتَهُ الأَخِيرَةَ الَّتِي لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا غُودِرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتِيلا فِي بَنِي وَادِعَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا قَضَى النُّسُكَ، فَقَالَ لَهُمْ: هَلْ عَلِمْتُمْ لِهَذَا الْقَتِيلِ قَاتِلا مِنْكُمْ؟، قَالَ الْقَوْمُ: لا، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ شَيْخًا فَأَدْخَلَهُمُ الْحَطِيمَ، فَاسْتَحْلَفَهُمْ بِاللَّهِ رَبِّ هَذَا الْبَيْتِ الْحَرَامِ، وَرَبِّ هَذَا الْبَلَدِ الْحَرَامِ، وَرَبِّ هَذَا الشَّهْرِ الْحَرَامِ، أَنَّكُمْ لَمْ تَقْتُلُوهُ، وَلا عَلِمْتُمْ لَهُ قَاتِلا، فَحَلَفُوا بِذَلِكَ، فَلَمَّا حَلَفُوا، قَالَ: أَدُّوا دِيَتِهِ مُغَلَّظَةً فِي أَسْنَانِ الإِبِلِ، أَوْ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ دِيَةً وَثُلُثًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: سِنَانٌ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا تَجْزِينِي يَمِينِي مِنْ مَالِي؟، قَالَ: لا، إِنَّمَا قَضَيْتُ عَلَيْكُمْ بِقَضَاءِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ دِيَتَهُ دَنَانِيرَ دِيَةً وَثُلُثَ دِيَةٍ " ، عُمَرُ بْنُ صُبَيْحٍ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ."

EnglishUnverified translation

Saeed Ibn Musaib narrates: When Sayyiduna Umar (RA) performed the Hajj for the last time, after which he did not get the chance to perform Hajj, during that Hajj, a Muslim man was found dead in the residential area of Banu Da'ah. Sayyidna Umar (RA) sent a message to him. So they answered no. Sayyiduna Umar took fifty thousand of them, and made them stand in Hatim, and took this oath from them: (That they should take this oath) By Allah, who is the Lord of this sacred house, the Lord of this sacred city, the Lord of this sacred month, you people did not kill him, and you do not even know about his killer, these people took this oath, when these people took this oath. Then Sayyiduna Umar, may Allah be pleased with him, said, "Either you pay this person's Dayat Mughlaza in terms of camels, pay a full Dayat in terms of Dirhams and Dinar, and pay one-third of the Dayat (amount of money)." So Sayyiduna Umar (may Allah be pleased with him) said, "No, I have given a decision about you according to the decision of your Prophet." So these people paid a full diyat according to dinars and chose to pay a third of the diyat (amount). The narrator of this hadith is Umar bin Subhbi.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آخری مرتبہ حج کیا جس کے بعد انہیں حج کرنے کا موقع نہیں ملا، تو اس حج کے دوران بنووداعہ کے رہائشی علاقے میں ایک مسلمان شخص مقتول پایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا یہ حج ادا کرلینے کے بعد ہوا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارے درمیاں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے پچاس ہزار افراد کو لیا، اور انہیں، حطیم، میں کھڑا کردیا، اور ان سے یہ قسم لی: (کہ وہ یہ قسم اٹھائیں) اللہ کے نام کی قسم، جو اس حرمت والے گھر کا پروردگار ہے، اس حرمت والے شہر کا پروردگار ہے اس حرمت والے مہینے کا پروردگار ہے تم لوگوں نے اسے قتل نہیں کیا، اور تمہیں اس کے قاتل کے بارے میں بھی علم نہیں ہے، ان لوگوں نے یہ قسم اٹھائی، جب ان لوگوں نے یہ قسم اٹھالی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم یا تو اونٹوں کے حساب سے اس شخص کی دیت مغلظہ ادا کردیا، درہم دینار کے حساب سے ایک مکمل دیت اور ایک تہائی دیت (کی رقم) ادا کرو، تو ان میں سے ایک شخص جس کا نام سنان تھا، اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، جب ہم نے قسم اٹھالی ہے تو کیا یہ اس ادائیگی کی جگہ کافی نہیں ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں میں نے تمہارے بارے میں تمہارے نبی کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا ہے تو ان لوگوں نے دیناروں کے حساب سے ایک مکمل دیت ادا کی اور ایک تہائی دیت (کی رقم) ادا کرنے کو اختیار کیا۔ اس روایت کا راوی عمر بن صبح متروک الحدیث ہے۔

3355

Sunan al-Daraqutni #3355

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، نَا زَائِدَةُ، نَا مَنْصُورٌ، عَنْ ثَابِتٍ يُكَنَّى أَبَا الْمِقْدَامِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ جَعَلَ دِيَةَ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ أَرْبَعَةَ آلافٍ، وَالْمَجُوسِيِّ ثَمَانَمِائَةٍ " ."

EnglishUnverified translation

Saeed bin Musayyib narrates: Sayyiduna Umar, may God be pleased with him, fixed the diet of a Jew and a Christian at four thousand dirhams and the diet of a Magian at eight hundred dirhams.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودی اور عیسائی شخص کی دیت چار ہزار درہم اور مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم مقرر کی ہے۔

3356

Sunan al-Daraqutni #3356

نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ زَحْمَوَيْهِ، نَا شَرِيكٌ، عَنْ ثَابِتٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَجْعَلُ دِيَةَ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ أَرْبَعَةَ آلافٍ أَرْبَعَةَ آلافٍ، وَدِيَةَ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانَمِائَةٍ " ."

EnglishUnverified translation

Saeed bin Musayyib narrates: Sayyiduna Umar, may God be pleased with him, fixed the diet of a Jew and a Christian at four thousand dirhams and the diet of a Magian at eight hundred dirhams.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودی اور عیسائی شخص کی دیت چار ہزار درہم اور مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم مقرر کی ہے۔

3357

Sunan al-Daraqutni #3357

نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ سَكِرَ مِنْ نَبِيذِ تَمْرٍ، فَجَلَدَهُ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrates: A person was brought to the service of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) who had become intoxicated due to the consumption of dates, so the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) flogged him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کو لایا گیا جو کھجور کی نبیذ پینے کی وجہ سے مدہوش ہوگیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوڑے لگوائے۔

3358

Sunan al-Daraqutni #3358

نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْعَامِرِيَّيْنِ دِيَةَ الْمُسْلِمِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا دِيَةُ الْمُسْلِمِ، كَانَ لَهُمَا عَهْدٌ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrates: The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) declared the diet of two members of the tribe of Amir to be equal to the diet of a Muslim. Shaykh Abu Bakr says: That is, each of them had the religion of a Muslim, while both of them were dhimmis.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عامر قبیلہ کے دوافراد کی دیت مسلمان کی دیت جتنی قرار دی۔ شیخ ابوبکر فرماتے ہیں: یعنی ان میں سے ہر ایک کی دیت مسلمان جتنی تھی، جبکہ وہ دونوں افراد، ذمی، تھے۔

3359

Sunan al-Daraqutni #3359

نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ . ح وثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ دِينَارٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ كَامِلٍ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ دِيَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ نِصْفَ دِيَةِ الْمُسْلِمِ " ، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: دِيَةُ الْكَافِرِ مثل نِصْفِ دِيَةِ الْمُسْلِمِ."

EnglishUnverified translation

Amr bin Shuaib narrates this statement of his grandfather regarding his father: The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) made the diet of the People of the Book half of the diet of the Muslim. Ibn Wahhib has quoted these words: The diet of a disbeliever is set as half of the diet of a Muslim.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل کتاب کی دیت، مسلمان کی دیت کا نصف مقرر کی ہے۔ ابن وہب نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: کافر کی دیت مسلمان کی دیت کے نصف جتنی مقرر کی ہے۔

3360

Sunan al-Daraqutni #3360

Da'if

نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، أنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ عَقْلَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ نِصْفَ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ، وَهُ??ُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى " ."

EnglishUnverified translation

Amr ibn Shuaib, on the authority of his father, narrates the statement of his grandfather: The Prophet, peace and blessings of God be upon him, has decreed: The diet of both types of People of the Book (i.e. Jews and Christians) will be as much as the diet of Muslims, (says the narrator) meaning Jews and Christians.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے: دونوں قسم کے اہل کتاب (یعنی یہودیوں اور عیسائیوں) کی دیت، مسلمانوں کی دیت جتنی ہوگی، (راوی کہتے ہیں) اس سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔

3361

Sunan al-Daraqutni #3361

Sahih

نَا نَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ لاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ: دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا، عِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ بَنَاتُ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Masoud (may Allah be pleased with him) says: There will be five types (of camels) in the slaughtering of camels.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت میں (اونٹوں کی) پانچ قسمیں ہوں گی بیس جذعہ ہوں گے بیس حقہ ہوں گے اور بیس بنت لبون، ہوں گی بیس بنولبون ہوں گے اور بیس بنات مخاض ہوں گی۔

3362

Sunan al-Daraqutni #3362

Sahih

نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ زَيْدٍ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ . ح وَنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا حَمْزَةُ بْنُ جَعْفَرٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، نَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: دِيَةُ الْخَطَأِ خَمْسَةُ أَخْمَاسٍ، عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٌ " ، لَفْظُ دَعْلَجٍ، وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَرُوَاتُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ ."

EnglishUnverified translation

This tradition is narrated along with another document. Sayyiduna Abdullah bin Masoud (may Allah be pleased with him) says: There will be five types of (camels) in the day of slaughtering (camels).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت میں (اونٹوں) کی پانچ قسمیں ہوں گی بیس جذعہ ہوں گے بیس حقہ، ہوں گے، بیس بنات لبون، ہوں گی بیس بنات مخاض ہوں گی اور بیس بنولبون، نر ہوں گے اس کی سند حسن ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

3363

Sunan al-Daraqutni #3363

Sahih

ثنا بِهِ الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا عَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

This tradition is narrated along with another document.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

3364

Sunan al-Daraqutni #3364

Sahih

وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، مِنْهَا عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ " ، هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ غَيْرُ ثَابِتٍ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ، مِنْ وُجُوهٍ عِدَّةٍ أَحَدُهَا أَنَّهُ مُخَالِفٌ لَمَّا رَوَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِالسَّنَدِ الصَّحِيحِ عَنْهُ الَّذِي لا مَطْعَنَ فِيهِ، وَلا تَأْوِيلَ عَلَيْهِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيهِ وَبِمَذْهَبِهِ وَفُتْيَاهُ مِنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ وَنُظَرَائِهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَتْقَى لِرَبِّهِ وَأَشَحُّ عَلَى دِينِهِ مِنْ أَنْ يَرْوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقْضِي بِقَضَاءٍ وَيُفْتِي هُوَ بِخِلافِهِ، هَذَا لا يُتَوَهَّمُ مِثْلُهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ الْقَائِلُ فِي مَسْأَلَةٍ وَرَدَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَسْمَعْ فِيهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَلَمْ يَبْلُغْهُ عَنْهُ فِيهَا قَوْلٌ: أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي، فَإِنْ يَكُنْ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي، ثُمَّ بَلَغَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّ فُتْيَاهُ فِيهَا وَافَقَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِهَا، فَرَآهُ أَصْحَابُهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَرِحَ فَرَحًا لَمْ يَرَوْهُ فَرِحَ مِثْلَهُ مِنْ مُوَافَقَةِ فُتْيَاهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ كَانَتْ هَذِهِ صِفَتُهُ وَهَذَا حَالُهُ فَكَيْفَ يَصِحُّ عَنْهُ أَنْ يَرْوِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيُخَالِفُهُ . وَيَشْهَدُ أَيْضًا لِرِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ مَا رَوَاهُ وَكِيعٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ وَغَيْرُهُمَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: " دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا "."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abdullah bin Masoud (may Allah be pleased with him) narrates: The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) decided to pay one hundred camels as compensation for murder, out of which twenty would be Haqqah and twenty would be Jaza’a, twenty would be women of Lubun, twenty would be women in labor and twenty would be women of Khad. Sahibzada Abu Ubaidah has narrated it with a valid chain of transmission, which cannot be discredited, and this tradition cannot be interpreted. Sayyidna Abdullah bin Masoud (may Allah be pleased with him) was very fearing of his Lord and was very firm in his religion. It cannot be expected of him that he would narrate a hadith regarding the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that the Prophet (peace be upon him) had given this decision and then issue a fatwa against it. I have not heard anything from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) about this and I do not know of any tradition regarding the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), so I will present my opinion in this matter, if it is right, it will be from Allah and His Messenger, and if there is a mistake in it, it will be from me. His companions saw that he was so happy that the fatwa given by him was in accordance with the decision of the Holy Prophet, may God bless him and grant him peace. His companions had never seen him so happy. So how can this be true about those who have this attribute and this condition, that they narrate a hadith regarding the Prophet, may God bless him and grant him peace, and then contradict it (saw fatwa). This is also supported by the tradition which was narrated by Abu Ubaidah, the son of Sayyiduna Abdullah bin Masoud, and this tradition was narrated by Waqi’, Abdullah bin Wahib and other muhaddiths, with reference to Sufyan Al-Thawri Mansoor, Ibrahim Nakhai, about Sayyiduna Abdullah bin Masoud, may Allah be pleased with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتل خطاء کی دیت میں ایک سو اونٹوں کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا، جن میں سے بیس، حقہ، ہوں گے اور بیس جذعہ، بیس بنات لبون، بیس بنات مخاض ہوں گی اور بیس بنومخاض ہوں گے یہ حدیث ضعیف ہے اور علم حدیث کے ماہرین کے نزدیک یہ کئی اعتبار سے ثابت نہیں ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ روایت اس روایت کی مخالف ہے جسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوعبیدہ نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے، جس سند پر طعن نہیں کیا جاسکتا، اور اس روایت کی تاویل نہیں کی جاسکتی، ابوعبیدہ اپنے والد کی نقل کردہ حدیث اور ان کے مذہب اور ان کے فتوی کے بارے میں، خشف، بن مالک اور اس جیسے دیگر افراد سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے پروردگار سے بہت ڈرنے والے تھے اور اپنے دین میں نہایت پختہ تھے ان کے بارے میں یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کوئی روایت نقل کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے اور پھر اس کے خلاف فتوی دیں، یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے بارے میں گمان بھی نہیں کی جاسکتی، حالانکہ جب ان کے سامنے ایک مسئلہ آیا تو انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی تھی میں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات نہیں سنی ہے اور مجھے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کسی روایت کا کوئی علم نہیں ہے، اس لیے میں اس مسئلہ میں اپنی رائے پیش کروں گا، اگر وہ ٹھیک ہوئی تو یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہوگی، اور اگر اس میں کوئی غلطی ہوئی تو وہ میری طرف سے ہوگی پھر اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا کہ اس مسئلہ کے بارے میں ان کا دیا ہوافتوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق تھا، تو ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ وہ اس بات سے اتنے خوش ہوئے کہ ان کا دیا ہوا فتوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق ہے ان کے ساتھیوں نے انہیں اتناخوش کبھی نہیں دیکھا تھا، تو جن کی یہ صفت ہو اور یہ حالت ہو ان کے بارے میں یہ بات کس طرح درست ہوسکتی ہے، کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کوئی روایت نقل کریں اور پھر اس کے خلاف (فتوی دیدیں)۔ اس بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوعبیدہ نے نقل کیا ہے اور یہ روایت وکیع، عبداللہ بن وہب اور دیگرمحدثین نے سفیان ثوری منصور، ابراہیم نخعی کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: قتل خطاء کی دیت کی ادائیگی پانچ قسموں کے اونٹوں (کی شکل میں ہوگی)۔

3365

Sunan al-Daraqutni #3365

Sahih

حَدَّثَنَا بِهِ الْقَاضِي حَدَّثَنَا بِهِ الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا " ، ثُمَّ فَسَّرَهَا كَمَا فَسَّرَهَا أَبُو عُبَيْدَةَ وَعَلْقَمَةُ عَنْهُ سَوَاءً، فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ وَإِنْ كَانَ فِيهَا إِرْسَالٌ فَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ هُوَ أَعْلَمُ النَّاسِ بِعَبْدِ اللَّهِ وَبِرَأْيِهِ وَبِفُتْيَاهُ، قَدْ أَخَذَ ذَلِكَ عَنْ أَخْوَالِهِ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ يَزِيدَ، وَغَيْرِهِمْ مِنْ كُبَرَاءِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ الْقَائِلُ: " إِذَا قُلْتُ لَكُمْ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَهُوَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْهُ، وَإِذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ وَاحِدٍ سَمَّيْتُهُ لَكُمْ . وَوَجْهٌ آخَرُ: وَهُوَ أَنَّ الْخَبَرَ الْمَرْفُوعَ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ بَنِي الْمَخَاضِ لا نَعْلَمُهُ، رَوَاهُ إِلا خِشْفُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ إِلا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَرْمَلٍ الْجُشَمِيُّ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ لا يَحْتَجُّونَ بِخَبَرٍ يَنْفَرِدُ بِرِوَايَتِهِ رَجُلٌ غَيْرُ مَعْرُوفٍ، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ الْعِلْمُ عِنْدَهُمْ بِالْخَبَرِ إِذَا كَانَ رُوَاتُهُ عَدْلا مَشْهُورًا، أَوْ رَجُلٌ قَدِ ارْتَفَعَ اسْمُ الْجَهَالَةِ عَنْهُ، وَارْتِفَاعُ اسْمِ الْجَهَالَةِ عَنْهُ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ رَجُلانِ فَصَاعِدًا، فَإِذَا كَانَ هَذِهِ صِفَتُهُ ارْتَفَعَ عَنْهُ اسْمُ الْجَهَالَةِ وَصَارَ حِينَئِذٍ مَعْرُوفًا، فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ انْفَرَدَ بِخَبَرٍ وَجَبَ التَّوَقُّفُ عَنْ خَبَرِهِ ذَلِكَ حَتَّى يُوَافِقَهُ غَيْرُهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَوَجْهٌ آخَرُ أَنَّ خَبَرَ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ لا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْهُ إِلا حَجَّاجَ بْنَ أَرْطَأَةَ، وَالْحَجَّاجُ فَرَجُلٌ مَشْهُورٌ بِالتَّدْلِيسِ وَبِأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَنْ لَمْ يَلْقَهُ، وَمَنْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ قَالَ لِي حَجَّاجٌ لا يَسْأَلْنِي أَحَدٌ عَنِ الْخَبَرِ، يَعْنِي: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَلا تَسْأَلُونِي مَنْ أَخْبَرَكَ بِهِ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ: كُنْتُ عِنْدَ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ يَوْمًا فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ، ثُمَّ قَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ شَيْئًا، وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، وَلا مِنَ الشَّعْبِيِّ إِلا حَدِيثًا وَاحِدًا، وَلا مِنْ فُلانٍ، وَلا مِنْ فُلانٍ، حَتَّى عَدَّ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ بَضْعَةَ عَشَرَ كُلُّهُمْ قَدْ رَوَى عَنْهُ الْحَجَّاجُ، ثُمَّ زَعَمَ بَعْدَ رِوَايَتِهِ عَنْهُمْ أَنَّهُ لَمْ يَلْقَهُمْ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُمْ، وَتَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ بَعْدَ أَنْ جَالَسُوهُ وَخَبَّرُوهُ، وَكَفَاكَ بِهِمْ عِلْمًا بِالرِّجَالِ وَنُبْلا، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ وَسَمِعْتُ كَلامَهُ، فَذَكَرَ شَيْئًا أَنْكَرْتُهُ، فَلَمْ أَحْمِلْ عَنْهُ شَيْئًا، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَأَةَ بِمَكَّةَ فَلَمْ أَحْمِلْ عَنْهُ شَيْئًا وَلَمْ أَحْمِلْ أَيْضًا عَنْ رَجُلٍ عَنْهُ كَانَ عَدَّهُ مُضْطَرِبًا، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ: لا يَنْبُلُ الرَّجُلُ حَتَّى يَدَعَ الصَّلاةَ فِي الْجَمَاعَةِ، وَقَالَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ: أَخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ يُزَاحِمُنِي الْحَمَّالُونَ وَالْبَقَّالُونَ، وَقَالَ جَرِيرٌ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ: أَهْلَكَنِي حُبُّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ . وَوَجْهٌ آخَرُ: وَهُوَ أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ الثِّقَاتِ رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ فِيهِ، فَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَجَّاجٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ الَّذِي ذَكَرْنَا عَنْهُ، وَوَافَقَهُ عَلَى ذَلِكَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَخَالَفَهُمَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ فَرَوَاهُ عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَطَأِ أَخْمَاسًا: " عِشْرُونَ جِذَاعًا، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ "، فَجَعَلَ مَكَانَ الْحِقَاقِ بَنِي لَبُونٍ ."

EnglishUnverified translation

The judge narrated it to us - the judge al-Mahamili narrated it to us, Al-'Abbas ibn Yazid narrated to us, Waki' narrated to us, from Sufyan, from Mansur, from Ibrahim, from 'Abdullah, who said: "The blood-money for manslaughter is in fifths," then he explained it exactly as Abu 'Ubaydah and 'Alqamah explained it on his authority. This report, even though it contains an interruption (irsal), Ibrahim al-Nakha'i is the person most knowledgeable about 'Abdullah, his opinion, and his rulings, having taken this from his maternal uncles 'Alqamah, al-Aswad, and 'Abd al-Rahman - the two sons of Yazid - and others among the senior companions of 'Abdullah. He is the one who said: "When I say to you, 'Abdullah ibn Mas'ud said,' it is from a group of his companions on his authority, but when I hear it from a single man, I name him to you." And another point: the elevated (marfu') report which mentions "sons of makhad" - we do not know of anyone who narrated it except Khishf ibn Malik, from Ibn Mas'ud, and he is an unknown man. No one narrated it from him except Zayd ibn Jubayr ibn Harmal al-Jushami. The people of knowledge in hadith do not accept as proof a report narrated solely by a man who is not well-known; rather, knowledge is established for them by a report only when its narrators are either a well-known trustworthy person, or a man from whom the designation of "unknown" has been lifted. The lifting of the designation of "unknown" from him occurs when two or more men narrate from him. When this is his description, the designation of "unknown" is lifted from him and he then becomes known. But as for one from whom only a single man has narrated, being the sole narrator of a report, it is obligatory to withhold judgment regarding that report of his until someone else corroborates him. And Allah knows best. And another point: regarding the report of Khishf ibn Malik, we do not know that anyone narrated it from Zayd ibn Jubayr on his authority except Hajjaj ibn Artah, and Hajjaj is a man well-known for tadlis (concealment in transmission) and for narrating from those he never met and from those he never heard from. Abu Mu'awiyah al-Darir said: Hajjaj said to me, "Let no one ask me about the report" - meaning: when I narrate something to you, do not ask me who informed you of it. And Yahya ibn Zakariyya ibn Abi Za'idah said: I was with Hajjaj ibn Artah one day, and he ordered the door to be closed, then said: "I did not hear anything from al-Zuhri, and I did not hear from Ibrahim, nor from al-Sha'bi except one hadith, nor from so-and-so, nor from so-and-so" - until he counted seventeen or more than ten, all of whom Hajjaj had narrated from. Then, after narrating from them, he claimed that he had never met them nor heard from them. Sufyan ibn 'Uyaynah, Yahya ibn Sa'id al-Qattan, and 'Isa ibn Yunus abandoned narrating from him after having sat with him and come to know him - and that they did so is sufficient proof of their knowledge and excellence regarding men. Sufyan ibn 'Uyaynah said: "I visited Hajjaj ibn Artah and heard his speech, and he mentioned something I found objectionable, so I did not carry anything from him." Yahya ibn Sa'id al-Qattan said: "I saw Hajjaj ibn Artah in Makkah, and I did not carry anything from him, nor did I carry anything from a man who narrated from him, whom I considered unreliable (mudtarib)." Yahya ibn Ma'in said: "Hajjaj ibn Artah's hadith is not to be relied upon." 'Abdullah ibn Idris said: "I heard Hajjaj say, 'A man does not attain nobility until he abandons the congregational prayer.'" 'Isa ibn Yunus said: "I heard Hajjaj say, 'I go out to prayer and the porters and greengrocers jostle me.'" Jarir said: "I heard Hajjaj say, 'Love of wealth and status has destroyed me.'" And another point: a group of trustworthy narrators transmitted this hadith from Hajjaj ibn Artah, but they differed among themselves regarding it. 'Abd al-Rahim ibn Sulayman narrated it from Hajjaj with the wording we have mentioned from him, and 'Abd al-Wahid ibn Ziyad agreed with him on that. But Yahya ibn Sa'id al-Umawi - who is among the trustworthy - differed from both of them, narrating it from Hajjaj, from Zayd ibn Jubayr, from Khishf ibn Malik, who said: I heard 'Abdullah ibn Mas'ud say: "The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning manslaughter that it be in fifths: twenty four-year-old she-camels, twenty five-year-old she-camels giving milk, twenty three-year-old male camels giving milk, twenty two-year-old she-camels, and twenty two-year-old male camels" - placing, in place of the four-year-old camels (hiqaq), the three-year-old male camels giving milk (bani labun).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے: وہ فرماتے ہیں: قتل خطا کی دیت کی ادائیگی پانچ قسموں کے اونٹوں (کی شکل میں ہوگی) پھر اس کے بعد ابراہیم نے اس کی وضاحت میں وہی الفاظ نقل کیے ہیں جیسے ابوعبیدہ اور علقمہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیے ہیں۔ اگر اس روایت میں، ارسال، کو تسلیم کرلیا جائے تو بھی ابراہیم نخعی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ان کی آراء اور ان کے فتاوی کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں: کیونکہ انہوں نے اس چیز کا علم اپنے ماموں علقمہ، اسود، اور عبدالرحمن سے حاصل کیا ہے اور ان کے علاوہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اکابر شاگردوں سے حاصل کیا ہے۔ ابراہیم نخعی یہ فرماتے ہیں: جب میں آپ کے سامنے یہ کہوں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے وہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کئی شاگردوں سے سنی ہے لیکن اگر میں نے کوئی بات کسی ایک شخص سے سنی ہو تو میں اس کا نام آپ کے سامنے بیان کردوں گا۔ اس مسئلہ کادوسراپہلو یہ ہے، وہ مرفوع روایت جس میں بنومخاض کا ذکر ہے ہمارے علم کے مطابق اسے صرف خشف بن مالک نے سیدنا عبداللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہ ایک مجہول شخص ہے اس کے حوالے س ے صرف زید بن جبیر حشمی نے احادیث روایت کی ہیں اور علم حدیث کے ماہرین ایسی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کرتے جسے نقل کرنے میں ایک مجہول راوی منفردہو، ان حضرات کے نزدیک کسی بھی روایت پر عمل کرنا اس وقت ثابت ہوگا جب اسے روایت کرنے والاشخص عادل اور مشہور ہو یا کوئی ایساشخص ہو جسے مجہول قرار نہ دیا جاسکے، اور پھر اس کے حوالے سے دویادو سے زیادہ افراد اس روایت کو نقل کریں کیونکہ اس صورت میں اس راوی کو مجہول قرار نہیں دیا جاسکے گا، اور وہ معروف شمار ہوگا، لیکن اگر اس شخص کے حوالے سے صرف ایک فرد نے روایت کو نقل کیا ہو اور وہ بھی اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہو تو ایسی روایت کے بارے میں توقف کیا جائے گا، یہاں تک کہ دوسری روایت اس کے موافق آ جائے باقی اللہ بہترجانتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے: خشف بن مالک کی روایت کو ہمارے علم کے مطابق زید بن جبیر کے حوالے سے صرف حجاج بن ارطاۃ نے نقل کیا ہے، اور حجاج ایک ایسا شخص ہے جو تدلیس کے حوالے سے مشہور ہے اور وہ ان حضرات کے حوالے سے بھی روایت نقل کردیتا ہے جن سے اس کی ملاقات نہ ہوئی ہو، اور جن سے اس نے احادیث کا سماع نہ کیا ہو۔ شیخ ابومعاویہ ضریر فرماتے ہیں: حجاج نے مجھ سے یہ کہا: تھا، کوئی شخص مجھ سے روایت کے بارے میں سوال نہ کرے یعنی میں جب تمہیں کوئی روایت بیان کروں تو مجھ سے یہ نہ پوچھو آپ کو اس بارے میں کس نے بتایا ہے؟۔ یحییٰ بن زکریا بیان کرتے ہیں: ایک دن میں حجاج بن ارطاۃ کے پاس موجود تھا، اس نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیاپھربولا میں نے زہری سے کوئی روایت نہیں سنی، ابراہیم نخعی اور شعبی سے صرف ایک ایک روایت سنی ہے میں نے فلاں سے بھی کوئی روایت نہیں سنی فلاں سے بھی کوئی روایت نہیں سنی اس طرح اس نے سترہ کے لگ بھگ افراد کا نام لیایہ سب حضرات وہ تھے جن کے حوالے سے حجاج روایات نقل کرتا ہے اور پھر ان کے حوالے سے روایات نقل کرنے کے بعد اس نے یہ کہا: کہ اس نے ان حضرات سے ملاقات نہیں کی اور ان حضرات سے کوئی روایت نہیں سنی۔ سفیان بن عیینہ یحییٰ بن سعید القطان اور عیسی بن یونس نے اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے بارے میں جان کر اس کی روایات کو متروک قرار دیا ہے اور آپ کے لیے ان حضرات کا علم رجال میں ماہرہوناکافی ہے۔ سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حجاج بن ارطاۃ کے پاس گیا میں اس کا کلام سن رہا تھا اس نے ایک ایسی بات کا ذکر کیا جو میرے نزدیک غلط تھی تو میں نے اس کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی۔ یحییٰ بن سعید القطان فرماتے ہیں: میں نے مکہ میں حجاج بن ارطاۃ کو دیکھا لیکن میں نے اس سے کوئی حدیث نوٹ نہیں کی میں نے کسی شخص کے حوالے سے بھی اس سے کوئی حدیث نوٹ نہیں کی اس کی وجہ یہ ہے کہ: یحییٰ بن سعید کے نزدیک حجاج روایات میں، اضطراب، نقل کرتا ہے یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: حجاج بن ارطاۃ کی نقل کردہ روایت کو استدلال کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا عبداللہ بن ادریس فرماتے ہیں: میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے آدمی اس وقت تک سمجھدار نہیں ہوتا جب تک باجماعت نماز پڑھنانہ چھوڑ دے۔ عیسیٰ بن یونس کہتے ہیں: میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے میں نماز پڑھنے کے لیے نکلتاہوں تو راستے میں مزدور اور سبزی فروش رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ جریر بیان کرتے ہیں: میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا مال اور مرتبہ کی محبت نے مجھے ہلاکت کا شکار کردیا۔ اس مسئلہ کا ایک پہلو یہ ہے: کئی ثقہ راویوں نے اس حدیث کو حجاج بن ارطاۃ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس کے حوالے سے نقل کرنے میں اس روایت میں اختلاف کیا ہے عبدالرحیم بن سلیمان نے حجاج کے حوالے سے اسے ان الفاظ میں نقل کیا ہے جو ہم ان کے حوالے س ے ذکر کرچکے ہیں اس بارے میں عبدالواحد بن زیاد نے ان کی موافقت کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتل خطاء کی دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: اس میں پانچ طرح کے اونٹ ادا کیے جائیں گے، بیس، جذعہ ہوں گے، بیس بنات لبون، ہوں گی بیس، بنولبون، ہوں گے بیس بنات مخاض، ہوں گی، بیس نر، بنومخاض ہوں گے انہوں نے حقہ کی بجائے بنولبون ذکر کیا ہے۔

3366

Sunan al-Daraqutni #3366

Sahih

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكِيلُ أَبِي صَخْرَةَ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا، قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا: خَمْسًا جِذَاعًا، وَخَمْسًا حِقَاقًا، وَخَمْسًا بَنَاتِ لَبُونٍ، وَخَمْسًا بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَخَمْسًا بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ " ، فَجَعَلَ مَكَانَ بَنِي الْمَخَاضِ بَنِي اللَّبُونِ، وَوَافَقَ رِوَايَةَ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Masoud (may Allah be pleased with him) says: The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) gave this decision in the case of killing a sin, it will consist of five types of camels, one type, Jazaa, one type of Haqqah, one type of female Lubun, one type of female Mukhad and one type of male, Banulbon. He has mentioned Banulbon instead of Banumkhaud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتل خطاء کی دیت میں یہ فیصلہ دیا تھا، وہ پانچ قسم کے اونٹوں پر مشتمل ہوگی، ایک قسم، جذعہ، ایک قسم حقہ، ایک قسم بنات لبون، ایک قسم بنات مخاض اور ایک قسم نر، بنولبون ہوگی۔ انہوں نے بنومخاض کی جگہ بنولبون کا ذکر کیا ہے یہ روایت ابوعبیدہ کی سیدنا عبداللہ سے نقل کردہ روایت کے موافق ہے۔