Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 15 · Chapter 3

Marriage

Hadith 3127–3166

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3127

Sunan al-Daraqutni #3127

نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، نَا بَقِيَّةُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا قَوَدَ فِي شَلَلٍ وَلا عَرَجٍ " ."

EnglishUnverified translation

Amr ibn Shuaib narrates this statement of his grandfather regarding his father: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Shall, and, Arj, I will not be retaliated against.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، شلل، اور، عرج، میں قصاص نہیں ہوگا۔

3128

Sunan al-Daraqutni #3128

Da'if

نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْيَقْطِينِيُّ ، نَا رَجُلٌ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الْفَاخُورِيُّ ، نَا ضَمْرَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عَقْلُ الْمَرْأَةِ مثل عَقْلِ الرَّجُلِ، حَتَّى تَبْلُغَ الثُّلُثَ مِنْ دِيَتِهَا " ."

EnglishUnverified translation

Amr ibn Shuaib narrates this statement of his grandfather regarding his father: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: A woman's diet will be equal to a man's diet, until it reaches one-third of a woman's diet.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: عورت کی دیت مرد کی دیت کے برابر ہوگی، جب تک وہ عورت کی دیت کے ایک تہائی تک نہ پہنچ جائے۔

3129

Sunan al-Daraqutni #3129

Sahih

نَا حَمْزَةُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الأَسْكَافِيُّ ، قَالا: نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ الصَّائِغُ ، قَالا: نَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ، نَا أَبِي ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثل ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ، قَالَ لَهُ: مِمَّا أُطَهِّرُكَ، قَالَ: مِنَ الزِّنَا، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِهِ جُنُونٌ؟، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، فَقَالَ: أَشَرِبَ خَمْرًا؟، فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْهَكَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَثَيِّبٌ أَنْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، فَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ، تَقُولُ فِرْقَةٌ: لَقَدْ هَلَكَ مَاعِزٌ عَلَى أَسْوَأِ عَمَلِهِ، لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: أَتَوْبَةٌ أَفْضَلُ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ، فَقَالَ: اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ، قَالَ: فَلَبِثُوا عَلَى ذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةً، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهَا، قَالَ: ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طَهِّرْنِي، قَالَ: وَيْحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: تُرِيدُ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ، قَالَتْ: إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، قَالَ: أَثَيِّبٌ أَنْتِ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: إِذًا لا نَرْجُمُكِ حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ، قَالَ: فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ، فَقَالَ: إِذًا لا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَرَجَمَهَا " ."

EnglishUnverified translation

Ḥamzah ibn al-Qāsim narrated to us, ʿAbbās al-Dūrī narrated to us; and Muḥammad ibn Nūḥ al-Jundaysābūrī narrated to us; and Muḥammad ibn Muḥammad ibn Mālik al-Askāfī narrated to us, saying: Jaʿfar ibn Muḥammad ibn Shākir al-Ṣāʾigh narrated to us, saying: Yaḥyā ibn Yaʿlā ibn al-Ḥārith al-Muḥāribī narrated to us, my father narrated to me, from Ghaylān ibn Jāmiʿ, from ʿAlqamah ibn Marthad, from Sulaymān ibn Buraydah, from his father, who said: "Māʿiz ibn Mālik came to the Prophet, peace and blessings be upon him, and said: 'O Messenger of Allah, purify me.' The Prophet, peace and blessings be upon him, said: 'Woe to you! Go back, seek forgiveness from Allah, and repent to Him.' He said: He went back a short distance, then came and said: 'O Messenger of Allah, purify me.' The Prophet, peace and blessings be upon him, said the same to him. This continued until the fourth time, when the Prophet, peace and blessings be upon him, said: 'From what shall I purify you?' He said: 'From zinā (unlawful sexual intercourse).' The Prophet, peace and blessings be upon him, asked: 'Is he afflicted with insanity?' He was informed that he was not insane. He asked: 'Has he consumed wine?' A man stood up and smelled him but found no smell of wine on him. The Prophet, peace and blessings be upon him, said: 'Are you a thayyib (one who has previously engaged in lawful sexual relations)?' He said: 'Yes.' He was then ordered to be stoned. The people were divided into two groups regarding him. One group said: 'Māʿiz has perished upon the worst of his deeds; his sin has encompassed him.' The other group said: 'Is there any repentance better than the repentance of Māʿiz? A man came to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, placed his hand in his hand, and said: "Kill me with stones."' They remained in that state for two or three days. Then the Prophet, peace and blessings be upon him, came to them while they were sitting. He greeted them, then sat down, and said: 'Seek forgiveness for Māʿiz ibn Mālik.' They said: 'May Allah forgive Māʿiz ibn Mālik.' The Prophet, peace and blessings be upon him, said: 'He has repented a repentance that, if it were distributed among an entire nation, it would suffice them.' Then a woman from Ghāmid, of the Azd, came to him and said: 'O Messenger of Allah, purify me.' He said: 'Woe to you! Go back, seek forgiveness from Allah, and repent to Him.' She said: 'Do you intend to turn me back as you turned back Māʿiz ibn Mālik?' He said: 'What is that?' She said: 'She is pregnant from zinā.' He said: 'Are you a thayyib?' She said: 'Yes.' He said: 'Then we shall not stone you until you deliver what is in your womb.' A man from the Anṣār took responsibility for her until she gave birth. He came to the Prophet, peace and blessings be upon him, and said: 'The Ghāmidī woman has given birth.' He said: 'Then we shall not stone her and leave her infant small, with no one to nurse him.' A man from the Anṣār stood up and said: 'I shall take responsibility for his nursing, O Prophet of Allah.' So he stoned her."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ماعز بن مالک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ، مجھے پاک کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاراستیاناس ہو تم واپس جاؤ، اللہ سے مغفرت طلب کرو اس کی بارگاہ میں توبہ کرو راوی بیان کرتے ہیں: وہ واپس گئے اور تھوڑی دور جاکر پھر واپس آگئے انہوں نے عرض کی، یارسول اللہ، مجھے پاک کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاراستیاناس ہو، تم واپس جاؤ اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو راوی بیان کرتے ہیں: وہ واپس گئے اور تھوڑی دور جاکر پھر واپس آگئے انہوں نے عرض کی یارسول اللہ مجھے پاک کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی کی مانند فرمایا یہاں تک کہ چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا، میں کس چیز سے تمہیں پاک کروں؟ انہوں نے عرض کی: زنا سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اسے کیا جنون لاحق ہے؟ تو آپ کو بتایا گیا یہ مجنون نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا کیا اس نے شراب پیغمبر رکھی ہے؟ تو ایک شخص اٹھا اس نے انہیں سونگھا تو اسے شراب کی بومحسوس نہیں ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں سنگسار کردیا گیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) ان کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ کا یہ کہنا تھا، ماعز اپنے سب سے برے عمل کے ذریعہ ہلاکت کا شکار ہوئے، ان کے گناہ نے انہیں گھیر لیا، دوسرے گروہ کا کہنا تھا، کیا ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ ہوسکتی ہے؟ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس میں دیا اور عرض کی: آپ مجھے پتھروں ک ذریعہ قتل کروادیں، دو تین دن تک یہی صورت حال رہی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، لوگ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کیا، اور تشریف فرما ہوئے پھر آپ نے فرمایا ماعز بن مالک کے لیے دعائے مغفرت کرو اللہ تعالیٰ ٰ ماعز، بن مالک کی مغفرت کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر وہ ایک امت (اس سے مراد گروہ بھی ہوسکتا ہے) کے درمیان تقسیم کی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہوگی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر از د قبیلے کی شاخ غامد قبیلہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یارسول اللہ مجھے پاک کر دیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاراستیاناس ہو، تم واپس جاؤ، اللہ سے مغفرت طلب کرو، اس کی بارگاہ میں توبہ کرو، اس خاتون نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بھی اسی طرح واپس کرنا چاہتے ہو، جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو واپس کیا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ کیوں؟ تو اس نے بتایا: وہ زنا کے نتیجہ میں حاملہ ہوچکی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے عرض کی جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ہم تمہیں اس وقت تک سنگسار نہیں کریں گے، جب تک تم اپنے پیٹ میں موجود (بچے کو) جنم نہیں دیتی پھر ایک انصاری شخص اس عورت کا سرپرست مقرر ہوا، یہاں تک کہ اس عورت نے بچے کو جنم دیا، وہ انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا، اس غامدی عورت نے بچے کو جنم دے دیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابھی ہم اسے سنگسار نہیں کرسکتے، اور اس کے بچے کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے اسے دودھ پلانے کے لیے کوئی نہ ہو تو ایک انصاری نے عرض کی: اے اللہ کے نبی اس بچے کی رضاعت میرے ذمہ ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو سنگسار کروادیا۔ یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم نے اسے ابوکریب کے حوالے سے، یحییٰ بن یعلی، کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے غیلان سے نقل کیا ہے۔

3130

Sunan al-Daraqutni #3130

نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مَنَّاحٍ أَبُو حَامِدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ، وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا " ."

EnglishUnverified translation

Abdul Jabbar bin Wail has narrated this statement of his father: In the time of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), if a woman was forced to commit adultery with him, he did not issue a limit to that woman, but he did issue a limit to the one who violated her. The narrator narrates: It is mentioned in it that the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) bequeathed this woman.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار بن وائل نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا تو آپ نے اس عورت پر حد جاری نہیں کی، البتہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے والے پر حد جاری کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس میں یہ بات مذکور ??ہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو مہردلوایا۔

3131

Sunan al-Daraqutni #3131

مرسل

نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ " ."

EnglishUnverified translation

Taus narrates: The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Whoever is killed (the following words are in the next hadith).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص مارا جائے (اس کے بعد کے الفاظ اگلی حدیث میں ہیں)۔۔

3132

Sunan al-Daraqutni #3132

ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا فَهُوَ خَطَأٌ وَدِيَتُهُ دِيَةُ خَطَإٍ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ، مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " ."

EnglishUnverified translation

Ta'aws narrates the statement of Sayyiduna Ibn Abbas, may Allah be pleased with him: The Prophet, may God bless him and grant him peace, said: Whoever is killed by mistake, or (unknowingly) killed by an arrow, it will be considered as a wrongful killing, and the death of the Prophet will be the death of a wrongful killing, and the person who was killed as a noble killing will have to be avenged.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص غلطی سے مارا جائے، یا (انجانے) تیر سے مارا جائے وہ قتل خطاء شمار ہوگا، اور س کی دیت قتل خطاء کی دیت ہوگی، اور جس شخص کو قتل عمدہ کے طورپر قتل کیا گیا ہو، اس کا قصاص دینالازم ہوگا، جو شخص اس میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا، اس شخص پر اللہ اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔

3133

Sunan al-Daraqutni #3133

مرسل

نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا رِمِّيَّا بِحَجَرٍ، أَوْ ضَرْبًا بِعَصًا، أَوْ سَوْطٍ فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ، وَمَنْ قَتَلَ اعْتِبَاطًا فَهُوَ قَوَدٌ لا يُحَالُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَاتِلِهِ، فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَاتِلِهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ " ."

EnglishUnverified translation

Ta'aws narrates on the authority of Sayyiduna Ibn Abbas, may Allah be pleased with him: The Prophet, may God's prayers and peace be upon him, said: Whoever is killed by mistake, or is killed by a stone, or is killed by a staff, then his death will be the death of culpable homicide, and the death of a person who is killed intentionally will be retribution. Angels and all humans will be cursed, no duty or filial worship of such a person will be accepted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص غلطی سے مارا جائے یاپتھر سے مارا جائے یاعصا یالا تھی کے ذریعہ مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی، اور جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا جائے اس کا قصاص ہوگا، اس شخص اور اس کے قاتل کے درمیان حائل نہیں ہوا جائے گا جو اس شخص اور اس کے قاتل کے درمیان حائل ہوگا، اس پر اللہ تعالیٰ ٰ اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی، ایسے شخص کی کوئی فرض یانفلی عبادت قبول نہیں ہوگی۔

3134

Sunan al-Daraqutni #3134

مرسل

نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَالْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ ، قَالا: نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلانِيُّ ، نَا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ النَّصِيبِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا رِمِّيَّا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِالْحِجَارَةِ، أَوْ عَصًا، فَهُوَ خَطَأٌ عَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ، مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " ، زَادَ الْحُسَيْنُ: " لا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلا عَدْلا "،."

EnglishUnverified translation

Taus, quoting Sayyiduna Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrates this saying of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him): Whoever is killed by mistake, or is hit with a stone or a stick, (and he dies), then this killing will be a mistake, and his death will be the death of the wrongful killing. A narrator named Hussain has quoted these words in excess: Allah will not accept any of his obligatory or posthumous worship.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کو غلطی سے قتل کردیا جائے، یا اسے پتھر یاعصا مارا جائے، (اور وہ مرجائے) تو یہ قتل خطاء ہوگا، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی، لیکن جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا جائے، اس کا قصاص ہوگا، جو شخص قصاص میں رکاوٹ بنے گا، اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔ حسین نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: اللہ تعالیٰ ٰ اس کی کوئی فرض یانفلی عبادت قبول نہیں کرے گا۔

3135

Sunan al-Daraqutni #3135

مرسل

نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ، أنا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْهُ حَمْزَةُ . قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَن عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

EnglishUnverified translation

A similar hadith has been narrated on the authority of Sayyiduna Abu Huraira, the narrator did not mention Hamza in his chain of transmission. Some narrators have quoted it from Sayyiduna Ibn Abbas, may God be pleased with him, with reference to Taus.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند روایت منقول ہے راوی نے اس کی سند میں حمزہ کا ذکر نہیں کیا۔ بعض راویوں نے اسے طاؤس کے حوالے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔

3136

Sunan al-Daraqutni #3136

نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَمْدُ قَوَدٌ إِلا أَنْ يَعْفُوَ وَلِي الْمَقْتُولِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Abbas (may Allah be pleased with him) says: The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "Deliberate killing will be punished, but if the guardian of the deceased wishes, he can forgive it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، قتل عمد کا قصاص ہوگا، البتہ اگر مقتول کا ولی چاہے تو معاف کرسکتا ہے۔

3137

Sunan al-Daraqutni #3137

مرسل

نَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمَّادٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا، أَوْ رِمِّيَّا بِحَجَرٍ، أَوْ عَصًا، أَوْ بِسَوْطٍ عَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ "، مثل قَوْلِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Abbas (RA) says: The Prophet (PBUH) said: The death of a person who is killed by hitting a stone, stick, or stick without knowing it will be the death of a guilty person. This is similar to the statement of Hamad bin Zayd.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس شخص کو انجانے میں، پتھر عصا یالاٹھی مار کر قتل کردیا جائے اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی۔ یہ حماد بن زید کے بیان کی مانند ہے۔

3138

Sunan al-Daraqutni #3138

مرسل

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا كُرْدُوسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَمْدُ قَوَدُ الْيَدِ، وَالْخَطَأُ عَقْلٌ لا قَوَدَ فِيهِ، وَمَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ بِحَجَرٍ، أَوْ عَصًا، أَوْ سَوْطٍ فَهُوَ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ فِي أَسْنَانِ الإِبِلِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Abbas (may Allah be pleased with him) says: The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: There will be retribution for killing on purpose, and for killing by mistake, there will be no retribution. Whoever is killed by mistake with a stone or stick will have retribution, which will be in the form of camels of different ages.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: قتل عمد میں قصاص ہوگا، اور قتل خطاء میں دیت ہوگی، اس میں قصاص نہیں ہوگا، جس شخص کو پتھر یاعصا لاٹھی کے ذریعہ غلطی سے قتل کردیا جائے اس کی، دیت مغلظہ، ہوگی جو مختلف عمر کے اونٹوں (کی شکل میں ہوگی)۔

3139

Sunan al-Daraqutni #3139

مرسل

نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي طَاوُسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ رِمِّيَّا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ، أَحْسَبُهُ قَالَ: أَوْ سِيَاطٍ عَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrates this saying of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him): The person who is accidentally killed by hitting a stone (the narrator doubts that these are the words) or a stick will be killed by mistake, and the person who is killed intentionally will be punished.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کو پتھر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یالاٹھی مار کر غلطی سے قتل کردیا جائے اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہوگی، اور جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا جائے اس کا قصاص ہوگا، جو شخص قصاص میں رکاوٹ بنے گا اس پر اللہ تعالیٰ ٰ کی لعنت ہوگی۔

3140

Sunan al-Daraqutni #3140

مرسل

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْفَعْهُ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ، أَوْ رِمِّيَةٍ بِحَجَرٍ، أَوْ بِسَوْطٍ، أَوْ عَصًا فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ، مَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him, narrates as a hadeeth: (The Holy Prophet, may God bless him and grant him peace, said) Whoever is killed by mistake or is killed by hitting him with a stone or a stick, his death will be the death of a wrongful killing, and the person who is killed intentionally will be punished. Yanaful worship will not be accepted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، مرفوع، حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا) جو شخص غلطی سے مارا جائے یا اسے پتھر یالاٹھی سے مار کر قتل کردیا جائے تو اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہوگی اور جس شخص کو عمدا قتل کیا جائے اس کا قصاص لیا جائے گا، جو شخص اس قصاص میں لعن رکاوٹ بنے گا اس پر اللہ تعالیٰ ٰ اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی، ایسے شخص کی کوئی فرض یانفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔

3141

Sunan al-Daraqutni #3141

نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ: الرَّجُلُ يُصَابُ فِي الرِّمِّيَّا فِي الْقِتَالِ بِالْعَصَا، أَوْ بِالسِّيَاطِ، أَوْ بِالتَّرَامِي بِالْحِجَارَةِ يُودَى وَلا يُقْتَلُ بِهِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ لا يَعْلَمُ مَنْ قَاتِلُهُ، وَأَقُولُ: أَلا تَرَى إِلَى قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهُذَلِيَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا أَنَّهُ لَمْ يَقْتُلْهَا بِهَا وَوَدَاهَا وَجَنِينَهَا " . أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ لَمْ يُجَاوَزْ طَاوُسٌ."

EnglishUnverified translation

Ta'aws narrates: A person who is killed by a stick, a stick, or a stone during a fight will be paid his dowry, but he will not be killed in return, because it is not known who is his killer. I say this: Have you not seen the decision of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) in the case of two women belonging to the Huzail tribe, one of them had killed the other with a stick. This hadith has been narrated by the son of Taus on the authority of his father.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس بیان کرتے ہیں: لڑائی کے دوران جس شخص کو عصا، لاٹھی، یا پتھر مار کر قتل کردیا جائے اس کی دیت ادا کی جائے گی، اس کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ پتہ نہیں ہے کہ اس کا قاتل کون ہے؟۔ میں یہ کہتاہوں: کیا تم نے ہذیل قبیلہ سے تعلق رکھنے والی دوخواتین کے مقدمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ ملاحظہ نہیں کیا ان دو میں سے ایک خاتون نے دوسری کو لاٹھی مار کر قتل کردیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقتول عورت کے بدلے میں قتل کرنے والی عورت کو قتل نہیں کروایا تھا، بلکہ آپ نے مقتول عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کی دیت دلوائی تھی۔ یہ حدیث طاؤس کے صاحبزادے نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے۔

3142

Sunan al-Daraqutni #3142

نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: عِنْدَ أَبِي كِتَابٌ فِيهِ ذِكْرُ الْعُقُولِ، جَاءَ بِهِ الْوَحْيُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَقْلٍ أَوْ صَدَقَةٍ فَإِنَّمَا جَاءَ بِهِ الْوَحْيُ فَفِي ذَلِكَ الْكِتَابِ، وَهُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَتْلُ الْعَمِيَّةِ دِيَتُهُ دِيَةُ الْخَطَأِ، الْحَجَرُ، وَالْعَصَا، وَالسَّوْطُ مَا لَمْ يَحْمِلْ سِلاحًا ."

EnglishUnverified translation

: The sons of Taos narrate this about their father: My father had a book, which contained various types of almsgiving orders, which were revealed to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) through revelation. The act of committing murder shall be the act of culpable homicide, such as by means of a stone, a cane, or a lathi (a murder is committed) while the murderer has not raised a weapon.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

: طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: میرے والد کے پاس ایک تحریر تھی، جس میں مختلف اقسام کی دیت کے احکام تھے، جو وحی کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائے گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت اور صدقہ کے بارے میں جو بھی فیصلے دیے وہ سب وحی کے مطابق تھے اس کتاب میں یہ تحریر تھا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں تھا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے) غلطی سے قتل کیے جانے کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی جیسے پتھر، عصا، یالاٹھی کے ذریعہ (کوئی قتل ہو جائے) جبکہ قاتل نے ہتھیار نہ اٹھایاہو۔

3143

Sunan al-Daraqutni #3143

نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ رِمِّيَّا بِحَجَرٍ، أَوْ عَصًا، أَوْ سَوْطٍ فَفِيهِ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ ."

EnglishUnverified translation

The sons of Taos narrate this statement of their father: A person who is accidentally killed by a stone, a lathi, his death will be miserable.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جس شخص کو غلطی سے پتھر، یالاٹھی کے ذریعہ قتل کردیا جائے، اس کی دیت مغلظہ ہوگی۔

3144

Sunan al-Daraqutni #3144

نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ، مثل قَتْلِ الْعَمْدِ، وَلا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ " ."

EnglishUnverified translation

Amr bin Shuaib narrates this statement of his grandfather regarding his father: The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, the day of suspected murder is like the day of murder, except that the killer will not be killed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے س ے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، شبہ عمد کی دیت بھی، قتل عمد کی دیت کی طرح ہے، البتہ شبہ عمد (کی صورت میں) قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

3145

Sunan al-Daraqutni #3145

قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَسْفِكَنَّ فِيهَا دَمًا، وَلا يَعْضِدَنَّ فِيهَا شَجَرًا، فَإِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ، فَقَالَ: إِنَّهَا أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِيَ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، ثُمَّ إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قُلْتُمْ: هَذَا الْقَتِيلُ مِنْ هُذَيْلٍ، وَإِنِّي عَاقِلُهُ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ، أَوْ يَقْتُلُوا " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Shureeh Kaabi (may Allah be pleased with him) narrates: (The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) declared Makkah Haram. No one who believes in Allah and the Last Day should shed blood in it and cut down its trees. Daya, for me it was also declared halal for a short time, then it will remain Haram until the Day of Judgment is established, O people of Khuza'ah tribe, you killed a person from Huzail tribe, I will give him death.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی شخص اس میں خون نہ بہائے اور یہاں کے درخت نہ کاٹے اگر کوئی شخص عذر پیش کرتے ہوئے یہ کہے کہ اللہ کے رسول کے لیے اسے حلال قرار دیا گیا تھا تو اللہ نے اسے میرے لیے تھوڑے سے وقت کے لیے حلال قرار دیا تھا، اسے دوسرے لوگوں کے لیے حلال قرار نہیں دیا، میرے لیے بھی یہ تھوڑی سی دیر کے لیے حلال قرار دیا گیا پھر قیامت قائم ہونے تک یہ حرم رہے گا، اے خزاعہ قبیلہ کے لوگو تم نے ہذیل قبیلہ کے ایک شخص کو قتل کردیا تھا میں اس کی دیت دوں گا، میرے اس بیان کے بعد جن لوگوں کا کوئی شخص قتل ہو جائے انہیں دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا، یا تو وہ دیت وصول کرلیں (یاقصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کردیں۔

3146

Sunan al-Daraqutni #3146

قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ إِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَدْ قَتَلْتُمْ: هَذَا الْقَتِيلُ مِنْ هُذَيْلٍ، وَأَنَا عَاقِلُهُ، فَمَنْ قُتِلَ بَعْدُ فَأَوْلِيَاءُ الْقَتِيلِ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ " ."

EnglishUnverified translation

The same hadith has been narrated along with another chain of transmission, but it has these words: O people of Khuza'ah tribe, you killed a person of Huzail Qila, I will pay his dowry. Whoever is killed after that, the deceased's survivors will have one of two options: if they like, they will kill (the murderer as revenge) and if they like, they will receive dowdy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اے خزاعہ قبیلہ کے لوگو تم لوگوں نے ہذیل قیلہ کے ایک شخص کو قتل کردیا تھا میں اس کی دیت ادا کروں گا، اس کے بعد جو شخص قتل ہوگا، تو مقتول کے پسماندگان کو دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا، اگر وہ پسند کریں تو (قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کردیں گے اور اگر وہ پسند کریں تودیت وصول کرلیں۔

3147

Sunan al-Daraqutni #3147

نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ، وَالْخَبْلُ عَرَجٌ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاثٍ، فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، بَيْنَ أَنْ يُقْتَصَّ، أَوْ يَعْفُوَ، أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ، فَإِنْ قَبِلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Shareeh Al-Khuza’i (may Allah be pleased with him) narrates: I heard the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) saying: “Whoever is killed or is afflicted with khabl, (says the narrator) khabl means ‘arj (i.e. becoming lame), then he will have the option of one of three things. If he takes one of these forms and then commits adultery after that, he will go to hell where he will remain forever.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص قتل ہو جائے یا اسے خبل لاحق ہو، (راوی کہتے ہیں) خبل سے مراد عرج (یعنی لنگڑا ہوجانا) ہے تو اسے تین میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا، اگر وہ کوئی چوتھی صورت چاہے تو اس کے ہاتھ پکڑ لو (وہ تین صورتیں یہ ہیں) وہ قصاص لے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کرلے، اگر وہ ان میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرلے تو پھر اس کے بعد زیادتی کرے تو وہ جہنم میں جائے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔

3148

Sunan al-Daraqutni #3148

Da'if

نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ رَزِينٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْتَى الْخَلْقِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَمَنْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تُبْصِرْ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Shareeh Al-Khuza’i (may Allah be pleased with him) narrates: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: The most disliked of His creatures in the sight of Allah is the person who kills someone unjustly, and the person who demands the blood of the age of ignorance, and the person who shows his eyes in sleep what they did not see (i.e. narrates a false dream).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ٰ کے نزدیک اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہے جو کسی کو ناحق قتل کر دے، اور وہ شخص ہے جو زمانہ جاہلیت کے خون (کے بدلہ) کا طلب گار ہے، اور وہ شخص ہے جو اپنی آنکھوں کو نیند میں وہ چیز دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھی (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)۔

3149

Sunan al-Daraqutni #3149

نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَازُ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَدِمَ عَلَيْنَا فِي الْمَوْسِمِ، سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ، نَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَمْ تُحَلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، وَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، فَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلا يُخْتَلَى شَجَرُهَا، وَلا تَحِلُّ سَقْطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، أَوْ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ " ، الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ " إِمَّا أَنْ يُودِي، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ "، فَقَامَ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: إِلا الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلا الإِذْخِرَ "، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، قَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " . قَالَ الْوَلِيدُ: قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ: مَا قَوْلُهُ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (RA) narrates: When the Prophet (PBUH) conquered Makkah, he stood in front of the people to give a sermon. After praising Allah, he said: "Indeed, Allah Almighty did not allow elephants to enter Makkah, but He gave dominion over it to His Messenger and the believers. It was not lawful for anyone before me, and it was declared lawful for me in a certain part of the day, and it will not be lawful for anyone after me. The game here will not be chased away, the tree here will not be cut, the fallen object here will not be picked up, but it can be picked up to make an announcement, to someone who is dear to him. If he is killed, he will have the option of one of two things, either he should be paid a dowry or he should be killed (as revenge), then Sayyiduna Abbas stood up and said, O Messenger of Allah: Allow us to cut the grass called Azhar, because we use it in our houses and graves. A gentleman named Abu Shah, who belonged to Yemen, said: O Messenger of Allah! Write it to me, so the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, write it to Abu Shah. A narrator named Walid narrates: I asked Imam Uza'i: What is meant by this sentence (of Sayyidna Abu Shah)? Write it to me! So he said: That is the sermon that he heard from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ لوگوں کے دریان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:۔ '' بیشک اللہ تعالیٰ ٰ نے مکہ میں ہاتھیوں کو داخل نہیں ہونے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطاء کیا یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں تھا، اور میرے لیے بھی دن کے کسی ایک مخصوص حصے میں حلال قرار دیا گیا اور میرے بعد یہ کسی کے حلال نہیں ہوگا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جاسکتا ہے، جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا، یا تو اسے دیت ادا کردی جائے یا (قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کردیا جائے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی یارسول اللہ: اذخر (نامی گھاس کاٹنے کی اجازت دیجئے) کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اذکر (کاٹنے کی اجازت ہے)۔ ابوشاہ نامی ایک صاحب جو یمن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! یہ مجھے لکھوادیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابوشاہ کو لکھ کر دے دو۔ ولید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے امام اوزاعی سے دریافت کیا: (سیدنا ابوشاہ کے) اس جملہ سے مراد کیا ہے؟ یہ مجھے لکھوادیں! تو انہوں نے فرمایا: یعنی وہ خطبہ جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔

3150

Sunan al-Daraqutni #3150

ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ . ح وثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالا: نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

This tradition is narrated from Imam Uza'i along with another chain of transmission.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ امام اوزاعی سے منقول ہے۔

3151

Sunan al-Daraqutni #3151

نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلُّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، أَلا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لا يُخْتَلَى خَلاهَا، وَلا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلا تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ، وَإِمَّا أَنْ يُفَادِيَ أَهْلَ الْقَتِيلِ "، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اكْتُبُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبُوا لأَبِي فُلانٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: إِلا الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلا الإِذْخِرَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (RA) narrates: The people of Khuza'ah tribe killed a member of the tribe in revenge for one of their slain in the year of the conquest of Makkah. "Allah did not allow elephants to enter Makkah, but He gave His Messenger and the believers dominion over it. It was not lawful for anyone before me, and it will not be lawful for anyone after me. Remember! It became lawful for me also up to a certain part of the day, now at this time it is Haram, the thorn here cannot be broken, the tree here cannot be cut, the fallen object here cannot be picked up, but it can be picked up to announce, if a person's loved one is killed, then he will have the option of one of two things either to kill the killer (in Qisas) or to pay the dowry to the relatives of the slain. (The narrator narrates) A man from Yemen came and said: O Messenger of Allah, write it down for me, so the Prophet said: Write it down to Abu So-and-So. A man from Quraysh said: O Messenger of Allah, allow me to cut the azhar, because we use it in our houses and graves.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خزاعہ قبیلہ کے لوگوں نے فتح مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے بدلہ میں بنولیث کے ایک فرد کو قتل کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا تو آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔ '' اللہ تعالیٰ ٰ نے ہاتھیوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا لیکن اسنے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطا کی ایاد رکھنا یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا، اور میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہوگا، یاد رکھنا! یہ میرے لیے بھی دن کے ایک مخصوص حصہ تک حلال ہوا، اب اس وقت یہ حرم ہے، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جاسکتا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جاسکتا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جاسکتا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جاسکتا ہے، اگر کسی شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہوگا یا تو (قاتل کو قصاص میں) قتل کردیا جائے یامقتولین کے لواحقین کو دیت ادا کردی جائے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) یمن سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب آئے اور انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ یہ مجھے لکھوادیں، تو نبی نے فرمایا ابوفلاں کو لکھ کر دے دو قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ: آپ اذخر (کاٹنے کی اجازت دیں) کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذخر (کاٹنے کی اجازت ہے)۔

3152

Sunan al-Daraqutni #3152

نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَجْرَدِ ، عَنْ مَالِكٍ الأَشْتَرِ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدَكِ سَمِعْنَا أَشْيَاءَ فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ؟، قَالَ: لا، إِلا مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِي عِلاقَةِ سَيْفِي، فَدَعَا الْجَارِيَةَ فَجَاءَتْ بِهَا، فَقَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ فَهِيَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا، أَنْ لا يُعْضَدَ شَوْكُهَا، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَالْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، لا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " ،."

EnglishUnverified translation

Malik Ishtar narrates: I attended the service of Sayyiduna Ali, may God be pleased with him. I said: O Commander of the Faithful! When we got up from you, we heard some things, did the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) give you anything other than the Qur'an? Then Sayyiduna Ali (RA) said: No, it is only this scripture that is in the hilt of my sword. Then Sayyiduna Ali (RA) called the maidservant and she brought this scripture (it had this writing: The Prophet (PBUH) said: "Surely Sayyiduna Ibrahim (peace be upon him) declared Makkah Haram, and I declare Madinah Haram, between the rocky land on both sides (Madinah Munawarah) is Haram. The thorn here cannot be broken, the prey here cannot be chased away. Whoever invents any heresy or harbors any heresy, Allah will curse him with his angels and all the people. Compared to others, all believers are like a hand, their blood is of equal importance. If they are pregnant, the shelter given by an ordinary person will be recognized and no Muslim can be killed in revenge of an infidel.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک اشتر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوا میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ کرگئے تو ہم نے کچھ باتیں سنی ہیں، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز بطور خاص آپ کو دی؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں صرف یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار کے دستے میں ہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کنیز کو بلایا تو وہ اس صحیفے کو لے کر آئی (اس میں یہ تحریر تھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) ارشاد فرمایا ہے:۔ '' بیشک سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتاہوں، دونوں طرف کی سنگلاح زمین کے درمیان موجود (مدینہ منورہ) حرم ہے یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جاسکتا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جاسکتا، جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی دوسروں کے مقابلے میں تمام اہل ایمان ایک ہاتھ کی مانند ہیں ان کے خون یکساں اہمیت کے حامل ہیں ان کے کسی عام فرد کی دی ہوئی پناہ کو تسلیم کیا جائے گا اور کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جاسکتا۔۔

3153

Sunan al-Daraqutni #3153

قَالَ حَجَّاجٌ: وَحَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَهُ، إِلا أَنْ يَخْتَلِفَ مَنْطِقُهَا فِي الشَّيْءِ فَأَمَّا الْمَعْنَى فَوَاحِدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Huhaifa has narrated the same on the authority of Sayyiduna Ali, his words are slightly different, but the meaning is the same.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحجیفہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کیا ہے، اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں تاہم مفہوم ایک ہی ہے۔

3154

Sunan al-Daraqutni #3154

Da'if

نَا نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: إِنَّ أَعْمَى كَانَ يَنْشُدُ فِي الْمَوْسِمِ فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ لَقِيتُ مُنْكَرَا هَلْ يَعْقِلُ الأَعْمَى الصَّحِيحَ الْمُبْصِرَا خَرَّا مَعًا كِلاهُمَا تَكَسَّرَا وَذَلِكَ أَنَّ الأَعْمَى كَانَ يَقُودُهُ بَصِيرٌ فَوَقَعَا فِي بِئْرٍ، فَوَقَعَ الأَعْمَى عَلَى الْبَصِيرِ فَمَاتَ الْبَصِيرُ، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعَقْلِ الْبَصِيرِ عَلَى الأَعْمَى ."

EnglishUnverified translation

Musa bin Ali narrates: I have cursed my father during the caliphate of Sayyiduna Umar (may Allah be pleased with him) on the occasion of Hajj (reciting these verses) in a loud voice. "O people! A wrong situation came before me that a blind person would pay the death of a sighted person, when they both fell together and both were injured. It happened that a blind person was accompanying the blind man, they both fell into a well, and the blind man fell on top of the blind man, as a result of which the blind man died, so Sayyiduna Umar, may Allah be pleased with him, gave this decision, the blind man will pay the death of the blind man.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن علی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کوسنا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حج کے موقع پر ایک شخص بلند آواز میں (یہ اشعار پڑھ رہا تھا)۔ '' اے لوگو! ایک غلط صورت حال میرے سامنے آئی ہے کیا ایک اندھاشخص ایک صحیح دیکھنے والے شخص کی دیت ادا کرے گا، جب کہ وہ دونوں ایک ساتھ گرے تھے اور دونوں زخمی ہوئے تھے۔ اس کی صورت یوں ہوئی کہ ایک بینا شخص اس اندھے کو ساتھ کرلے جارہا تھا، وہ دونوں ایک کنوئیں میں گرگئے تو وہ نابینا شخص اس بینا شخص کے اوپرگرا جس کے نتیجے میں وہ بینا شخص فوت ہوگیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا، وہ نابینا اس بیناشخص کی دیت ادا کرے گا۔

3155

Sunan al-Daraqutni #3155

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ أَحْمَدُ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْيَقْطِينِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ زُنِيَ بِفُلانَةَ، امْرَأَةٌ سَمَّاهَا، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا، فَأَنْكَرَتْ فَرَجَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكَهَا " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Sahl bin Sa’d (may Allah be pleased with him) narrates: A man came to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and said: O Messenger of Allah, he has committed adultery with such and such a woman. He also mentioned the woman’s name. (i.e.) did not punish him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یارسول اللہ اس نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ہے، اس نے اس خاتون کا نام بھی لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کے پاس آدمی بھیجا جس نے اس سے (اس الزام کے) بارے میں دریافت کیا، اس خاتون نے انکار کردیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مرد کو سنگسار کروادیا اور اس خاتون کو ترک کردیا (یعنی) اسے سزا نہیں دی)۔

3156

Sunan al-Daraqutni #3156

مرسل

نَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ فُلَيْحٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ وَلِيدَةً فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَتْ مِنَ الزِّنَا، فَسُئِلَتْ مَنْ أَحْبَلَكِ؟، قَالَتْ: أَحْبَلَنِي الْمُقْعَدُ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَضَعِيفٌ عَنِ الْجَلْدِ، فَأَمَرَ بِمِائَةِ عُثْكُولٍ فَضَرَبَهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً " ، كَذَا قَالَ، وَالصَّوَابُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Sahl bin Sa'd (may Allah be pleased with him) narrates: During the time of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), a girl became pregnant as a result of adultery. He was asked: Who made you pregnant? He said: I have been impregnated by Al-Muqaad (namely Sahib). When he was asked about this, he confessed his crime. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: He will not be able to bear the whip. So, under the order of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), he took 100 twigs and gave him a single blow. The narrator has described it in the same way, but it is true that it is narrated from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) on the authority of Abu Hazim, on the authority of Sayyidina Abu Umamah bin Sahl (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک لڑکی زنا کے نتیجے میں حاملہ ہوگئی، اس سے پوچھا: گیا تمہیں کس نے حاملہ کیا ہے؟ اس نے بتایا: مجھے المقعد (نامی صاحب) نے حاملہ کیا ہے، ان صاحب سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کوڑے برداشت نہیں کرسکے گا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت 100 ٹہنیاں لے کر ان کے ذریعہ اس شخص کو ایک ہی ضرب لگائی گئی۔ راوی نے اسی طرح بیان کیا ہے، لیکن درست یہ ہے یہ ابوحازم کے حوالے سے، سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے۔

3157

Sunan al-Daraqutni #3157

نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ مَقْعَدٌ عِنْدَ جِدَارِ أُمِّ سَعْدٍ، فَفَجَّرَ بِامْرَأَةٍ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضْرَبَ بِأَثْكَالِ النَّخْلِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abu Umamah bin Sahl (RA) narrates this on the authority of Sayyidna Abu Saeed Khudri (RA): A man named Anjat lived near the house of Sayyidna Sa’d (RA), he committed adultery with a woman. Imam Dar Qutni says: (In this hadith, the word Ikhtal is used), but the correct word is Ishkal, (i.e. palm branches).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: مقعد نامی صاحب، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس رہتے تھے، انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ زنا کیا، جب ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت، انہیں کھجور کی شاخیں ماری گئیں۔ امام دار قطنی فرماتے ہیں: (اس روایت میں لفظ اکثال استعمال ہوا ہے) لیکن درست لفظ، اثکال، (یعنی کھجور کی شاخیں) ہے۔

3158

Sunan al-Daraqutni #3158

نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السُّيُوطِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ مَقْعَدًا أُحَيْنَ، فَذُكِرَ مِنْهُ زَمَاتَةً كَانَ عِنْدَ جِدَارِ أُمِّ سَعْدٍ فَفَجَرَ بِامْرَأَةٍ حَمَلَتْ، فَسُئِلَتْ فَقَالَتْ: هُوَ مِنْهُ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْلَدَ بِأَثْكَالِ النَّخْلِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abu Umamah Radiyallahu Anhu narrates this statement of Sayyidna Abu Saeed Khudri Radiyallahu Anhu: The stomach of a Sahib called Anus was slightly enlarged. He lived near the house of Umm Saad. A girl became pregnant.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مقعد نامی صاحب کا پیٹ کچھ بڑھا ہوا تھا، وہ ام سعد کے گھر کے پاس رہتے تھے ایک لڑکی حاملہ ہوگئی، اس سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے بتایا وہ ان (مقعد نامی صاحب) سے حاملہ ہوئی ہے ان صاحب نے بھی اعتراف کرلیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں کھجوروں کی شاخوں کے ذریعہ سزا دی گئی۔

3159

Sunan al-Daraqutni #3159

نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، نَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَمَلَتْ أَمَةٌ فِي بَنِي سَاعِدَةَ مِنَ الزِّنَا، فَلَمَّا وَضَعَتْ قِيلَ لَهَا مِمَّنْ وَلَدُكِ؟، قَالَتْ: مِنْ فُلانٍ، إِنْسَانٌ نَضْوٌ مَمْسُوحٌ كَأَنَّهُ خَرْشَاءُ مِنْ ضَعْفِهِ، فَسُئِلَ الْمَقْعَدُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَتْ هُوَ مِنِّي، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَالَ، وَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَيْئَةِ الرَّجُلِ وَأَنَّهُ لا مَضْرِبَ فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا لَهُ عُثْكُولا، يَعْنِي عَذْقًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ، فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً " ، فَفَعَلُوا."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Umamah bin Sahl (RA) narrates the statement of his father: A maidservant of Banus Sa'ida became pregnant as a result of adultery, and when she gave birth to a child, he asked her: "Whose child is your child?" He replied: So, he (the accused) was a thin and weak person, his skin was like that of a snake due to weakness. Lo, which has a hundred branches, and he struck it once, so did the people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: بنوساعدہ کی ایک کنیز زنا کے نتیجہ میں حاملہ ہوگئی، جب اس نے بچے کو جنم دے دیا، تو اس سے پوچھا: گیا: تمہارا بچہ کس کی اولاد ہے؟ اس نے جواب دیا: فلں کی، وہ (ملزم) ایک نحیف اور کمزور شخص تھا، کمزوی کی وجہ سے اس کی جلد سانپ کی طرح تھی، اس سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو وہ بولا: اس نے سچ کہا: ہے وہ بچہ میری اولاد ہے، یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی حالت کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے مارا نہیں جاسکتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کے لیے شاخیں لو، جس میں سو ٹہنیاں ہوں اور وہ ایک مرتبہ اسے ماردو تو لوگوں نے ایساہی کیا۔

3160

Sunan al-Daraqutni #3160

Hasan

نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارِسْتَانِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَدَعَا وَلِيَّهَا، فَقَالَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَأْتِنِي، فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُدَّتْ أَوْ شُكَّتْ ثِيَابُهَا عَلَيْهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهُ: رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا؟، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا سَبْعُونَ مُذْنِبًا لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا! " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Imran bin Hussain (may Allah be pleased with him) narrates: A woman came to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) who had become pregnant as a result of adultery. The clothes were tied well and then she was stoned. Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) performed her funeral prayer. It was submitted to him that he first stoned her to death and then performed her funeral prayer. Who sacrifices himself (in obedience to Allah's command).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو زنا کے نتیجہ میں حاملہ ہوگئی تھی، اس نے عرض کی یارسول اللہ میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد قائم کریں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور ہدایت کی: تم اس کا خیال رکھو جب یہ بچے کو جنم دے تو اسے میرے پاس لے آنا، اس شخص نے ایساہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے جسم پر لباس کو اچھی طرح باندھ دیا گیا پھرا سے سنگسار کردیا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی پہلے آپ نے اسے سنگسار کردیا اور پھر اس کی نماز جنازہ بھی ادا کرلی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر 70 گناہ گار توبہ کرتے تو ان کے لیے کافی ہوتی، کیا تمہیں اس سے افضل کوئی شخص مل سکتا ہے؟ جو اپنے آپ کو (اللہ کے حکم کی فرماں برداری میں) قربان کر دے۔

3161

Sunan al-Daraqutni #3161

Hasan

نَا عَبْدُ اللَّهِ ، نَا يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا هِشَامٌ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: رَجَمْتَهَا، وَقَالَ: لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ! " ،."

EnglishUnverified translation

The same hadith is narrated along with another chain of transmission, however, it contains these words: Sayyiduna Umar (may Allah be pleased with him) said to him: You have stoned him, (and now offered the funeral prayer). The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: If all the people of Madinah did this repentance, it would be enough for them all.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: آپ نے اسے سنگسار کردیا، (اور اب نماز جنازہ بھی ادا کرلی) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر مدینہ کے تمام افراد یہ توبہ کرتے تو یہ ان سب کے لیے کافی ہوتی، کیا تمہیں اس سے افضل کوئی شخص مل سکتا ہے جو اللہ کے لیے اپنی جان دیدے۔

3162

Sunan al-Daraqutni #3162

Hasan

نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُهَلَّبِ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Imran bin Hussain (may Allah be pleased with him) narrates: A woman from the tribe of Jahaina came to the service of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے)۔

3163

Sunan al-Daraqutni #3163

مرسل

نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ، فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ: تُبْ إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ: قَدْ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، قَالَ: تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ " ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، مُرْسَلا."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrates: A thief was brought to the service of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) who had stolen a cloak. The people said: O Messenger of Allah, he has stolen. The thief said: O Messenger of Allah, yes, the Prophet said, take him and cut off his hand, then apply a scar (so that the blood will flow) and then bring him to me. Accepted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی، لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہ، اس نے چوری کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کیا واقعی اس نے چوری کی ہے؟ چور نے عرض کی: یارسول اللہ، جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسے لے جاؤ اور اس کا ہاٹھ کاٹ دو، پھرا سے داغ لگاؤ (تاکہ خون بہنا پسند ہو جائے) پھرا سے میرے پاس لاؤ، اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو، وہ بولا: میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی۔

3164

Sunan al-Daraqutni #3164

مرسل

نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ قَدْ سَرَقَ شَمْلَةً، فَقَالَ: أَسَرَقْتَ مَا إِخَالُهُ سَرَقَ، قَالَ: بَلَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْطَعُوهُ ثُمَّ احْسِمُوهُ، فَقَطَعُوهُ ثُمَّ حَسَمُوهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُبْ، فَقَالَ: تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " ،."

EnglishUnverified translation

Muhammad Bin Abd al-Rahman narrates: A thief was brought to the service of the Prophet (peace be upon him) who had stolen a cloak. The Prophet (peace be upon him) said: Have you really stolen? He said yes. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: cut off his hand and put a scar on it. The people cut off his hand and then put a scar on it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا جس نے چادر چوری کی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے واقعی چوری کی ہے؟ اس نے عرض کی جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کا ہاٹھ کاٹ دو پھرا سے داغ لگاؤ لوگوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا پھرا سے داغ لگایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا، تم توبہ کرو، وہ بولا: میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ اس کی توبہ قبول کرلے۔

3165

Sunan al-Daraqutni #3165

مرسل

نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، نَا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا سَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Abd al-Rahman has narrated a similar tradition from the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) on the authority of Sayyidina Abu Huraira (may Allah be pleased with him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالرحمن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مانند روایت نقل کی ہے۔

3166

Sunan al-Daraqutni #3166

نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا يَعِيشُ بْنُ الْجَهْمِ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: إِذَا سَرَقَ السَّارِقُ قُطِعَتْ يَدُهُ الْيُمْنَى، فَإِنْ عَادَ قُطِعَتْ رِجْلُهُ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَادَ ضَمِنَتْهُ السِّجْنُ حَتَّى يُحَدِّثَ خَيْرًا، إِنِّي أَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ أَنْ أَدَعَهُ لَيْسَ لَهُ يَدٌ يَأْكُلُ بِهَا وَيَسْتَنْجِي بِهَا، وَرَجُلٌ يَمْشِي عَلَيْهَا " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ali (may Allah be pleased with him) says: When a person steals, his right hand should be cut off. If he steals again, his left foot should be cut off. If he steals again, I will imprison him and keep him in prison until he recovers. having no feet by which to walk.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: جب کوئی شخص چوری کرے تو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے، اگر وہ دوبارہ چوری کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے اگر وہ پھر چوری کرے تو میں اسے قید کردوں گا، اور اس وقت تک قید رکھوں گا جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوجاتا، مجھے اس بات سے اللہ سے حیاء آتی ہے کہ میں اس (چور) کو ایسی حالت میں کردوں کہ اس کا کوئی ہاتھ بھی نہ ہو، جس کے ذریعہ وہ کچھ کھاسکے یا استنجاء کرسکے، یا اس کا کوئی پاؤں نہ ہو جس کے ذریعہ وہ چل سکے۔