Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 15 · Chapter 1

Marriage

بَابُ الْجَعَالَةِباب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان

12 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3075

Sunan al-Daraqutni #3075

ثنا أَبُو طَالِبٍ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ ، نَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ ، نَا الْحُنَيْنِيُّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا جَلَبَ وَلا جَنَبَ وَلا اعْتِرَاضَ، وَلا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ إِذَا حَلَبَهَا بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " ، تَابَعَهُ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْمُصَرَّاةِ . حَدَّثَ عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ عِيسَى وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَبُو شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."

EnglishUnverified translation

Kathir bin Abdullah narrated this statement of his grandfather regarding his father. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “There is no status of ``Jalab, Junab, Objection.'' saw Asim bin Ubaidullah has followed Sayyiduna Abdullah bin Umar, may Allah be pleased with him, on the authority of Salem, in narrating it about Misrat. Hasan bin Amara has narrated from the Holy Prophet, may God bless him and grant him peace, on the authority of Ibn Abi Layli, on the authority of Sayyiduna Ali, on the authority of Sayyiduna Ali. A narrator named Abu Shiba has narrated it from Sayyidina Abu Huraira (RA). A narrator named Shuba has narrated it on the authority of a Companion (whose name is not mentioned).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جلب، جنب، اعتراض) کی کوئی حیثیت نہیں ہے) شہری، شخص دیہاتی کے لیے کوئی سودا نہ کرے اونٹنی یابکری کا تصریہ نہ کیا جائے جو شخص تصریہ والے جانور کو خرید لے اور اس کا دودھ دوہ لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا اگر وہ چاہے تو اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے اور ساتھ میں کھجور کا ایک صاع دیدے۔ عاصم بن عبیداللہ نے سالم کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مصرات کے بارے میں اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے ان کے حوالے سے داؤد بن عیسیٰ نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ حسن بن عمارہ نے حکم کے حوالے سے ابن ابی لیلی کے حوالے سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ ابوشیبہ نامی راوی نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ شعبہ نامی راوی نے اسے ایک صحابی کے حوالے سے (جن کا نام مذکور نہیں ہے) روایت کیا ہے۔

3076

Sunan al-Daraqutni #3076

ثنا أَبُو طَالِبٍ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ الْكَاتِبُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبِي ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةَ، الْمُحَاضَرَةِ، وَالْمُلامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ " ، قَالَ عُمَرُ: فَسَّرَهُ أَبِي: الْمُحَاضَرَةُ لا يَشْتَرِي شَيْئًا مِنَ الْحَرْثِ وَالنَّخْلِ حَتَّى يَوْنِعَ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ، وَأَمَّا الْمُنَابَذَةُ فَيَرْمِي بِالثَّوْبِ وَيَرْمِي إِلَيْكُمْ مِثْلَهُ، فَيَقُولُ: " هَذَا لَكَ بِهَذَا "، وَالْمُلامَسَةُ يَشْتَرِي الْمَبِيعَ فَيَلْمَسَهُ لا يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَالْمُحَاقَلَةُ كِرَاءُ الأَرْضِ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Anas bin Malik (RA) narrates that the Prophet (PBUH) forbade Muhakla, Mukhazara, Malamsa, Manabza and Muzabna. A narrator named `Umar (bin Yunus) narrated this. My father explained it as follows. Mukhadra means that a buyer will not buy a field or an orchard of date palms until they are red or yellow (i.e. the produce is ripe). Manabaza means that the buyer will throw the cloth to the seller and the seller will throw the cloth to the buyer and say that it is yours in exchange for it. The relationship is that the buyer will buy the goods even though he has not even seen the goods. Mohakla refers to land on rent.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ منع کیا ہے۔ عمر (بن یونس) نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرے والد نے اس کی وضاحت یوں کی ہے مخاضرہ سے مراد یہ ہے خریدار کسی کھیت یاکھجوروں کے باغ کو اسوقت تک نہیں خریدے گا جب تک وہ سرخ یازرد نہیں ہوجاتے (یعنی پیداوار پک نہیں جاتی)۔ منابذہ سے مراد یہ ہے خریدار فروخت کرنے والے کی طرف اور فروخت کرنے والاخریدنے والے کی طرف کپڑا پھینکے گا اور کہے گا یہ اس کے عوض میں تمہارا ہوا۔ ملامسہ یہ ہے خریدنے والا سامان خریدے گا حالانکہ اس نے سامان کو دیکھا بھی نہیں ہوگا۔ محاقلہ سے مراد زمین کرائے پر دینا ہے۔

3077

Sunan al-Daraqutni #3077

Da'if

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو بَكْرٍ وَرَّاقٌ الْحُمَيْدِيُّ ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِلْحَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: مِلْحُ شَذَّا بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ، ثُمَّ إِنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَرَدَتْ عَلَى الْمِلْحِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهِيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا مِلْحٌ، وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مثل الْمَاءِ الْعِدِّ، فَاسْتَقَالَ أَبْيَضُ فِي قَطِيعَةِ الْمِلْحِ، فَقَالَ أَبْيَضُ: قَدْ أَقَلْتُكَ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ، وَهَذَا مثل الْمَاءِ الْعِدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ، قَالَ: فَقَطَعَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَنَخِيلا بِالْجُرُفِ، جُرُفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ فِيهِ " ، قَالَ فَرَجٌ: فَهُوَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ."

EnglishUnverified translation

Thabit bin Saeed narrates this statement of his grandfather Sayyidna Abayd bin Hamal regarding his father. He asked the Prophet, may God bless him and grant him peace, for that piece of land, which he said: "I used to go and it was Marib." The Prophet, may God bless him and grant him peace, gave him that piece of land. I went to a place called Malh, in the age of Jahiliyyah, that is a place where?? There is no salt, whoever reaches there can get it. Its example is that of flowing water which does not stop flowing. Then Iqra asked Abayd about the piece of land of salt, then Sayyiduna Abayd said: I am making it with you on the condition that you will use it as charity on my behalf. Of the water flowing from the fountain, whoever reaches it will use it. The narrator narrates that the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) granted him some land and a date garden at the place of Jarf, meaning Jarf. Narrator named Faraj bin Saeed has narrated this. It was also the case that whoever reaches it will get it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بن سعید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا ابیض بن حمال کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ قطعہ اراضی مانگا جسے، ملح شذا، کہا: جاتا تھا اور یہ، مارب، میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ قطعہ اراضی انہیں عطاء کردیا پھر اقرع بن حابس تمیمی نے عرض کی اے اللہ کے نبی! میں زمانہ جاہلیت میں، ملح، نامی جگہ گیا تھا وہ ایک ایسی جگہ ہے جہا?? نمک نہیں ہے، جو شخص وہاں پہنچ جائے وہ اسے حاصل کرسکتا ہے اس کی مثال اس بہتے ہوئے پانی کی ہے جس کا بہاؤ ختم نہیں ہوتا، پھر اقرع نے، ملح،، کے قطعہ اراضی کے بارے میں ابیض سے اقالہ کی فرمائش کی تو سیدنا ابیض نے کہا: میں اس میں شر ط پر تمہارے ساتھ اقالہ کرتا ہوں کہ تم اسے میری طرف سے صدقے کے طور پر استعمال کرو گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے، اس کی مثال چشمے سے بہتے ہوئے پانی کی ہے جو شخص اس تک پہنچ جائے گا وہ اسے استعمال کرے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں، جرف، کے مقام پر کچھ زمین اور کھجور کا باغ عنایت کیا تھا اس سے مراد، جرف، مراد ہے یہ عطاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت کی جب انہوں نے اس میں اقالہ کرلیا۔ فرج بن سعید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے اس کی بھی یہی صورت تھی جو اس تک پہنچ جائے گا وہ اسے حاصل کرلے گا۔

3078

Sunan al-Daraqutni #3078

Da'if

ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِي جَمِيلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّ نَفَرًا اشْتَرَكُوا فِي زَرْعٍ، مِنْ أَحَدِهِمُ الأَرْضُ، وَمِنَ الآخَرِ الْفَدَّانُ، وَمِنَ الآخَرِ الْعَمَلُ، وَمِنَ الآخَرِ الْبَذْرُ، فَلَمَّا طَلَعَ الزَّرْعُ ارْتَفَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْغَى الأَرْضَ وَجَعَلَ لِصَاحِبِ الْفَدَّانِ كُلَّ يَوْمٍ دِرْهَمًا، وَأَعْطَى الْعَامِلَ كُلَّ يَوْمٍ أَجْرًا، وَجَعَلَ الْغَلَّةَ كُلَّهَا لِصَاحِبِ الْبَذْرِ " ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مَكْحُولا، فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ وَصِيفٌ، هَذَا مُرْسَلٌ وَلا يَصِحُّ، وَوَاصِلٌ هَذَا ضَعِيفٌ."

EnglishUnverified translation

Mujahid narrates that a few people decided to work jointly in an agricultural land, one of them had the land, another person was to provide agricultural implements, a third person was to work in the field, and a fourth person was to provide seeds. ordered to be done, fixed the wages for the person who had to labor in the field, and declared the man who supplied you to be the owner of all the produce. The narrator narrates that I narrated this hadith to Makhool, so he said, "I would not have been happy if I had received Wasif in exchange for this hadith." This Hadith is transmitted by Messenger and is authentic. The narrator of this tradition is weak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں چند لوگوں نے ایک زرعی زمین میں مشترکہ طور پر کام کرنے کے بارے میں طے کیا، ان میں سے ایک شخص کی زمین تھی دوسرے شخص نے زرعت کے آلات فراہم کرنے تھے، تیسرے شخص نے کھیت میں کام کرنا تھا، اور چوتھے نے بیج فراہم کرنا تھا، جب وہ پیداوار تیار ہوگئی تو یہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے زمین کی ملکیت کو بے حیثیت قرار دیا (یعنی اسے کوئی معاوضہ نہیں ملے گا) جس شخص نے زرعات کے آلات فراہم کیے تھے اسے ایک دن کا ایک درہم معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا، جس شخص نے کھیت میں مزدوری کرنی تھی اس کے لیے معاوضہ مقرر کیا اور آپ نے بھیج فراہم کرنے والے شخص کو تمام پیداوار کا مالک قرار دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے یہ حدیث مکحول کو سنائی، تو انہوں نے فرمایا اس حدیث کے عوض میں مجھے وصیف بھی ملتا توخوشی نہ ہوتی۔ یہ حدیث، مرسل، ہے اور مستند ہے اس روایت کا راوی واصل، ضعیف ہے۔

3079

Sunan al-Daraqutni #3079

ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لا ضَرَرَ وَلا ضِرَارَ، مَنْ ضَارَّ ضَرَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Saeed Al-Khudri (RA) narrates that the Prophet (PBUH) said (in Islam) there is no harm or harm to a person who tries to cause harm, Allah will afflict him with harm, and whoever tries to cause hardship, Allah will afflict him with hardship.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے (اسلام میں) ضرار اور ضرر نہیں ہے جو شخص ضرر پہنچانے کی کوشش کرے گا، اللہ تعالیٰ ٰ اسے ضرر میں مبتلا کرے گا اور جو شخص مشقت کا شکار کرنے کی کوشش کرے گا اللہ اسے مشقت میں مبتلا کرے گا۔

3080

Sunan al-Daraqutni #3080

Hasan

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِ، وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو خَالِدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْقُرَشِيُّ ، نَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِ، نَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ أَبُو وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : أَلا أُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا أَوْ أَمَةً، لا دَاءَ وَلا غَائِلَةَ، وَلا خِبْثَةَ، بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ " ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي الثَّلْجِ: فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا: " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أُمَّةً "، شَكَّ عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ " لا دَاءَ بِهِ، وَلا خِبْثَةَ، وَلا غَائِلَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ "."

EnglishUnverified translation

Abu Hab narrates that Sayyidna Faid bin Khalid said to me: Shall I read to you the text that the Prophet (peace be upon him) had written for me? (These are his words). "This (the text is about) Faid bin Khalid bought from the Messenger of Allah, Sayyiduna Muhammad, may God bless him and grant him peace, a slave (maybe the narrator doubts) a maidservant, in whom there is no disease, no deceit, no defect. This is a transaction of one Muslim with another Muslim. There are these words in a tradition, then he brought out this writing in front of me. "This (the text is about) Faid bin Khalid bought from the Messenger of Allah, Sayyidna Muhammad, may God bless him and grant him peace, a slave (maybe the narrator doubts) a maidservant (here the narrator named Ibad is doubtful) in whom there is no disease, no deceit, no defect. This is a transaction of one Muslim with another Muslim.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوہب بیان کرتے ہیں سیدنا عداء بن خالد نے مجھ سے فرمایا کیا میں تمہیں وہ تحریر پڑھ کر سناؤں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے لکھوائی تھی؟ (اس کے یہ الفاظ ہیں)۔ '' یہ (تحریر اس بارے میں ہے) عداء بن خالد نے اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غلام (راوی کو شک ہے شاید) کنیز کو خریدا جس میں کوئی بیماری نہیں ہے کوئی دھوکا نہیں ہے کوئی خرابی نہیں ہے یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ سودا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں پھر انہوں نے میرے سامنے یہ تحریر نکالی۔ '' یہ (تحریر اس بارے میں ہے) عداء بن خالد نے اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غلام (راوی کو شک ہے شاید) کنیز کو خریدا (یہاں عباد نامی راوی کو شک ہے) جس میں کوئی بیماری نہیں ہے کوئی دھوکا نہیں ہے کوئی خرابی نہیں ہے یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ سودا ہے۔

3081

Sunan al-Daraqutni #3081

ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ أَبُو أَرْقَمَ الْكِنْدِيُّ ، نَا أَبُو الْجَارُودِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِذَا دَفَعَ مَالا مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ، أَنْ لا يَسْلُكَ بِهِ بَحْرًا، وَلا يَنْزِلَ بِهِ وَادِيًا، وَلا يَشْتَرِيَ بِهِ ذَا كَبِدٍ رَطْبَةٍ، فَإِنْ فَعَلَهُ فَهُوَ ضَامِنٌ، فَرَفَعَ شَرْطَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَازَهُ " ، أَبُو الْجَارُودِ، ضَعِيفٌ."

EnglishUnverified translation

Narrated by Sayyiduna Abdullah bin Abbas, may Allah be pleased with him: When Sayyiduna Abbas bin Abdul Muttalib, may Allah be pleased with him, gave a person his property as Mudarabat, he stipulated that he would not travel with it on the sea, that he would not camp with it in any (valley) place, that he would not buy any living thing with it, and if he did so, he would pay the guarantee (compensation) for it. When I mentioned it in front of the Prophet (peace be upon him), he declared it correct.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جب ایک شخص کو اپنا مال مضاربت کے طور پر دیاتوساتھ یہ شرط عائد کی کہ وہ اس مال کو لے کر سمندر میں سفر نہیں کرے گا، اسکے ساتھ کسی (وادی (یعنی بے آب وگیاہ) جگہ پر پڑاؤ نہیں کرے گا، اس کے ذریعہ کسی جاندار کو نہیں خریدے گا، اور اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ اس کا ضمان (تاوان) ادا کرے گا، پھر انہوں نے یہ شرط نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو آپ نے اسے درست قرار دیا۔

3082

Sunan al-Daraqutni #3082

Da'if

ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْوَصَّافِيُّ ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ جِنَازَةً فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وُضِعَتْ سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَعَدَلَ عَنْهَا، وَقَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَلَمَّا رَآهُ عَلِيُّ تَقَفَّى، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَرِئَ مِنْ دِينِهِ وَأَنَا ضَامِنٌ لِمَا عَلَيْهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: يَا عَلِيٌّ، جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، فَكَّ اللَّهُ رِهَانَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ الْمُسْلِمَ، لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقْضِي عَنْ أَخِيهِ دَيْنَهُ، إِلا فَكَّ اللَّهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِعَلِيٍّ خَاصَّةً؟، قَالَ: لِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Saeed Al-Khudri (RA) narrates: I attended a funeral prayer in which the Prophet (PBUH) was also present. So the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) started to leave there. He said, "You people, perform the funeral prayer for your companion. When Sayyiduna saw you going back, he said, 'O Messenger of God, this person is free from his debt. I am his guarantor for the payment he is responsible for.'" May Allah give you a good reward, just as you have taken responsibility for the payment of your Muslim brother, so may Allah take responsibility for your payments on the Day of Resurrection. Whoever pays his brother's debt on the Day of Resurrection, Allah will be responsible for the payments of that person on the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں ایک نماز جنازہ میں شریک ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے جب اسے رکھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا اس کے ذمہ کوئی قرض ہے لوگوں نے عرض کی جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹنے لگے آپ نے ارشاد فرمایا تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرلو جب سیدنا نے آپ کو واپس جاتے ہوئے دیکھاتو انہوں نے عرض کی یارسول اللہ یہ شخص اپنے قرض سے بری الذمہ ہے اس کے ذمہ جو ادائیگی ہے میں اس کا ضامن ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا، اے علی! اللہ تمہیں جزائے خیر عطا کر جس طرح تم نے اپنے مسلمان بھائی کی ادائیگی اپنی ذمہ لی ہے اسی طرح اللہ قیامت کے دن تمہاری ادائیگیاں اپنے ذمہ لے جو بھی شخص اپنے بھائی کی طرف سے اس کا قرض ادا کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس شخص کی ادائیگیوں کا ذمہ دار ہوگا ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کیا یارسول اللہ یہ حکم سیدنا علی کے ساتھ مخصوص ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔

3083

Sunan al-Daraqutni #3083

Da'if

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ كَزَالٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ ، نَا زَافِرٌ . ح وَنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا أَبُو حَامِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ أَحْمَدُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، نَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْوَصَّافِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: شَهِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً فَلَمَّا وُضِعَتْ قِيلَ: عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَتَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنَا ضَامِنٌ لِدَيْنِهِ، قَالَ: فَكَّ اللَّهُ عَنْكَ يَا عَلِيٌّ، رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ عَنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ رِهَانَهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِعَلِيٍّ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً؟، قَالَ: لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abu Saeed al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrates that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) attended a funeral. When he was placed, he was told that he was responsible for a debt. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) withdrew. Sayyidna Ali said: O Prophet of Allah, I am his guarantor. In giving a loan, the Prophet said: O Ali, may Allah meet your needs in the same way as you have met the needs of your fellow Muslim brother. Is it common for faith? The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: It is common to all believers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازے میں شریک ہوئے جب اسے رکھا گیا تو بتایا گیا اس کے ذمہ قرض ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے ہٹے تو سیدنا علی نے عرض کی اے اللہ کے نبی میں اس کا ضامن ہوں قرض دینے میں تو نبی نے فرمایا اے علی اللہ تمہاری ضرورتوں کو اسی طرح پورا کرے جس طرح تم نے اپنے ساتھی مسلمان بھائی کی ضرورت کو پورا کیا ہے لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ، یہ حکم سیدنا علی کے ساتھ مخصوص ہے یا تمام اہل ایمان کے لیے عام ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمام اہل ایمان کے لیے عام ہے۔

3084

Sunan al-Daraqutni #3084

ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَوَضَعْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَيْثُ يُوضَعُ الْجَنَائِزُ عِنْدَ مَقَامِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ، ثُمَّ آذَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعَنَا، ثُمَّ خَطَّى، ثُمَّ قَالَ عَلَيْهِ السَّلامُ لِعَلِيٍّ: عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنًا؟، قَالُوا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، فَتَخَلَّفَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُمَا عَلَيَّ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: هُمَا عَلَيْكَ وَفِي مَالِكَ، وَحَقُّ الرَّجُلِ عَلَيْكَ، وَالْمَيِّتُ مِنْهُمَا بَرِيءٌ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: مَا صَنَعْتَ فِي الدِّينَارَيْنِ؟، حَتَّى كَانَ آخِرُ ذَلِكَ، قَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الآنَ حِينَ بَرَّدْتَ عَلَيْهِ جِلْدَهُ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Jabir (may Allah be pleased with him) narrates that a gentleman passed away, we bathed him, shrouded him, perfumed him and placed him near the place of Sayyidna Gabriel (peace be upon him), where funerals were kept. When the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) started turning back, one of us, whose name was Abu Qatada, asked the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) to serve him, O Messenger of Allah, the payment of these two (dinars) is my responsibility. Allah's Messenger (may peace be upon him) performed the funeral prayer for this person. After that, whenever the Prophet (peace be upon him) met Sayyiduna Abu Qatada, the Prophet (peace be upon him) asked him what he did with these two dinars. Finally, when Sayyiduna Qatadah told the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that both of them had been fulfilled in the Messenger of Allah, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “Now this person has been blessed with coolness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، ہم نے انہیں غسل دیا، کفن دیا، انہیں خوشبو لگائی اور اسے سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) کی جگہ کے پاس رکھ دیا، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ چند قدم چل کر آئے پھر آپ نے فرمایا شاید تمہارے ساتھی کے ذمہ کچھ قرض تھا، لوگوں نے عرض کی جی ہاں دو دینار تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑنے لگے ہم میں سے ایک صاحب جن کا نام ابوقتادہ تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدمت میں عرض کی یارسول اللہ ان دونوں (دیناروں) کی ادائیگی میرے ذمہ ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان دونوں کی ادائیگی تمہارے ذمہ ہے اور تمہارے مال میں سے ہوگی، اور (وصول کرنے والے) شخص کا حق تمہارے ذمہ ہے، یہ مرحوم ان دونوں سے بری ہے، تو سیدنا ابوقتادہ نے عرض کی جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب بھی سیدنا ابوقتادہ سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے یہی دریافت کیا تم نے ان دو دیناروں کا کیا کیا؟ آخر کار جب سیدنا قتادہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا یارسول اللہ میں ان دونوں کو ادا کردیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اب اس شخص کو ٹھنڈک نصیب ہوئی ہے۔

3085

Sunan al-Daraqutni #3085

ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السُّيُوطِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا عُبِدَ اللَّهُ بِشَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ فِقْهٍ فِي دَيْنٍ، وَلَفَقِيهٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ، وَلِكُلِّ شَيْءٍ عِمَادٌ، وَعِمَادُ هَذَا الدِّينِ الْفِقْهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لأَنْ أَجْلِسَ سَاعَةً فَأَفْقَهَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُحْيِيَ لَيْلَةً إِلَى الْغَدَاةِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (RA) quotes this statement of the Prophet (PBUH) regarding the worship of Allah, the most excellent thing to do is to gain understanding in the religion. One jurist is more of a source of trouble for Satan than a thousand worshipers. There is a pillar of everything, the pillar of this religion is Fiqh. Sayyiduna Abu Huraira (may Allah be pleased with him) says that I should sit for an hour and gain knowledge of religion, this is more beloved to me than that I spend the whole night performing Nawafil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ٰ کی بندگی کے حوالے سے بھی جو کام کیے جاتے ہیں ان میں سب سے زیادہ فضیلت دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے کو ہے، ایک فقیہ شیطان کے لیے ایک ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ شید، (پریشانی کا باعث) ہوتا ہے ہرچیز کا ایک ستون ہے، اس دین کا ستون فقہ ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ایک گھڑی بیٹھ کر دین کا علم حاصل کرلوں، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں رات بھرنوافل ادا کرتا رہوں۔

3086

Sunan al-Daraqutni #3086

ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ ابْنِ التُّرْجُمَانِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الأَنْبِيَاءُ قَادَةٌ، وَالْعُلَمَاءُ سَادَةٌ، وَمَجَالِسُهُمْ زِيَادَةٌ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ali (may Allah be pleased with him) narrates that the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Prophets are leaders, jurisprudents are chiefs, their companionship leads to increase (in knowledge and reward).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء قائدین ہیں، فقہاء سردار ہیں، ان کی ہم نشینی (علم اور اجر وثواب میں) اضافہ کا باعث ہوتی ہے۔