Sunan al-Daraqutni #3075
ثنا أَبُو طَالِبٍ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ ، نَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ ، نَا الْحُنَيْنِيُّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا جَلَبَ وَلا جَنَبَ وَلا اعْتِرَاضَ، وَلا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ إِذَا حَلَبَهَا بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " ، تَابَعَهُ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْمُصَرَّاةِ . حَدَّثَ عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ عِيسَى وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَبُو شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."
EnglishUnverified translation
Kathir bin Abdullah narrated this statement of his grandfather regarding his father. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “There is no status of ``Jalab, Junab, Objection.'' saw Asim bin Ubaidullah has followed Sayyiduna Abdullah bin Umar, may Allah be pleased with him, on the authority of Salem, in narrating it about Misrat. Hasan bin Amara has narrated from the Holy Prophet, may God bless him and grant him peace, on the authority of Ibn Abi Layli, on the authority of Sayyiduna Ali, on the authority of Sayyiduna Ali. A narrator named Abu Shiba has narrated it from Sayyidina Abu Huraira (RA). A narrator named Shuba has narrated it on the authority of a Companion (whose name is not mentioned).
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جلب، جنب، اعتراض) کی کوئی حیثیت نہیں ہے) شہری، شخص دیہاتی کے لیے کوئی سودا نہ کرے اونٹنی یابکری کا تصریہ نہ کیا جائے جو شخص تصریہ والے جانور کو خرید لے اور اس کا دودھ دوہ لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا اگر وہ چاہے تو اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے اور ساتھ میں کھجور کا ایک صاع دیدے۔ عاصم بن عبیداللہ نے سالم کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مصرات کے بارے میں اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے ان کے حوالے سے داؤد بن عیسیٰ نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ حسن بن عمارہ نے حکم کے حوالے سے ابن ابی لیلی کے حوالے سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ ابوشیبہ نامی راوی نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ شعبہ نامی راوی نے اسے ایک صحابی کے حوالے سے (جن کا نام مذکور نہیں ہے) روایت کیا ہے۔