Sunan al-Daraqutni #3034
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةِ ثَلاثِينَ رَاكِبًا، قَالَ: فَنَزَلْنَا عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا، قَالَ: فَلُدِغَ سَيِّدُ الْحَيِّ فَأَتَوْنَا، فَقَالُوا: أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ؟، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا، وَلَكِنْ لا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا، فَقَالُوا: فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلاثِينَ شَاءً، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَبَرَأَ، قَالَ: فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْءٌ، قَالَ: فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: وَمَا عِلْمُكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، فَاقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ " ،."
EnglishUnverified translation
Sayyidna Abu Saeed Al-Khudri (RA) narrates that the Prophet (PBUH) permitted us thirty horsemen to go on an expedition. We encamped near an Arab tribe (settlement). The narrator narrates that the chief of the tribe was bitten (by a poisonous animal). They came to us and inquired whether any of you can survive the bite of a scorpion. The narrator narrates I replied yes I can, but I will not do so until you people pay us (his compensation). He said: We will give you thirty goats (as compensation for him). He came to the service of Allah's Messenger (peace be upon him) and mentioned this to him, so he asked, "How did you know that it also has a tail?" (I replied, you have told me) So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Divide them and keep my share with you.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تیس سواروں کو ایک مہم پروانہ کیا ہم نے ایک عرب قبیلے (کی بستی) کے پاس پڑاؤ کیا ہم نے ان سے مہمان نوازی کی درخواست کی تو انہوں نے انکار کردیا۔ راوی بیان کرتے ہیں قبیلے کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور دریافت کیا کیا آپ میں سے کوئی شخص بچھو کے کاٹنے کا دم کرسکتا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں میں نے جواب دیا ہاں میں کرسکتا ہوں، لیکن میں ایسا اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک تم لوگ ہمیں (اس کا معاوضہ) ادا نہیں کرو گے انہوں نے کہا: ہم آپ لوگوں کو (اس کے معاوضے میں) تیس بکریاں دیں گے، راوی کہتے ہیں، میں نے اس شخص پر سو رہ فاتحہ سات مرتبہ پڑھ کردم کیا تو وہ ٹھیک ہوگیا، جب ہم نے وہ بکریاں وصول کیں تو ہمیں اس بارے میں کچھ الجھن محسوس ہوئی ہم نے ان بکریوں کا گوشت استعمال نہیں کیا پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے دریافت کیا تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟ (میں نے جواب دیا آپ نے بتایا ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم انہیں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھو۔