Sunan al-Daraqutni #3032
ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا أَبُو الْجَمَاهِرِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مَرَّا بِأَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، وَهُوَ عَلَى الْعِرَاقِ مُقْبِلِينَ مِنْ أَرْضِ فَارِسٍ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَيْ أَخِي، لَوْ كَانَ عِنْدِي شَيْءٌ أَوْ كُنْتُ أَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، وَيْلِي هَذَا الْمَالَ قَدِ اجْتَمَعَ عِنْدِي، فَخُذَاهُ فَاشْتَرِيَا بِهِ مَتَاعًا، فَإِذَا قَدِمْتُمَا عَلَى عُمَرَ فَبِيعَاهُ وَلَكُمَا الرِّبْحُ، وَادْفَعَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ رَأْسَ الْمَالِ وَاضْمَنَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، تَأَبَّا أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ وَجَعَلَهُ قِرَاضًا " ."
EnglishUnverified translation
Abdullah bin Zayd narrates his grandfather's statement regarding his father. Abdullah and Ubaidullah, the two sons of Sayyiduna Umar (may Allah be pleased with them) passed by Sayyidna Abu Musa Ash'ari (may Allah be pleased with him) who was in Iraq (performing the duties of the governor). These two gentlemen were coming from the land of Iran. I wish I had something (the narrator doubts that maybe these are the words) I wish I had power over something (that I could give you) Yes, I have accumulated this wealth, take it, buy goods with it, when you go to Sayyidna Umar, then sell it, the profit is yours and pay the original amount to you Sayyidna Umar. The narrator narrates that when these two gentlemen appeared in the service of Amirul Momineen, he asked them if Abu Musa had treated the children of all the emigrants in the same way. They both answered no! So Sayyiduna Umar (may Allah be pleased with him) said, Ameerul Momineen will not declare it as valid, he gave it as a loan.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبداللہ بن زید اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دوصاحبزادے عبداللہ اور عبیداللہ کا گزر سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہواجوعراق میں (گورنر کے فرائض سرانجام دے رہے) تھے، یہ دونوں حضرات ایران کی سرزمین سے آرہے تھے سیدنا ابوموسی اشعری نے فرمایا میرے دونوں بھتیجوں کو خوش آمدید! کاش میرے پاس کوئی چیز ہوتی (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) کاش میں کسی چیز پر قدرت رکھتا (جو میں تمہیں دے سکتا) ہاں البتہ میرے پاس یہ مال اکٹھا ہوا ہے تم اسے لو، اس کے ذریعہ سامان خریدو جب تم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ تو اسے فروخت کردینا، منافع تمہارا ہوا اور اصل مال تم سیدنا عمر کو ادا کردینا۔ راوی بیان کرتے ہیں جب یہ دونوں حضرات امیر المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ان دونوں سے دریافت کیا کیا ابوموسی نے تمام مہاجرین کی اولاد کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا؟ ان دونوں نے جواب دیا جی نہیں! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا امیر المؤمنین اسے درست قرار نہیں دیں گے، انہوں نے اسے، قراض، کے طور پر دیا۔