ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، نَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، نَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّهُ كَانَ فِي غَزَاةٍ فَسَمِعَ رَجُلا يُنَادِي آخَرَ، يَقُولُ: يَا سُرَّقُ يَا سُرَّقُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: مَا سُرَّقٌ؟ فَقَالَ: سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ مِنْ أَعْرَابِيٍّ نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَيْتُ عَنْهُ فَاسْتَهْلَكْتُ ثَمَنَهَا، فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ يَطْلُبُنِي، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْدِي عَلَيْهِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رَجُلا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ: اطْلُبْهُ "، قَالَ: فَوَجَدَنِي فَأَتَى بِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي، فَقَالَ: " أَعْطِهِ ثَمَنَهَا "، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَهْلَكْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَنْتَ سُرَّقٌ "، ثُمَّ قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ: " اذْهَبْ فَبِعْهُ فِي السُّوقِ وَخُذْ ثَمَنَ نَاقَتِكَ "، فَأَقَامَنِي فِي السُّوقِ فَأَعْطَى فِيَّ ثَمَنًا، فَقَالَ لِلْمُشْتَرِي: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: أُعْتِقُهُ، فَأَعْتَقَنِي الأَعْرَابِيُّ ."
EnglishUnverified translation
Abd al-Rahman and Abdullah, the sons of Zayd bin Aslam, narrate this on the authority of their father. They participated in a battle. They heard a person calling another person in a loud voice, O thief, O thief. So he told me that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) gave me this name. I bought a camel from a villager, then I hid from him. I lost the value of the camel. The villager was looking for me, and people said to him: Go to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and tell him about this. I bought a camel and then he hid from me. I could not find him. The Prophet said, "Look for him. The narrator narrates that this man found me and took me to the service of the Prophet. He said, O Messenger of Allah, this is the person who bought the camel from me and hid from me. The Prophet said, 'You pay the price.' It has been lost. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "You are a thief!" Then he said to the villager, you go and sell it in the market and get the price of your camel, so this villager made me stand in the market and the price I was charged, he asked the buyer, what are you going to do with it? He said I will free him, so this villager freed me.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
زید بن اسلم کے صاحبزادے عبدالرحمن اور عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں وہ ایک جنگ میں شریک ہوئے انہوں نے کسی شخص سنا جو کسی دوسرے شخص کو بلند آواز میں پکار رہا تھا اے سرق، اے سرق، توزید بن اسلم نے بلایا اور دریافت کیا سرق سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا یہ نام رکھا ہے میں نے ایک دیہاتی سے ایک اونٹنی خریدی، پھر میں اس سے چھپ گیا میں نے اس اونٹنی کی قیمت کو بھی ضائع کردیا، وہ دیہاتی مجھے تلاش کرتا ہوا تو لوگوں نے اس سے کہا:، تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤ، وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ ایک شخص نے مجھ سے اونٹنی خریدی اور پھر وہ مجھ سے چھپ گیا، میں اسے ڈھونڈ نہیں سکا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اسے تلاش کرو راوی بیان کرتے ہیں اس شخص نے مجھے ڈھونڈ لیا اور مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وہ شخص ہے جس نے مجھ سے اونٹنی خریدی تھی اور مجھ سے چھپ گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم س کی قیمت ادا کرو، تو میں نے عرض کی یارسول اللہ وہ تو مجھ سے ضائع ہگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم سرق ہو! پھر آپ نے دیہاتی سے فرمایا تم جاؤ اسے بازار میں فروخت کرو اور اپنی اونٹنی کی قیمت وصول کرو تو اس دیہاتی نے مجھے بازار میں کھڑا کیا میری جو قیمت لگائی گئی تو اس نے خریدار سے دریافت کیا تم اس کا کیا کرو گے؟ اس نے بتایا میں اسے آزاد کردوں گا تو اس دیہاتی نے ہی مجھے آزاد کردیا۔