Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 14 · Chapter 17

Criminal Offences and Limits

بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ

28 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3004

Sunan al-Daraqutni #3004

Da'if

ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ الرَّبِيعِ الزِّيَادِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyida Ayesha Siddiqa Radiyallahu Anha narrates that the Holy Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) prescribed tribute according to time.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمان کے حساب سے خراج مقرر کیا ہے۔

3005

Sunan al-Daraqutni #3005

Da'if

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رُخْصَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ شُرَكَائِهِ فَبَاعُوهُ وَرَجُلٌ مِنَ الشُّرَكَاءِ غَائِبٌ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يُجِيزَ بَيْعَهُ، فَاخْتَصَمُوا فِي ذَلِكَ إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، فَقَضَى أَنْ يُرَدَّ الْبَيْعُ وَيَتَبَايَعُوهُ الْيَوْمَ، وَيُؤْخَذُ مِنْهُ الْخَرَاجُ، وَوُجِدَ الْخَرَاجُ فِيمَا مَضَى مِنَ السَّنَتَيْنِ أَلْفُ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَبِيعَ فِيهِ غُلامَانِ لَهُ، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ "، فَدَخَلَ عُرْوَةُ عَلَى هِشَامٍ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ فَرَدَّ بَيْعَ الْغُلامَيْنِ، وَتَرَكَ الْخَرَاجَ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Mukhlid bin Khafaf (may Allah be pleased with him) narrates that a slave was jointly owned by some people and they sold him. One of the partners was absent. When he came and he refused to accept the deal, those people brought their case to Hisham bin Ismail. He gave a decision that the deal would be declared null and void and those people would deal according to the rate of that day and tribute would be collected. Two slaves were sold for this slave. I went to the service of Urwa bin Zubayr and mentioned this to him, and he said, Sayyida Aisha narrated this hadith to me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مخلد بن خفاف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام کچھ لوگوں کی مشترکہ ملکیت تھا ان لوگوں نے اسے فروخت کردیا شراکت داروں میں سے ایک شخص غیر موجود تھا، جب وہ آیاتو اس نے اس سودے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا، وہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل کے پاس آئے تو انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ یہ سودا کالعدم قرار دیا جائے گا اور وہ لوگ اس دن کے ریٹ کے حساب سے سودا کریں گے اور اسے خراج وصول کرلیا جائے گا پھر جو دو سال گزرچکے تھے ان کا خراج ایک ہزار درہم بنا تو اس غلام کے عوض دو غلام فروخت کیے گئے۔ میں عروہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا سیدہ عائشہ نے مجھے یہ حدیث سنائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ خراج زمان کے حساب سے ہوگا، پھر عروہ ہشام کے پاس تشریف لائے اور انہیں اس بارے میں بتایا اس نے ان دونوں غلاموں کا سودا کالعدم کردیا اور خراج ترک کردیا۔

3006

Sunan al-Daraqutni #3006

ثنا ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَا أَدْرَكَتْهُ الصَّفْقَةُ حَيًّا مَجْمُوعًا فَهُوَ مِنْ مَالِ الْمُبْتَاعِ " ."

EnglishUnverified translation

Hamza bin Abdullah narrates this statement of his father, whatever is alive and accumulated at the time of the transaction will be considered as part of the property of the buyer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمزہ بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سودا ہوجانے کے وقت جو چیز زندہ ہو اور جمع ہو وہ خریدار کے مال کا حصہ شمار ہوگی۔

3007

Sunan al-Daraqutni #3007

Da'if

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، نَا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، أَنَّهُ كَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي الْبُيُوعِ، قَالَ: مَا أَجِدُ لَكُمْ شَيْئًا أَوْسَعَ مِمَّا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ، إِنَّهُ كَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ، فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُهْدَةَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ، إِنْ رَضِيَ أَخَذَ، وَإِنْ سَخَطَ تَرَكَ " ."

EnglishUnverified translation

It is narrated about Talha bin Yazid that he discussed some deals with Sayyidna Umar bin Al-Khattab (may Allah be pleased with him) and Sayyidna Umar (may Allah be pleased with him) said, “I have not found anything for you that is more comprehensive than what the Prophet (peace be upon him) gave to Hibban bin Munqar. His eyesight was weak, so the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) gave him permission to cancel the deal for three days. He will keep it and if he likes it, he will take it, if he doesn't like it, he will abandon it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طلحہ بن یزید کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے کچھ سودوں کے بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی (کہ ان کا حکم کیا ہے) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تمہارے لیے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جو اس سے زیادہ گنجائش والی ہو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حبان بن منقر زال کو دی تھی ان کی نظر کمزور تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اجازت دی کہ وہ سودے کو کالعدم کرنے کا تین دن کا اختیار رکھے گا اور اگر وہ راضی ہوں گے تولے لیں گے اگر پسند نہیں کریں گے تو اس کو ترک کردیں گے۔

3008

Sunan al-Daraqutni #3008

ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ، رَجُلا ضَعِيفًا، وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ الْخِيَارَ فِيمَا يَشْتَرِي ثَلاثًا، وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِعْ، وَقُلْ: لا خِلابَةَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ، يَقُولُ: لا خِذَابَةُ، لا خِذَابَةَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with him) narrates that Sayyidna Safwan bin Munqar was an old man who had an injury on his head. Because of this, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) gave him the authority to terminate the deal for three days. Sayyiduna Abdullah bin Umar (RA) says: I heard him saying that he used to say Khadaba instead of Khalaba.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن منقر ایک عمر رسیدہ آدمی تھے ان کے سر میں چوٹ لگی تھی، اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ اختیار دیا تھا کہ وہ جو سودا کریں گے اس میں تین دن تک سودے کو ختم کرنے کا اختیار ہوگا، ان کی زبان میں کچھ لکنت پائی جاتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا تم فروخت کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ لفظ خلابہ کی بجائے خذابہ کہا: کرتے تھے۔

3009

Sunan al-Daraqutni #3009

مرسل

ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُ وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي فِي عَقْلِهِ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: إِنِّي لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ، فَقُلْ: هَا وَهَا وَلا خِلابَةَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Anas (may Allah be pleased with him) narrates that during the time of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) there was a person who used to buy and sell, and his mental state was found to be defective. Once his family came to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and said, O Prophet of Allah, stop such and such a person from taking possession because he makes a deal, but there is some weakness in his mental state. He said, "I cannot make a living without buying and selling." The Prophet, peace and blessings be upon him, said, "If you must buy and sell, do it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جو خرید و فروخت کیا کرتا تھا، اس کی ذہنی حالت میں کچھ خرابی پائی جاتی تھی ایک مرتبہ اس کے گھروالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ فلاں شخص کو تصرف کرنے سے روک دیں کیونکہ وہ سودا کرلیتا ہے لیکن اس کی ذہنی حالت میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے سودا کرنے سے منع کردیا، تو اسنے عرض کی میں خریدو فروخت کیے بغیر گزارہ نہیں کرسکتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم نے ضرور خریدو فروخت کرنی ہے تو یہ کہا: کرو یہ اس کے عوض میں ہے اور کوئی دھوکہ نہیں چلے گا۔

3010

Sunan al-Daraqutni #3010

مرسل

ثنا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَثْرَمُ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ السُّوسِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتَ لا تَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقُلْ: هَا وَهَا، وَلا خِلابَةَ " ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: " يَعْنِي لا يَغْبُنُونَهُ "."

EnglishUnverified translation

The first hadith is narrated along with another chain of transmission, however, it contains these words that the Prophet, may God bless him and grant him peace, said: If you must buy and sell, then he said: Do it as it is in exchange for him and there will be no deception. A narrator named Abdul Wahab says that means people will not suffer any loss for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

پہلی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم کو ضرور خریدو فروخت ہی کرنی ہے تو یہ کہا: کرو کہ یہ اس کے عوض میں ہے اور کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔ عبدالوہاب نامی راوی کہتے ہیں یعنی لوگ اسے کسی خسارے کا شکار نہیں کریں گے۔

3011

Sunan al-Daraqutni #3011

Hasan

ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الدَّقَّاقُ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، نَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ بِلِسَانِهِ لُوثَةٌ وَكَانَ لا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لا خِلابَةَ " مَرَّتَيْنِ " ."

EnglishUnverified translation

Nafi narrates that Sayyiduna Abdullah bin Umar (RA) told him that an Ansari had a stutter in his tongue and he always made a loss in dealings with him. It is narrated about Sayyidna Munqar bin Amr that he had an injury on his head which affected his language, and his mental state also changed somewhat. He used to trade and he always lost money in trade. You will have authority for three days, if after three days you agree, then keep it and if you don't like it, return it to the owner. The life of these Companions was very long. They lived for thirty-two years during the time of Sayyidna Uthman, when people spread everywhere and the number of people also increased, and there used to be a good deal in the market. At that time, they used to buy and sell in the market.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ بات بتائی کہ ایک انصاری کی زبان میں کچھ لکنت تھی اور اس کے ساتھ سودے میں ہمیشہ گھاٹا ہوجایا کرتا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضڑ ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا جب تم کوئی چیز فروخت کرو تودومرتبہ یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا برداشت نہیں ہوگا۔ سیدنا منقر بن عمرو کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے سر میں چوٹ لگ گئی تھی جس کی وجہ سے ان کی زبان میں اثر پڑا تھا، اور اس کی ذہنی کیفیت بھی کچھ تبدیل ہوگئی تھی وہ تجارت کیا کرتے تھے اور تجارت میں ہمیشہ انہیں خسارہ ہوتا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا جب تم کوئی چیز فروخت کرو تو یہ کہہ دیاکرو کہ کوئی گھاٹ نہیں ہوگا، پھر تم جس سامان کو خریدتے ہو اس کے بارے میں تم تین دن تک اختیار رکھو گے اگر تین دن کے بعد تم راضی ہوئے تو اسے اپنے پاس رکھنا اور اگر پسند نہ ہوا تو اس کے مالک کو واپس کردینا۔ ان صحابی کی عمر بڑی طویل ہوئی وہ ایک سوتیس سال تک زندہ رہے تھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ ہر طرف پھیل گئے تھے اور لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا تھا اور بازار میں خوب سودا ہوا کرتا تھا اس وقت وہ بازار میں خریدو فروخت کیا کرتے تھے۔

3012

Sunan al-Daraqutni #3012

Da'if

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الصَّلْتِ الأَطْرُوشُ مِنْ أَصْلِهِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الرَّاسِبِيُّ ، نَا أَبُو مَيْسَرَةَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْسَرَةَ، نَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ ، نَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْخِيَارُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Umar (RA) narrates this saying of the Holy Prophet (SAW) that the power lasts for three days.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اختیار تین دن تک ہوتا ہے۔

3013

Sunan al-Daraqutni #3013

Da'if

ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، أنا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي نَظَرْتُ فَلَمْ أَجِدْ لَكُمْ فِي بُيُوعِكُمْ شَيْئًا أَمْثَلَ مِنَ الْعُهْدَةِ الَّتِي جَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنَ مُنْقِذٍ، ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ فِي الرَّقِيقِ " ."

EnglishUnverified translation

Hibban bin Waseet narrates this statement of his father regarding his father, when Sayyiduna Umar was appointed as the caliph, he said: O people, I have examined this matter and I have found that the thing that is most similar to your deals in the time of the Holy Prophet, may God bless him and grant him peace, is the authority, which the Prophet, may God bless him and grant him peace, gave to Hibban bin Munqidh for three days, and this incident happened regarding a slave.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبان بن واسع اپنے والد کے حوالے سے اپنے د ادا کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب سیدنا عمر کو خلیفہ مقرر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اے لوگو میں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے اور میں نے یہ بات پائی ہے کہ تمہارے سودوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سب سے مشابہ جو چیز ہے وہ اختیار ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبان بن منقذ کو تین دن تک دیا تھا اور یہ واقعہ ایک غلام کے بارے میں پیش آیا تھا۔

3014

Sunan al-Daraqutni #3014

Da'if

ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَزَارِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَمْدَانُ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَكَّةُ حَرَامٌ، وَحَرَامٌ بَيْعُ رِبَاعِهَا، وَحَرَامٌ أَجْرُ بُيُوتِهَا " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Amr (may Allah be pleased with him) narrates that the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said that Makkah is Haram, it is forbidden to sell the land here and it is forbidden to rent the houses here.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے مکہ حرم ہے یہاں کی زمین کو فروخت کرنا حرام ہے اور یہاں کے گھروں کو کرائے پر دینا حرام ہے۔

3015

Sunan al-Daraqutni #3015

Da'if

ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَزيُّ ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ جَدِّي، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، كَذَا قَالَ: عَنْ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَحَرَامٌ بَيْعُ رِبَاعِهَا، وَأَكْلُ ثَمَنِهَا، وَقَالَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ أَجْرِ بُيُوتِ مَكَّةَ شَيْئًا، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ نَارًا " ، كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ مَرْفُوعًا، وَوَهِمَ أَيْضًا فِي قَوْلِهِ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، وَإِنَّمَا هُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقِدَاحُ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Amr (may Allah be pleased with him) narrates this saying of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him): "Allah has appointed Makkah as a Haram. Selling the land here and its price is eating Ihram." The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) also said that whoever eats anything from the rent of houses in Makkah will eat fire. Imam Abu Hanifah, may God have mercy on him, has narrated this tradition as a suspended tradition, but he has had an illusion in it. The second illusion he has had is that he has narrated the name of the narrator as Ubaidullah bin Abu Zayed, although he is Ibn Abi Ziyad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ٰ نے مکہ کو حرم مقرر کیا ہے یہاں کی زمین کو فروخت کرنا اور اس کی قیمت کھان احرام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے جو شخص مکہ کے گھروں کے معاضے (یعنی کرائے) میں سے کچھ بھی کھائے گا وہ آگ کھائے گا۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ ٰ نے اس روایت کو اسی طرح مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے تاہم اس میں انہیں وہم ہوا ہے، اس میں انہیں دوسراوہم یہ ہوا کہ انہوں نے راوی کا نام عبیداللہ بن ابویزید نقل کیا ہے حالانکہ وہ ابن ابی زیاد ہے درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔

3016

Sunan al-Daraqutni #3016

موقوف صحيح

ثنا ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنِي أَبُو نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ كِرَاءَ بُيُوتِ مَكَّةَ، إِنَّمَا يَأْكُلُ فِي بَطْنِهِ نَارًا " ، ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Amr (may Allah be pleased with him) says that whoever eats the rent of the houses of Makkah puts fire in his stomach (this hadith is suspended).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص مکہ کے گھروں کا کرایہ کھاتا ہے وہ اپنے پیٹ میں آگ ڈالتا ہے (یہ روایت) موقوف ہے)۔

3017

Sunan al-Daraqutni #3017

موقوف صحيح

ثنا ابْنُ مُبَشِّرٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، سَمِعَ أَبَا نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أُجُورَ بُيُوتِ مَكَّةَ "، مِثْلَهُ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Amr (may Allah be pleased with him) says, “Whoever eats the rent of the houses of Makkah (after this is according to the previous hadith).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص مکہ کے گھروں کا کرایہ کھاتا ہے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔

3018

Sunan al-Daraqutni #3018

Da'if

ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَكَّةَ مُنَاخٌ لا تُبَاعُ رِبَاعُهَا، وَلا تُؤَاجَرُ بُيُوتُهَا " ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، ضَعِيفٌ، وَلَمْ يَرْوِهِ غَيْرُهُ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Amr (may Allah be pleased with him) says that the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Makkah, Manakh, the land here cannot be sold and the houses cannot be rented. The narrator named Ismail bin Ibrahim is weak, and no one else narrated this hadith except him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے مکہ، مناخ، ہے یہاں کی زمین کو فروخت نہیں کیا جاسکتا اور گھروں کو کرائے پر نہیں دیا جاسکتا۔ اسماعیل بن ابراہیم نامی راوی ضعیف ہے، اس روایت کو اس کے علاوہ کسی اور نے نقل نہیں کیا۔

3019

Sunan al-Daraqutni #3019

ثنا ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَمَا تُدْعَى رِبَاعُ مَكَّةَ إِلا السَّوَائِبَ، مَنِ احْتَاجَ سَكَنَ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَسْكَنَ " ،."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Alqamah bin Nadla (RA) says that during the time of the Prophet (PBUH) and Sayyidna Umar (RA), whoever was in need would stay there, and whoever did not need it, he would let someone else stay there.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علقمہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں جس شخص کو ضروت ہوتی تھی وہ وہاں ٹھہرجاتا تھا اور جسے ضرورت نہیں ہوتی تھی وہ دوسرے کو ٹھہرنے کے لیے دے دیتا تھا۔

3020

Sunan al-Daraqutni #3020

ثنا أَخُو زُبَيْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الآدَمِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ نَضْلَةَ، مِثْلَهُ وَزَادَ: وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

The same tradition is narrated along with another chain of transmission, but this is added in it, it used to be the same during the era of Sayyiduna Uthman (may Allah be pleased with him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ بات اضافی ہے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں بھی ایساہی ہوتا تھا۔

3021

Sunan al-Daraqutni #3021

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نَا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ الْكِنَانِيِّ ، قَالَ: كَانَتْ تُدْعَى بُيُوتُ مَكَّةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا السَّوَائِبُ لا تُبَاعُ، وَمَنِ احْتَاجَ سَكَنَ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَسْكَنَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Alqamah bin Nadla (may God be pleased with him) Kanani narrates that during the time of the Holy Prophet, Sayyidna Abu Bakr, Sayyidna Umar (may God be pleased with him), the houses of Makkah were given away to people and they were not sold.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علقمہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ کنانی بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں مکہ کے گھروں کو لوگوں کودے دیاجاتا تھا انہیں فروخت نہیں کیا جاتا تھا جس شخص کو ضڑورت ہوتی تھی وہ وہاں رہائش اختیار کرلیتا تھا اور جسے ضرورت نہیں ہوتی تھی وہ دوسروں کے لیے رہنے کے لیے چھوڑ دیتا تھا۔

3022

Sunan al-Daraqutni #3022

ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغَلِّسِ ، نَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلا أَرْبَعَةً وَامْرَأَتَيْنِ، وَقَالَ: اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ " ."

EnglishUnverified translation

Mus'ab bin Sa'd narrates this statement of his father (Sayyidna Sa'd bin Abi Waqqas, may Allah be pleased with him) when Makkah was conquered, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) gave safety to all except four men and two women. Sababah, Abdullah bin Saad bin Abu Sarh.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار مردوں اور دوخواتین کے علاوہ باقی سب کو امان دے دی (ان چھ افراد کے بارے میں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم انہیں خانہ کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا پاؤ تو بھی انہیں قتل کردو (وہ افراد یہ تھے) عکرمہ بن ابوجہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابوسرح۔

3023

Sunan al-Daraqutni #3023

ثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، نَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَارَ إِلَى مَكَّةَ لِيَفْتَحَهَا، قَالَ لأَبِي هُرَيْرَةَ: اهْتِفْ بِالأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، أَجِيبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءُوا كَأَنَّمَا كَانُوا عَلَى مِيعَادٍ، ثُمَّ قَالَ: اسْلُكُوا هَذَا الطَّرِيقَ وَلا يَشْرُفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلا أنَمْتُمُوهُ، يَقُولُ: قَتَلْتُمُوهُ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي الصَّفَا، فَصَعِدَ الصَّفَا فَخَطَبَ النَّاسَ، وَالأَنْصَارُ أَسْفَلَ مِنْهُ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَخَذَتْهُ الرَّأْفَةُ بِقَوْمِهِ وَالرَّغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْوَحْيَ بِمَا قَالَتِ الأَنْصَارُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، تَقُولُونَ: فَقَدْ أَدْرَكَتْهُ رَأْفَةٌ بِقَوْمِهِ وَرَغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ، قَالَ: فَمَنْ أَنَا إِذًا، كَلا وَاللَّهِ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ حَقًّا، فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قُلْنَا ذَلِكَ إِلا مَخَافَةَ أَنْ تُفَارِقَنَا، قَالَ: أَنْتُمْ صَادِقُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا مِنْهُمْ إِلا مَنْ قَدْ بَلَّ نَحْرَهُ بِالدُّمُوعِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abu Huraira (RA) narrates that on the occasion of the conquest of Makkah, when the Prophet (PBUH) left for Makkah, he said to Sayyidna Abu Huraira (RA), call the Ansar and bring them! So they announced, O Ansar! Attend the service of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). The Ansar came as they had come under a pre-arranged meeting. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "Go along this path. Whoever tries to come in front of you, kill him. Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) departed. Allah blessed him with victory. Then he went up to Safa and addressed the people. At that time (the Ansar) were in the lower part of the hill, one of them said to his companion: Now the love of his people has been highlighted in his heart and he has become attached to his town. The people of the Ansar told the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) about this through revelation, and he said, O Ansar! You said this: Now the love of the nation has been highlighted in the heart of this gentleman and he has developed an attachment to his village. Then you said who am I? By Allah, I am indeed a servant of Allah and I am His Messenger. My life and my death are with you. The Ansar said, O Messenger of Allah, by Allah, we said this only out of fear that you, may God bless you, would not separate from us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا انصار کو بلا کر لاؤ! تو انہوں نے اعلان کیا اے انصار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ، انصار آئے یوں جیسے وہ پہلے سے طے شدہ ملاقات کے تحت آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس راستے پرچلو، جو بھی تمہارے سامنے آنے کی کوشش کرے تم اسے قتل کردو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے اللہ نے انہیں فتح نصیب کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، آپ نے دو رکعت نماز ادا کی پھر اس دروازے سے باہر نکلے جو صفا (پہاڑی) کے قریب تھا، پھر آپ صفا پرچڑھے آپ نے لوگوں سے خطاب کیا، اس وقت (انصار) پہاڑی کے زیریں حصے میں تھے ان میں سے کسی نے اپنے ساتھی سے کہا: اب ان صاحب کے دل میں اپنی قوم کی محبت اجاگر ہوگئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہوگیا ہے تو انصار کے لوگوں نے جو یہ بات کہی تھی اللہ نے وحی کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا، اے انصار! تم نے یہ کہا: ہے اب ان صاحب کے دل میں قوم کی محبت اجاگر ہوگئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہوگیا ہے پھر آپ نے فرمایا میں کون ہوں؟ اللہ کی قسم میں واقعی اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں میری زندگی اور میری موت تمہارے ساتھ ہے انصار نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ کی قسم ہم نے یہ بات صرف اس اندیشے کے تحت کہی تھی کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے علیحدگی اختیار نہ کرلیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں تم لوگ سچے ہو راوی بیان کرتے ہیں اللہ کی قسم اس وقت ان میں سے ہر ایک شخص کے آنسو بہتے ہوئے اس کی گردن تک آرہے تھے۔

3024

Sunan al-Daraqutni #3024

ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَصْنَعُ الطَّعَامَ يَدْعُو أَصْحَابَهُ هَذَا يَوْمًا وَهَذَا يَوْمًا، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي، قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُدْرَكَ طَعَامُنَا، قَالَ: فَقَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ، وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الأُخْرَى، وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى السَّاقَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ، قَالَ: فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ، قَالَ: فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، هَذِهِ أَوْبَاشُ قُرَيْشٍ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا فَاحْصُدُوهُمْ حَصْدًا، ثُمَّ مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا، قَالَ: وَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَمْ يُشْرِفْ لَهُمْ أَحَدٌ إِلا أَنَامُوهُ، قَالَ: وَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَتَى الصَّفَا فَقَامَ عَلَيْهِ، فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ فَلا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى سِلاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ "، قَالَ: فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، قُلْتُمْ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، كَلا أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ، وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْنَا إِلا ضَنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ " ."

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Rabah narrates that we went as a delegation to Sayyiduna Muawiyah (RA) and with us was Sayyidna Abu Huraira (RA) one of us would prepare the food and then invite his companions. On the occasion of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was with the army on the right side and on the left. When I called them, they came walking fast. Tomorrow, when these obscene people of Quraysh come before you, you have to grind them. We will meet you on Safa (hill). The narrator narrates that he signaled with his hand, the next day the person who tried to come for the contest was killed by Mard or the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was granted victory. If the Quraysh continue to be killed in this way, after today there will be no sign of the Quraysh. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Whoever enters the house of Abu Sufyan is safe, whoever closes the door of his house is safe. Sayyiduna Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrates that some of the Ansar said: Now the love of his people has become evident in his heart, and he has developed an attachment to his town, so the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) revealed several revelations about this. I am the servant of Allah and His Messenger. I migrated to Allah and to you. My life and my death are with you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں ہم ایک وفد کی شکل میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ہمارے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ہم میں سے کوئی ایک شخص کھاناتیار کرتا تھا پھر اپنے ساتھیوں کی دعوت کرتا تھا ایک دن ایک شخص یہ کام کرتا دوسرے دن دوسرا کرلیتا جب میری باری آئی میں نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنانی ہے جب تک کھانا نہیں آتا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا لشکر کے دائیں طرف والے اور بائیں طرف والے دونوں حصوں میں ایک کا امیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید کو مقرر کیا اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو دوسرے حصے کا مقرر کیا لشکر کے پیچھے والے حصے کا امیر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بنایا جو وادی کے نشیبی حصے میں تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوہریرہ انصار کو میرے پاس بلاؤ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے انہیں بلایا تو وہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے انصار! یہ قریش کے اوباش لوگ کل جب تمہارے سامنے آئیں تو تم انہیں پیس دینا ہے، ہماری تمہاری ملاقات صفا (پہاڑی) پر ہوگی۔ راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعہ اشارہ کیا، اگلے دن جس شخص نے مقابلے کے لیے آنے کی کوشش کی انہوں نے اسے مارد یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح نصیب ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا (پہاڑی) پر تشریف لائے اور اس پر کھڑے ہوئے ابوسفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی یارسول اللہ! اگر قریش کو اسی طرح مارا جاتارہا تو آج کے بعد قریش (کا نام ونشان) نہیں رہے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا اسے امان ہے جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرے گا اسے امان ہے جو شخص اپنا ہتھیار ڈال دے گا اسے بھی امان ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کچھ انصار نے یہ کہا: اب ان صاحب کے دل میں اپنی قوم کی محبت اجاگر ہوگئی ہے، اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہوگیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس بارے میں وحی نازل کی کئی، آپ نے ارشاد فرمایا اے انصار تم نے یہ کہا: ہے، اب ان صاحب کے دل میں قوم کی محبت اجاگر ہوگئی ہے اور اپنی بستی سے لگاؤ پیدا ہوگیا ہے یاد رکھنا! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں نے اللہ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی، میری زندگی اور میری موت تمہارے ساتھ ہے راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ہم نے اللہ اور اس کی رسول کی محبت میں یہ بات کہی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہاری معذرت قبول کرتے ہیں۔

3025

Sunan al-Daraqutni #3025

Da'if

ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُسْتَمْلِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ سُرَّقٍ ، قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ مَالٌ عَلَيَّ، أَوْ قَالَ: عَلَيَّ دَيْنٌ، فَذَهَبَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصِبْ لِي مَالا، فَبَاعَنِي مِنْهُ، أَوْ بَاعَنِي لَهُ " ، خَالَفَهُ ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ."

EnglishUnverified translation

Sarq says: I had to give some property of a person (the narrator doubts that these are the words) I had to give a loan to a person. That person took me to the service of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). The two sons of Zayd bin Aslam have narrated it differently.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سرق بیان کرتے ہیں میں نے کسی شخص کا کچھ مال دینا تھا (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) کسی شخص کا قرض دینا تھا وہ شخص مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تومیراجو بھی مال تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس شخص کو (ادائیگی) کے لیے فروخت کردیا۔ زید بن اسلم کے دونوں بیٹوں نے اسے نقل کرنے میں مختلف بات نقل کی ہے۔

3026

Sunan al-Daraqutni #3026

ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، نَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، نَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّهُ كَانَ فِي غَزَاةٍ فَسَمِعَ رَجُلا يُنَادِي آخَرَ، يَقُولُ: يَا سُرَّقُ يَا سُرَّقُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: مَا سُرَّقٌ؟ فَقَالَ: سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ مِنْ أَعْرَابِيٍّ نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَيْتُ عَنْهُ فَاسْتَهْلَكْتُ ثَمَنَهَا، فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ يَطْلُبُنِي، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْدِي عَلَيْهِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رَجُلا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ: اطْلُبْهُ "، قَالَ: فَوَجَدَنِي فَأَتَى بِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا اشْتَرَى مِنِّي نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّي، فَقَالَ: " أَعْطِهِ ثَمَنَهَا "، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَهْلَكْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَنْتَ سُرَّقٌ "، ثُمَّ قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ: " اذْهَبْ فَبِعْهُ فِي السُّوقِ وَخُذْ ثَمَنَ نَاقَتِكَ "، فَأَقَامَنِي فِي السُّوقِ فَأَعْطَى فِيَّ ثَمَنًا، فَقَالَ لِلْمُشْتَرِي: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: أُعْتِقُهُ، فَأَعْتَقَنِي الأَعْرَابِيُّ ."

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman and Abdullah, the sons of Zayd bin Aslam, narrate this on the authority of their father. They participated in a battle. They heard a person calling another person in a loud voice, O thief, O thief. So he told me that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) gave me this name. I bought a camel from a villager, then I hid from him. I lost the value of the camel. The villager was looking for me, and people said to him: Go to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and tell him about this. I bought a camel and then he hid from me. I could not find him. The Prophet said, "Look for him. The narrator narrates that this man found me and took me to the service of the Prophet. He said, O Messenger of Allah, this is the person who bought the camel from me and hid from me. The Prophet said, 'You pay the price.' It has been lost. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "You are a thief!" Then he said to the villager, you go and sell it in the market and get the price of your camel, so this villager made me stand in the market and the price I was charged, he asked the buyer, what are you going to do with it? He said I will free him, so this villager freed me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن اسلم کے صاحبزادے عبدالرحمن اور عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں وہ ایک جنگ میں شریک ہوئے انہوں نے کسی شخص سنا جو کسی دوسرے شخص کو بلند آواز میں پکار رہا تھا اے سرق، اے سرق، توزید بن اسلم نے بلایا اور دریافت کیا سرق سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا یہ نام رکھا ہے میں نے ایک دیہاتی سے ایک اونٹنی خریدی، پھر میں اس سے چھپ گیا میں نے اس اونٹنی کی قیمت کو بھی ضائع کردیا، وہ دیہاتی مجھے تلاش کرتا ہوا تو لوگوں نے اس سے کہا:، تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤ، وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ ایک شخص نے مجھ سے اونٹنی خریدی اور پھر وہ مجھ سے چھپ گیا، میں اسے ڈھونڈ نہیں سکا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اسے تلاش کرو راوی بیان کرتے ہیں اس شخص نے مجھے ڈھونڈ لیا اور مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وہ شخص ہے جس نے مجھ سے اونٹنی خریدی تھی اور مجھ سے چھپ گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم س کی قیمت ادا کرو، تو میں نے عرض کی یارسول اللہ وہ تو مجھ سے ضائع ہگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم سرق ہو! پھر آپ نے دیہاتی سے فرمایا تم جاؤ اسے بازار میں فروخت کرو اور اپنی اونٹنی کی قیمت وصول کرو تو اس دیہاتی نے مجھے بازار میں کھڑا کیا میری جو قیمت لگائی گئی تو اس نے خریدار سے دریافت کیا تم اس کا کیا کرو گے؟ اس نے بتایا میں اسے آزاد کردوں گا تو اس دیہاتی نے ہی مجھے آزاد کردیا۔

3027

Sunan al-Daraqutni #3027

Da'if

ثنا عَلِيٌّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، نَا زيدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا، يُقَالُ لَهُ: سُرَّقٌ ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا الاسْمُ؟، فَقَالَ: اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ أَدَعَهُ، قُلْتُ: لِمَ سَمَّاكَ؟، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَالِي يَقْدُمُ فَبَايَعُونِي فَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ، فَأَتَوْا بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " أَنْتَ سُرَّقٌ، وَبَاعَنِي بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ، فَقَالَ الْغُرَمَاءُ لِلَّذِي اشْتَرَانِي: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟، قَالَ: أُعْتِقُهُ، قَالُوا: فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ مِنْكَ فِي الأَجْرِ، فَأَعْتَقُونِي بَيْنَهُمْ، وَبَقِيَ اسْمِي " ."

EnglishUnverified translation

Zayd bin Aslam narrates: I saw an old man in Alexandria whose name was Sarq. I inquired what this name was. So they told me that this name was given to me by the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and I will not give it up. So he said, I came to Madinah and I told the people that my wealth is coming. Those people made some deals with me. I had to pay them. That wealth was lost from me. Those people took me to the service of the Prophet, peace and blessings be upon him. He said, "You are a thief!" Then you sold me for four camels, these creditors asked the buyer what will you do with it? He told that I will free him, so these people said: We also need reward as much as you, so these people together freed me, but my name remained.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں میں نے اسکندریہ میں ایک بزرگ کو دیکھا جن کا نام، سرق، تھا میں نے دریافت کیا یہ کیا نام ہوا؟ تو انہوں نے بتایا میرا یہ نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ہے میں اسے ترک نہیں کروں گا، میں نے د ریافت کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا یہ نام کیوں رکھا؟ تو انہوں نے بتایا میں مدینہ منورہ آیا اور میں نے لوگوں کو بتایا کہ میرا مال آرہا ہے ان لوگوں نے میرے ساتھ کچھ سودے کیے میں نے انہیں ادائیگیاں کرنی تھیں وہ مال مجھ سے ضائع ہوگیا وہ لوگ مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضڑ ہوئے تو آپ نے فرمایا تم سرق ہو! پھر آپ نے مجھے چار اونٹنیوں کے عوض میں فروخت کروادیا، ان قرض خواہوں نے مجھے خرید نے والے سے دریافت کیا تم اس کا کیا کرو گے؟ اس نے بتایا میں اسے آزاد کردوں گا تو ان لوگوں نے کہا: ہمیں بھی اجر کی اتنی ضرورت ہے جتنی تمہیں ہے تو ان لوگوں نے مل کر مجھے آزاد کردیا لیکن میرا یہ نام باقی رہ گیا۔

3028

Sunan al-Daraqutni #3028

Sahih

ثنا الْقَاسِمُ ، وَالْحُسَيْنُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيِّ، قَالا: نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، نَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قِيلَ: أَيْنَ تَنْزِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي مَنْزِلِكُمْ؟، قَالَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلا، لا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ، وَلا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Osama bin Zayd (may Allah be pleased with him) narrates that on the occasion of the conquest of Makkah, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was asked before entering Makkah, O Messenger of Allah, where will you stay or in your house? The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Has Aqeel (bin Abu Talib) left us any house (because) a disbeliever does not inherit a Muslim and a Muslim does not inherit a disbeliever.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے عرض کی گئی یارسول اللہ آپ کہاں پڑاؤ کریں گے کیا اپنے گھر میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل (بن ابوطالب) نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے (کیونکہ) کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں بنتا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنتا۔

3029

Sunan al-Daraqutni #3029

Sahih

ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْمَخْرَمِيُّ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا: نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالا: نَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ؟ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ، قَالَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مِيرَاثٍ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Osama bin Zayd Radiyallahu Anhu narrates: It was asked, O Messenger of Allah, where will you camp tomorrow? If Allah willed (the narrators narrate) this is the occasion of the conquest of Makkah, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: Has Aqeel left anything for us as an inheritance (after this is according to the previous hadith).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عرض کی گئی یارسول اللہ کل آپ کہاں پڑاؤ کریں گے؟ اگر اللہ نے چاہا (راوی بیان کرتے ہیں) یہ فتح مکہ کے موقع کی بات ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل نے وراثت میں ہمارے لیے کچھ چھوڑا ہے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔

3030

Sunan al-Daraqutni #3030

Sahih

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنْزِلُ دَارَكَ بِمَكَّةَ؟، قَالَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ؟ " ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْ جَعْفَرٌ وَلا عَلِيٌّ شَيْئًا، لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرِينَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: " وَكَانُوا فِي ذَلِكَ يَتَأَوَّلُونَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا سورة الأنفال آية 74 إِلَى قَوْلِهِ: مِنْ وَلايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ سورة الأنفال آية 72 "."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Osama bin Zayd Radiyallahu Anhu narrates, He said, O Messenger of Allah, will you stay in your house in Makkah? So the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "Has Aqeel left us any desired place?" (The narrator narrates) Mr. Aqeel was the heir of Mr. Abu Talib. Ibn Shihab explains that the scholars take this meaning from this statement of Allah: "Those who believed and migrated, Jihad is this verse up to this point, there is nothing in their Wilayat."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے عرض کی یارسول الہ کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں قیام کریں گے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھریا جگہ چھوڑی ہے؟ (راوی بیان کرتے ہیں) جناب عقیل، جناب ابوطالب کے وارث ہوئے تھے وہ اور طالب دونوں (ابوطالب کے وارث ہوئے تھے) جبکہ سیدنا علی اور سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ ان کے وار ث نہیں ہوئے تھے کیونکہ یہ دونوں حضرات مسلمان تھے اور عقل اور طالب کافر تھے۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں اہل علم اللہ کے اس فرمان سے یہ مراد لیتے ہیں '' وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی، جہاد کیا یہ آیت یہاں تک ہے، ان کی ولایت میں سے کچھ نہیں ہے۔

3031

Sunan al-Daraqutni #3031

Sahih

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَهُ وَزَادَ، ثم قال: نَحْنُ نَازِلُونَ خَيْفَ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ " ."

EnglishUnverified translation

The same hadith is narrated from Zuhri, however, these words are added in it (the Holy Prophet, may God bless him and grant him peace), said: We will camp in Khaif Bani Kinana, where the Quraysh had taken an oath to remain steadfast in disbelief.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت زہری سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا ہم خیف بنی کنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش نے کفر پر ثابت قدم رہنے کی قسم اٹھائی تھی۔