Muslim99Muslim99

Sunan al-Daraqutni · Book 14 · Chapter 11

Criminal Offences and Limits

بَابُ (2)

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2836

Sunan al-Daraqutni #2836

Da'if

ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْمُقْرِئُ ، نَا يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، نَا حبَيْبُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَبْدُوَ صَلاحُهَا وَتَبِينَ، تَبْيَضَّ أَوْ تَحْمَرَّ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ اللَّبَنِ فِي ضُرُوعِهَا، وَالصُّوفِ عَلَى ظُهُورِهَا " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Abbas (may Allah be pleased with him) narrates that it is forbidden to sell fruits before they are ripe, unless it is clear whether the fruit will be white or red. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) forbade selling the milk in the udder and also the wool (on the back of the animal).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں پھلوں کو پک جانے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک یہ بات واضح نہیں ہوجاتی کہ وہ پھل سفید ہوگا یاسرخ ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن میں موجود دودھ کو فروخت کرنے اور (جانور کی پشت پر موجود) اون کو بھی فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔

2837

Sunan al-Daraqutni #2837

Da'if

ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَكِيلِ ، أنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا قُرَّةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ ثَمَرَةٌ حَتَّى يُطْعَمَ، أَوْ صُوفٌ عَلَى ظَهْرٍ، أَوْ لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ، أَوْ سَمْنٌ فِي لَبَنٍ " ، أَرْسَلَهُ وَكِيعٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ فَرُّوخَ."

EnglishUnverified translation

Sayyidina Abdullah bin Abbas narrated that the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) forbade the sale of fruit until it is ready to eat, and he also forbade the sale of the wool on the animal's back, the milk in the udder, and the ghee in the milk. A narrator named Waqiyyah has quoted it according to a Mursal tradition with reference to a narrator named Umar Bin Farrukh.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک وہ کھانے کے قابل نہیں ہوجاتا اور آپ نے جانور کی پشت پر موجود اون کو تھن میں موجود دودھ کو اور دودھ میں موجود گھی کو بھی فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ وکیع نامی راوی نے عمر بن فروخ نامی راوی کے حوالے سے اسے مرسل روایت کے مطابق نقل کیے ہیں۔

2838

Sunan al-Daraqutni #2838

موقوف

ثنا ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لا تَشْتَرُوا اللَّبَنَ فِي ضُرُوعِهَا، وَلا الصُّوفَ عَلَى ظُهُورِهَا " مَوْقُوفٌ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Abbas (may Allah be pleased with him) says: Do not sell the milk in the udder and do not sell the wool on the back of the animal. This tradition is discontinued.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں تھن میں موجود دودھ کو فروخت نہ کرو اور جانور کی پشت پر موجود اون کو فروخت نہ کرو۔ یہ روایت موقوف ہے۔

2839

Sunan al-Daraqutni #2839

Da'if

ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ، وَعَنْ شِرَاءِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَةِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ حُصُولِ الْغَائِصِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abu Saeed al-Khudri (may God be pleased with him) narrates that the Prophet (peace be upon him) forbade the sale of what is in the wombs of animals until they give birth, and he forbade the sale of booty until it is divided, and he forbade the sale of charity until it is divided, and he forbade the sale of what comes out after diving.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ میں موجود (ان کے بچوں کو) فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک وہ جانور انہیں جنم نہیں دیتے اور آپ نے مال غنیمت کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے اور جب تک اسے تقسیم نہیں کیا جاتا اور صدقے (کے مال کو) فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک اسے تقسیم نہیں کیا جاتا اور آپ نے غوطہ لگانے کے بعد جو چیز نکلے گی اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔

2840

Sunan al-Daraqutni #2840

Da'if

ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ الْقَتَّاتُ ، سَمِعَهُ مِنْ خُبَيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ، أَوْ سَمْنٌ فِي لَبَنٍ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ikrima narrates that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) forbade the milk in the udder to be sold for the ghee in the udder.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عکرمہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے تھن میں موجود دودھ کو یادودھ میں موجود گھی کو فروخت کیا جائے۔

2841

Sunan al-Daraqutni #2841

Sahih

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الأَعْرَابِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، نَا شَاذَانُ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ " ، قَالَ أَيُّوبُ: فَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ حُصُولَ الْغَائِصِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الآبِقُ، وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ، وَبَيْعُ مَا يَكُونُ فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ، وَبَيْعُ تُرَابِ الْمَعَادِنِ، وَبَيْعُ مَا فِي ضُرُوعِ الأَنْعَامِ إِلا بِكَيْلٍ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Abbas (RA) narrates that the Prophet (PBUH) forbade giving allegiance. A narrator named Ayyub has described this. A narrator named Yahya has explained Baighar. He says that Baighar includes trading what the diver brings out after diving. Baighar includes trading a runaway slave or a runaway camel or trading what is in the stomach of animals or trading what comes out of minerals. Or what is in the udders of animals should be traded.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔ ایوب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یحییٰ نامی راوی نے بیع غر کی وضاحت کی ہے وہ فرماتے ہیں بیع غرر میں یہ بات شامل ہے، غوطہ خور غوطہ لگاکرجوچیز نکال کے لائے گا اس کا سودا کیا جائے بیع غرر میں یہ بات شامل ہے بھاگے ہوئے غلام کا سودا کیا جائے یابھاگے ہوئے اونٹ کا سودا کیا جائے یا جانوروں کے پیٹ میں موجود جو چیز ہے اس کا سودا کیا جائے یا معدنیات کے اندر جو کچھ نکلے گا اس کا سودا کیا جائے یا جانوروں کے تھنوں میں جو چیز ہے اس کا سودا کیا جائے البتہ اگر ماپی ہوئی چیز کا سودا کیا جائے (تواگراتنادودھ نکلے گا توسودا ہوگا) تو ایسا کرنا جائز ہے۔

2842

Sunan al-Daraqutni #2842

مرسل

ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِبُنْدَارٍ، قَالُوا: نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (RA) narrates that the Holy Prophet (PBUH) forbade the sale of gharar and pebbles.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع غرر اور کنکریوں کی بیع سے منع کیا ہے۔

2843

Sunan al-Daraqutni #2843

Da'if

ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ يَزْدَادَ أَبُو الصَّقْرِ الْوَرَّاقُ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلائِكَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ، أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلاثِينَ زِنْيَةً " ، رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَجَعَلَهُ عَنْ كَعْبٍ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Hanzala (RA) narrates that the Prophet (PBUH) said that one dirham of usury that a person eats and eats intentionally is more serious (i.e. worse) for him than committing adultery thirty-six times. This tradition is also transmitted along with a chain of transmission, but it is not transmitted as a hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے سود کا ایک درہم جو ایک انسان کھاتا ہے اور جان بوجھ کر کھاتا ہے یہ اس کے لیے چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ شدید ہے (یعنی زیادہ برا ہے)۔ یہی روایت ایک سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم یہ مرفوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔

2844

Sunan al-Daraqutni #2844

Sahih

ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، نَا الْفِرْيَابِيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: لأَنْ أَزْنِيَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ زِنْيَةً، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ آكُلَ دِرْهَمًا مِنْ رِبًا، يَعْلَمُ اللَّهُ تَعَالَى أَنِّي أَكَلْتُهُ أَوْ أَخَذْتُهُ وَهُوَ رِبًا " ، هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْمَرْفُوعِ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Ka'b (may Allah be pleased with him) narrates that if I commit adultery thirty times, that is more pleasing to me than if I eat a dirham of usury, of which, may Allah know that I ate it, I took it, it was usury. Imam Darqutni (may Allah have mercy on him) says that this hadith is more authentic than the mentioned hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں تیس مرتبہ زنا کرلوں یہ میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے میں سود کا ایک درہم کھالوں جس کے بارے میں اللہ اللہ کو یہ علم ہو کہ میں نے اسے کھالیا ہے میں نے اسے لیا ہے وہ سود تھا۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ ٰ فرماتے ہیں مرفوع روایت کے مقابلے میں یہ روایت زیادہ مستند ہے۔

2845

Sunan al-Daraqutni #2845

ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الدِّرْهَمُ رِبًا أَشَدُّ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ سِتَّةٍ وَثَلاثِينَ زِنْيَةً فِي الْخَطِيئَةِ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Hanzalah (RA) narrates that the Prophet (PBUH) said that one dirham of usury is a greater sin in the sight of Allah than committing fornication thirty-six times by mistake.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے سود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ ٰ کی بارگاہ میں غلطی سے چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ شدید گناہ ہے۔

2846

Sunan al-Daraqutni #2846

ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ سَعِيدٍ أَوْ أَبِي سَعْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ حُرًّا أَفْلَسَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abu Saeed Al-Khudri (RA) narrates that the Prophet (PBUH) sold a free man who was bankrupt.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسے آزاد شخص کو فروخت کروادیا جو مفلس ہوگیا تھا۔

2847

Sunan al-Daraqutni #2847

ثنا أَبُو رَوْقٍ الْهَرَّانِيُّ بِالْبَصْرَةِ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ ، يَقُولُ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ بِنَسِيئَةٍ، فَقُلْتُ لا يَصْلُحُ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ، قَالَ: فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ: مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلا يَصْلُحُ، وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْلَمَنَا تِجَارَةً، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مثل ذَلِكَ " ."

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman bin Mut'am narrates that my partner bought some dirhams in half, so I said: This is not right, so the man said: I have sold them in the market and no one objected to it. There is nothing wrong with borrowing that will not be fine. You should inquire with Sayyiduna Zayd bin Arqam, for he is the most knowledgeable of all of us about the issues of trade.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن مطعم بیان کرتے ہیں میرے شراکت دار نے کچھ درہم ادھا رخریدے تو میں نے کہا: یہ ٹھیک نہیں ہے تو اس شخص نے کہا: میں نے تو یہ بازار میں بیچے ہیں اور کسی شخص نے اس پر اعتراض نہیں کیا راوی کہتے ہیں میں نے اس بارے میں سیدنا براء بن عازب سے دریافت کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو ہم اس طرح کا سودا کرلیا کرتے تھے تو نبی نے ارشاد فرمایا جو لین دین دست بہ دست ہو اس میں کوئی حرج نہیں جو ادھار کے طور پر ہو وہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ تم سیدنا زید بن ارقم سے مل کر دریافت کرو، کیونکہ تجارت کے مسائل کے بارے میں وہ ہم سب سے زیادہ واقف ہیں راوی کہتے ہیں جب میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی بات کہی۔

2848

Sunan al-Daraqutni #2848

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: وَكُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلا بَأْسَ بِهِ، وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلا يَصْلُحُ " ."

EnglishUnverified translation

Shaykh Abu Minhal, Sayyidna Bara and Sayyidna Zayd bin Arqam narrate this matter. (That is, dirhams or dinars are being paid on both sides).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شیخ ابومنہال، سیدنا براء اور سیدنا زید بن ارقم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم لوگ تجارت کیا کرتے تھے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا:، ارشاد فرمایا، اگر وہ دست بدست ہوتوحرج نہیں ہے ادھار کے طور پر ہوتودرست نہیں ہے۔ (یعنی دونوں طرف سے درہم یا دینا کالین دین ہورہاہو)۔

2849

Sunan al-Daraqutni #2849

Sahih

ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ سَوَادَ بْنَ غَزِيَّةَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَّرَهُ عَلَى خَيْبَرَ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ يَعْنِي الطَّيِّبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟، قَالَ: لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاثَةِ آصُعٍ مِنَ الْجَمْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَفْعَلْ، وَلَكِنْ بِعْ هَذَا وَاشْتَرِ بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا، وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ " ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ: يُقَالُ: كُلُّ شَيْءٍ مِنَ النَّخْلِ لا يُعْرَفُ اسْمُهُ فَهُوَ جَمْعٌ، يُقَالُ: مَا أَكْثَرَ الْجَمْعَ فِي أَرْضِ فُلانٍ، بِفَتْحِ الْجِيمِ ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abu Saeed Al-Khudri (RA) and Sayyidna Abu Hurairah (RA) narrate that the Prophet (PBUH) sent Sayyidna Sawad bin Ghaziyya, who belonged to Bani Adi. He did not say, O Messenger of Allah, by Allah, I have bought good dates for two Sa's and two Sa's for three Sa's. Imam Dar al-Qatni, may God bless him and grant him peace, says that every type of date palm that does not have a specific name is called a collection: It is like there is a collection (of different types of dates) in the land of so-and-so.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سواد بن غزیہ جو بنی عدی سے تعلق رکھتے ہیں انہیں بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں خیبر کا نگران مقرر کیا وہاں سے عمدہ کھجوریں لے کر آتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟ انہوں نے عرض کی نہیں، یارسول اللہ، اللہ کی قسم میں نے دوصاع کے عوض میں صاع اور تین صاع کے عوض میں دوصاع اچھی کھجوریں خریدی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسانہ کرو بلکہ پہلے انہیں فروخت کرو پھر ان کی قیمت کے ذریعے انہیں (یعنی اچھی کھجوروں کو) خریدو اسی طرح وزن کی جانے والی تمام چیزوں میں کرو۔ امام دار قطعنی رحمہ اللہ تعالیٰ ٰ فرماتے ہیں کھجور کی ہر وہ قسم جس کا کوئی نام متعین نہ ہو، اسے جمع کہا: جاتا ہے، جیسے فلاں کی زمین میں جمع (یعنی مختلف قسم کی کھجوریں) ہیں۔

2850

Sunan al-Daraqutni #2850

Sahih

ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ . وَعَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَ، أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .

EnglishUnverified translation

This hadith is narrated by Abdul Aziz bin Muhammad bin Abdul Majeed bin Suhail along with another chain of transmission.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ عبدالعزیز بن محمد بن عبدالمجید بن سہیل کے حوالے سے منقول ہے۔

2851

Sunan al-Daraqutni #2851

Sahih

ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .

EnglishUnverified translation

This same hadith along with another chain of transmission has been narrated from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) on the authority of Sayyidna Abu Hurairah and Sayyidna Abu Saeed Khudri.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے۔

2852

Sunan al-Daraqutni #2852

Sahih

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الدَّيْنَوَرِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْهَمَذَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَعْفَرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

This same hadith along with another chain of transmission has been narrated from the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) on the authority of Sayyidna Abu Hurairah and Sayyidna Abu Saeed Khudri (RA).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے۔

2853

Sunan al-Daraqutni #2853

ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ وَآخَرُونَ ، قَالُوا: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا وُزِنَ مثل بِمِثْلٍ إِذَا كَانَ نَوْعًا وَاحِدًا، وَمَا كَيْلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ، فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَلا بَأْسَ بِهِ " ، لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الرَّبِيعِ هَكَذَا . وَخَالَفَهُ جَمَاعَةٌ فَرَوَوْهُ عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَادَةَ، وَأَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِلَفْظٍ غَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Anas bin Malik (may Allah be pleased with him) narrates the saying of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that the thing that is weighed should be equal when both of them have the same oath, and when something is found, it should be the same, but when the oaths on both sides are different, then there is nothing wrong with that. The same hadith has been narrated from the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) on the authority of Sayyidina Anas (may Allah be pleased with him) with regard to other isnads.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں وہ چیز جس کا وزن کیا جاتا ہے برابر برابر ہونی چاہیے جب ان دونوں کی قسم ایک ہو اور جب کسی چیز کو پایاجاتا ہے وہ بھی اسی طرح ہونی چاہیے لیکن جب دونوں طرف سے قسمیں مختلف ہوں توپھران میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہی روایت دیگراسناد کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے۔

2854

Sunan al-Daraqutni #2854

Sahih

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، قَالَ قَتَادَةُ ، وَحَدَّثَنِي صَالِحٌ أَبُو الْخَلِيلِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ إِلا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا وَزْنًا تِبْرَهُ وَعَيْنَهُ، وَذَكَرَ الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، وَلا بَأْسَ بِالشَّعِيرِ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، فَمَا زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبِي فَاسْتَحْسَنَهُ."

EnglishUnverified translation

Shaykh Abu Ash'ath narrates that he was present at the sermon of Sayyidna Ubada bin Samit, may God be pleased with him. He narrates that I heard him narrate that the Prophet, may God bless him and grant him peace, narrates that gold should be sold for gold, but it can be done with an equal weight, and silver can be exchanged for silver, but it can be done with an equal weight. He ordered to sell dates for wheat and dates, and salt for salt, and then explained that there is no problem in trading barley for wheat as long as it is hand-to-hand and whatever is more in it, but this transaction should be hand-to-hand, except in cases where the more he gives or takes, it will act as usury. A narrator named Abdullah narrates: I narrated this hadith to my father, and he considered it to be good.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شیخ ابواشعث بیان کرتے ہیں وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے البتہ برابر کے وزن کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، اور چاندی کو چاندی کے عوض میں کیا جائے البتہ برابر کے وزن کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، خواہ وہ اپنی اصلی شکل میں ہوں یاس کہ کی شکل میں پھر انہوں نے جو کے عوض میں جو فروخت کرنے کا، گندم کے عوض گندم اور کھجور کے عوض میں کھجور، نمک کے عوض میں نمک فروخت کرنے کا حکم دیا اور پھر یہ بات بتائی کہ گندم کے عوض میں جو کا سودا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ وہ دست بہ دست ہو اور اس میں جو زیادہ ہو لیکن یہ لین دین دست بہ دست ہونا چاہیے اس کے علاوہ صورتوں میں جو زیادہ وہ دے گا یا لے گا، وہ سود کا کام کرے گا۔ عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے اپنے والد کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسے مستحسن قرار دیا۔

2855

Sunan al-Daraqutni #2855

Da'if

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلا شَهَادَةَ بَيْنَهُمَا اسْتُحْلِفَ الْبَايِعُ، ثُمَّ كَانَ الْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Masoud (may Allah be pleased with him) narrates that when there is a dispute between the seller and the buyer, and both of them do not have any evidence, the seller will be sworn in, then the buyer has the choice whether to sell it or not.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب فروخت کرنے والے اور خریدنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے اور ان دونوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہوتوفروخت کرنے والے سے حلف لیا جائے گا پھر خریدار کی مرضی ہے چاہے تو اسے سودا کرے چاہے توترک کر دے۔

2856

Sunan al-Daraqutni #2856

Da'if

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَتَاهُ رَجُلانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً، فَقَالَ هَذَا: أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، وَقَالَ الآخَرُ: بِعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي مثل هَذَا فَقَالَ: حَضَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ مثل هَذَا فَأَمَرَ بِالْبَائِعِ أَنْ يُسْتَحْلَفَ، ثُمَّ يَخْتَارُ الْمُبْتَاعُ إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " ."

EnglishUnverified translation

Abdul Malik bin Ubaydah narrates: I was with Abu Ubaydah bin Abdullah two men came to him and they traded one thing and they said: I have bought this thing for so much. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) instructed about the seller, that an oath should be taken from him, after which the buyer will have the right to acquire the item according to the seller's statement and to abandon it if he wishes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عبیدہ بیان کرتے ہیں میں ابوعبیدہ بن عبداللہ کے پاس موجود تھا ان کے پاس دو آدمی آئے انہوں نے ایک چیز کا سودا کیا انہوں نے کہا: میں نے یہ چیز اتنے عوض میں لی ہے دوسرے نے کہا: میں نے اتنے عوض میں فروخت کی ہے تو سیدنا ابوعبیدہ نے کہا: اسی طرح کی صورت حال سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوئی تھی تو انہوں نے بتایا تھا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا جب اس طرح کا معاملہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فروخت کرنے والے کے بارے میں یہ ہدایت کی تھی، کہ اس سے حلف لیا جائے پھر اس کے بعد خریدار کو اختیار ہوگا چاہے تو فروخت کرنے والے کے بیان کے مطابق اس چیز کو حاصل کرے اور اگر چاہے تو اسے ترک کر دے۔

2857

Sunan al-Daraqutni #2857

Da'if

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، قَالا: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَال: حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَتَاهُ رَجُلانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً، فَقَالَ: هَذَا أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، وَقَالَ هَذَا: بِعْتُ بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي مثل هَذَا، فَقَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مثل هَذَا، فَأَمَرَ بِالْبَائِعِ أَنْ يُسْتَحْلَفَ، ثُمَّ يُخَيَّرُ الْمُبْتَاعُ إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ: إِنِّي أُخْبِرْتُ عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ فِي الْبَيِّعَيْنِ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدَةَ، وَقَالَ حَجَّاجٌ الأَعْوَرُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ."

EnglishUnverified translation

Abdul Malik bin Jubeer narrates: I was with Abu Ubaidah, the son of Sayyidna Abdullah bin Masoud, and two men came to him. They had traded something. One of them said: I have bought this thing for so much. The other said: I have sold this thing for so much. I was present with the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) when such a case was brought before him, and he ordered that the seller should take an oath, and then the buyer would be given this option whether he took it from him or left it. This tradition is also present along with another document.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن جبیر بیان کرتے ہیں میں سیدنا عبداللہ بن مسعود کے صاحبزادے ابوعبیدہ کے پاس موجود تھا ان کے پاس دو آدمی آئے انہوں نے کسی چیز کا سودا کیا تھا ایک بولا: میں نے یہ چیز اتنے عوض میں حاصل کی ہے دوسرابولا میں نے یہ چیز اتنے کے عوض میں فروخت کی ہے، تو سیدنا ابوعبیدہ نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا تھا انہوں نے یہ بات بتائی تھی۔ میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ کے سامنے اس طرح کا مقدمہ پیش کیا گیا تھا تو آپ نے فروخت کرنے والے کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ وہ قسم اٹھائے پھر اس کے بعد خریدار کو یہ اختیار دیا جائے گا چاہے وہ اس سے لے چاہے توترک کر دے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی موجود ہے۔

2858

Sunan al-Daraqutni #2858

Da'if

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: اشْتَرَى الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ فِي ثَمَنِهِمْ، قَالَ: إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاخْتَرْ رَجُلا يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، فَقَالَ الأَشْعَثُ: أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَتْ بَيِّنَةٌ، فَهُوَ مَا قَالَ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ " ،."

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman bin Qays narrates this message from his grandfather regarding his father. Sayyidna Ash'ath bin Qais bought a slave from Khums for twenty thousand dirhams from Sayyidna Abdullah. Sayyidna Abdullah gave this message about its price. He said: I have bought it for ten thousand dirhams. Abdullah said: Name someone who can decide between you and me. Sayyidna Ash'at said: You will decide between me and you. It has been heard that when there is a dispute between the parties to the deal and there is no proof between them, then the statement of the owner of the goods will be valid or both of them should abandon the deal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن قیس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ پیغام نقل کرتے ہیں۔ سیدنا اشعث بن قیس نے خمس کے غلاموں میں ایک غلام بیس ہزار درہم میں سیدنا عبداللہ سے خرید لیا سیدنا عبداللہ نے اس کی قیمت کے بارے میں یہ پیغام دیاتو انہوں نے کہا: میں نے تو یہ دس ہزار درہم کے عوض لیا ہے تو عبداللہ نے کہا: آپ کسی ایسے شخص کا نام لیں جو آپ میں اور مجھ میں فیصلہ کر اسکے تو سیدنا اشعث نے کہا: میرے اور آپ کے درمیان آپ ہی فیصلہ کریں گے تو سیدنا عبداللہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب سودا کرنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے اور ان میں کوئی ثبوت نہ ہو تو وہ قول معتبر ہوگا جو سامان کے مالک کا ہے یا دونوں اس سودے کو ترک کردیں۔

2859

Sunan al-Daraqutni #2859

Da'if

ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَالأَشْعَثِ، مثل هَذَا سَوَاءٌ، وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ .

EnglishUnverified translation

This tradition is transmitted as a muqaf hadith along with another chain of transmission.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ موقوف حدیث کے طور پر منقول ہے۔

2860

Sunan al-Daraqutni #2860

Da'if

نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن أَبِيه، قَالَ: بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الإِمَارَةِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، يَعْنِي مِنَ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ فَجَاءَ بِعَشَرَةِ آلافٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، قَالَ: إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ وَإِنِّي أَرْضَى فِي ذَلِكَ بِرَأْيِكَ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بَيْعًا لَيْسَ بَيْنَهُمَا شُهُودٌ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ، قَالَ الأَشْعَثُ: قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ."

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman narrates this statement of his father: Sayyidna Abdullah bin Masoud sold a government slave for twenty thousand, that is, he brought ten thousand to Sayyidna Ash'ath bin Qays, then Sayyidna Abdullah said: I sold it to you for twenty two thousand, then Ash'at said: I did it for ten thousand. I am narrating to you a hadith narrated on the authority of the Messenger of Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیس ہزار کے عوض میں ایک سرکاری غلام کو فروخت کردیا، یعنی سیدنا اشعث بن قیس کو وہ دس ہزار لے کر آئے تو سیدنا عبداللہ نے کہا: میں نے توبیس ہزار کے عوض آپ کو فروخت کیا تھا، تواشعث نے کہا: میں نے یہ دس ہزار کے عوض کیا ہے میں اس بارے میں آپ کے فیصلہ سے راضی ہوں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے منقول ایک حدیث تمہیں سناتاہوں انہوں نے کہا: ٹھیک ہے ابن مسعود نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب دو آدمی سودا کرتے ہیں اور دونوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو تو اس بارے میں وہ قول متعبر ہوتا ہے جو فروخت کرنے والا کہتا ہے پھر وہ دونوں اس سودے کو ختم کردیں تو سیدنا اشعث نے کہا: میں اس سودے کر ختم کرتا ہوں۔

2861

Sunan al-Daraqutni #2861

Da'if

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مِدْرَارٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي طَاهِرٌ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ، فَإِذَا اسْتَهْلَكَ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمُشْتَرِي " ، الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، مَتْرُوكٌ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah (may Allah be pleased with him) narrates that the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said that when there is a difference between the two parties to the transaction, the seller's statement will be valid, but if the item has been lost, then the buyer's statement will be valid. The narrator of this tradition, Hasan bin Amara, is obsolete.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب سودا کرنے والے دونوں فریقوں میں اختلاف ہو جائے تو فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہوگا لیکن اگر وہ چیز ضائع ہوچکی ہے تو اس بارے میں خریدار کا قول معتبر ہوگا۔ اس روایت کا راوی حسن بن عمارہ متروک ہے۔

2862

Sunan al-Daraqutni #2862

Da'if

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اخْتَلَفَ الْمُتَبَايِعَانِ فِي الْبَيْعِ وَالسِّلْعَةِ كَمَا هِيَ لَمْ تُسْتَهْلَكْ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ،."

EnglishUnverified translation

Qasim bin Abd al-Rahman narrates the saying of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) on the authority of his father on the authority of his grandfather (Sayyidna Abdullah bin Masoud, may Allah be pleased with him) when there is a dispute between the two parties about the transaction and the goods are in the same state and have not perished, then the seller's statement will be valid or else both of them will terminate the transaction.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب سودا کرنے والے دونوں فریقوں کے درمیان سودے کے بارے میں اختلاف ہو جائے اور سامان اسی صورت میں موجود ہو ہلاک نہ ہواہو تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہوگا یاپھروہ دونوں اس سودے کو ختم کردیں گے۔

2863

Sunan al-Daraqutni #2863

Da'if

نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، نَا الْمُغِيرَةُ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .

EnglishUnverified translation

The same tradition is also narrated in another document.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے بھی منقول ہے۔

2864

Sunan al-Daraqutni #2864

Da'if

ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.

EnglishUnverified translation

This tradition is narrated along with another document.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

2865

Sunan al-Daraqutni #2865

Da'if

وَنا أَبُو الْقَاسِمِ بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَبْدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُسَبِّحٍ الْجَمَالُ ، نَا عِصْمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ مُسْتَهْلَكٌ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ " ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah (may Allah be pleased with him) says that when there is a dispute between the two men who have traded and the goods sold have been lost, then the seller's statement will be valid. He has narrated this tradition as a marfu' hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب سودا کرنے والے دونوں آدمیوں کے درمیان اختلاف ہو جائے اور فروخت شدہ سامان ضائع ہوچکا ہو تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہوگا۔ انہوں نے یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے۔

2866

Sunan al-Daraqutni #2866

Da'if

نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الأَشْعَثِ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الإِمَارَةِ فَاخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، وَقَالَ الأَشْعَثُ: اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشَرَةِ آلافٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَاتِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ، قَالَ الأَشْعَثُ: أَرَى أَنْ تُرَدَّ الْبَيْعُ."

EnglishUnverified translation

Qasim bin Abd al-Rahman narrates this statement of his father: Sayyidna Abdullah bin Masoud sold a government slave to Ash’ath. They had a dispute about the price. Sayyidna Abdullah said: I sold it to you for twenty thousand. Sayyidna Ash’at said: I bought it from you for ten thousand. Sayyidna Ash'ath said: Sayyidna Abdullah said: I heard the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) saying that when there is a dispute between two parties to a transaction and the goods sold are in their original condition and both parties do not have any evidence, then the seller's statement will be valid, or both of them will terminate the transaction. Sayyidna Ash'at said: finish

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث کو ایک سرکاری غلام فروخت کیا ان دونوں کے درمیان قیمت کے بارے میں اختلاف ہوگیا، سیدنا عبداللہ نے کہا: میں نے یہ بیس ہزار کے عوض میں آپ کو فروخت کیا ہے سیدنا اشعث نے کہا: میں نے اسے آپ سے دس ہزار کے عوض خریدا ہے تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی سنی ہے تو سیدنا اشعث نے کہا: سنائیے تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب سودا کرنے والے دوفریقوں کے درمیان اختلاف ہو جائے اور فروخت شدہ سامان اپنی اصلی حالت میں موجود ہو اور ان دونوں فریقوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معبتر ہوگا، یاپھروہ دونوں اس سودے کو ختم کردیں گے تو سیدنا اشعث نے کہا: میں یہ سمجھتاہوں کہ آپ اس سودے کو ختم کردیں۔

2867

Sunan al-Daraqutni #2867

Sahih

نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا عَمِّي . ح وَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي مُوهَبُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حِمْلَ خَبَطٍ، فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا " ، وَقَالَ أَحْمَدُ: فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ: عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا، قَالَ أَهْلُ اللُّغَةِ: مَعْنَى قَوْلُ الْعَرَبِ: عَمَرَكَ بِفَتْحِ الرَّاءِ: سَأَلْتُ اللَّهَ تَعْمِيرَكَ، كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Jabir (may Allah be pleased with him) narrates that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) bought a bundle of leaves from a villager. When a deal was made, the Prophet said to him, “You have the power (that if you wish, you can terminate it).” The man said to the Prophet (peace be upon him): May Allah bless your deal. In one hadith, these words are said: The villager said to the Holy Prophet: May Allah settle your business. All the narrators of this tradition are authentic.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دیہاتی سے پتوں کا ایک گٹھاخریداجب سودا طے کیا گیا تو نبی نے اس سے فرمایا تمہیں اختیار ہے (کہ اگر تم چاہو تم اسے ختم کرسکتے ہو) تو اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو مبارک کرے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو آباد کرے علم لغت کے ماہرین نے یہ کہا: ہے روایت میں استعمال ہونے والے لفظ، عمرک اللہ، اس کا مطلب یہ ہے میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو آباد رکھے۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

2868

Sunan al-Daraqutni #2868

Sahih

ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا الْمُعَافَى ، نَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، حِمْلَ خَبَطٍ، فَلَمَّا وَجَبَ لَهُ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ مِثْلَهُ بَيْعًا عَمَرَكَ اللَّهُ مِمَّنْ أَنْتَ؟، قَالَ: مِنْ قُرَيْشٍ " ،."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Jabir (may Allah be pleased with him) narrates that the Prophet (peace be upon him) bought something from a villager. I think he was related to Banu Umar bin Sa’sa’ah. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) bought a bunch of leaves from him. When the deal was made, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “You can take it if you want.” The villager said: I have not seen such a deal till today, may God Almighty Keep your deals settled! Which tribe do you belong to? So the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: It is from Quraysh.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دیہاتی سے کوئی چیز خریدی میرا خیال ہے اس کا تعلق بنوعامر بن صعصعہ سے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پتوں کا ایک گٹھاخریدا، جب سوداطے ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرایا تم اختیار کرلو (یعنی تم چاہو تو اسے ختم کرسکتے ہو) تودیہاتی نے کہا: میں نے آج تک ایساسودا نہیں دیکھا، اللہ تعالیٰ ٰ آپ کے سودے کو آباد رکھے! آپ کا کون سے قبیلہ سے تعلق ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش سے ہے۔

2869

Sunan al-Daraqutni #2869

ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَكَمًا مِنْ خَبَطٍ مِنْ أَعْرَابِيٍّ، فَخَيَّرَهُ بَعْدَ الْبَيْعِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءٌ.

EnglishUnverified translation

Taus narrates that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) bought a bunch of leaves from a villager, then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) gave the villager the right to terminate the deal if he wished. The narrator has quoted as per previous tradition.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طاؤس بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دیہاتی سے پتوں کا ایک گٹھاخریدا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دیہاتی کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہے تو اس سودا کو ختم کرسکتا ہے۔ راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے۔

2870

Sunan al-Daraqutni #2870

ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيَّ ، قَالا: نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى بِكْرٍ صَعْبٍ لأَبِيهِ، فَكَانَ يَغْلِبُهُ حَتَّى يَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيحَ بِهِ عُمَرُ، وَيَغْلِبُهُ الْبِكْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِعْنِيهِ يَا عُمَرُ، فَاشْتَرَاهُ، فَدَعَا ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ " ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ عَبَّادٍ."

EnglishUnverified translation

A narrator named Amr has narrated this. Sayyiduna Abdullah bin Umar (RA) was riding a camel that did not enter Q Abu. It was owned by his father. Sayyidna Abdullah bin Umar could not pass Q Abu on it. That camel went ahead of the Prophet's camel. Later, he reprimanded him, but that camel did not enter Q Abu. The Prophet (PBUH) said, "O Umar! Sell me. Then the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) bought it. Then the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) called Sayyiduna Abdullah bin Umar and said, "This is yours. Now treat him as you wish." These words of tradition are from a narrator named Ibn Ibad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک ایسے اونٹ پر سوار تھے جو ق ابومیں نہیں آتا تھا، وہ ان کی والد کی ملکیت تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر اس پر ق ابونہیں پاسکے وہ اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ سے آگے نکل گیا بعد میں انہیں جھڑکا لیکن وہ اونٹ ان کے ق ابومیں نہیں آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عمر! مجھے فروخت کردو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے خرید لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمر کو بلایا اور فرمایا یہ تمہارا ہوا اب تم اس کے ساتھ جو چاہو سلوک کرو۔ روایت کے یہ الفاظ ابن عباد نامی راوی کے ہیں۔

2871

Sunan al-Daraqutni #2871

نَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ الْبُنْدَارُ حَبْشُونَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَاتَبْتُ بَرِيرَةُ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعِ أَوَاقٍ كُلَّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لا وَلَكِنْ إِنْ شِئْتِ عَدَدْتُ لَهُمْ مَالَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونُ الْوَلاءُ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ، فَجَاءَتْ عَائِشَةَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَّتْهَا بِمَا قَالَتْ لَهُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لا إِذَنْ إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي مُكَاتَبَتِهَا، فَقُلْتُ: لا، إِنْ يَشَاءُ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّ لَهُمْ مَالَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي فَذَهَبَتْ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: لا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ، فَإِنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، تَعْلَمُنَّ بِأَنَّ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنَّ الشَّرْطَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُونَ: اعْتِقْ فُلانًا وَالْوَلاءُ لِي، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَتْ: وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا " ."

EnglishUnverified translation

Sayyida Ayesha Siddiqa (may Allah be pleased with her) narrates that Barira entered into a contract of writing for herself in exchange for paying Nawaqiyya every year. She came to Sayya Ayesha Siddiqa to help her in this matter. Tusaida Ayesha said, "No, if you want, I will pay the whole thing at once, but I will have the right to your walaa." He said: That the right of Wala will remain with them. She came to Sayyida Aisha. Meanwhile, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) came. Tubira told Sayyida Aisha in a low voice all the things that she had said to her owners (and the answer they had given). This is what Tusayda Aisha said: No, and I will have the right of Wala, (so I am ready for this matter). Aisha said, "O Messenger of Allah, Barirah came to me to seek my help regarding her contract of writing. I said: If the owners want, I will pay them all together and the right of ownership will remain with me." He attains that which liberates. Sayyida Aisha narrates) So I bought him and set him free. Then the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) stood up while giving a sermon to the people, praising Allah and saying: What has happened to the people? The condition that Allah has allowed will be stronger. What has happened to the people, they say that you free so-and-so and the right of ownership will remain with me. The right of ownership belongs to the person who frees. Sayyida Aisha (may Allah be pleased with her) narrates that Berira's husband was a slave, so the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) gave Berira authority.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ نے اپنے لیے نواوقیہ کی ہر سال ادائیگی کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کرلیا، وہ سیدہ عائشہ صدیقہ کے پاس آئیں تاکہ ان سے اس بارے میں مددلیں توسیدہ عائشہ نے فرمایا نہیں اگر تم چاہو تو میں ساری ادائیگی ایک ہی مرتبہ کردوں گی، البتہ تمہاری ولاء کا حق میرے پاس ہوگا، بریرہ اپنے مالک کے پاس گئی ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو ان لوگوں نے اس بات سے انکار کردیا اور کہا: کہ ولاء کا حق ان کے پاس ہی رہے گا، وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئیں اس دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے توبریرہ نے سیدہ عائشہ کو ہلکی آواز میں ساری بات بتائی جو اس نے اپنے مالکان سے کہی تھی (اور جو جواب انہوں نے دیا تھا) توسیدہ عائشہ نے یہی کہا: نہیں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہوگا، (تو میں اس معاملے کے لیے تیار ہوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا کیا معاملہ ہے؟ توسیدہ عائشہ نے عرض کی یارسول اللہ بریرہ میرے پاس آئی تھی تاکہ اپنے کتابت کے معاہدے کے بارے میں مجھ سے مدد لے تو میں نے یہ کہا: کہ اگر مالکان چاہیں تو میں انہیں ساری ادئیگی ایک ساتھ کردوں اور ولاء کا حق میرے پاس رہے گا، وہ اپنے مالکان ک پاس گئی تو انہوں نے جواب دیا نہیں ولاء کا حق ہمارے پاس ہی رہے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے خرید کرا سے آزاد کردو اور ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں) تو میں نے اسے خرید کر آزاد کردیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور ارشاد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے وہ ایسی شرائط عائد کردیتے یہں جن کی اجازت اللہ کی کتاب نہیں دیتی یہ بات جان لو کہ جو شخص کسی ایسی شرط عائد کرے جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں وہ شرط باطل شمار ہوگی اگرچہ سو مرتبہ کیوں نہ عائد کی گئی ہو اللہ کا فیصلہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے پورا کیا جائے اور اللہ نے جس شرط کی اجازت دی ہے وہ شرط زیادہ مضبوط ہوگی لوگوں کو کیا ہوگیا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ تم فلاں کو آزاد کردو اور ولاء کا حق میرے پاس رہے گا ولاء کا حق اسی شخص کو ہے جو آزاد کرتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بریرہ کا شوہر ایک غلام تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیاتو اس نے اپنی ذات کو اختیار کرلیا اگر اس کا شوہر آزاد شخص ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اختیار نہ دیتے۔

2872

Sunan al-Daraqutni #2872

نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَوَّانٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كُنْتُ لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، وَإِنَّ ابْنَهُ وَامْرَأَتَهُ بَاعُونِي وَاشْتَرَطُوا وَلائِي، فَمَوْلَى مَنْ أَنَا؟، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، دَخَلَتْ عَلَى بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ، فَقَالَتِ: اشْتَرِينِي، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي لا يَبِيعُونَنِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلائِي، قُلْتُ: لا حَاجَةَ لِي فِيكِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ، فَقَالَ: وَمَا قَالَتْ بَرِيرَةُ؟، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَدَعِيهِمْ يَشْتَرِطُونَ مَا شَاءُوا، فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَلَوِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ " ."

EnglishUnverified translation

Abdul Wahid bin Ayman narrates this statement of his father: I came to the service of Sayyida Aisha Siddiqa, I said to her: O Umm al-Mu'minin, I was with Utbah bin Abulhab, (i.e. I was his slave). So he said, "O my son, I came to Berira. He had made a contract for writing. He said: You buy me. I said: OK. He said: My owners will not sell me until they impose the condition of my walaa. So I said: Then I have no need for you. When the Prophet heard this or it was reported to him, he inquired what Barira was saying. I told you about it. He said, "You buy him and set him free, and let these people remain as they are, and impose whatever conditions they wish." (Sayyida Aisha) So I bought him and set him free, then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "The right of the freedman belongs to the one who frees him, even if (the people of the other side) impose such conditions."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالواحد بن ایمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں سیدہ عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین، میں عتبہ بن ابولہب کے پاس موجود تھا، (یعنی ان کا غلام تھا) اس کے بیٹے اور اس کی بیوی نے مجھے فروخت کردیا اور میری ولاء کی شرط عائد کی تو میں کسی کا آزاد کردہ غلام شمار ہوں گا؟ تو انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے میں بریرہ کے پاس آئی اس نے کتابت کا معاہدہ کیا تھا اس نے کہا: آپ مجھے خرید لیں میں نے کہا: ٹھیک ہے اس نے کہا: میرے مالکان مجھے اس وقت تک فروخت نہیں کریں گے جب تک وہ میرے ولاء کی شرط عائد نہ کریں، تو میں نے کہا:، پھر تو مجھے تمہارے بارے میں کوئی ضرورت نہیں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی یا آپ کو اطلاع دی گئی تواپ نے دریافت کیا بریرہ کیا کہہ رہی ہے، میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی نے فرمایا، تم اسے خرید کر اسے آزاد کردو اور ان لوگوں کو ایسے ہی رہنے دو وہ جو چاہیں شرطیں عائد کرتے پھریں (سیدہ عائشہ فرماتی ہیں) تو میں نے اسے خرید کر اسے آزاد کردیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے خواہ (دوسرے فریق کے لوگ) سوشرطیں عائد کریں۔

2873

Sunan al-Daraqutni #2873

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو قِلابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ عَجْلانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَزِيدَ الْمَدَنِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ لِبَشِيرٍ الصَّغِيرِ مَقْعَدٌ لا يَكَادُ يُخْطِئُهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَقَدَهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا عَادَ إِلَى مَقْعَدِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بَشِيرُ لَمْ أَرَكَ مُنْذُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي ابْتَعْتُ بَعِيرًا مِنْ فُلانٍ فَمَكَثَ عِنْدِي ثُمَّ شَرَدَ، فَجِئْتُ بِهِ فَدَفَعْتُهُ إِلَى صَاحِبِهِ فَقَبِلَهُ مِنِّي، قَالَ: فَكَانَ شَرَطَ لَكَ ذَاكَ؟، قَالَ: لا وَلَكِنْ قَبِلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الشُّرُودَ يُرَدُّ مِنْهُ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyidna Abu Huraira (RA) narrates that Sayyidna Basheer Saghir had a special place where he used to sit next to the Prophet (PBUH) regularly. Once, the Prophet (PBUH) did not visit him for three days (after three days). I have not seen you for the last three days, so they said, "My parents are sacrificed to you. I bought a camel from such and such a person. He stayed with me, and after that he became rebellious and ran away. I went after him, (caught him) and handed him over to his owner, so he took him from me." He said, "Don't you know that rebellious animals are returned on the same basis?"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بشیر صغیر کے بیٹھنے کی ایک مخصوص جگہ تھی جہاں وہ باقاعدگی کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتے تھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دن تک انہیں ملاحظہ نہیں فرمایا (جب وہ تین دن کے بعد) وہ اپنی مخصوص جگہ پر آئے تو نبی نے ان سے دریافت کیا، اے بشیر! میں نے تمہیں پچھلے تین دن سے دیکھا نہیں ہے تو انہوں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے فلاں شخص سے اونٹ خریدا تھا وہ میرے پاس رہا اور اس کے بعد وہ سرکش ہو کر بھاگ گیا میں اس کے پیچھے گیا، (اسے پکڑ کے لا کے) اسے اس کے مالک کے سپرد کردیا تو اس نے وہ مجھ سے لے لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا اس نے تمہارے ساتھ کوئی شرط طے کی تھی انہوں نے عرض کی نہیں اس نے ویسے ہی اسے لے لیا ہے، تو نبی نے ان سے فرمایا کیا تم یہ بات جانتے نہیں ہو کہ سرکش جانور اسی بنیاد پر واپس کیے جاتے ہیں۔

2874

Sunan al-Daraqutni #2874

حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهُجَيْمِيُّ ، نَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّ الْبَعِيرَ الشَّرُودَ يُرَدُّ " ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrates a tradition similar to this about the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). The rebellious camel is returned.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں تاہم سا میں یہ الفاظ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ سرکش اونٹ واپس کردیاجاتا ہے۔

2875

Sunan al-Daraqutni #2875

Da'if

ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالا: نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ، إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِهَا يَوْمَهَا، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ " ، وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: فَأَعْطَى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فِي الْمَوْضِعَيْنِ جَمِيعًا وَالْبَاقِي مِثْلَهُ."

EnglishUnverified translation

Sayyiduna Abdullah bin Umar (may God be pleased with him) narrates: I used to trade camels in Baqi, sometimes I would sell them for dinars, and I would receive dirhams instead of dinars, and sometimes I would sell them for dirhams and receive dinars instead of dirhams, which would take its place, and he used to give it away. I said, O Messenger of Allah, I want to ask you a question. I trade camels for profit. Sometimes I sell them for dinars but receive dirhams. Sometimes I sell them for dirhams and receive dinars. The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "There is nothing wrong with it if you continue to take it according to the price of that day until the two of you separate or there is no agreement between you." There is some difference in wording in one tradition.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں میں بقیع میں اونٹوں کا سودا کیا کرتا تھا، بعض اوقات میں انہیں دینار کے عوض میں فروخت کرتا تھا، اور دینار کی جگہ درہم وصول کرلیتا تھا اور بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور درہم کی جگہ دینار وصول کرلیتا تھا، یہ اس کی جگہ لے لیتا تھا، اور وہ اس جگہ دے دیا کرتا تھا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہواتو آپ اس وقت سیدہ حفصہ کے گھر میں موجود تھے میں نے عرض کی، یارسول اللہ میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتاہوں میں نفیع میں اونٹوں کا سوداکرتاہوں تو بعض اوقات میں دینار کے عوض میں فروخت کرتا ہوں لیکن درہم وصول کر لیتاہوں بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا ہوں اور دینار وصول کر لیتاہوں یہ میں اس کی جگہ لے لیتاہوں اور وہ اس کی جگہ لے لیتاہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر تم اس دن کے بھاؤ کے حساب سے لیتے رہو وارجب تک تم دونوں جدا نہیں ہوتے یا تمہارے درمیان کوئی شرط طے نہیں ہوتی۔ ایک روایت میں الفاظ کا کچھ اختلاف ہے۔