ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ أَبِي حَامِدٍ صَاحِبُ بَيْتِ الْمَالِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي ، نا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ أَقْوَامًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدْرٌ، قَالَ: فَهَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي إِذَا لَقِيتَهُمْ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرَأَ إِلَى اللَّهِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بَرَاءٌ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ عَلَيْهِ شَحْنَاءُ سَفَرٍ وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ يَتَخَطَّى حَتَّى وَرِكِ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَجْلِسُ أَحَدُنَا فِي الصَّلاةِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِسْلامُ؟ قَالَ: الإِسْلامُ أَنْ تَشَهَّدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ وَتَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وَتَتِمَّ الْوُضُوءَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، قَالَ: فَإِنْ فَعَلْتُ هَذَا فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ "، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ "، فَطَلَبْنَاهُ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ، فَخُذُوا عَنْهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شُبِّهَ عَلَيَّ مُنْذُ أَتَانِي قَبْلَ مَرَّتِي هَذِهِ وَمَا عَرَفْتُهُ حَتَّى وَلَّى " . إِسْنَادٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ . أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ."
EnglishUnverified translation
Yahya bin Ya'Umar narrates: I said to Sayyidna Abdullah bin Umar, may Allah be pleased with him: O Abu Abd al-Rahman, some people say that there is no reality of fate. So Sayyiduna Abdullah bin Umar (may Allah be pleased with him) said, "If you meet him, convey this message to me that Abdullah bin Umar requests in the presence of Allah to be indifferent to you and you have nothing to do with him." (Then Sayyidna Abdullah bin Umar (RA) narrated this hadith. I heard Sayyidna Umar Bin Khattab narrating that he said that one day we were sitting with the Prophet (PBUH) in the presence of some people, while a man came there, he had no sign of travel and he was not a resident of the city. He placed his hand on the knees of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and said, O Sayyidna Muhammad, what is Islam? The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “Islam is that you bear witness that there is no god but Allah, and that Muhammad (peace be upon him) is the Messenger of Allah, and establish prayer, and pay Zakat, and perform Hajj, and perform Umrah, and perform ablution, and perform ablution, and observe the fast of Ramadan. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said yes. After that, he narrated the rest of the hadith. At the end of this hadith, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, "Block this person to me." (says the narrator) We went out in search of him, but we could not find him. Sometimes I had a hard time recognizing them and I recognized them when they left. The chain of transmission of this hadith is proven and correct, Imam Muslim has narrated it with the same chain of transmission.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمن کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا کیا ان میں سے کوئی شخص ہمارے پاس بھی موجود ہے، میں نے جواب دیا جی نہیں! تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو تومیرایہ پیغام پہنچا دینا کہ عبداللہ بن عمر اللہ کی بارگاہ میں تم سے لاتعلق ہونے کی گزارش کرتا ہے اور تمہارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ (پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) یہ حدیث بیان کی میں نے سیدنا عمر بن خطاب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگوں کی موجودگی میں بیٹھے ہوئے تھے اس دوران ایک شخص وہاں آیا اس پر سفر کی کوئی علامت نہیں تھی اور وہ شہر کا رہنے والابھی نہ تھا، وہ لوگوں کے بیچ سے گزرتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آکر بیٹھ گیا بالکل اسی طرح جس طرح ہم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران بیٹھتا ہے پھر اس نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زانوؤں پر رکھا اور عرض کی اے سیدنا محمد اسلام کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور تم حج کرو اور تم عمرہ کرو اور تم غسل جنابت کرو اور تم وضو مکمل کرو اور تم رمضان کے روزے رکھو اس نے د ریافت کیا اگر میں ایسا کروں تو کیا میں مسلمان ہوجاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں وہ بولا: آپ نے ٹھیک فرمایا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث بیان کی اس حدیث کے آخر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس شخص کو میرے پاس بلاکرلاؤ (راوی کہتے ہیں) ہم اس کی تلاش میں نکلے لیکن ہم اسے نہیں پاسکے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا کیا تم جانتے ہو یہ کون شخص تھا، یہ جبرائیل تھے جو تمہارے پاس آئے تھے تاکہ تمہیں تمہاری دین کی تعلیم دیں تو تم اسے حاصل کرلو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ جب سے میرے پاس آرہے ہیں آج پہلی مرتبہ مجھے انہیں پہچاننے میں دقت ہوئی اور میں نے انہیں اس وقت پہچانا جب یہ چلے گئے۔ اس حدیث کی سند ثابت ہے اور صحیح ہے، امام مسلم نے اسے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔