Sunan al-Daraqutni #2055
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: لَئِنْ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَكُفَّ الرَّقَبَةِ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوَلَيْسَا وَاحِدًا؟ فَقَالَ: " لا عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا، وَالْمَنِحَةُ الْوَكُوفُ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلا مِنْ خَيْرٍ " ."
EnglishUnverified translation
Sayyiduna Bara (may Allah be pleased with him) narrates that a person came to the service of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and asked him to guide me to an action that would bring me closer to Paradise and keep me away from Hell! The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “If you shorten the speech, avoid asking, ‘Free the slave,’ free the neck (free the slave or the slave girl).” He said, O Messenger of Allah! Aren't these two the same? The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: No! Freeing the soul means that you free it and freeing the neck means that you help it to pay its price 'Give the high-yielding (camel or goat) free of charge and keep the relationship with the abusive relative' If you cannot do this, speak only good things with your tongue.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری راہنمائی کریں جو مجھے جنت سے قریب کر دے اور جہنم سے دورکر دے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم کلام مختصر کروتو مانگنے سے گریز کرو ‘ غلام کو آزاد کرو ‘ گردن کو چھڑادو (غلام یاکنیز کو آزاد کردو) اس نے عرض کی یارسول اللہ! یہ دونوں ایک ہی نہیں ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں! جان کو آزاد کرنے کا مطلب یہ ہے تم اسے آزاد کردو اور گردن کو چھڑانے کا مطلب یہ ہے تم اس کی قیمت کی ادائیگی میں اس کی مددکرو ‘ زیادہ دودھ دینے والی (اونٹنی یابکری کو) کسی معاوضے کے بغیر دے دو اور زیادتی کرنے والے رشتہ دار کے ساتھ تعلق برقراررکھو ‘ اگر تم یہ نہیں کرسکتے تو اپنی زبان سے صرف بھلائی کی بات کہو۔