حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، نا رَجَاءُ بْنُ مَرْجَاءَ الْحَافِظُ ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ يَحْيَى يَتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: بِقَوْلِ الْكُوفِيِّينَ وَتَقَلَّدَ قَوْلَهُمْ، وَاحْتَجَّ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَقَالَ لِيَحْيَى: كَيْفَ تَتَقَلَّدَ إِسْنَادَ بُسْرَةَ، وَمَرْوَانُ أَرْسَلَ شُرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ يَحْيَى: وَقَدْ أَكْثَرَ فِي النَّاسِ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَلا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كِلا الأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا، فَقَالَ يَحْيَى: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ " . فَقَالَ فَقَالَ عَلِيُّ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " لا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ " ، فَقَالَ يَحْيَى: عَنْ مَنْ؟ قَالَ: سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ، فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ: نَعَمْ وَلَكِنْ أَبُو قَيْسٍ لا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ . فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ " مَا أُبَالِي مَسَسْتُهُ أَوْ أَنْفِي " . فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارٌ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا."
EnglishUnverified translation
A Muhaddith named Raja bin Marji narrates: Once we gathered in the mosque of Khaif, among whom were Ahmad bin Hanbal, Ali bin Madini and Yahya bin Mu'in, and a discussion broke out between them about touching the private parts, and Yahya said: "After this, ablution will be performed." Ali bin Madini expressed his opinion according to the opinion of the people of Kufa and imitated their opinion. Yahya bin Mu'in quoted the hadith of Basrah bint Safwan in support of his position, while Ali bin Madini quoted the hadith of Qays bin Talq in support of his position. He said to Yahya: "How can you follow the authority of Basra? While Marwan (who was the governor of Madinah), he sent a soldier, until that soldier came to Marwan with the woman's answer." So Yahya said: "Many people have criticized Qays bin Talaq and have not declared his tradition to be authentic." So Imam Ahmad bin Hanbal said: "What you both described, the incident is like this." Yahya al-Mahdi, on the authority of Imam Malik, narrates the following about Sayyiduna Abdullah bin Umar, may Allah be pleased with him: Sayyidna Abdullah bin Masud, may Allah be pleased with him, says: "It is not necessary to perform ablution after this, it is a part of your body." So Yahya inquired: "Who has copied this?" So he replied: "This is what Sufyan narrated on the authority of Abu Qais on the authority of Hazeel, on the authority of Sayyiduna Abdullah (may God be pleased with him)." So whenever the opinions of Sayyiduna Abdullah bin Masood (RA) and Sayyiduna Abdullah Bin Umar (RA) differ on a matter, then Sayyiduna Abdullah Bin Masood is more deserving of being followed. So Imam Ahmad bin Hanbal said to them, "It is so." But the narration of the narrator Abu Qais cannot be presented as an argument. So he said: "Abu Na'im has narrated this statement of Sayyidina Ammar bin Yasir, may Allah be pleased with him, regarding Mu'mar, regarding Umayr." He says: "I do not care whether I touch it (the private part) or touch my nose." So Imam Ahmad bin Hanbal said: "Sayyidna Ammar bin Yasir (RA) and Sayyidna Abdullah bin Umar (RA) are both of the same generation, so whoever wants to adopt their opinion and whoever wants to adopt their opinion."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
رجاء بن مرجی نامی محدث بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم مسجد خیف میں اکٹھے ہوئے، جن میں احمد بن حنبل تھے، علی بن مدینی تھے اور یحییٰ بن معین تھے، ان لوگوں کے درمیان شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں بحث چھڑ گئی تو یحییٰ نے کہا: ”اس کے بعد وضو کیا جائے گا۔“ علی بن مدینی نے اہل کوفہ کے قول کے مطابق رائے بیان کی اور ان کے قول کی تقلید کی۔ یحییٰ بن معین نے اپنے موقف کی تائید میں بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کی، جبکہ علی بن مدینی نے اپنے موقف کی تائید میں قیس بن طلق کی روایت نقل کی۔ انہوں نے یحییٰ سے کہا: ”تم بسرہ کی سند کی کیسے پیروی کر سکتے ہو؟ جبکہ مروان (جو مدینہ کا گورنر تھا)، اس نے ایک سپاہی کو بھیجا تھا، یہاں تک کہ وہ سپاہی اس خاتون کا جواب لے کر مروان کے پاس آیا تھا۔“ تو یحییٰ نے کہا: ”اکثر لوگوں نے قیس بن طلق پر تنقید کی ہے اور ان کی روایت کو مستند قرار نہیں دیا۔“ تو امام احمد بن حنبل نے کہا: ”آپ دونوں نے جو بات بیان کی، واقعہ ایسا ہے۔“ یحییٰ مہدی نے امام مالک کے حوالے سے نافع کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: ”اس کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں ہے، یہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔“ تو یحییٰ نے دریافت کیا: ”یہ بات کس نے نقل کی ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ سفیان نے ابوقیس کے حوالے سے ہزیل کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بات نقل کی ہے۔“ تو جب بھی کسی معاملے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے مختلف ہو، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود اس بات کے زیادہ مستحق ہوں گے کہ ان کی پیروی کی جائے۔ تو امام احمد بن حنبل نے ان سے فرمایا کہ ”ایسا ہی ہے۔“ لیکن ابوقیس نامی راوی کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تو انہوں نے کہا: ”ابونعیم نے معمر کے حوالے سے، عمیر کے حوالے سے، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے۔“ وہ فرماتے ہیں: ”مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے، میں اسے (شرمگاہ کو) چھوؤں یا اپنی ناک کو چھوؤں۔“ تو امام احمد بن حنبل نے یہ کہا: ”سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں ایک ہی مرتبہ کے ہیں، تو جو شخص چاہے وہ ان کی رائے کو اختیار کرے اور جو شخص چاہے وہ ان کی رائے کو اختیار کرے۔“