حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي الْوَلِيدِ، قَالا: نا هَمَّامٌ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ رِفَاعَةُ، وَمَالِكُ بْنُ رَافِعٍ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ "، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُصَلِّي وَنَحْنُ نَرْمُقُ صَلاتَهُ لا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا، فَلَمَّا صَلَّى جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ "، قَالَ هَمَّامٌ: فَلا أَدْرِي أَمَرَهُ بِذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَلَوْتُ فَلا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلاتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لا تَتِمُّ صَلاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ، وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَمَا أَذِنَ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ وَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهَ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ وَيَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ "، قَالَ هَمَّامٌ: وَرُبَّمَا قَالَ: " جَبْهَتَهُ فِي الأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ "، فَوَصَفَ الصَّلاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ قَالَ: " لا تَتِمُّ صَلاةٌ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ " ."
EnglishUnverified translation
This is narrated on the authority of Sayyidna Rifa'a bin Rafi' (may Allah be pleased with him): Sayyidna Rifa'a (may Allah be pleased with him) and Sayyidna Malik bin Rafi' (may Allah be pleased with him) are brothers and participated in the Battle of Badr. Sayyidna Rafi' (may Allah be pleased with him) narrates: Once we were sitting with the Holy Prophet (may Allah's prayers and peace be upon him). He prayed facing the Qiblah, when he finished the prayer, he came and greeted the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and also greeted the people present. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said to him: "You must go back and pray, because you did not actually pray." This person started to pray again, we kept examining his prayer carefully, we didn't understand what he did wrong? When he finished the prayer, he came and greeted the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and those present. The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said to him: "It is obligatory upon you, you go and pray again. You have not actually prayed." A narrator named Hammam narrates: I do not know what is mentioned in the hadith, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) instructed him twice or instructed him three times, then the person said: "What have I missed? I do not know which part of my prayer you are invalidating?" So the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: "No one's prayer is complete until he performs ablution well as Allah Almighty has commanded him. He should first wash his face, then wash both arms up to the elbows, then wipe his head, wash both feet up to the ankles, mention the greatness of Allah, praise Him, then recite Surah Al-Fatihah, then recite what is his destiny." I said, let him recite (parts of the Qur'an) that he finds easy, then say the Takbeer and go into Ruku, and place both his hands on his knees until his joints are satisfied and wide, then he should recite 'Sami'Allah Liman Hamda' and stand up straight, until his back is straight, and every bone is in its place, then he should say the Takbeer and go into Sajdah, and keep his forehead fixed. A narrator named Hammam has sometimes quoted these words here: "He should place his forehead on the ground, until his joints are relaxed and wide, then he should sit on his back saying the Takbeer, and keep his back straight." After that, he explained the way of praying in the four rak'ahs in the same way, until he explained it completely and (the Prophet, peace and blessings be upon him) said: "No one's prayer is complete until he does this."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مالک بن رافع رضی اللہ عنہ یہ دونوں بھائی ہیں اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، ہم آپ کے ارد گرد موجود تھے، اسی دوران ایک شخص وہاں آیا۔ اس نے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی، جب اس نے نماز مکمل کر لی تو آکر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا اور حاضرین کو بھی سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم پر لازم ہے، تم واپس جاؤ اور جا کر نماز ادا کرو، کیونکہ تم نے درحقیقت نماز ادا نہیں کی۔“ اس شخص نے پھر نماز ادا کرنا شروع کی، ہم اس کی نماز کا غور سے جائزہ لیتے رہے، ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ اس نے کیا غلطی کی ہے؟ جب اس نے نماز ادا کر لی تو وہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حاضرین کو سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم پر لازم ہے، تم جاؤ اور جا کر دوبارہ نماز ادا کرو، تم نے درحقیقت نماز ادا نہیں کی۔“ ہمام نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ پتہ نہیں ہے، حدیث میں کیا مذکور ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دو مرتبہ اس بات کی ہدایت کی یا تین مرتبہ ہدایت کی، پھر اس شخص نے عرض کی: ”میں نے کیا کمی کی ہے؟ مجھے یہ نہیں پتہ چل سکا کہ آپ میری نماز کے کس حصے کو غلط قرار دے رہے ہیں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی، جب تک وہ اچھی طرح سے اسی طرح وضو نہیں کر لیتا جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، آدمی پہلے اپنے چہرے کو دھوئے، پھر دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کرے، دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ذکر کرے، اس کی ثناء بیان کرے، پھر سورة فاتحہ پڑھے پھر جو اس کے نصیب میں ہوا، اسے آسان لگے (قرآن کے کچھ حصے) کی تلاوت کرے، پھر تکبیر کہے اور رکوع میں جائے، اور اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، یہاں تک کہ اس کے جوڑ مطمئن ہو جائیں اور کشادہ رہیں، پھر وہ ’سمع اللہ لمن حمدہ‘ پڑھے اور سیدھا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ اس کی پشت سیدھی ہو جائے، اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جائے، پھر وہ تکبیر کہہ کر سجدے میں چلا جائے، اور اپنی پیشانی کو جما کر رکھے۔“ ہمام نامی راوی نے یہاں بعض اوقات یہ لفظ نقل کیے ہیں: ”اپنی پیشانی زمین پر رکھے، یہاں تک کہ اس کے جوڑ اطمینان کی حالت میں آ جائیں اور کشادہ ہو جائیں، پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے اپنی سرین کے بل بیٹھ جائے، اور اپنی پشت کو سیدھا رکھے۔“ اس کے بعد انہوں نے چاروں رکعات میں نماز کے طریقے کو اسی طرح بیان کیا، یہاں تک کہ اسے مکمل بیان کر دیا اور (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) یہ ارشاد فرمایا: ”کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ ایسا نہ کرے۔“