Sahih Ibn Khuzaymah #968
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ، خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا فَلا يَمَسُّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ" قَالَ: فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَ إِلَيْهَا رَجُلانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟"، فَقَالا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا، وَقَالَ لَهُمَا:" مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ"، ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ قَلِيلا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ، فَاسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخَبَرِ مَا بَانَ وَثَبَتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَهُوَ نَازِلٌ فِي سَفَرِهِ غَيْرُ سَائِرٍ وَقْتَ جَمْعِهِ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ ؛ لأَنَّ قَوْلَهُ: أَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، تُبَيِّنُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ رَاكِبًا سَائِرًا فِي هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ اللَّذَيْنِ جَمَعَ فِيهِمَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَبَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَخَبَرُ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ لَيْسَ بِخِلافِ هَذَا الْخَبَرِ ؛ لأَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا حِينَ جَدَّ بِهِ السَّيْرُ، فَأَخْبَرَ بِمَا رَأَى مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ، وَهُوَ نَازِلٌ فِي الْمَنْزِلِ غَيْرُ سَائِرٍ، فَخَبَّرَ بِمَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ، فَالْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ إِذَا جَدَّ بِالْمُسَافِرِ السَّيْرُ جَائِزٌ، كَمَا فَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا، وَإِنْ كَانَ نَازِلا لَمْ يَجِدَّ بِهِ السَّيْرُ كَمَا فَعَلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلِ ابْنُ عُمَرَ إِنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا غَيْرُ جَائِزٍ إِذَا لَمْ يَجِدَّ بِهِ السَّيْرُ لا أَثَرًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَلا مُخْبِرًا عَنْ نَفْسِهِ"
EnglishUnverified translation
** Narrated to us Yunus ibn 'Abd al-A'la, who said: Ibn Wahb informed us, that Malik informed him, from Abu az-Zubayr al-Makki, from Abu at-Tufayl 'Amir ibn Wathilah, that Mu'adh ibn Jabal informed him that they went out with the Messenger of Allah (ﷺ) during the year of Tabuk. The Messenger of Allah (ﷺ) would combine the Zuhr and 'Asr prayers, and the Maghrib and 'Isha' prayers. He said: One day, he delayed the prayer, then went out and prayed Zuhr and 'Asr together. Then he entered, then went out and prayed Maghrib and 'Isha' together. Then he said: "Verily, you will come tomorrow, if Allah wills, to the spring of Tabuk. You will not reach it until the day has advanced. Whoever reaches it, let him not touch any of its water until I come." He said: So we came to it, and two men had already preceded us to it. The spring was like a sandal-strap, trickling with a little water. The Messenger of Allah (ﷺ) asked the two men: "Did you touch any of its water?" They said: "Yes." So he rebuked them and said what Allah willed him to say. Then they scooped from the spring with their hands until some water had gathered in something. Then the Messenger of Allah (ﷺ) washed his face and hands in it, then returned it to the spring, whereupon the spring gushed forth with abundant water. The people drew water, then the Messenger of Allah (ﷺ) said: "It is imminent, O Mu'adh, if your life is prolonged, that you will see what is here filled with gardens." Abu Bakr said: In this narration, what is clear and established is that the Prophet (ﷺ) combined Zuhr and 'Asr, and Maghrib and 'Isha', while he was staying in his journey, not traveling at the time of combining the two prayers. For his statement, "He delayed the prayer one day, then went out and prayed Zuhr and 'Asr together. Then he entered, then went out and prayed Maghrib and 'Isha' together," clarifies that he was not traveling during these two times in which he combined the Maghrib and 'Isha', and the Zuhr and 'Asr. The narration of Ibn 'Umar that the Prophet (ﷺ), when the journey became pressing, would combine the two prayers, is not in contradiction to this narration. For Ibn 'Umar saw the Prophet (ﷺ) combine the two prayers when the journey became pressing, so he reported what he saw the Prophet (ﷺ) do. And Mu'adh ibn Jabal saw the Prophet (ﷺ) combine the two prayers while he was staying at a place, not traveling, so he reported what he saw the Prophet (ﷺ) do. Thus, combining the two prayers when the journey becomes pressing for the traveler is permissible, as the Prophet (ﷺ) did. Likewise, it is permissible for him to combine them even if he is staying and the journey is not pressing, as the Prophet (ﷺ) did. And Ibn 'Umar did not say that combining the two prayers is not permissible if the journey is not pressing. There is no narration from the Prophet (ﷺ) to that effect, nor did he report it from himself.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ تبوک والے سال (غزوہ تبوک کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جہاد کے لئے) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دوران سفر) ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھتے تھے ـ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مؤخر کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خیمہ سے) باہر تشریف لائے اور ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیمہ) کے اندر تشریف لے گئے، پھر باہر تشریف لائے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھیں - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک کل تم تبوک کے چشمے پر پہنچ جاؤ گئے، ان شاء اللہ، اور تم وہاں چاشت کے وقت ہی پہنچ سکو گئے - تو جو شخص چشمے پر پہنچ جائے وہ میرے پہنچنے تک اس میں سے پانی بالکل نہ لے“۔ کہتے ہیں کہ جب ہم چشمے پر پہنچے تو دو آدمی ہم سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے جبکہ چشمہ ایک تسمے کی طرح بالکل تھوڑا تھوڑا چل رہا تھا۔ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا: ” کیا تم نے چشمے سے کچھ پانی لیا ہے؟“ تو دونوں نے کہا کہ جی ہاں۔ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب سخت سست کہا پھر صحابہ کرام نے چشمے سے اپنے ہاتھوں کے ساتھ تھوڑا تھوڑا پانی چلؤوں میں لیا حتیٰ کہ تھوڑا سا پانی جمع ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پانی سے اپنا چہرہ اور دست مبارک دھوئے، پھر اس پانی کو چشمے میں ڈال دیا تو چشمہ جاری ہو گیا اور پھر پورا پانی بہنے لگا - پس لوگوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا - پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ، اگر تمھاری عمر لمبی ہوئی تو تم اس علاقے کو باغات (اور آبادی) سے بھر پور دیکھو گے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے واضح ہو گیا اور ثابت ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور دونوں نمازوں کو جمع کرتے وقت سفر جاری نہیں تھا - کیونکہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز مؤخر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خیمہ میں) داخل ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں ـ اس سے یہ واضح ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو اوقات میں سوار ہو کر چل نہیں رہے تھے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب و عشاء اور ظہر و عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا فرمائی تھیں اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر کی جلدی ہوتی تو دو نمازوں کو جمع کر لیتے تھے ـ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے مخالف نہیں ہے کیونکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نمازیں جمع کرتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی تھی تو اُنہوں نے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمل کرتے دیکھا ویسے ہی بیان کر دیا ـ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نمازیں جمع کر کے پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قیام گاہ میں ٹھہرے ہوئے تھے اور سفر نہیں کر رہے تھے، تو اُنہوں نے جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا، ویسے ہی اس کی خبر دے دی۔ لہٰذا جب مسافر کو جلدی ہو تو دو نمازیں جمع کر کے پڑھنا جائز ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ اسی طرح اس کے لئے کسی منزل پر قیام کے دوران سفر کی جلدی کے بغیر بھی دو نمازیں جمع کرنا جائز ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ نہیں کہا کہ جب مسافر کو سفر میں جلدی نہ ہو تو اس کے لئے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اُنہوں نے یہ بات نہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے اور نہ اپنی طرف سے کہی ہے۔