Sahih Ibn Khuzaymah #926
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أنا عَبْدُ الأَعْلَى ، نَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَاسْتَبْرَأَهَا بِعُودٍ مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، يَعْرِفُونَ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَاحِبُ هَذِهِ النُّخَامَةِ؟" فَسَكَتُوا، فَقَالَ:" أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَتَنَخَّعُ فِي وَجْهِهِ؟" فَقَالُوا: لا، قَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِي صَلاتِكُمْ، فَلا تُوَجِّهُوا شَيْئًا مِنَ الأَذَى بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِ أَحَدِكُمْ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ"""
EnglishUnverified translation
It is narrated by Ahmad bin Abdah, it is Abd al-Ala, it is Saeed, meaning Ibn Iyas al-Jariri, on the authority of Abu Nadra, on the authority of Abu Saeed al-Khudri, he said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, saw phlegm in the direction of the mosque, so he cleaned it out by taking a stick with him, then he turned to the people. They would know. Anger appeared on his face, so he said: “Which of you is the owner of this phlegm?” They remained silent, so he said: “Would any of you like, when he stood up to pray, for a man to meet him and sneeze in his face?” They said: No. He said: “For God Almighty is before you in your prayers, so do not direct any harm in front of you, but rather at the left of one of you or under his feet"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی کے ساتھ اسے صاف کر دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک میں سخت غصّہ دیکھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ بلغم کس کی ہے؟“ وہ سب خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم میں سے کوئی شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہو تو ایک شخص اُس کے سامنے آکر اُس کے چہرے پر تھوک دے؟“ صحابہ نے جواب دیا کہ نہیں، (ایسا کوئی بھی پسند نہیں کرے گا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری نمازوں میں تمہارے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا تم کوئی بھی گندگی اپنے سامنے مت پھینکا کرو لیکن (بوقتِ ضرورت) اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے ڈال لیا کرو۔“