Sahih Ibn Khuzaymah #363
نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، نا أَبِي ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الرُّؤْيَا حَقٌّ، فَقُمْ مَعَ بِلالٍ، فَإِنَّهُ أَنْدَى أَوْ أَمَدُّ صَوْتًا مِنْكَ، فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَكَ، فَيُنَادِي بِذَلِكَ" ، قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَاءَ بِلالٍ بِالصَّلاةِ، خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِلَّهِ الْحَمْدُ"""
EnglishUnverified translation
Saeed bin Yahya bin Saeed Al-Umayyad narrates, Ubay narrates, Muhammad bin Ishaq narrates, on the authority of Muhammad bin Ibrahim bin Al-Harith, on the authority of Muhammad bin Abd Allah bin Zayd, on the authority of his father, said: When we came to the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, in the morning, I told him about the vision, and he said: “Indeed This vision is true, so stand with Bilal, for he has a softer or longer voice than you, so recite to him what you were told, and he will call out that.” He said: So I did, and when Omar bin Al-Khattab heard Bilal’s call to prayer, he went out to the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, dragging his cloak, and he said: Oh Messenger of God, by the One who sent you with the truth, I have seen something like that. He said: Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “Praise be to God.”
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے صبح کی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (آذان کے متعلق) خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک یہ سچا خواب ہے۔ بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہیں، اسے وہ کلمات بتاؤ جو تمہیں (خواب میں) بتائے گئے ہیں اور وہ ان کے ساتھ اذان کہیں۔“ کہتے ہیں کہ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی تعمیل کی، پھر جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی نماز کے لئے اذان سُنی تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نکلے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول، اس ذات اقدس کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ معبوث فرمایا ہے، یقیناًً ً میں نے اسی طرح دیکھا ہے جیسے انہوں نے پکارا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ (جس نے یہ خواب سچ کر دکھایا ہے۔)“