Sahih Ibn Khuzaymah #323
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، وَمُوسَى بْنُ خَاقَانَ الْبَغْدَادِيُّ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ، نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ: صَلِّ مَعَنَا، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَقَالَ: وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ نَقِيَّةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْفَجْرَ بِغَلَسٍ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، أَخَّرَ فَوْقَ الَّذِي كَانَ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟» قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أَجِدْ فِي كِتَابِي عَنِ الزَّعْفَرَانِيِّ الْمَغْرِبَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي
EnglishUnverified translation
Ours is Yaqoub bin Ibrahim, Al-Hasan bin Muhammad, Ali bin Al-Hussein bin Ibrahim bin Al-Hussein, Ahmad bin Sinan Al-Wasiti, and Musa bin Khaqan al-Baghdadi said: Ishaq, who is the son of Yusuf al-Azraq, told us, and this is the hadith of al-Dawraqi, narrated by Sufyan al-Thawri, on the authority of Alqamah ibn Marthad, on the authority of Suleiman bin Buraydah, on the authority of his father, who said: A man came to the Prophet, may God bless him and grant him peace, and asked him about the time for the prayers. He said: Pray with us, so when When the sun had passed, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, prayed the noon prayer and said: He prayed the afternoon prayer while the sun was high and pure, and he prayed the sunset prayer when the sun had set. He prayed the evening prayer when twilight had disappeared, and he prayed the dawn prayer while sitting, and the next day he ordered Bilal to call the noon call to prayer, and he cooled off with it, and he was blessed to be cooled off. And He commanded him, so he established the afternoon prayer while the sun was alive. He delayed it beyond what it was, and he commanded him, so he established the sunset before twilight had set, and he commanded him So he performed the Ishaa’ prayer after a third of the night had passed, and he commanded him to perform the Fajr Iqama, and he carried it out, then he said: “Where is the one who asked about the time for prayer?” He said: It is me, O Messenger of God. He said: “The time of your prayer is between what you have seen.” Abu Bakr said: I did not find in my book on the authority of Al-Zafarani the sunset on that day. The second
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کہا، ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے وقت کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ نماز پڑھو (تمہیں وقت معلوم ہو جائے گا)“ پھر جب سورج ڈھل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی جبکہ سورج بلند اور صاف و روشن تھا، اور سورج غروب ہونے پر نماز مغرب ادا کی، اور نماز عشاء شفق غائب ہونے پر ادا کی، اور نماز فجر اندھیرے میں ادا کی، پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حٗکم دیا تو اُنہوں نے ظہر کی اذان دی اور اُسے ٹھنڈا کیا تو خوب ٹھنڈا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے حُکم دیا تو اُنہوں نے نمازِ عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج زندہ (خوب روشن) تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کل سے زیادہ تاخیر سے ادا کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں حُکم دیا تو اُنہوں نے سرخی غائب ہو نے سے پہلے نماز مغرب کی اقامت کہی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں حُکم دیا تو اُنہوں نے تہائی رات گزر نے پر عشاء کی نما ز قائم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم سے اُنہوں نے نماز فجر کو روشنی میں قائم کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے وقت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ اُس نے عرض کی کہ میں موجود ہوں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نمازوں کے اوقات اس کے درمیان ہیں جو تم نے (دو دن میں) دیکھا ہے۔“ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں زعفرانی سے یہ الفاظ نہیں پائے ”مغرب دوسرے دن میں۔“