Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 6 · Chapter 17

Chapters 126–150

بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ إِقَامَ الصَّلَاةِ مِنَ الْإِيمَانِاس بات کی دلیل کا بیان ک

Chapter: The evidence that establishing the prayer is part of faith (iman)

باب: اس دلیل کا بیان کہ نماز قائم کرنا ایمان کا حصہ ہے

1 hadith in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

307

Sahih Ibn Khuzaymah #307

Sahih

نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا أَبُو عَامِرٍ ، نا قُرَّةَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ وَهُوَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ جَرَّةً لِي أَنْتَبِذُ فِيهَا، فَأَشْرَبُ مِنْهُ، فَإِذَا أَطَلْتُ الْجُلُوسَ مَعَ الْقَوْمِ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ مَنْ حَلاوَتِهِ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَدَامَى"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلا فِي الأَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَحَدِّثْنَا جُمَلا مِنَ الأَمْرِ إِذَا أَخَذْنَا عَمِلْنَا بِهِ، أَوْ إِذَا أَحَدُنَا عَمِلَ بِهِ، دَخَلَ بِهِ الْجَنَّةَ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ؟"، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغَانِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّا وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ\" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ"

EnglishUnverified translation

We are Muhammad bin Bashar Bandar, we are Muhammad bin Jaafar, Shu`bah told us. H Muhammad bin Bashar, narrated to us Abu Amir, narrated to us Qurrah all of us, on the authority of Abu Jamrat al-Dhabi’i, who is Nasr bin Imran, said: I said to Ibn Abbas “I have a pitcher in which I retreat, and I drink from it. If I sit for a long time with the people, I fear that I will be exposed to its sweetness.” He said: A delegation presented Abdul Qais came to the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, and said: “Welcome the delegation, without shame or regret.” They said: O Messenger of God, we are among us. And the polytheists are free from harm among you, and we do not reach you except during the sacred months. So tell us a sentence of the matter if we take it and act upon it, or if One of us did it, and he entered Paradise with it, and we invite to it those behind us. He said: “I command you to do four things, and I forbid you to do four things: belief in God, and... Do you know what faith in God is? They said: God and His Messenger know best. He said: Bearing witness that there is no god but God, establishing prayer, paying zakat, and fasting. Ramadan, and you shall be given one-fifth of the spoils, and I forbid you from drinking wine in the form of dhabba, an-naqir, hantam, and mixed-mixtures.” This is the wording of the hadith of Qurrah bin Khalid

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجمرہ ضبعی نصر بن عمران رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میرے پاس ایک گھڑا ہے جس میں میں نبیذ بناتا ہوں۔ اور اس سے پیتا ہوں۔ پھر جب میں لوگوں کے پاس دیر تک بیٹھتا ہوں تو اُس کی حلاوت کی وجہ سے رسوائی اور بدنامی سے ڈرتا ہوں (کہ لوگ خیال کریں گے کہ یہ نشہ ہے) اُنہوں نے فرمایا کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وفد کو خوش آمدید، نہ ذلیل و خوار ہوئے اور نہ شرمندہ و نادم ہوئے۔“ (یعنی خوشی سے مسلمان ہو کر معزز ہوئے) تو اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، بیشک ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے مشرک (حائل) ہیں۔ اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں آسکتے ہیں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دین کے جملہ احکام بیان فرمائیں کہ جب ہم انہیں حاصل کر کے ان کے مطابق عمل کر لیں (یا جب ہم میں سے کوئی شحص ان کے مطابق عمل کرلے) تو جنّت میں داخل ہو جائے اور ہم اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی ان کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حُکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حُکم دیتا ہوں۔ کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟“ اُنہوں نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بخوبی جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لا ئق نہیں۔ اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا اور غنیمتوں میں سے پانچواں حصّہ ادا کرنا، اور میں تمہیں کدّو کے برتن، کُریدی ہوئی لکڑی کے برتن، سبزلاکھی مرتبان اور تارکول لگے برتن میں نبیذ بنانے سے منع کرتا ہوں۔“