Sahih Ibn Khuzaymah #306
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نا أَبُو سُهَيْلٍ وَهُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ثَائِرُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ؟ قَالَ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، إِلا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا"، قَالَ: أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ؟ قَالَ: فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الإِسْلامِ، قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلا أُنْقِصُ شَيْئًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ"""
EnglishUnverified translation
On the authority of Ali bin Hajar, on the authority of Ismail, meaning Ibn Jafar, on the authority of Abu Suhail, who is the uncle of Malik ibn Anas, on the authority of his father, on the authority of Talha ibn Ubaid. By God, a Bedouin came to the Prophet, may God bless him and grant him peace, while he was with a disheveled head. He said: O Messenger of God, tell me what God has made obligatory upon me. Prayer? He said: “The five daily prayers, unless you do something voluntary.” He said: Tell me what has God made obligatory upon me in terms of zakat? He said: Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, informed him of the laws of Islam. He said: By the One who honored you, I do not volunteer anything, nor do I subtract anything from what was enjoined. God is upon me, so the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “He will succeed and his father if he is truthful, or he will enter Paradise and his father if he is truthful.”
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نمازوں میں سے کیا فرض کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازں ہیں الایہ کہ تم کوئی نفلی نماز پڑھ لو۔“ اُس نے کہا کہ مجھے بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر زکوٰۃ میں سے کیا فرض کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے (زکوٰۃ) کے متعلق اسلامی احکام بتائے۔ اُس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معزز و مکرم بنایا ہے میں نفلی کام بلکل نہیں کروں گا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کیا ہے میں اس میں کوئی کمی نہیں کروںگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے باپ کی قسم، اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا۔“ یا فرمایا: ”اس کے باپ کی قسم، اگر اس نے سچ کہا ہے تو جنّت میں داخل ہو جائے گا۔“