Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 40 · Chapter 18

Chapters 976–1000

بَابُ الْبَيْتُوتَةِ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ.ایام تشریق کی راتیں منیٰ

Chapter: Spending the nights at Mina during the days of Tashriq

باب: ایام تشریق میں منیٰ میں راتیں گزارنا

1 hadith in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2956

Sahih Ibn Khuzaymah #2956

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ، فَيُطِيلُ الْقِيَامَ، وَيَتَضَرَّعُ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ظَاهِرُهَا خِلافُ خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى، وَأَحْسَبُ أَنَّ مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ لا تُضَادُّ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ لَعَلَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ بَعْدَ رُجُوعِهِ إِلَى مِنًى، فَإِذَا حُمِلَ خَبَرُ عَائِشَةَ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى لَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، وَخَبَرُ ابْنِ عُمَرَ أَثْبَتُ إِسْنَادًا مِنْ هَذَا الْخَبَرِ، وَخَبَرُ عَائِشَةَ مَا تَأَوَّلْتُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْكَلامَ مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ، كَقَوْلِهِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجَا سورة الكهف آية 1، وَمَثَلُ هَذَا فِي الْقُرْآنِ كَثِيرٌ، قَدْ بَيَّنْتُ بَعْضَهُ فِي كِتَابِ مَعَانِي الْقُرْآنِ، وَسَأُبَيِّنُ بَاقِيَهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ: وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ سورة الأعراف آية 11، فَمَعْنَى قَوْلِ عَائِشَةَ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ، ثُمَّ رَجَعَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَدَّمَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ قَبْلَ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ، كَمَا قَدَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقْنَاكُمْ قَبْلَ قَوْلِهِ: ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ، وَالْمَعْنَى صَوَّرْنَاكُمْ، ثُمَّ خَلَقْنَاكُمْ"

EnglishUnverified translation

** Narrated to us Abdullah ibn Sa‘id al-Ashaj, narrated to us Abu Khalid—meaning Sulayman ibn Hassan—on the authority of Muhammad ibn Ishaq, on the authority of ‘Abd al-Rahman ibn al-Qasim, on the authority of ‘A’ishah (RA), who said: “The Messenger of Allah (ﷺ) departed [from ‘Arafah] at the end of his day when he had prayed Zuhr, then he returned and stayed in Mina during the nights of the days of tashreeq, pelting the jamrah when the sun had passed its zenith, each jamrah with seven pebbles, saying the takbir with each pebble. He would stand by the first and the second jamrah, prolonging his standing and supplicating humbly, then he would pelt the third without stopping at it.” Abu Bakr (ibn Abi Shaybah) said: This wording—“when he had prayed Zuhr”—appears at first glance to contradict the report of Ibn ‘Umar which we mentioned earlier, namely that the Prophet (ﷺ) departed on the Day of Sacrifice, then returned and prayed Zuhr at Mina. I believe, however, that the meaning of this wording does not actually contradict Ibn ‘Umar’s report. Perhaps ‘A’ishah (RA) intended to say that the Messenger of Allah (ﷺ) departed at the end of his day when he had prayed Zuhr after having returned to Mina. If the report of ‘A’ishah (RA) is understood in this sense, it does not conflict with the report of Ibn ‘Umar. Moreover, the report of Ibn ‘Umar has a stronger chain of transmission than this report. The report of ‘A’ishah (RA) is of the type we call “mixed” in which words may be advanced or delayed, as in the verse: “All praise is due to Allah Who sent down upon His servant the Book and made it not deviate” (Qur’an 18:1), and there are many such examples in the Qur’an; I have explained some of them in my book Ma‘ani al-Qur’an, and I will explain the rest, Allah willing. It is like His saying: “Certainly We created you, then fashioned you, then said to the angels: ‘Prostrate to Adam’” (Qur’an 7:11). Thus, according to this interpretation, the meaning of ‘A’ishah’s (RA) words is: The Messenger of Allah (ﷺ) departed at the end of his day, then he returned when he had prayed Zuhr, having advanced the phrase “when he had prayed Zuhr” before “then he returned,” just as Allah the Exalted and Majestic advanced “We created you” before “then fashioned you,” the intended meaning being: “We fashioned you, then We created you.” ---

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن دوسرے پہر میں طواف افاضہ کیا جب آپ نے ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آپ واپس منیٰ آگئے اور ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزاریں۔ آپ جمرات پر رمی کرتے جبکہ سورج ڈھل جاتا ہر جمرے پر سات کنکریاں مارتے اور ہرکنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» پڑھتے۔ آپ پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس بڑا طویل قیام کرتے اور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے، پھر تیسرے جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ”جب آپ نے ظہر کی نماز پڑھی“ ان کا ظاہری مفہوم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن طواف افاضہ کیا پھر آپ نے منیٰ واپس آ کر ظہر کی نماز پڑھی۔ میرے خیال میں یہ الفاظ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے متضاد نہیں ہیں شاید کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مطلب یہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن دوسرے پہر طواف افاضہ کیا جب ظہر کی نماز پڑھی منیٰ لوٹنے کے بعد۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا یہی معنی کیا جائے تو پھر یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کے مخالف نہیں رہتی۔ لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ مضبوط ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ اس میں تقدیم و تأخیر ہوئی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا» [ سورة الكهف: 1 ] ”سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کسی قسم کی کجی نہیں رکھی۔“ اس قسم کی بیشمار مثالیں موجود ہیں، میں نے کچھ مثالیں کتاب معاني القرآن میں بیان کی ہیں اور عنقریب اس طرح باقی مثالیں بھی بیان کروں گا، ان شاء اللہ۔ اور یہ اس فرمان جیسا ہے «وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ» [ سورة الأعراف: 11 ] ”اور ہم نے ہی تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری شکلیں بنائیں پھر فرشتوں کو حُکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو“ اس تاویل کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن آخری پہر طواف افاضہ کیا پھر آپ واپس آئے جب ظہر کی نماز پڑھی اس طرح یہ الفاظ پہلے آگئے، جب ظہر کی نماز پڑھی اور یہ مؤخر ہوگئے، پھر واپس آئے۔ جبکہ الله تعالیٰ نے یہ الفاظ مقدم کیے ہیں ”ہم نے تمہیں پیدا کیا“ اور یہ مؤخر کیے ہیں ”پھر ہم نے تمھاری شکلیں بنائیں“ حالانکہ اصل ترتیب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری شکلیں بنائیں پھر ہم نے تمہیں پیدا کیا۔