Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 39 · Chapter 21

Chapters 951–975

بَابُ صِيَامِ الْمُتَمَتِّعِ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْهَدْيَ

Chapter: The fasting of one performing Tamattu' if he cannot find a sacrificial animal

باب: متعہ کرنے والے کا روزہ رکھنا اگر اسے قربانی کا جانور نہ ملے

2 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2926

Sahih Ibn Khuzaymah #2926

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَثُرَتِ الْمَقَالَةُ مِنَ النَّاسِ، فَخَرَجْنَا حُجَّاجًا حَتَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَ أَنْ نَحِلَّ إِلا لَيَالِي، قَائِلا: أُمِرْنَا بِالإِحْلالِ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى عَرَفَةَ وَفَرْجُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَبِاللَّهِ تُعْلِمُونِي أَيُّهَا النَّاسُ، فَأَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ هَدْيًا، وَلَحَلَلْتُ كَمَا أَحَلُّوا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَنْ وَجَدَ هَدْيًا فَلْيَنْحَرْ"، فَكُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ."

EnglishUnverified translation

Narrated to us Ahmad ibn al-Miqdam, narrated to us Wahb ibn Jarir, narrated to us Jarir ibn Hazim, on the authority of Muhammad ibn Ishaq, who narrated to me Ibn Abi Najih, on the authority of Mujahid and 'Ata', on the authority of Jabir ibn 'Abdullah (RA), who said: The people began to talk a great deal, so we set out as pilgrims until there remained between us and the end of the ihram (ihram exit) only a few nights. Then someone said, "We have been commanded to end our ihram." So one of us would go to 'Arafah with his private parts dripping with semen. This reached the Messenger of Allah (ﷺ), so he stood up to deliver a sermon and said: "O people, do you inform me about Allah? By Allah, I know Allah better than you and I fear Him more than you. If I were to go back to the beginning of my affair, I would not have brought sacrificial animals with me, and I would have ended my ihram just as they have ended theirs. So whoever does not have a sacrificial animal with him, let him fast three days during the Hajj and seven when he returns to his family. And whoever has a sacrificial animal with him, let him slaughter it." We used to slaughter a camel on behalf of seven people. **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احمد بن مقدام نے ہمیں بتایا، وھب بن جریر نے ہمیں بتایا، جریر بن حازم نے بتایا، محمد بن اسحاق نے، ابن ابی نجیح نے، مجاہد اور عطاء نے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، کہ انہوں نے کہا: "لوگوں میں باتیں بہت زیادہ ہو گئیں، تو ہم حاجی بن کر نکلے یہاں تک کہ ہمارے اور احرام کے خاتمے کے درمیان چند راتیں ہی باقی رہ گئیں، تو ایک شخص نے کہا: 'ہمیں احرام ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔' اس لیے ہم میں سے ایک شخص عرفات جاتا اور اس کی شرمگاہ منی ٹپکتی ہوئی ہوتی۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچي، تو آپ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، فرمایا: 'اللہ کی قسم! کیا تم مجھے بتاتے ہو اے لوگ؟ اگرچہ میں اللہ سے زیادہ واقف ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کا تقویٰ رکھتا ہوں، اور اگر میں اپنے امر کا آغاز اس طرح کرتا جس طرح اس کا انجام ہوا، تو میں ہدی نہ ساقی ہوتا، اور میں بھی وہی حل ہوتا جو وہ حل ہوئے، جس کے پاس ہدی نہ ہو تو وہ تین روز کے روزے رکھے اور واپس جا کر سات روزے، اور جس کو ہدی مل جائے تو وہ ذبح کرے۔' تو ہم ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کرتے تھے۔""

2927

Sahih Ibn Khuzaymah #2927

Hasan

وَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسًا، فَذَبَحَهُ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، فَقَامَ تَحْتَ ثَدْيِ نَاقَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اصْرُخْ أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قَالُوا: الشَّهْرُ الْحَرَامُ، قَالَ:" فَهَلْ تَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ، قَالَ:" فَهَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قَالُوا: الْحَجُّ الأَكْبَرِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا"، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ، وَقَالَ حِينَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ: هَذَا الْمَوْقِفُ، كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَقَالَ حِينَ وَقَفَ عَلَى قُزَحٍ: هَذَا الْمَوْقِفُ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ" ."

EnglishUnverified translation

It was narrated from 'Aṭā' that Ibn 'Abbās (RA) said: "On that day, the Messenger of Allah (ﷺ) distributed some sheep among his companions. Sa'd ibn Abī Waqqāṣ (RA) received a ram, so he slaughtered it for himself. When the Messenger of Allah (ﷺ) stopped at 'Arafah, he commanded Rabī'ah ibn Ummayyah ibn Khalaf to stand beneath the udder of his she-camel. The Prophet (ﷺ) then said to him: 'Proclaim, O people! Do you know what month this is?' They said: 'The sacred month.' He said: 'Do you know what land this is?' They said: 'The sacred land.' He said: 'Do you know what day this is?' They said: 'The day of the greatest Hajj.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed, Allah has made your lives, your wealth, and your honor as sacred to you as this month of yours, this land of yours, and this day of yours.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) completed his Hajj. When he stopped at 'Arafah, he said: 'This is the standing place; all of 'Arafah is a standing place.' And when he stopped at Muzdalifah, he said: 'This is the standing place; all of Muzdalifah is a standing place.'" **CHAPTER:**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذوالحجہ کے دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم کیں۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک بکرا ملا جو اُنہوں نے اپنی طرف سے ذبح کردیا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہوئے تو آپ نے سیدنا ربیعہ بن امیہ بن خلف رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا تو وہ آپ کی اونٹنی کے پستانوں کے قریب کھڑے ہوگئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”لوگوں کو پکار کر کہو کہ اے لوگو، کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ کون سا شہر ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ حرمت والا (مکّہ مکرّمہ) شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کونسا دن ہے؟“ صحابہ نے جواب دیا کہ حج اکبر کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تمھارے خون اور تمھارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام کر دیئے ہیں جس طرح تمھارا یہ مہینہ حرمت والا ہے، جیسے تمھارا یہ شہر حرمت والا ہے اور جس طرح تمھارا یہ آج کا دن حرمت والا ہے۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج ادا کیا اور جب آپ عرفات میں ٹھہرے تو فرمایا: ”یہ وقوف کی جگہ ہے۔ پورا عرفات ہی وقوف کی جگہ ہے۔“ اور جب آپ مقام قزح پر کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”میں ادھر ٹھہرا ہوں اور سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔“