Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 33 · Chapter 11

Chapters 801–825

بَابُ التَّكْبِيرِ عِنْدَ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ وَاسْتِقْبَالِهِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الطَّوَافِطواف شروع کرت

Chapter: Saying "Allahu Akbar" when touching the Stone and facing it at the start of the tawaf

باب: حجر کو چھوتے اور طواف کی ابتدا میں اس کی طرف رخ کرتے وقت "اللہ اکبر" کہنا

1 hadith in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2716

Sahih Ibn Khuzaymah #2716

Sahih

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُرَيْحٍ الرَّازِيُّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيُّ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ أَهَلَّ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ"، فَهَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ اسْتَقْبَلَهُ الْحَجَرُ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْحَجَرَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلاثَةَ أَشْوَاطٍ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ"""

EnglishUnverified translation

I read to Ahmad ibn Abi Shurayh al-Razi that Umar ibn Mujammi' al-Kindi informed them on the authority of Musa ibn 'Uqba, from Nafi', from Ibn 'Umar (RA), who said: "When the Messenger of Allah (ﷺ) had his mount stood upright at the Masjid of Dhul-Hulaifa during a Hajj or 'Umrah, he would declare the Talbiyah, saying: 'Labbayk Allahumma Labbayk, Labbayk la

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی حج یا عمرے میں ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس جب آپ کو لیکر سیدھی ہو جاتی تو آپ ان الفاظ میں تلبیہ پکارتے «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ والنِّعْمَة لَكَ والمُلْكُ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ، میں حاضر ہوں، میں تیری بندگی پر کاربند ہوں، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بیشک سب تعریفیں تیرے ہی لائق ہیں اور ہر نعمت تیری ہی عطا کی ہوئی ہے، اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف پہنچنے تک اسی طرح تلبیہ کہتے رہتے حتّیٰ کہ آپ حجر اسود کے سامنے آتے تو «اللهُ أَكْـبَر» کہہ کر حجراسود کی طرف مُنہ کرتے (اسے بوسہ دیتے یا استلام کرتے) پھر (طواف کے) تین چکّر اچھل اچھل کر لگاتے اور چار چکّر عام رفتار سے چل کر لگاتے، پھر دو رکعت ادا کرتے۔