Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 3 · Chapter 4

Chapters 51–75

بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ لَابِسَ أَحَدِ الْخُفَّيْنِ قَبْلَ غَسْلِ كِلَا الرِّجْلَيْنِ، إِذَا لَبِسَ الْخُفَّ الْآخَرَ بَعْدَ غَسْلِ الرِّجْلِ الْأُخْرَى غَيْرُ جَائِزٍ لَهُ الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا أَحْدَثَ

Chapter: The evidence that one who wears one of the two leather socks before washing both feet, if he wears the other sock after washing the other foot, is not permitted to wipe over the leather socks if he becomes impure

باب: اس دلیل کا بیان کہ جو شخص دونوں پاؤں دھونے سے پہلے ایک موزہ پہن لے، پھر دوسرا پاؤں دھونے کے بعد دوسرا موزہ پہنے، تو اگر وہ ناپاک ہو جائے تو اسے موزوں پر مسح کرنے کی اجازت نہیں

1 hadith in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

193

Sahih Ibn Khuzaymah #193

Hasan

نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: جِئْتُ أَنْبِطُ الْعِلْمَ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ لِيَطْلُبَ الْعِلْمَ، إِلا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا، رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ" . قَالَ: قَدْ جِئْتُكَ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَ:" نَعَمْ، كُنَّا فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهُورٍ، ثَلاثًا إِذَا سَافَرْنَا، وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا، وَلا نَخْلَعَهُمَا مِنْ غَائِطٍ وَلا بَوْلٍ، وَلا نَخْلَعَهُمَا إِلا مِنْ جَنَابَةٍ" . وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً، لا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا" ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ذَكَرْتُ لِلْمُزَنِيِّ خَبَرَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، فَقَالَ: حَدَّثَ بِهَذَا أَصْحَابُنَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ للِشَّافِعِيِّ حُجَّةٌ أَقْوَى مِنْ هَذَا"

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Yahya and Muhammad bin Rafi’ told us, they said: Abd al-Razzaq told us, Muammar told us, on the authority of Asim bin Abi al-Najood, on the authority of Zirr bin Hubaysh, he said: I came to Safwan bin Assal Al-Muradi, and he said: What brings you? I said: I have come to impart knowledge. He said: I heard the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, saying: “No outsider goes out of his house to seek Knowledge, unless the angels spread their wings for him, content with what he is doing.” He said: I have come to you to ask you about wiping over the socks. He said: Yes, we were in the army that the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, sent. So He commanded us to wipe over the socks when we put them in to purify ourselves, three days when we travel, and one night when we stay, and not to take them off. Neither defecate nor urinate, and we do not take them off except in case of ritual impurity.” He said: I heard the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, saying: “In Morocco there is a door open for repentance that will last for seventy years and will not be closed until... “The sun rises in the west,” etc. Abu Bakr said: I mentioned to Al-Muzani the news of Abd al-Razzaq, and he said: He narrated this to our companions, for Al-Shafi’i does not have a stronger argument than This

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زربن حبیش رحمه اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا کہ کیسے آئے ہو؟ میں نے عرض کی کہ علم حاصل کرنے کےلیے حاضر ہوا ہوں۔ اُنہوں نے فرمایا کہ بیشک میں نے رسول اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، ”جو شخص بھی حصول علم کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اُس کی طلب و جستجو پر رضا مندی اور پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اُس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔“ میں نے عرض کی کہ میں آپ سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں، ہم اس لشکر میں شامل تھے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوے کے لیے) بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کرلیں، جبکہ اُنہیں طہارت کی حالت میں پہنا ہو، تین (دن رات) جب ہم سفر میں ہوں اور ایک رات (دن) جب ہم مقیم ہوں۔ اور ہم اُنہیں پیشاب پاخانے کی وجہ سے نہ اتار دیں، صرف (غسل) جنابت کی وجہ سے اُنہیں اتاریں، اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، بیشک مغرب کی جانب توبہ کے لیے ایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی مسافت ستّر سال ہے وہ (دروازہ) بند نہیں ہوگا، حتیٰ کہ سورج مغرب کی جانب سے، دروازے کی جہت میں طلوع ہوجائے گا۔ اما م ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرزاق کی حدیث امام مزنی کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے اصحاب نے یہ حدیث روایت کی ہے کیونکہ امام شافعی رحمه اللہ کی اس سے قوی دلیل اور کوئی نہیں ہے۔