Sahih Ibn Khuzaymah #1636
أنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: أَصَلَّى هَؤُلاءِ خَلْفَكُمْ؟ قُلْنَا: لا. قَالَ: فَقُومُوا فَصَلُّوا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا وَأَقَامَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ، فَجَعَلَ إِذَا رَكَعَ يُشَبِّكُ أَصَابِعَهُ، وَجَعَلَهَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: كَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلاةَ، يَخْنِقُونَها إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيُصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، وَلْيَجْعَلْ صَلاتَهُ مَعَهُمْ سُبْحَةً"""
EnglishUnverified translation
### Narrated to us by Ali bin Khushram, who said: Isa informed us, on the authority of Al-A'mash, on the authority of Ibrahim, on the authority of Al-Aswad, who said: "Alqama and I entered upon Ibn Mas'ud (RA). He asked, 'Did these people pray behind you?' We replied, 'No.' He said, 'Then stand up and pray.' So we went to stand behind him, but he took hold of our hands, placing one of us on his right and the other on his
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
جناب اسود بیان کرتے ہیں کہ میں اور علقمہ، سیدنا ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو اُنہوں نے پوچھا، کیا تمہارے پیچھے ان (امراء) لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کی کہ نہیں۔ اُنہوں نے فرمایا کہ تم اُٹھو اور نماز پڑھ لو (کیونکہ نماز کا وقت ہوچکا ہے) تو ہم نے اُٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونا چاہا تو اُنہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ہم میں سے ایک کو اپنی دائیں جانب اور دوسرے کو بائیں جانب کھڑا کرلیا، پھر بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی - جب اُنہوں نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈال کر دونوں ٹانگوں کے درمیان رکھ لیا۔ پھر جب نماز ادا کرلی تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر فرمایا کہ یقیناً عنقریب ایسے حکمران ہوں گے جو نمازوں کو اس وقت تک مؤخر اور تنگ کریں گے، جس قدر مرنے والا شخص گلے میں سانس اٹکنے کے بعد زندہ رہتا ہے - لہٰذا تم میں سے جو شخص ان حالات کو پائے تو وہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے پھر ان حکمرانوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لے ـ