Sahih Ibn Khuzaymah #1653
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الأَيْلِيُّ ، أَنَّ سَلامَةَ ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَإِنِّي أُصَلِّي بِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ، سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ، فَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِي، فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ". قَالَ عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟" قَالَ: فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَأَجْلَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ، قَالَ: فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ، فَقَالَ:" أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ؟" فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ لا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلا تَرَاهُ قَدْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ؟". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، إِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ" . قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ مِنْ سَرَاتِهِمْ، عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ"
EnglishUnverified translation
Narrated to us Muhammad ibn 'Aziz al-Aylisi, that Salamah narrated to them, from 'Uqayl, who informed me Muhammad ibn Muslim, that Mahmud ibn al-Rabi' al-Ansari informed him, that 'Itban ibn Malik — who was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) and one of those who fought at Badr from among the Ansar — came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: "O Messenger of Allah, I have lost my eyesight, and I lead my people in prayer. But when the rains come, the valley between me and them becomes flooded, so I cannot reach their mosque to pray with them. I wish, O Messenger of Allah, that you would come and pray in my house so that I may take it as a place of prayer." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "I will do so, if Allah wills." Ibn Malik said: So the Messenger of Allah (ﷺ) and Abu Bakr went out early in the morning when the day had advanced. The Messenger of Allah (ﷺ) sought permission, which I granted. He did not sit until he entered the house. Then he said: "Where would you like me to pray in your house?" I pointed to a place in the house. The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and said the takbir, and we lined up behind him. He prayed two rak'ahs, then he gave the salam. We seated him on a mat we had prepared for him. Then a group of the people of the house gathered around us until a considerable number of men had assembled in the house. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Where is Malik ibn al-Dukhayshin?" Some of them said: "That is a hypocrite who does not love Allah or His Messenger." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not say that about him. Do you not see that he says: 'There is no god but Allah,' seeking thereby the Face of Allah?" They said: "Allah and His Messenger know best. We see his face and his loyalty to be with the hypocrites." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Verily, Allah has forbidden the Fire for anyone who says: 'There is no god but Allah,' seeking thereby the Face of Allah." Muhammad (meaning al-Zuhri) said: So I asked al-Husayn ibn Muhammad al-Ansari — who was one of the Banu Salim from their nobles — about the hadith of Mahmud ibn al-Rabi', and he confirmed it. **CHAPTER:**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
جناب محمود بن ربیع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور جنگ بدر میں شرکت کا شرف حاصل کرنے والے انصار میں سے ایک ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میری نظر کمزور ہوگئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں- پس جب بارشوں کا موسم آتا ہے تو میرے اور اُن کے درمیان وقع وادی بہنے لگتی ہے۔ تو اُن کی مسجد میں جاکر اُنہیں نماز نہیں پڑھا سکتا۔ اس لئے میری خواہش ہے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز ادا کریں تا کہ میں اُس جگہ کو اپنی نماز گاہ بنا لوں - تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عنقریب (تمھاری یہ خواہش پوری) کروں گا - ان شاء اللہ۔ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو دوسرے دن سورج چڑھنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت چاہی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی (آپ کو خوش آمدید کہا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے بغیر گھر میں داخل ہوئے پھر پوچھا: ”تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ کہتے ہیں کہ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ لہٰذا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم (اُس جگہ) کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی۔ ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کر کے سلام پھیرا۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے لئے خزیر (گوشت اور آٹے سے تیار کردہ خاص قسم کا کھانا) کے لئے آپ کو بٹھا لیا، فرماتے ہیں کہ (اس درمیان) محلّے کے لوگ مسلسل آتے رہے حتّیٰ کہ ہمارے گھر میں لوگوں کی کافی تعداد جمع ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”مالک بن دخیشن کہاں ہے؟“ ایک شخص نے جواب دیا کہ وہ تو منافق آدمی ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں کر تا (اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر حاضر نہیں ہوا)۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُس کے بارے میں ایسا مت کہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ اللہ کی رضا کے لئے «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» کا اقرار کر تا ہے؟ تو اُس شخص نے کہا کہ اللہ اور اُس کا رسول ہی بہترجانتے ہیں۔ ہم تو اس کی تعلق داری اور سچی دوستی و محبت منافقوں ہی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آگ پر اُس شخص کو حرام کر دیا جو خالص اللہ کی رضا کے لئے «لَا إِلٰهَ إِلَّا الله» کا اقرار کرتا ہے - امام محمد زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے حصین بن محمد انصاری سے، جو کہ بنی سالم کے ایک سردار ہیں، حضرت محمود بن ربیع کی حدیث کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے ان کی تصدیق کی۔“