نا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، نا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ، فَرَجَعَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَلَّى بِهِمْ، وَصَلَّى خَلْفَهُ فَتًى مِنْ قَوْمِهِ، فَلَمَّا طَالَ عَلَى الْفَتَى، صَلَّى وَخَرَجَ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ، وَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا صَلَّى مُعَاذٌ ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا لَنِفَاقٌ، لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ مُعَاذٌ بِالَّذِي صَنَعَ الْفَتَى، فَقَالَ الْفَتَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُطِيلُ الْمُكْثَ عِنْدَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُطَوِّلُ عَلَيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟"، وَقَالَ لِلْفَتَى:" كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ؟" قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْأَلُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي لا أَدْرِي، مَا دَنْدَنَتُكَ وَدَنْدَنَةُ مُعَاذٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي وَمُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ أَوْ نَحْوَ ذِي"، قَالَ: قَالَ الْفَتَى: وَلَكِنْ سَيَعْلَمُ مُعَاذٌ إِذَا قَدِمَ الْقَوْمُ وَقَدْ خَبَرُوا أَنَّ الْعَدُوَّ قَدْ دَنَوْا، قَالَ: فَقَدِمُوا، قَالَ: فَاسْتُشْهِدَ الْفَتَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ لِمُعَاذٍ:" مَا فَعَلَ خَصْمِي وَخَصْمُكَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَدَقَ اللَّهَ، وَكَذَبْتُ، اسْتُشْهِدَ"
EnglishUnverified translation
Narrated to us Yaḥyā ibn Ḥabīb al-Ḥārithee, narrated to us Khālid (meaning ibn al-Ḥārith), on the authority of Muḥammad ibn ʿAjlān, on the authority of ʿUbayd Allāh ibn Miqsam, on the authority of Jābir ibn ʿAbd Allāh (RA), who said:
Muʿādh (RA) used to pray the ʿIshāʾ prayer with the Messenger of Allāh (ﷺ), then he would return and lead his companions in prayer. One day, he returned and led them in prayer, and a young man from his people prayed behind him. When the prayer became long for the young man, he prayed on his own and left. He took hold of his camel’s halter and they departed.
When Muʿādh (RA) finished the prayer, this was mentioned to him, so he said, “Verily this is hypocrisy! I must inform the Messenger of Allāh (ﷺ) about it.” So Muʿādh (RA) informed him of what the young man had done.
The young man said, “O Messenger of Allāh (ﷺ)! He lingers so long with you, then returns and prolongs the prayer for us.”
The Messenger of Allāh (ﷺ) said, “Are you causing division, O Muʿādh?” Then he said to the young man, “How do you pray, O nephew?”
He said, “I recite the Opening of the Book (Sūrah al-Fātiḥah), ask Allāh for Paradise, and seek refuge with Him from the Fire. And I do not know what your murmuring and Muʿādh’s murmuring is.”
The Messenger of Allāh (ﷺ) said, “Indeed, I and Muʿādh are around these two,” or something to that effect.
The young man said, “But Muʿādh will soon know when the people arrive and have been informed that the enemy has drawn near.”
He said, “So they arrived, and the young man was martyred.”
After that, the Prophet (ﷺ) said to Muʿādh (RA), “What has become of my opponent and your opponent?”
He said, “O Messenger of Allāh (ﷺ)! He spoke the truth and I lied. He was martyred.”
---
**CHAPTER:**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے تھے، پھر واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو نماز (عشاء) پڑھاتے تھے ـ ایک دن جب وہ واپس آگئے تو اُنہیں نماز پڑھائی اور ان کے پیچھے ان کی قوم کے ایک نوجوان نے بھی نماز پڑھنی شروع کی۔ جب اس نوجوان پر (سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی) قراءت لمبی ہوگئی تو وہ (اکیلے) نماز پڑھ کر چلا گیا۔ اُس نے اپنے اونٹ کی لگام پکڑی اور چل دیا۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمّل کرلی تو اُنہیں یہ بات بتائی گئی۔ اُنہوں نے فرمایا کہ بلاشبہ یہ تو نفاق ہے میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤں گا - لہٰذا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوجوان کا قصّہ بتایا تو اُس نوجوان نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بڑی دیر تک آپ کے پاس ٹھہرتے ہیں پھر واپس جاکر ہمیں طویل نماز پڑھاتے ہیں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ، کیا تو فتنہ باز ہے؟ اور نوجوان سے پوچھا: ”اے بھتیجے، تم نماز کیسے پڑھتے ہو؟“ اُس نے جواب دیا کہ میں فاتحۃ الکتاب پڑھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اُس کی جنّت مانگتا ہوں اور جہنّم سے اُس کی پناہ مانگتا ہوں لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے گنگنانے کو نہیں جانتا (کہ آپ کون سی دعائیں مانگتے ہیں) تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں اور معاذ بھی انہی دو کے ارد گرد گنگناتے ہیں (جنّت کے حصول کی دعائیں اور جہنّم سے پناہ مانگتے ہیں)۔ یا اسی قسم کا جواب دیا۔ اُس نوجوان نے کہا، لیکن معاذ عنقریب جان لے گا (کہ میں منافق ہوں یا سچا مومن) جب قوم (میدان کا رزار میں) آئے گی اور وہ جان چکے ہیں کہ دشمن قریب آچکا ہے۔ پھر جب قوم میدان میں اُتری تو نوجوان نے شہادت پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد سیدنا معاذ سے پوچھا: ”میرے اور تمہارے مخالف کا کیا بنا؟“ اُنہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اپنی بات سچ کر دکھائی، وہ شہید ہو گیا ہے، جبکہ میری بات غلط نکلی (جو میں نے اُسے منافق کہا تھا)۔