Sahih Ibn Khuzaymah #1593
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، كِلاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عُرْوَبةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلاتِهِ، قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: أُقِرَّتِ الصَّلاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ ، قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ أَمَا تَدْرُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلاتِكُمْ؟ إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلاتَنَا، فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ كَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ يُحِبَّكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا ؛ فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ، فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَاسْجُدُوا ؛ فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ" . زَادَ بُنْدَارٌ: فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُرِيدُ أَنَّ الإِمَامَ يَسْبِقُكُمْ إِلَى الرُّكُوعِ، فَيَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، فَتَرْفَعُونَ أَنْتُمْ رُءُوسَكُمْ مِنَ الرُّكُوعِ بَعْدَ رَفْعِهِ، فَتَمْكُثُونَ فِي الرُّكُوعِ، فَهَذِهِ الْمَكْثَةُ فِي الرُّكُوعِ بَعْدَ رَفْعِ الإِمَامِ الرَّأْسَ مِنَ الرُّكُوعِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ الَّتِي سَبَقَكُمْ بِهَا الإِمَامُ إِلَى الرُّكُوعِ، وَكَذَلِكَ السُّجُودُ"
EnglishUnverified translation
On the authority of Muhammad bin Bashar, on the authority of Yahya bin Saeed, on the authority of Hisham bin Abi Abdullah, on the authority of Qatada, on the authority of Yunus bin Jubayr, on the authority of Hattan bin Abdullah. H. Bundar told us, Ibn Abi Adi told us. H, Harun bin Ishaq Al-Hamdani narrated to us, Abdah narrated to us, both of them on the authority of Saeed bin Abi Orouba, on the authority of Qatada, on the authority of Yunus bin Jubayr, on the authority of Hattan bin Abdullah Al-Raqqashi, and this is the hadith of Abdah, he said: Abu Musa Al-Ash’ari led us in prayer, and when he sat at the end of his prayer, he said One of them said: Prayer was established with righteousness and zakat, and when Abu Musa Al-Ash’ari turned away, he said: Which of you says such-and-such a word? Do you not know what to say in your prayers? The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, addressed us, explained to us our Sunnah, and taught us our prayers. He said: “When you pray, straighten your rows. And let one of you lead you in prayer. When the imam says “Allahu Akbar,” say “Allahu Akbar,” and when he says: “Not with anger upon them, nor with those who go astray,” then say: “Amen, God loves you,” and when He said “Allahu Akbar” and bowed, so “Allahu Akbar” and bowed, for the Imam bows before you and rises before you.” The Prophet of God, may God bless him and grant him peace, said: “So that is Thus, when he says takbeer and prostrates, then prostrate, for the imam prostrates before you, and rises before you.” Bundar added: Then the Prophet of God said: “So that’s the same.” Abu Bakr said: He means that the imam precedes you in bowing, so he kneels before you, so you raise your heads from bowing after he raises. So you remain in the bowing, and this staying in the bowing after the imam raises the head from the bowing is the precedence with which the imam preceded you in bowing. The same applies to prostration
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
جناب حطان بن عبد اللہ رقاشی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، جب وہ اپنی نماز کے آخر میں بیٹھے تو ایک شخص نے کہا کہ نماز نیکی اور زکوٰۃ کے ساتھ ملائی گئی ہے (قرآن مجید میں ان کا تذکرہ ایک ساتھ ہوا ہے)۔ پھر جب سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا کہ یہ کلمات کس شخص نے کہے ہیں؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہیں اپنی نماز میں کون سے کلمات کہنے ہیں؟ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو ہمیں سنّتیں بیان کیں اور ہمیں ہماری نماز سکھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں درست اور سیدھی کیا کرو، اور تم میں سے ایک شخص کو امامت کرانی چاہیے، پھر جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ » پڑھے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا اور جب امام تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو۔ کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے رکوع سے سر اُٹھاتا ہے۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے برابر ہو جائے گا (تمہارا دیر سے رکوع میں جانا اور بعد میں اُٹھنا) - جب وہ تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، بلاشبہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے سجدے سے سر اُٹھاتا ہے - جناب بندار کی روایت میں اضافہ ہے کہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے بدلے میں ہو جائے گا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ آپ کی مراد یہ ہے کہ امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے، تم پر سبقت لے جاتا ہے اور تم رکوع سے اپنے سر اس کے سر اُٹھانے کے بعد اُٹھاتے ہو، اس طرح تم رکوع میں (اس کے بعد بھی کچھ دیر) ٹھہرتے ہو۔ اس طرح امام کے رکوع سے سر اُٹھا لینے کے بعد رکوع میں ٹھہرنا یہ اس سبقت کے بدلے میں ہو جائے گا، جو امام مقتدیوں سے رکوع و سجود میں کرتا ہے۔